कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

قرآنِ کریم اور زمین کی بیضوی شکل

از قلم : عارف محمد خان ، جلگاؤں

انسان صدیوں سے زمین کی حقیقت، اس کی ساخت اور کائنات میں اس کے مقام کو جاننے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ قدیم زمانے میں لوگ زمین کو کبھی ہموار، کبھی ستونوں پر قائم اور کبھی کسی دیوقامت مخلوق کی پشت پر تصور کرتے تھے، مگر جیسے جیسے علمِ فلکیات اور سائنس ترقی کرتی گئی، انسان پر یہ حقیقت آشکار ہوتی گئی کہ زمین نہ مکمل طور پر گول ہے اور نہ ہی چپٹی، بلکہ اس کی شکل بیضوی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ قرآنِ کریم نے چودہ سو سال قبل ایسے الفاظ استعمال کیے جن سے زمین کی ساخت اور اس کی حقیقت کی طرف واضح اشارے ملتے ہیں۔
قرآنِ کریم میں زمین کی شکل:
اللہ تعالیٰ سورۂ نازعات میں فرماتا ہے:
وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَا
“اور اس کے بعد زمین کو بچھایا۔”
(سورۂ نازعات: 30)
عربی زبان میں لفظ “دحاھا” نہایت معنی خیز ہے۔ عربی لغات کے مطابق اس لفظ کے کئی مفاہیم ہیں، جن میں پھیلانا، ہموار کرنا اور “شتر مرغ کے انڈے جیسی شکل دینا” شامل ہیں۔ جدید سائنس نے ثابت کیا کہ زمین مکمل گول نہیں بلکہ قطبین پر کچھ دبی ہوئی اور خطِ استوا پر ابھری ہوئی ہے، یعنی اس کی شکل بیضوی یا انڈے سے مشابہ ہے۔ یہی حقیقت قرآن کے اس مختصر مگر جامع لفظ میں پوشیدہ دکھائی دیتی ہے۔
قدیم نظریات اور جدید حقیقت:
یونانی فلسفیوں کے دور میں زمین کے متعلق مختلف نظریات پائے جاتے تھے۔ بعض اسے چپٹی سمجھتے تھے جبکہ کچھ نے اسے گول قرار دیا۔ بعد ازاں سائنس دانوں نے فلکی مشاہدات، سیٹلائٹ تصاویر اور ریاضیاتی حسابات کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ زمین کی اصل شکل “Oblate Spheroid” یعنی قدرے بیضوی ہے۔
زمین اپنے محور پر گردش کرتی ہے۔ اس گردش کی وجہ سے خطِ استوا ابھر جاتا ہے جبکہ قطبین کچھ دب جاتے ہیں۔ جدید پیمائش کے مطابق زمین کا استوائی قطر تقریباً 12756 کلومیٹر ہے۔
قطبی قطر تقریباً 12714 کلومیٹر ہے۔یہ معمولی فرق اس بات کا ثبوت ہے کہ زمین مکمل کرہ نہیں بلکہ بیضوی ساخت رکھتی ہے۔
قرآن اور رات دن کا نظام:
قرآنِ کریم زمین کی ساخت کے ساتھ ساتھ اس کی گردش کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
يُكَوِّرُ اللَّيْلَ عَلَى النَّهَارِ وَيُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى اللَّيْلِ
“وہ رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے۔”
(سورۂ الزمر: 5)
لفظ “يُكَوِّرُ” عربی میں کسی چیز کو لپیٹنے یا گول شے پر چڑھانے کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسے پگڑی لپیٹنا۔ یہ اندازِ بیان اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ زمین کروی یا بیضوی ہے، کیونکہ اگر زمین چپٹی ہوتی تو رات اور دن کا اس طرح تدریجی لپیٹنا ممکن نہ ہوتا۔
آج سائنس بتاتی ہے کہ زمین کی گردش کی وجہ سے دن اور رات پیدا ہوتے ہیں۔ سورج کی روشنی زمین کے مختلف حصوں پر باری باری پڑتی ہے، جس سے کہیں دن اور کہیں رات ہوتی ہے۔ خلا سے لی گئی تصاویر میں بھی زمین پر روشنی اور تاریکی کا تدریجی پھیلاؤ واضح دکھائی دیتا ہے۔
سائنس اور قرآن کا ہم آہنگ تعلق:
یہ حقیقت قابلِ غور ہے کہ جب قرآن نازل ہوا، اس زمانے میں نہ دوربینیں تھیں، نہ سیٹلائٹ اور نہ جدید فلکیاتی آلات۔ انسان زمین کی مکمل شکل کا مشاہدہ کرنے سے قاصر تھا۔ اس کے باوجود قرآن نے ایسے الفاظ استعمال کیے جو آج کی سائنسی دریافتوں سے مطابقت رکھتے ہیں۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ قرآن سائنس کی کتاب نہیں، بلکہ ہدایت کی کتاب ہے۔ تاہم اس میں کائنات کے متعلق جو اشارات موجود ہیں، وہ انسان کو غور و فکر، تحقیق اور تدبر کی دعوت دیتے ہیں۔ قرآن بار بار انسان سے سوال کرتا ہے کہ کیا وہ آسمانوں اور زمین میں غور نہیں کرتا؟
زمین کی ساخت اور انسانی زندگی:
زمین کی بیضوی شکل اور اس کی گردش انسانی زندگی کے لیے نہایت اہم ہے۔ اگر زمین کی رفتار یا جھکاؤ میں معمولی فرق بھی آ جائے تو موسم، دن رات کا نظام اور زندگی کا توازن متاثر ہو سکتا ہے۔ زمین کی یہی متوازن ساخت سمندروں، ہواؤں، درجہ حرارت اور موسمی نظام کو برقرار رکھتی ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق زمین اپنے محور پر تقریباً 1670 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گردش کر رہی ہے، جبکہ سورج کے گرد بھی مسلسل سفر کر رہی ہے۔ اس عظیم نظام میں معمولی سی تبدیلی بھی زندگی کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔ یہی حقیقت انسان کو خالقِ کائنات کی قدرت اور حکمت کا احساس دلاتی ہے۔
قرآن کی دعوتِ فکر:
قرآنِ کریم انسان کو اندھی تقلید کے بجائے تحقیق، مشاہدہ اور تدبر کی تعلیم دیتا ہے۔ زمین، آسمان، سورج، چاند، ستارے اور کائنات کی دیگر نشانیاں دراصل انسان کے لیے غور و فکر کا سامان ہیں۔ جدید سائنس جتنا آگے بڑھ رہی ہے، کائنات کے متعلق قرآن کے اشارات اتنے ہی زیادہ واضح ہوتے جا رہے ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے