कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

قرض یا قربانی

از قلم : ظفر ھاشمی ندوی
سابق فیملی کونسلر دُبئی کورٹ
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

ہر سال زکوٰۃ کی ادائیگی یا بقر عید کے موقع پر کئی مسلمان مختلف علماء اور مفتیان کرام سے یہی سوال کرتے ہیں کہ قرض ہوتے ہوئے زکوٰۃ دیں یر قربانی کریں یا نہ کرنے کی کوئی گنجائش ہے؟
اصل جواب سے پہلے میرا ہر مسلمان سے یہ سوال ہے کہ شادی ، آر سی سی کا گھر بنانا یا ضرورت بھر گھر بنانے کے بجائے زیادہ سے زیادہ کمرے بنانا یا ڈیکوریشن اور خوبصورت گھر بنانا ،تجارت بڑھانے یا اپنے بچوں کی اعلیٰ تعلیم دینے یا رشوت دے کر سروس حاصل کرنے کے لئے بھی آپ نے اپنے آپ سے کبھی یہی سوال کیا ہے؟ جواب صرف نفی میں ہے یعنی ایسا ان حالات میں سوچا بھی نہیں گیا بلکہ بے تحاشا قرض لے کر بے تحاشا خرچ بھی کیا گیا-لیکن بے چاری زکوٰۃ اور قربانی اکثر مسلمانوں کے لئے گلے میں ہڈی پھنسنے کی طرح بن جاتی ہے- یہ حالت انتہاہی شرمناک ہے اور صرف ایمان کی کمزوری اور دنیوی ضرورتوں کو اپنی آخرت پر ترجیح دینے کی بیماری ہے-
جہاں تک قرض لینے کی بات ہے تو کسی بھی دنیوی یا دینی ضرورت کے لئے سودی قرض لینا حرام ہے- اسی طرح حلال طریقہ سے قرض لینا اور ادا نہ کرنے کی نیت رکھنا یہ بھی حرام ہے جس کی آخرت میں بڑی سخت پکڑ ہوگی- البتہ جائز ضرورت کے لئے ضرورت بھر حلال طریقہ سے قرض لینا اور وعدہ کے مطابق اداکرنے کی نیت ہونا، اسلام نے اجازت دی ہے-
جائز ضرورت کسے کہتے ہیں؟
زندگی کی کوئی بھی ایسی ضرورت جس کے پوری نہ ہونے پر زندگی دشوار ہو جائے اور شریفانہ زندگی نہ گزار سکے ، اسے جائز ضرورت کہتے ہیں- اسی طرح ہر وہ خواہش جو بلا شدید ضرورت ہو یا فضول خرچی میں شمار ہوتی ہو وہ ضرورت کے دائرہ سے خارج ہے اس لئے اس کے لئے قرض لینا جائز نہیں ہے – اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے( ان المبذرین کانوا اخوان الشیاطین ) فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں)- بد قسمتی سہے اکثر مسلمان عرب کے ہوں یا عجم کے ، غریب ہوں یا امیر شیطان کے بھائی ہیں- پچھلے چالیس سال سے متحدہ عرب امارات میں رہتے ہوئے میں نے عربوں کا حال بھی دیکھ لیا ہے اور انھیں بھی سمجھایا ہے-
ان تمام حقائق کی روشنی میں سودی قرض لینا اور اس کا بہانہ کرکے زکوٰۃ نہ دینا یا قربانی نہ کرنا بالکل حرام ہوگا اور دنیا میں مال میں برکت نہیں ہوگی بلکہ مصیبتیں بڑھ جائیں گی اور آخرت میں خطرناک عذاب ہوگا- یہ بات بھی یاد رہے کہ حلال طریقہ سے قرض لینا بھی سچی ضرورت کے بغیر ، فضول خرچی میں شمار ہوگا اور فضول خرچی اسلام میں جائز نہیں ہے-
ہر چالیس ہزار میں سے صرف ایک ہزار زکوٰۃ دینا اور اس کے نہ دینے کے بہانے ڈھونڈنا انتہائی کمینے پن کی نشانی ہے – اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے( إنه علیم بذات الصدور- وہ تو دلوں کے اندر کی بات بھی اچھی طرح جانتا ہے – نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے ( استفت قلبک ولو افتاک المفتون- اپنے دل سے پوچھ لیا کرو مفتی جو بھی فتویٰ دے)-
البتہ قربانی کے لئے جس میں صرف چند سو روپے خرچ ہوتے ہیں اگر کوئی شخص قرض لے اور ادا کرنے کی طاقت بھی رکھتا ہے تو قرض لینا جاہز ہوگا-
اسی طرح کم سے کم خرچ کی سوچ بھی قربانی دینے میں کسی مسلمان کے لئے شرمناک بات ہے – ہاں اس معاملہ میں بھی دنیا والوں کو شان دکھانا بھی حرام ہے – مسلمان کا ہر کام صرف اللہ کی رضامندی اور اس کے حکم پر عمل کے لئے ہو نہ کہ شہرت اور دنیا والوں کو دکھانے کے لئے ہو- نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے ( إنما الاعمال بالنیات) اللہ تعالیٰ کے پاس ہر عمل کا بدلہ نیت کے اعتبار سے ہوگا-
اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو دینی کاموں میں کنجوسی اور دنیا کی ضرورتوں میں فضول خرچی اور ریاکاری کرنے سے بچائے- آمین یا رب العالمین-

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے