कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

قربانی نمود و نمائش اور معاشرتی رویّے

خامہ بکف محمد عادل ارریاوی

چند دنوں بعد عید الاضحیٰ کی بابرکت ساعتیں ہمارے سروں پر سایہ فگن ہونے والی ہی پوری دنیا کے مسلمان اس عظیم عبادت کی تیاری میں مصروف ہوں گے۔ جن خوش نصیب مسلمانوں پر قربانی واجب ہے وہ اللہ رب العزت کی رضا و خوشنودی کے حصول کیلئے اپنی استطاعت کے مطابق قربانی انجام دیں گے سنتِ ابراہیمی کو زندہ کریں گے اطاعت و بندگی کا عملی مظاہرہ کریں گے اور عظیم اجر و ثواب کے مستحق بنیں گے۔ قربانی صرف ایک رسمی تہوار یا معاشرتی روایت کا نام نہیں بلکہ یہ اخلاص ایثار تقویٰ اور کامل فرمانبرداری کا روشن پیغام ہے۔
لیکن افسوس ہر سال کی طرح اس سال بھی کچھ لوگ اس عظیم عبادت کی روح کو سمجھنے کے بجائے اسے نمود و نمائش کا ذریعہ بنا لیں گے کوئی فخر سے کہے گا ہم نے اتنے لاکھ کا جانور خریدا ہے کوئی اپنی حیثیت جتانے کیلئے بولے گا ہم اتنے حصے دیتے ہیں کوئی جانور کی قیمت نسل جسامت اور ظاہری شان و شوکت کو اپنی بڑائی کا معیار بنائے گا۔ حالانکہ یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں نہ جانور کی قیمت دیکھی جاتی ہے نہ ہماری تعریفیں اور نہ ہی ہماری نمائش بلکہ اللہ کے دربار میں اخلاص نیت کی پاکیزگی اور دل کا تقویٰ مقبول ہوتا ہے۔
بسا اوقات انسان چند فخریہ جملے بول کر اپنی عبادت کا چرچا کرکے اور لوگوں کے سامنے اپنی سخاوت کا ڈھنڈورا پیٹ کر اس عظیم عبادت کی برکتوں اور فضیلتوں سے خود کو محروم کر لیتا ہے۔ عبادت جتنی خاموشی عاجزی اور اخلاص کے ساتھ ہوگی اتنی ہی زیادہ مقبولیت کی امید ہوگی۔
اسی طرح ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ بہت سے لوگ قربانی کے گوشت کو صرف اپنے گھروں اور فریجوں کی زینت بنا لیتے ہیں۔ نہ غریبوں کا خیال رکھتے ہیں نہ محتاجوں کی خبر لیتے ہیں نہ پڑوسیوں اور عزیز و اقارب تک گوشت پہنچانے کی فکر کرتے ہیں۔ گویا قربانی کا مقصد صرف عمدہ گوشت کھانا ذخیرہ کرنا اور دسترخوان سجانا رہ گیا ہے۔ حالانکہ قربانی کا اصل پیغام تو محبت ہمدردی سخاوت اور اجتماعی خوشی کو عام کرنا ہے۔
یاد رکھئے قربانی صرف گوشت کھانے یا جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بے مثال اطاعت قربانی اور تسلیم و رضا کی یادگار ہے۔ اس عبادت میں ہر ہر سنت کو زندہ کرنا تکبیرات کا اہتمام کرنا ذبح کے آداب کا خیال رکھنا مستحقین تک گوشت پہنچانا غریبوں کے چہروں پر خوشی بکھیرنا اور اپنے دل میں عاجزی پیدا کرنا نہایت ضروری ہے۔
لہٰذا ہم سب کو چاہیے کہ اس مبارک عبادت کو خالصتاً اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے انجام دیں۔ خود بھی کھائیں اپنے اہل خانہ کو بھی کھلائیں اپنے پڑوسیوں رشتہ داروں یتیموں بیواؤں محتاجوں اور ضرورت مندوں کو بھی یاد رکھیں تاکہ عید کی خوشیاں سب تک پہنچ سکیں۔
دل کی گہرائیوں سے یہ دعا کریں۔
اللہ ربّ العزت اس معمولی عمل کو اپنی بارگاہ میں شرف قبول سے نوازے اس جانور کے صدقے ہماری خطاؤں کو معاف فرمائے ہماری مغفرت فرمائے ہمارے دلوں میں اخلاص تقویٰ اور اطاعت پیدا فرمائے اور روزِ قیامت ہمیں اپنی رحمت نصیب فرمائے آمین یا رب العالمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے