कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

نتن یاہو کا خفیہ یو اے ای دورہ: وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا…!

ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین

26 مارچ 2026 کی دوپہر دو اسرائیلی نجی طیارے تل ابیب سے اڑے اور العین کے ہوائی اڈے پر اترے، وہی العین جو متحدہ عرب امارات کا وہ سرحدی شہر ہے جو عمان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ اگلے روز ہاریٹز کے اوپن سورس انٹیلیجنس (Open Source Intelligence) ایڈیٹر نے سوشل میڈیا پر ان پروازوں کا ڈیٹا شائع کر دیا جس میں دکھایا گیا کہ دونوں طیارے 4 گھنٹے زمین پر رہے اور اسی شب واپس اسرائیل لوٹ گئے۔ رائٹرز کے ایک ذریعے کے مطابق اس ملاقات میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کے ساتھ سینئر دفاعی اہلکار بھی تھے اور یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید سے یہ ملاقات گھنٹوں جاری رہی۔ یہ دورہ اس وقت تک دنیا سے پوشیدہ رہا جب تک نتن یاہو کے دفتر نے 13 مئی کو ایک بیان میں اسے عوامی کر دیا اور اسے آپریشن روارنگ لائن کے دوران ایک تاریخی کامیابی قرار دیا۔ اس کے چند گھنٹے بعد یو اے ای کی وزارتِ خارجہ نے باضابطہ تردید جاری کی اور کہا کہ اسرائیل کے ساتھ اس کے تعلقات ابراہیم معاہدے کے علانیہ اور شفاف فریم ورک پر مبنی ہیں، کسی خفیہ یا غیر سرکاری انتظام پر نہیں۔
اس تضاد میں ہی اس پورے معاملے کا جوہر پوشیدہ ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یو اے ای نے دورے کا انکار اس لیے نہیں کیا کہ یہ دورہ نہیں ہوا، بلکہ اس لیے کیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی تعاون کو عوامی سطح پر نمایاں کیے بغیر جاری رکھنا چاہتا ہے۔ ایک اسرائیلی سینئر اہلکار نے کہا کہ یو اے ای کو اس سیاسی داؤ سے تکلیف ہوئی، مگر یہ کوئی حقیقی بحران نہیں۔ یہ دوغلا پن محض سفارتی شائستگی نہیں بلکہ ایسے تعلقات جنہیں ان کے اپنے حامی بھی دن کی روشنی میں دکھانے سے گریزاں ہوں، وہ کس اخلاقی بنیاد پر تاریخی پیش رفت کہلا سکتے ہیں؟
اس سوال کا جواب سمجھنے کے لیے 2020 کے ابراہیم معاہدے پر نگاہ ڈالنی ہوگی جو اس پورے رشتے کی بنیاد ہے۔ یو اے ای کے واشنگٹن میں سفیر یوسف العتیبہ نے خود اعتراف کیا تھا کہ ابراہیم معاہدے کا اصل مقصد مغربی کنارے کے الحاق کو روکنا تھا۔ یہ دعویٰ زمینی حقائق کی کسوٹی پر کیسا اترا؟ اقوامِ متحدہ کے ادارے اوکا کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مغربی کنارے میں آباد کاروں کے روزانہ حملوں کی اوسط 2021 میں ایک، 2022 میں دو اور 2023 میں تین واقعات فی یوم تک پہنچ گئی، یہ 2006 سے ریکارڈ شروع ہونے کے بعد سب سے اونچی سطح تھی۔ ستمبر 2023 میں ابوظہبی کے واشنگٹن میں سفیر نے خود تسلیم کیا کہ معاہدہ مغربی کنارے کے الحاق کو روکنے میں ناکام رہا۔ جب ابراہیم معاہدے کے اپنے معمار یہ اعتراف کریں تو واضح ہو جاتا ہے کہ یہ لین دین فلسطینیوں کے لیے نہیں بلکہ خطے کی طاقتور ریاستوں کے باہمی مفادات کے لیے فائدہ مند رہا۔
یہاں رک کر اس استدلال کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے جو نارملائزیشن کے حامی پیش کرتے ہیں، کیونکہ یہ استدلال بالکل بے وزن نہیں۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ دہائیوں کی تنہائی کی پالیسی نے فلسطینیوں کو کچھ نہیں دیا، نہ ریاست، نہ حقوق، نہ وقار۔ اس کے برعکس ابراہیم معاہدوں کے نتیجے میں 2021 سے 2025 کے درمیان 10 لاکھ سے زائد اسرائیلی یو اے ای آئے گئے، دوطرفہ تجارت پھیلی، اور ایرانی خطرے کے خلاف مشترکہ دفاعی بنیادیں قائم ہوئیں۔ یہ فوائد حقیقی ہیں اور انہیں نظرانداز کرنا دیانت دارانہ تجزیہ نہیں۔ مگر یہ استدلال وہاں لڑکھڑاتا ہے جہاں رابطہ کو اثر و رسوخ کا ہم معنی سمجھ لیا جاتا ہے۔ ناقدین کا مؤقف یہ ہے کہ فلسطینی حقوق کو خاطر میں لائے بغیر نارملائزیشن نے وہ لیوریج ختم کر دیا جو عرب ریاستوں کے پاس اسرائیل پر دباؤ کے لیے تھا۔ جب اسرائیل تعلقات کا میوہ پا چکا ہو تو فلسطینیوں کے لیے رعایت دینے کی اس کے پاس کوئی سفارتی مجبوری باقی نہیں رہتی۔
تاریخ اس نکتے کی تصدیق کرتی ہے۔ مصر 1979 میں اور اردن 1994 میں اسرائیل سے امن معاہدے کر چکے ہیں۔ اردن میں معاہدے کے بعد عوامی سطح پر اسرائیل مخالف جذبات میں کوئی نرمی نہیں آئی بلکہ ایک مضبوط اینٹی نارملائزیشن (Anti-Normalization) تحریک نے جڑ پکڑ لی جس کی قیادت اسلامی جماعتوں اور پیشہ ور انجمنوں نے کی۔ مصر اور اردن کے معاہدوں سمیت اوسلو سمجھوتوں کے باوجود فلسطینی مسئلہ حل نہیں ہوا بلکہ ہر نئے معاہدے نے اسے مزید پیچیدہ کر دیا۔ سوال یہ نہیں کہ تنہائی بہتر ہے یا رابطہ، کیونکہ دونوں کا ریکارڈ فلسطینیوں کے لیے روشن نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ رابطے کی شرائط کون طے کرتا ہے اور کمزور فریق کا حصہ ان میں کتنا ہے۔
نتن یاہو کے اس دورے کو اس کے فوری سیاق سے کاٹ کر نہیں سمجھا جا سکتا۔ فروری 2026 کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کے بعد ایران نے یو اے ای سمیت خطے کے کئی ممالک پر میزائلوں اور ڈرونوں کی بوچھاڑ کر دی۔ یو اے ای کی وزارتِ دفاع کے مطابق 10 مئی تک مجموعی طور پر 551 بیلسٹک میزائل، 29 کروز میزائل اور 2265 ڈرون روکے گئے جبکہ اس پوری مدت میں دو فوجی اور 10 شہری ہلاک ہوئے۔ اسی دباؤ میں یو اے ای اپنے سرمایہ کاروں کو یقین دلانے کی کوشش میں تھا کہ وہ کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے محفوظ ہے۔ اسی ضرورت کے تناظر میں اسرائیل نے یو اے ای کو آئرن ڈوم دفاعی نظام اور اسے چلانے کے لیے فوجی اہلکار فراہم کیے، اور موساد و شن بیت کے سربراہان نے بھی دوران جنگ یو اے ای کے خفیہ دورے کیے۔
یہ سیکیورٹی تعاون یو اے ای کے اپنے دفاع کے لیے ضروری تھا، اور اس ضرورت کو یکسر مسترد کرنا حقیقت سے آنکھیں چرانا ہوگا۔ مگر جو بات قابلِ غور ہے وہ یہ ہے کہ ایک تجزیہ کار کے بقول اسرائیل اور ایران کی اس جنگ نے اسرائیل کو خطے میں عدم استحکام کی ایک قوت کے طور پر سامنے لایا ہے، اور اسرائیل بالواسطہ یا بلاواسطہ یو اے ای کے مستحکم مالی اور تجارتی مرکز ہونے کے ماڈل کو نقصان پہنچانے کا ذمہ دار ہو سکتا ہے۔ یعنی وہی اسرائیل جو یو اے ای کی حفاظت کے لیے آیا، اس کے مسائل کا ایک سبب بھی بنا۔ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایک بین الاقوامی اجلاس میں صراحت سے کہا کہ یو اے ای ایران کے خلاف جارحیت میں ایک فعال شریک ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ یہ صف بندی یو اے ای کو ایک ایسی جنگ میں فریق بنا چکی ہے جس میں وہ شامل نہ ہونا چاہتا تھا۔
اس پورے منظرنامے میں سب سے گہرا سوال یہ ہے کہ ابراہیم معاہدوں اور اس جیسے سفارتی بندوبستوں نے فلسطینی مسئلے کے ساتھ کیا کیا ہے۔ 21 نومبر 2024 کو عالمی فوجداری عدالت نے نتن یاہو کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا وارنٹِ گرفتاری جاری کیا جس میں انہیں غزہ میں بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے، قتل، ظلم اور دیگر غیر انسانی اعمال کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔ اس وارنٹ کے باوجود نتن یاہو نہ صرف آزادانہ سفر کر رہے ہیں بلکہ نتن یاہو کے ترجمان کے الفاظ میں شاہانہ استقبال پا رہے ہیں۔ یہ صورتِ حال بین الاقوامی قانون کے بارے میں ایک تکلیف دہ سوال اٹھاتی ہے کہ کیا یہ قانون صرف کمزوروں کے لیے ہے؟
مغربی تحقیقی ادارے بھی اب یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کے مربوط مستقبل کا خواب اس وقت تک حقیقت نہیں بن سکتا جب تک فلسطینی مسئلے کا عملی اور پائیدار حل نہ نکلے۔ بھارت اور دیگر ممالک کی دلچسپی کے باوجود خطے کا استحکام فلسطینی ریاست سے جڑا ہے۔ سعودی عرب نے اسی لیے اسرائیل کے ساتھ نارملائزیشن کو فلسطینی ریاست کی واضح راہ سے مشروط کر دیا ہے۔ یہ موقف محض نظریاتی نہیں بلکہ اس عملی سمجھ پر مبنی ہے کہ انصاف کے بغیر امن پائیدار نہیں ہوتا۔ نومبر 2022 کے ایک سروے میں 76 فیصد سعودی شہریوں نے ابراہیم معاہدوں کے بارے میں منفی رائے ظاہر کی تھی۔ جب کوئی سفارتی فیصلہ اپنے ہی خطے کے اکثریتی عوام کی رائے کے خلاف ہو تو اسے علاقائی استحکام کا نام دینا مشکل ہو جاتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کا اصل بحران صرف جنگ نہیں بلکہ وہ سفارتی بندوبست بھی ہیں جو جنگ کے بنیادی اسباب کو حل کرنے کے بجائے انہیں اگلی نسل کے لیے منتقل کر دیتے ہیں۔ العین کی خفیہ ملاقات اس بڑے سوال کی ایک علامت ہے کہ کیا خطے کی ریاستیں واقعی انصاف پر مبنی امن چاہتی ہیں، یا وہ ایک ایسا استحکام چاہتی ہیں جس میں طاقتوروں کے مفادات محفوظ رہیں اور کمزوروں کے حقوق کا سوال خاموشی سے دفن ہو جائے؟ اس سوال کا جواب آنے والے برسوں میں پورے خطے کا مستقبل طے کرے گا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے