कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

حج کی روحانی کیفیت، بیت اللہ کی محبت اور ایک مؤمن کا تڑپتا ہوا دل

تحریر:ڈاکٹر محمد عبدالسمیع ندوی
اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس، اورنگ آباد
موبائل: 9325217306
حال مقیم ہوٹل اسفار الحجاز مکہ ،بلڈنگ نمبر 1303 روم نمبر 207

اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں حج کو ایک عظیم اور منفرد مقام حاصل ہے۔ یہ وہ مقدس عبادت ہے جس میں بندہ اپنے رب کے حضور سراپا بندگی بن کر حاضر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صاحبِ استطاعت مسلمانوں پر حج فرض فرمایا اور قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
“اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا فرض ہے جو وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو۔”
حج محض ایک عبادت نہیں بلکہ روحانی انقلاب، ایمانی تربیت، اخوتِ اسلامی اور کامل بندگی کا ایک عظیم مظہر ہے۔ اس میں نہ کسی قوم کو کسی دوسری قوم پر فضیلت حاصل ہے اور نہ کسی زبان یا نسل کو برتری۔ امیر و غریب، عرب و عجم، بادشاہ و فقیر سب ایک ہی لباسِ احرام میں ملبوس ہو کر ایک ہی رب کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ یہی وہ منظر ہے جو انسان کو قیامت کے دن کی یاد دلاتا ہے، جب ہر شخص اپنے رب کے حضور حاضر ہوگا۔
جب دنیا کے مختلف خطوں سے قافلہ ہائے حج مکہ مکرمہ کی طرف رواں ہوتے ہیں تو گویا پوری امتِ مسلمہ کی روح ایک مرکز پر جمع ہوجاتی ہے۔ سفید احراموں میں ملبوس لاکھوں انسان ایسے محسوس ہوتے ہیں جیسے بکھرے ہوئے موتی زمین پر جگمگا رہے ہوں۔ قرآن کریم نے جنت کے غلمان کے حسن کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:
“جب تم انہیں دیکھو گے تو گمان کرو گے کہ وہ بکھرے ہوئے موتی ہیں۔”
واقعہ یہ ہے کہ احرام میں ملبوس حجاج کا منظر بھی اسی نورانی کیفیت کا آئینہ دار محسوس ہوتا ہے۔ ہر طرف “لبیک اللہم لبیک” کی صدائیں گونجتی ہیں، دل لرزتے ہیں، آنکھیں نم ہوتی ہیں اور روح اپنے خالق کے حضور جھک جاتی ہے۔
حج انسان کو دنیا کی ظاہری آلائشوں سے نکال کر ایک ایسے روحانی ماحول میں لے جاتا ہے جہاں بندہ اپنے رب کے سوا ہر شے کو بھول جاتا ہے۔ وہ اپنے گھر، کاروبار، عزیز و اقارب اور دنیا کی رنگینیوں کو چھوڑ کر بیت اللہ کی جانب سفر کرتا ہے۔ اس کے لبوں پر تلبیہ ہوتا ہے اور دل میں مغفرت و رحمت کی امید۔
یہی وجہ ہے کہ جن لوگوں کو حج کی سعادت نصیب نہیں ہوتی، ان کے دل بھی بیت اللہ کی محبت میں بے قرار رہتے ہیں۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا ذکر آتے ہی آنکھیں اشکبار ہوجاتی ہیں اور دل تڑپ اٹھتا ہے۔
ہر سچے مومن اورسچی تڑپ رکھنے والے کی خداکے گھر کی دیدار کی تڑپ ہوتی ھے وہ جب حج کا موسم آتا اس کا دل یوں کہہ اٹھتا
“کاش میں بھی ان خوش نصیبوں کے ساتھ ہوتا، کاش ایک لمحے کے لیے ہی سہی، مسجد حرام، مکہ کے پہاڑوں اور وادیوں کو اپنے سینے سے لگا لیتا اور اپنی محبت و شوق کے آنسو ان پر نچھاور کر دیتا۔”
یہ کیفیت کسی معمولی جذباتیت کا نام نہیں بلکہ ایمان کی حرارت اور محبتِ الٰہی کی علامت ہے۔ کیونکہ ایک سچا مؤمن جسم سے چاہے ہزاروں میل دور ہو، مگر اس کی روح ہمیشہ حرمین شریفین کے گرد منڈلاتی رہتی ہے۔ خانہ خدا کے دیدار کی تڑپ ہی انسان کو حج بیت اللہ کی سعادت نصیب کرواتی ہے اور جن کے دل میں حقیقی خواہش اور دلی تڑپ اور ارادہ وجذبہ نہیں ہوتا ایسے شخص کے سلسلہ میں حدیث میں صراحتاً موجود ہے کہ جسکے دل میں حج بیت اللہ کی خواہش نہیں تو پھر اللہ کو کوئ پروا نہیں کہ وہ شخص یہودی مرے یا عیسائی بن کر مرے
آج جب حجاج کرام خانۂ کعبہ کا طواف کرتے ہیں، صفا و مروہ کے درمیان سعی کرتے ہیں، غارِ حرا کی جانب نگاہ اٹھاتے ہیں، میدانِ عرفات میں دعاؤں کے لیے ہاتھ بلند کرتے ہیں، مزدلفہ میں رات گزارتے ہیں اور منیٰ کی وادیوں میں اللہ کی کبریائی بیان کرتے ہیں، تو ان کے یہ مناظر دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں کو بے چین کر دیتے ہیں۔
بعض قافلے ایسے ہوتے ہیں کہ ایک ہی ملک یا علاقے کے لوگ ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے ہجوم میں چلتے ہیں تاکہ بچھڑ نہ جائیں۔ ان میں سے کوئی آگے بڑھ کر دعائیں پڑھتا ہے اور باقی لوگ اس کے پیچھے دہراتے ہیں۔ ممکن ہے ان کی زبان عربی کے حروف صحیح ادا نہ کر پاتی ہو، لیکن اللہ تعالیٰ بندوں کی زبان نہیں بلکہ ان کے دلوں کی کیفیت دیکھتا ہے۔ اخلاص، عاجزی اور خشوع ہی اصل سرمایہ ہیں۔
یہی حج کی سب سے بڑی روح ہے کہ وہاں انسان اپنی حقیقت پہچان لیتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ دنیا کی ساری بڑائیاں عارضی ہیں، اصل عظمت اللہ کی بندگی میں ہے۔
میدانِ عرفات کا منظر تو گویا قیامت کا نمونہ محسوس ہوتا ہے۔ لاکھوں انسان سفید لباسوں میں ملبوس، ہاتھ اٹھائے، آنسو بہاتے، دعائیں مانگتے اور اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں۔ اس وقت ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آسمان کے دروازے کھول دیے گئے ہوں اور رحمتِ الٰہی موسلا دھار بارش کی طرح برس رہی ہو۔
وہاں کتنے ہی گناہگار توبہ کرکے واپس لوٹتے ہیں، کتنے ہی غافل اللہ والے بن جاتے ہیں، کتنے ہی سخت دل آنسوؤں میں پگھل جاتے ہیں۔ حج انسان کی زندگی کو بدل دیتا ہے۔ اس کی روح کو نئی تازگی اور دل کو نیا نور عطا کرتا ہے۔
حج کی سعادت سے محروم مگر حج کیلئے وفور شوق رکھنے والے ایک شاعر نے اپنے جذبات کو نہایت خوبصورت اشعار میں پیش کیا ہے۔ ان اشعار کا مفہوم کچھ یوں ہے:
“اے میرے رب! اگرچہ میں اس وقت حاجیوں میں شامل نہیں ہوں، لیکن میرا دل محبتِ الٰہی سے لبریز ہے۔
میرا دل دھڑکتا رہے گا تو میری زبان لبیک کہتی رہے گی۔
میں عاجزی کے ساتھ تیری بارگاہ میں حاضر ہوں۔
اے اللہ! تو اپنی رحمت سے میرے وجود کو بھی نور سے بھر دے۔
میں تیرے فضل اور کرم کا امیدوار ہوں۔”
یہ اشعار دراصل ہر اس مسلمان کے دل کی آواز ہیں جس کے اندر بیت اللہ کی محبت زندہ ہے۔ حج صرف جسمانی سفر نہیں بلکہ دل کا سفر ہے۔ بہت سے لوگ خانۂ کعبہ تک پہنچ جاتے ہیں مگر ان کے دل بیدار نہیں ہوتے، جبکہ کچھ لوگ دور رہ کر بھی محبت اور شوق کی ایسی کیفیت رکھتے ہیں کہ ان کی روحیں ہر وقت حرم کے آس پاس محسوس ہوتی ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم حج کی صرف ظاہری رسومات پر اکتفا نہ کریں بلکہ اس کے پیغام کو سمجھیں۔ حج ہمیں اتحاد، اخوت، قربانی، صبر، عاجزی، تقویٰ اور اللہ سے تعلق کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر حاجی ان صفات کو اپنی زندگی میں باقی رکھے تو اس کا حج واقعی “حجِ مبرور” بن جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو بار بار حرمین شریفین کی حاضری نصیب فرمائے، حجاج کرام کے حج کو قبول فرمائے اور جن دلوں میں بیت اللہ کی محبت تڑپ رہی ہے، انہیں بھی اپنے مقدس گھر کی حاضری سے مشرف فرمائے۔ آمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے