कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

70علما جنہوں نے بعض مخصوص کتابوں کو سیکڑوں مرتبہ دہرایا!

تحریر:ابو خالد قاسمی
خادم جامعہ اسلامیہ گلزار قرآنیہ کلچھینہ غازی آباد ۔

کتاب «المتلذذون بالعلم» کی ایک حیرت انگیز فہرست:

علم صرف مطالعہ کا نام نہیں، بلکہ تکرار، مراجعت اور مسلسل وابستگی کا نام ہے۔
ہمارے اسلافِ امت نے کتابوں کو صرف ایک بار پڑھ کر چھوڑ نہیں دیا، بلکہ بار بار ان کا اعادہ کیا، یہاں تک کہ بعض اکابر نے ایک ہی کتاب کو سینکڑوں مرتبہ پڑھا۔ یہی مسلسل تکرار اُن کے علم کے رسوخ، فہم کی گہرائی اور حافظے کی مضبوطی کا سبب بنی۔

ذیل میں اُن جلیل القدر علماء و ائمہ کی ایک حیرت انگیز فہرست پیش کی جا رہی ہے، جنہوں نے مختلف علمی کتابوں کو بارہا پڑھ کر یہ ثابت کیا کہ علم میں پختگی کا راستہ “تکرار” اور “استقامت” سے ہو کر گزرتا ہے۔

ابنِ ہشام نے «الفیہ ابن مالک» ایک ہزار مرتبہ پڑھی۔
غالب بن عطیہ المحاربی نے «صحیح بخاری» سات سو مرتبہ پڑھی۔
ابو بکر الابہری (متوفی 375ھ) نے «مختصر ابن عبد الحکم» پانچ سو مرتبہ دہرائی۔
امام نووی نے غزالی کی «الوسیط» چار سو مرتبہ پڑھی۔
ابو سعید البردعی نے محمد بن حسن کی «الجامع الکبیر» چار سو مرتبہ پڑھی۔
سلیمان العلوی الیمنی نے «صحیح بخاری» دو سو اسی مرتبہ پڑھی۔
ابن البطی البغدادی نے «جزء البانیاسی» دو سو مرتبہ دہرایا۔
نفیس الدین العلوی (متوفی 825ھ) نے «صحیح بخاری» ایک سو پچاس مرتبہ پڑھی۔
المُسنِد مساعد بشیر نے «صحیح بخاری» ایک سو تیس مرتبہ پڑھی۔
اصیل الدین الہروی نے «صحیح بخاری» ایک سو بیس مرتبہ پڑھی۔
احمد العلاونہ نے زرکلی کی «الأعلام» ایک سو مرتبہ پڑھی۔
شیخ عبد اللہ بن عقیل نے «تفسیر الإیجی» ایک سو مرتبہ دہرائی۔
شیخ حماد الانصاری نے ذہبی کی «میزان الاعتدال» ایک سو مرتبہ پڑھی۔
شیخ ابو اسحاق الحوینی نے ابن ابی حاتم کی «العلل» ایک سو مرتبہ پڑھی۔
محمد بن مقبل التاجر نے «صحیح بخاری» پچانوے مرتبہ پڑھی۔
شیخ ابو اسحاق الحوینی نے «مذکرات الشاذلی فی حرب أكتوبر» نوے مرتبہ پڑھی۔
ابن عطیف (متوفی 886ھ) نے «الکافی» اسی مرتبہ دہرائی۔
علی الکریدی (متوفی 886ھ) نے «الکافی» اسی مرتبہ پڑھی۔
ایک عالم نے «الأسدیة» پچھتر مرتبہ پڑھی۔
المزنی نے امام شافعی کی «الرسالة» ستر مرتبہ پڑھی۔
ابن محرز الأبناسی نے «التوضیح» ستر مرتبہ دہرائی۔
شیخ ابو اسحاق الحوینی نے معلمی کی «التنکیل» ستر مرتبہ پڑھی اور اپنے ہاتھ سے نقل بھی کی۔
الحجار ابن الشحنة نے «صحیح بخاری» ستر مرتبہ پڑھی۔
امام ابن باز نے نووی کی «شرح صحیح مسلم» ساٹھ مرتبہ پڑھی۔
ابن الرفاء الشافعی نے «جزء ابن عرفة» ساٹھ مرتبہ پڑھا۔
محمد الجمنی (متوفی 1170ھ) نے «مختصر خلیل» ساٹھ مرتبہ دہرائی۔
ابو سعید الحلی نے «مقامات الحریری» ساٹھ مرتبہ پڑھی۔
برہان الدین الحلبی نے «صحیح بخاری» ساٹھ مرتبہ پڑھی۔
ابن الکلوتاتی (متوفی 835ھ) نے «صحیح بخاری» ساٹھ مرتبہ پڑھی۔
الکرمانی نے «صحیح بخاری» ساٹھ مرتبہ پڑھی۔
سبط ابن العجمی نے «صحیح بخاری» ساٹھ مرتبہ پڑھی۔
موسیٰ بن سعادة (متوفی 514ھ) نے «صحیح بخاری» ساٹھ مرتبہ پڑھی۔
عبد الغنی عبد الخالق نے امام شافعی کی «الرسالة» پچاس مرتبہ پڑھی۔
علی بن عبد الرحمن الحسینی نے غزالی کی «إحياء علوم الدين» پچاس مرتبہ پڑھی۔
عبد اللہ اللغبی العبدلی نے «تهذيب سيرة ابن هشام» پچاس مرتبہ پڑھی۔
شیخ ولید السعیدان نے «الروض المربع» انچاس مرتبہ دہرائی۔
ابن عساکر القوصی نے غزالی کی «الوسیط» اڑتالیس مرتبہ پڑھی۔
ابو بکر الابہری نے امام مالک کی «الموطأ» پینتالیس مرتبہ پڑھی۔
امام ابن باز نے ابن القیم کی «أعلام الموقعين» چالیس مرتبہ پڑھی۔
عبد الرحمن العیدروس (متوفی 923ھ) نے غزالی کی «إحياء علوم الدين» چالیس مرتبہ پڑھی۔
علی السالم آل جلیـدان نے «الروض المربع» چالیس مرتبہ پڑھی۔
شیخ مشہور حسن سلمان نے ابن القیم کی «أعلام الموقعين» تیس مرتبہ پڑھی۔
ابن السراج السجلماسی (متوفی 1057ھ) نے «تفسير الكشاف» تیس مرتبہ پڑھا۔
ادیب علی الطنطاوی نے «الفرج بعد الشدة» تیس مرتبہ پڑھی۔
ادیب علی الطنطاوی نے منفلوطی کی «النظرات» تیس مرتبہ پڑھی۔
الربیع بن سلیمان نے امام شافعی کی «الرسالة» تیس سے زائد مرتبہ پڑھی۔
عبد الرحمن بن علی الحسینی نے غزالی کی «إحياء علوم الدين» پچیس مرتبہ پڑھی۔
ابن العجمی الکلبی نے شیرازی کی «المهذب» پچیس مرتبہ پڑھی۔
ابن عیسیٰ الأندلسی نے «كتاب سيبويه» چوبیس مرتبہ پڑھا۔
شیخ ابو اسحاق الحوینی نے ذہبی کی «سير أعلام النبلاء» چوبیس مرتبہ پڑھی۔
فقیہِ عراق الزریرانی نے ابن قدامہ کی «المغني» تیئس مرتبہ پڑھی، اور ہر نسخے پر حاشیہ بھی لکھا۔
شیخ حماد الانصاری نے ابن حجر کی «فتح الباري» بیس مرتبہ پڑھی۔
المرغینانی (متوفی 593ھ) نے «الهداية» اٹھارہ مرتبہ پڑھی۔
احمد معبد نے ابن حجر کی «فتح الباري» اٹھارہ مرتبہ پڑھی۔
احمد بن محمد الہادی (متوفی 1045ھ) نے غزالی کی «إحياء علوم الدين» چودہ مرتبہ پڑھی۔
شیخ عبد العزیز بن مقیرن نے «تفسير ابن كثير» دس مرتبہ پڑھی۔
محمد الغیثی التباعی نے شیرازی کی «المهذب» نو مرتبہ پڑھی۔
احمد حطیبہ نے ابن قدامہ کی «المغني» آٹھ مرتبہ پڑھی۔
شیخ صالح اللحیدان نے اصفہانی کی «الأغاني» سات مرتبہ پڑھی۔
شیخ عبد السلام ہارون نے جاحظ کی «الحيوان» سات مرتبہ پڑھی۔
امام ابن باز نے ابن کثیر کی «البداية والنهاية» سات مرتبہ پڑھی۔
شیخ عبد اللہ بن سعدان نے «البداية والنهاية» سات مرتبہ پڑھی۔
شیخ عبد الكريم الخضير نے احمد امین کی «حياتي» چھ مرتبہ پڑھی۔
شیخ البانی نے «مسند الإمام أحمد» کے چھ ختم کیے۔
امیر شکیب ارسلان نے اصفہانی کی «الأغاني» پانچ مرتبہ پڑھی۔
شیخ بکر ابو زید نے «آثار البشير الإبراهيمي» پانچ مرتبہ پڑھی۔
شیخ بکر ابو زید نے زرکلی کی «الإعلام» پانچ مرتبہ پڑھی۔
شیخ عبد الكريم الخضير نے طہ حسین کی «الأيام» پانچ مرتبہ پڑھی۔
ڈاکٹر عبد الرحمن بن معاضة الشهری نے «تفسير القرطبي» پانچ مرتبہ پڑھی۔
شیخ عبد العزيز العويد نے ذہبی کی «سير أعلام النبلاء» پانچ مرتبہ پڑھی۔
شیخ بکر ابو زید نے حموی کی «معجم البلدان» چار مرتبہ پڑھی۔
ادیب علی الطنطاوی نے اصفہانی کی «الأغاني» تین مرتبہ پڑھی۔
شیخ عبد العزيز العويد نے «علماء نجد» تین مرتبہ پڑھی۔
شیخ محمد الغلاوی نے ابن حجر کی «فتح الباري» تین مرتبہ پڑھی۔
شیخ محمود شاکر نے «لسان العرب» تین مرتبہ پڑھی۔
شیخ عابد السندی کی کتبِ ستہ کی ماہانہ ختم کی عادت تھی۔
ابو عبد اللہ الیونینی (متوفی 701ھ) ہر ماہ «صحیح بخاری» کا مطالعہ کرتے تھے۔

بڑی اور ممتاز کتابیں ایک مرتبہ پڑھنے سے حق ادا نہیں ہوتا، اس لیے دہراؤ تاکہ علم پختہ ہو۔
جو یہ کہے کہ: میں پڑھتا ہوں مگر کچھ ذہن میں نہیں رہتا، تو اسے کہا جائے: بار بار پڑھو، جیسے ان اکابر نے پڑھا۔ جب دہرایا جاتا ہے تو بات دل میں پیوست ہوجاتی ہے ۔

ماخوذ: المتلذذون بالعلم، صفحات 416 تا 422۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے