कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

قربانی کی عظمت اور ہماری ترجیحات کا بحران

خامہ بکف محمد عادل ارریاوی

انسان کی زندگی میں کچھ عبادتیں ایسی ہیں جو صرف اعمال ہی نہیں بلکہ ایمان محبت اور بندگی کی عملی تفسیر ہوتی ہیں۔ قربانی بھی انہی عظیم عبادات میں سے ایک ہے جس کے ذریعے بندۂ مؤمن اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی وفاداری ایثار اور اطاعت کا اظہار کرتا ہے۔ مگر افسوس کہ وقت گزرنے کے ساتھ ہم نے اس عظیم عبادت کی روح کو کم اور اس کی ظاہری رسموں کو زیادہ اہمیت دینا شروع کر دی ہے۔
شعائر وہ امور ہیں جن سے شان و شوکت اسلام کی ظاہر ہوتی ہے تو جسے حج وسعی طواف وغیرہ شعائر میں سے ہیں ایسے ہی قربانی شعائر میں سے ہے کیونکہ ان سب میں یہ بات مشترک ہے کہ ان سے اسلام کی شان و شوکت ظاہر ہوتی ہے کیونکہ ان میں شان تعبدی زیادہ ہے اور عقل کو ان میں دخل کم ہے اور ایسے افعال کا بجالانا جن میں عقل کو دخل نہ ہو یا کم ہو موجب اطاعت زائدہ و علامت عبدیت کاملہ ہے اور جس قدر ہماری عبدیت کا ظہور ہو گا حق تعالٰی شانہ کی عظمت کا انکشاف زائد ہوگا اور دوسروں پر بھی یہی شوکت اسلام ہے۔ پس وَمَنْ يُعَظِمُ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ (ان آیت ۳۲)
جو شخص دین خداوندی کی ان یادگاروں کا خیال رکھے گا تو ان کا یہ خیال رکھنا خدا تعالیٰ سے دل کے ساتھ ڈرنے سے ہوتا ہے) میں تعظیم اضحیہ کا بھی امر ہے۔
خصوصاً جب اس کے ساتھ یہ آیت متصل ہے۔ وَالْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَائِرِ اللَّهِ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ الج آیت نمبر ۳۶) (اور قربانی کے اونٹ اور گائے کو تمہارے لیے ہم نے اللہ کے دین کی یادگار بنایا ہے ان جانوروں میں تمہارے اور بھی فائدے ہیں ) اور قربانی کی تعظیم دو طرح ہے۔ صورۃ بھی معنی بھی، معنوی تعظیم تو یہ ہے کہ اس میں اخلاص کا اہتمام کیا جائے اور تعظیم صوری یہ ہے کہ قربانی کا جانور بہت اچھا اور عمدہ ہو اسی لیے بعض مفسرین نے وَمَنْ يُعَظِمُ شَعَائِرَ الله کی تغییر حدیث سَمِنُوا ضَحَايَاكُمْ (یعنی اپنی قربانی میں جانور فربہ کیا کرو) سے کی ہے کہ تعظیم شعائر اللہ یہ ہے کہ قربانی کے جانوروں کو موٹا تازہ کر کے ذبح کیا جائے لیکن یہ مطلب نہیں کہ تعظیم شعائر اللہ کا اس میں انحصار ہے۔ ( السوال فی الشوال ص ۵)
قربانی میں ایسی گائے تو پیش کرے جیسی حاکم ضلع کے لیے پیش کیا کرتے ہیں۔ ایسی گائے یا قربانی کا جانور اپنی جان کا عوض ہو سکتی ہے۔ غرض قربانی کا جانور کم از کم ایسا تو ہو جس کے ذبح کرنے سے دل پر چوٹ لگے یعنی پال پوس کر قربانی کے لیے تیار کیا ہو۔ حضرت شیخ الہند مولانا محمودالحسن صاحب نے ایک مرتبہ قربانی کے لیے گائے پالی تھی جس کو سال بھر تک دانہ کھلایا اور عصر کے بعد اپنے ساتھ جنگل لے جاتے اور خوب دوڑاتے تا کہ بدن خوب کھلے اور فربہ ہو اور بقر عید کے دن جب اسے ذبح کیا تو مولانا کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ یہ مسلمانوں کی رحم دلی کی مثال ہے۔ شاید کسی کو اس سے یہ شبہ ہو کہ جب ذبح سے رنج ہوا تو ثواب کم ہوگا۔ پس یا درکھو کہ رنج کی دو قسمیں ہیں ایک رنج طبعی جیسے اولاد وغیرہ کے مرنے پر جو طبعی رنج ہوتا ہے اس پر ثواب کا وعدہ ہے۔ ہاں عقلی رنج بے شک ثواب کو کم کرتا ہے مگر وہ عشاق میں نہیں ہوتا۔
اللہ تعالیٰ نے جب جانور بنائے اور ان کے حقوق ثابت کیے اور پھر بھی قربانی کرنے کا حکم دیا تو معلوم ہوا کہ قربانی خلاف رحم نہیں اور غالب خاصیت عادہ رحم کی یہی ہے کہ اگر کوئی عارض قوی نہ ہو تو تکلیف سے بچاتے ہیں تو اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ بظن غالب جانوروں کو ذبح ہوتے ہوئے اتنی تکلیف نہیں ہوتی جتنا زعم کیا جاتا ہے یعنی طبعی موت سے کم ہوتی ہے اور ذوق سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید اتنی کم ہوتی ہو کہ مثل نہ ہونے کے ہو کیونکہ عاشق کے لیے بڑی خوش نصیبی ہے کہ محبوب کے سامنے گردن جھکائے اور اس کے نام پر قربان ہو جائے اور اللہ تعالی سے محبت ہر چیز کو ہے اور کیوں نہ ہو جبکہ محبوبان خدا سے ہر شے کو محبت ہوتی ہے ان مقدمات پر نظر کر کے تو یہ کہا جائے گا کہ ذبح کے وقت قربانی کے جانور کا یہ حال ہو گا۔
جس وقت جانور کو یہ معلوم ہے کہ اللہ کے نام پر ذبح ہوتا ہوں تو خوشی میں مست ہو جاتا ہے۔ یہی نکتہ ہے اس میں کہ بسم اللہ اللہ اکبر کہ کر ذبح کیا جائے کہ اس سے جانور مست ہو جاتا ہے اور کوئی تکلیف نہیں ہوتی ۔ (سنت ابراہیم ص ۲۲)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے جانور کا خون بہانا ارشاد فرمایا۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کی اصل روح نذرالی اللہ ہے کیونکہ اس میں کھانے تک کا بھی ذکر نہیں اس سے ان ملحدوں کا منہ بند کر دیا گیا کہ اس قدر جانوروں کے ذریعہ میں فضول رقم ضائع کی جاتی ہے یہ رقم رفاہ عامہ کے کاموں میں خرچ کرنا چاہیے۔ اگر کوئی شخص بادشاہ وقت کے سامنے دس لاکھ روپے نذرانہ پیش کرے تو وہاں کوئی نہیں کہتا کہ یہ رقم رفاہ عامہ کے کاموں میں خرچ کرے۔ افسوس خدا کے سامنے کوئی نذر پیش کرے تو اس کی رقم کو فضول ضائع کہا جاتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ آج کل مسلمانوں میں عقل کی کمی ہے اس لیے وہ شریعت کے احکام پر اشکال کرتے ہیں تو اس کا بڑا سبب خدا تعالی سے تعلق کی کمی ہے اگر ان کو خدا تعالیٰ سے تعلق ہوتا تو ان کی عقلیں درست ہو جاتیں۔ ان لوگوں کو رقم ضائع کرنے کا شبہ اس سے ہوا کہ انہوں نے قربانی کی غرض گوشت کھانا سمجھا حالانکہ اس کی یہ غرض نہیں بلکہ اس کی غایت خدا تعالیٰ کے نام پر جان فدا کرتا ہے کیونکہ قربانی کی روح نذر ہے اگر کوئی شخص ایک ہزار بکرے بھی ذبح کرے تو شریعت اس کو منع نہیں کرتی۔ (السوال فی الشوال ص ۲۶۲۵)
ارشاد فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اپنی قربانیوں کو کھلا پلا کر خوب قوی کیا کرو کیونکہ وہ پل صراط پر تمہاری سواریاں ہوں گی ( کنز العمال عن ابی ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) عالموں نے سواریاں ہونے کے دو مطلب بیان کیے ہیں۔ ایک یہ کہ قربانی کے جانور خود سواریاں ہو جائیں گی اور اگر کئی جانور قربان ہوں تو سب کے بدلے میں ایک بہت اچھی سواری مل جائے گی یا ایک ایک منزل میں ایک ایک جانور پر سواری کریں گے۔ دوسرا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ قربانیوں کی برکت سے پل صراط پر چلنا آسان ہوگا گویا کہ خود ان پر سوار ہو کر پار ہو گئے ۔ (حیات السلمین) ایک شخص تھے کہ ایام قربانی میں جانور ذبح نہیں کرتے تھے بلکہ اس کی قیمت خیرات کر دیا کرتے تھے۔ ایک رات خواب میں کیا دیکھتے ہیں کہ میدان قیامت برپا ہے اور پل صراط قائم ہے اور دوسرے کنارے پر جنت ہے بہت لوگ اپنی اپنی سواریوں پر سوار ہو کر پل صراط کو طے کرتے ہیں اور جنت میں داخل ہوتے اور یہ شخص حیران اور پریشان کھڑا ہے کہ میں کس طرح گزروں نہ میرے پاس سواری ہے اور نہ کوئی حیلہ اور یہ شخص بھی سوچ رہا تھا کہ یہ سواریاں لوگوں کے پاس کہاں سے آتی ہیں اور کون دیتا ہے اچانک آواز آئی کہ یہ سواریاں ان لوگوں کی ہیں جنہوں نے دنیا میں اپنے لیے تیار کی تھیں یعنی یہ سواریاں قربانی کے جانور ہیں چونکہ تم قربانی نہیں کرتے ہو لہذا تم سواری سے محروم ہو۔ جب آنکھ کھلی بہت متاثر ہوئے اور قربانی نہ کرنے سے توبہ کی اور قربانی کرنے لگے۔ (سنت ابراہیم ص ۲۶۲۵)
قربانی ہر مسلمان عاقل بالغ مقیم پر واجب ہے جس کی ملک میں ساڑھے باون تولے چاندی یا اس کی قیمت کا مال اس کی حاجات اصلیہ سے زائد موجود ہو یہ مال خواہ سونا چاندی یا اس کے زیورات ہوں یا مال تجارت یا ضرورت سے زائد گھر یلو سامان یا مسکونہ مکان سے زائد وغیرہ قربانی کے معاملہ میں اس پر سال گزرنا بھی شرط نہیں بلکہ مالیت مذکورہ کا مالک ایام قربانی میں بن گیا تو اس پر قربانی واجب ہوگی ۔
اے اللہ ربّ العزت ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت اور محبت سے بھر دے ہمیں اخلاص کے ساتھ عبادت کرنے کی توفیق عطا فرما اور ہماری قربانیوں اور نیک اعمال کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما۔ آمین یارب العالمین ۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے