कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

جب تہذیب دیگ میں پکنے لگی: دستر خوانی عہد کا نوحہ

When Civilization Began Simmering in Cauldrons: A Lament for the Age of the Dining Table

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

ایک زمانہ تھا جب انسان زندہ رہنے کے لیے کھاتا تھا، مگر اب یوں محسوس ہوتا ہے کہ انسان صرف کھانے کے لیے زندہ ہے۔ کبھی گھروں میں یہ سوال گونجا کرتا تھا: "بیٹا! پڑھائی کیسی چل رہی ہے؟”۔ اور اب زمانہ یہ ہے کہ پوچھا جاتا ہے: "بیٹا! نئی نہاری کہاں اچھی مل رہی ہے؟”۔ یوں لگتا ہے جیسے قوم کی اجتماعی فکری، تہذیبی اور روحانی توانائیاں آخرکار "چکن تکہ” اور "مٹن کڑاہی” کے گرد سمٹ کر رہ گئی ہوں۔ ہر گلی میں ایک ہوٹل، ہر نکڑ پر ایک ریسٹورنٹ، ہر چوراہے پر ایک "فیملی ہال” اور ہر تیسری دکان پر "اصلی ذائقہ” کا بورڈ جگمگا رہا ہے۔ گویا شہروں کی شناخت اب علمی مراکز، تاریخی عمارتوں یا تہذیبی روایتوں سے کم، اور بریانی پوائنٹس، باربی کیو کارنرز اور نہاری ہاؤسز سے زیادہ ہونے لگی ہے۔
البتہ دلچسپ بات یہ ہے کہ نام، سجاوٹ اور دعوے تو ہر جگہ مختلف ہوتے ہیں، مگر دیگ کے اندر وہی ایک جیسا تیل، وہی مصالحہ اور وہی بے چارہ مرغ مختلف عنوانات کے ساتھ قوم کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہوتا ہے۔ کہیں اسے "شاہی اسپیشل” کہا جاتا ہے، کہیں "حیدرآبادی ذائقہ”، اور کہیں "خاندانی روایت”، مگر حقیقت میں بیچارا مرغ شاید خود بھی حیران ہوتا ہوگا کہ آخر وہ کتنی تہذیبوں اور کتنے ذائقوں کا نمائندہ بنا دیا گیا ہے۔
اب مسلم علاقوں کی شناخت مسجدوں، مدرسوں، کتب خانوں اور علمی و ادبی نشستوں سے کم، جب کہ "بریانی پوائنٹ”، "عربین مندی”، "حیدرآبادی ذائقہ”، "لکھنوی دسترخوان” اور "پٹھان کڑاہی ہاؤس” جیسے ناموں سے زیادہ ہونے لگی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہماری تہذیبی ترجیحات آہستہ آہستہ علم و فکر کے مراکز سے اٹھ کر دیگوں، کبابوں اور باربی کیو کے دھوئیں میں منتقل ہو گئی ہوں۔ بعض اوقات تو یہ گمان ہوتا ہے کہ اُمّتِ مسلمہ کے فکری زوال کا آخری اور فیصلہ کن مرحلہ شاید "ڈبل شوارما ود ایکسٹرا مایونیز” پر آ کر مکمل ہوا ہے۔
کبھی لوگ شہروں کا سفر ان کی تاریخ، تہذیب اور آثارِ قدیمہ کو دیکھنے کے لیے کیا کرتے تھے۔ دہلی جائیں تو لال قلعہ اور جامع مسجد کی عظمت کھینچ لاتی تھی، آگرہ جائیں تو تاج محل کی خاموش سنگ مرمری داستان دل موہ لیتی تھی، اور حیدرآباد کا نام آتے ہی چارمینار کی تاریخی شان آنکھوں میں اتر آتی تھی۔ مگر اب سفر کی ترجیحات بھی بدل چکی ہیں۔ تاریخی عمارتیں پس منظر میں جا چکی ہیں اور دسترخوان سیاحت کا مرکز بن گئے ہیں۔ اب سیاحتی گفتگو کچھ یوں شروع ہوتی ہے: "بھائی! چارمینار بعد میں دیکھ لیں گے، پہلے یہ بتاؤ کہ پانچ سو روپے والی اسپیشل بریانی آخر ملتی کہاں ہے؟”۔ گویا اب شہروں کی پہچان ان کے میناروں، قلعوں اور کتب خانوں سے نہیں، بلکہ ان کی نہاری، بریانی اور کڑاہی کے ذائقوں سے ہونے لگی ہے۔
کسی زمانے میں سیّاح اپنی جیب میں شہر کا نقشہ رکھا کرتے تھے تاکہ تاریخی مقامات، قدیم بازاروں اور ثقافتی یادگاروں تک رسائی آسان ہو۔ مگر اب زمانہ بدل چکا ہے۔ آج کے مسافر کے موبائل میں نقشے سے زیادہ "فوڈ وی لاگرز” کی فہرست محفوظ ہوتی ہے۔ پہلے سفر میں رہنمائی کے لیے تاریخ دان، مقامی بزرگ یا ٹور گائیڈ ساتھ ہوتے تھے، اب ہر دوسرے نوجوان کے ہاتھ میں موبائل، منہ میں شوارما، اور زبان پر یہی جملہ سنائی دیتا ہے: "دوستو! آج ہم آپ کو لے کر آئے ہیں شہر کے سب سے انڈرریٹڈ ریسٹورنٹ پر!”۔ پھر وہ نہایت عقیدت کے ساتھ ایک لقمہ منہ میں ڈالتا ہے، آنکھیں بند کرتا ہے، گردن آسمان کی طرف اٹھاتا ہے، اور ایسی وجدانی کیفیت طاری کر لیتا ہے جیسے ابھی ابھی اس پر کسی روحانی راز کا انکشاف ہوا ہو۔ دیکھنے والا لمحہ بھر کو یہ فیصلہ نہیں کر پاتا کہ موصوف کھانا کھا رہے ہیں یا کسی صوفیانہ واردات سے گزر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا نے اس رجحان کو محض شوق نہیں رہنے دیا، بلکہ اسے تقریباً ایک اجتماعی عقیدت اور تہذیبی جنون کی شکل دے دی ہے۔ اب لوگ کھانا کم کھاتے ہیں اور اس کی تصویریں زیادہ بناتے ہیں۔ دسترخوان اب بھوک مٹانے سے زیادہ "اسٹیٹس اپڈیٹ” اور "انسٹاگرام اسٹوری” کے لیے سجائے جاتے ہیں۔ گویا سالن کی اصل کامیابی ذائقے میں نہیں، بلکہ کیمرے میں اچھی آنے میں پوشیدہ ہے۔ اب حال یہ ہے کہ اگر بریانی کی پلیٹ انسٹاگرام پر پوسٹ نہ ہو، تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کھانا ضائع ہوگیا ہو۔ بعض لوگ تو شاید پہلا لقمہ کھانے سے پہلے یہ اطمینان ضرور کرتے ہیں کہ تصویر مناسب زاویے، درست روشنی اور مکمل جذباتی کیفیت کے ساتھ محفوظ ہو چکی ہے، تاکہ قوم کو معلوم ہو سکے کہ آج کی روحانی و فکری ترقی "اسپیشل چکن بریانی” کے ذریعے حاصل کی گئی ہے۔
آج کا نوجوان اگر رات کے دو بجے بھی گھر سے باہر نکلے تو ماں اب گھبرا کر یہ نہیں پوچھتی: "بیٹا! اتنی رات گئے کہاں جا رہے ہو؟”۔ وہ دل ہی دل میں جانتی ہے کہ یا تو کہیں "چائے ہو رہی ہے” یا کسی ہوٹل پر "کباب لگ رہے ہیں”۔ گویا رات کی خاموشی، ٹھنڈی ہوا اور دوستوں کی محفل اب فلسفے، ادب یا مستقبل کے خوابوں پر نہیں، بلکہ "ملائی بوٹی” اور "اسپیشل قہوہ” پر مکمل ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دور کے سیاسی، معاشی اور نفسیاتی دباؤ نے انسان سے اس کی بے شمار چھوٹی چھوٹی خوشیاں چھین لی ہیں۔
مہنگائی نے جیب خالی کر دی، سیاست نے ذہن الجھا دیا، خبروں نے دلوں میں بے چینی بھر دی، اور مستقبل کی غیر یقینی نے چہروں سے مسکراہٹ چرا لی۔ ایسے بے رنگ اور تھکے ہوئے ماحول میں ایک گرم نان، دھواں اڑاتی کڑاہی، تازہ کباب یا خوشبودار نہاری انسان کے لیے وقتی سکون اور مختصر سی خوشی کا سامان بن جاتے ہیں۔ شاید اسی لیے قوم اب رفتہ رفتہ اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ اگر حالات بدلنا ہمارے اختیار میں نہیں، تو کم از کم سالن کا ذائقہ ہی بدل لیا جائے۔ زندگی کے بڑے مسائل حل نہ سہی، مگر "آج کیا کھایا جائے؟” یہ سوال اب بھی قوم کے لیے امید، جوش اور اجتماعی اتفاقِ رائے کا آخری مضبوط سہارا ہے۔
یہ بھی ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ ہر شہر کا کھانا اپنے باشندوں کے مزاج، تہذیب اور طرزِ زندگی کا عکس محسوس ہوتا ہے۔ حیدرآباد کی بریانی بھی وہاں کی سیاست کی طرح تیز، رنگین اور غیر متوقع ہوتی ہے؛ ہر لقمے میں ایسا موڑ آتا ہے کہ انسان اندازہ ہی نہیں لگا پاتا کہ اگلا ذائقہ مرچ کا ہوگا یا مصالحے کا۔ لکھنؤ کے کباب اتنے شائستہ اور نفیس کہ زبان پر آ کر بھی تہذیب کے ساتھ پگھلتے ہیں، گویا کھانا نہیں بلکہ کسی نواب کی نرم گفتاری منہ میں گھل رہی ہو۔ ممبئی کی کڑاہی میں وہی بے تکلفی، تیزی اور ہنگامہ خیزی محسوس ہوتی ہے جو اس شہر کے لوگوں کے مزاج میں رچی بسی ہے۔ اور دہلی کی نہاری کا جوش و خروش تو ایسا ہے کہ چند لقمے کھاتے ہی انسان کو اپنے کولیسٹرول، معدے اور آئندہ نسلوں کی صحت کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرنے کا خیال آنے لگتا ہے۔
مگر معاملہ صرف کھانے کا نہیں، بلکہ "کھانے کی نفسیات” کا ہے۔ ہم آہستہ آہستہ ایک ایسے عہد میں داخل ہو چکے ہیں جہاں علم و تحقیق سے زیادہ "فوڈ بلاگنگ” منافع بخش پیشہ بنتی جا رہی ہے۔ کتابوں کی دکانیں سکڑ رہی ہیں، لائبریریاں خاموش ہو رہی ہیں، جب کہ کیفے، فوڈ اسٹریٹس اور "اوپن ایئر ڈائننگ” کے مراکز پھیلتے چلے جا رہے ہیں۔ مطالعہ کم ہو رہا ہے اور "مکبنگ” بڑھ رہا ہے؛ لوگ اب کتابوں کے اقتباسات کم اور کھانوں کی ویڈیوز زیادہ شیئر کرتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قوم نے فکری غذا کی جگہ رفتہ رفتہ صرف معدے کی تسکین کو اپنی تہذیبی ترجیح بنا لیا ہو۔
اب نوجوانوں کے خوابوں میں اقبالؔ، غالبؔ اور رازیؔ جیسے اہلِ فکر و دانش کم دکھائی دیتے ہیں، جب کہ "چیسی پاستا”، "افغانی تکہ” اور "فیملی پلاٹر” زیادہ جلوہ گر ہونے لگے ہیں۔ کبھی نوجوانوں کی گفتگو میں شاعری کے اشعار، فلسفے کے مباحث اور تاریخ کے حوالے ہوا کرتے تھے، مگر اب محفلوں کا مرکز یہ بحث بن چکی ہے کہ شہر میں "بہترین شوارما” کہاں ملتا ہے اور کس ہوٹل کی "اسپیشل سوس” واقعی اسپیشل ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ ہر محلّے میں کوئی نہ کوئی بزرگ ضرور موجود ہوتا تھا جو بچّوں کو ادب، تاریخ، اخلاق اور زندگی کے آداب سکھایا کرتا تھا۔ اس کی گفتگو میں تجربے کی دانائی اور تہذیب کی خوشبو ہوتی تھی۔ مگر اب منظر بدل چکا ہے۔
آج ہر محلّے میں ایک "فوڈ ایکسپرٹ” ضرور پایا جاتا ہے، جو پورے اعتماد، علمی سنجیدگی اور فقہی یقین کے ساتھ اعلان کرتا ہے: "اصل چپلی کباب تو صرف لکھنؤ والے بناتے ہیں، باقی سب ڈرامہ ہے!”۔ اور پھر اس دعوے کے حق میں ایسے دلائل دیے جاتے ہیں جیسے کسی عظیم علمی نظریے کا دفاع کیا جا رہا ہو۔ الغرض، کھانا اب محض بھوک مٹانے کی ضرورت نہیں رہا، بلکہ تہذیب، تجارت، تفریح، شناخت، جذبات اور سوشل اسٹیٹس کا مکمل استعارہ بن چکا ہے۔ اب لوگ صرف کھانا نہیں کھاتے، بلکہ اپنے ذوق، معیار اور سماجی حیثیت کا اظہار بھی پلیٹوں، تصویروں اور ریسٹورنٹس کے انتخاب کے ذریعے کرتے ہیں۔
انسان اب صرف روٹی نہیں کھاتا، بلکہ "تجربہ” کھاتا ہے۔ وہ سالن نہیں مانگتا، بلکہ "وائب” تلاش کرتا ہے۔ اب کھانے کی کامیابی اس کے ذائقے سے کم اور اس کے ماحول، روشنی، موسیقی، پیشکش اور تصویروں میں زیادہ ناپی جاتی ہے۔ گویا معدہ بھرنے سے زیادہ "احساس” پیدا کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ اسی لیے آج کا انسان کبھی کیفے کے سکون میں خوشی ڈھونڈتا ہے، کبھی دھواں اڑاتی کڑاہی میں، اور کبھی ایک خوب صورت پلیٹ کی تصویر میں اپنی ادھوری مسکراہٹ تلاش کرتا ہے۔ اور شاید یہی اس عہد کا سب سے دلچسپ اور الم ناک تضاد بھی ہے کہ جس معاشرے میں فکری بھوک بڑھتی جا رہی ہے، وہاں لوگ اسے بھی "بفیے” سے مٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کتابوں، مکالموں اور علم کی محفلوں کی جگہ اب فوڈ اسٹریٹس، کیفے کلچر اور "آل یو کین ایٹ” نے لے لی ہے۔ ذہن تشنہ ہیں، مگر دسترخوان آباد ہیں۔
خدا خیر کرے، کہیں ایسا نہ ہو کہ آنے والی نسلیں تاریخ کی کتابوں میں یہ پڑھیں: "برصغیر کے مسلمان اپنے علمی زوال کے آخری دور میں دو میدانوں میں غیر معمولی ترقی کر گئے تھے: ایک فوڈ وی لاگنگ، اور دوسری ‘فیملی ریسٹورنٹ’ کی شاندار افتتاحی تقریبات!” اور ممکن ہے اس جملے کے نیچے کسی مؤرخ نے یہ حاشیہ بھی لکھ چھوڑا ہو کہ: "قوم کے علمی مراکز خاموش ہوتے گئے، مگر ‘گرینڈ اوپننگ’ کے غبارے، ربن اور ڈسکاؤنٹ آفرز پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ رہے”۔
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے