कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

’’نوک سوزن‘‘

تحریر:محمد انور حسین

سوزن جسے سوئی بھی کہا جاتا ہے ۔سوئی، دھات سے بنی ہوئی ایک باریک تار نما نوک دار شئے ہوتی ہے جو نوک سوزن کہلاتی ہے ۔نوک سوزن بہت چھوٹی لیکن بہت تیز ہوتی ہے ۔
نوک سوزن صرف ایک نوک نہیں ہے بلکہ زندگی کا ایک فلسفہ ہے۔
نوک سوزن دراصل ایک تہذیب کی نمائندہ ہے وہ نہ صرف تہذیبوں کو زندہ رکھتی ہے بلکہ اسے حسن و دوام بھی بخشتی ہے ۔
نوک سوزن جب کپڑوں میں اپنا راستہ بڑے ہی نازک اور سبک انداز میں بناتے ہوئے اپنے ساتھ دھاگوں کو لے کر گزرتی ہے تو ایک مہذب لباس ترتیب پاتا ہے ۔اگر دھاگے سوزن کے بتائے راستے پر قائم رہتے ہیں تو عزت وتکریم بھی باقی رہتی ہےلیکن جب دھاگے ان راستوں کو چھوڑ کر بکھر اور ٹوٹ جاتے ہیں تو عریانیت جشن منانے لگ جاتی ہے۔
انسانوں اور جانوروں کو ایک دوسرے سے ممتاز کرنے میں سوزن کا ہی کردار ہے ۔جانوروں کی زندگی سوزن کی محتاج نہیں ہوتی جبکہ انسان کی انسانیت سوزن کے وجود پر منحصر ہے ۔
دولہا دلہن کے گلے کا ہار ہو یا کسی لحد پر سجی پھولوں کی چادر۔۔۔جوڑنے کا کام صرف سوزن کا ہے ۔
سوزن کے دل میں خود غرضی اور خود نمائی کا شائبہ تک نہیں ہوتاہے وہ سب کچھ کرتے ہوئے بھی کہیں نظر نہیں آتی ،جبکہ انسان نوک سوزن پر سماجانے والے پانی کی بوند برابر نیکی کرتا ہے تو اسے سمندروں کی وسعتوں میں پھیلا دیتا ہے ۔
سوزن چبھتی ہے تو درد پیدا کرتی ہے لیکن یہ درد کسی بڑے درد کا مداوا ہوتا ہے ۔انجکشن کی شکل میں وہ نہ صرف انسان کے جسم میں دوا پہنچاتی ہے بلکہ آپریشن کے بعد انسانی جسم کی ترتیب نو بھی اسی کی مرہون منت ہے ۔سوزن کا ہی کمال ہے کہ وہ انسانی جسم سے خون نکالنے میں مدد کرتی ہے تاکہ یہ جانچ کی جاسکے کہ خون میں نمکیات ،شکریات اور معدنیات کتنی مقدار میں ہیں ۔
کاش!! یہ بھی پتہ چل جاتا کہ خون میں سفیدیات ،حرامیات اور فسادیات کا تناسب کیاہے۔
ہو سکتا، خون میں شکر کی مقدار کے تناسب کو مناسب کرتے کرتے انسان حلال ذرات کے اضافہ کی بھی کچھ کوشش کرلے۔
اردو میں ایک محاورہ ہے ۔محاورے عام طور پر انسانی مزاج اور مذاق سے ظہور پذیر ہوتے ہیں ۔وہ محاورہ ہے ” سوئی چبھونا ” جس کے محاورتی معنی اذیت پہنچانا ،طنز کرنا ،کسی کو ستانا کے ہیں ۔محفلِ رشتہ داراں ہوں یا بزم دوستاں ہو ،محاورتی معنی پر عمل کچھ زیادہ ہی عام ہے ۔
یہی نوک سوزن ہے جو ایک طرف امیروں کے لباس کو شان و شوکت بخشنے میں اپنا کردار ادا کرتی ہے تو دوسری طرف ایک غریب عورت کی چادر میں پیوند کاری میں معاونت کرتے ہوئے پاکیزی اور حیا کو آن بخشتی ہے ۔۔۔
پاؤں کے کانٹے نکالنا اور پاؤں کے چھالے پھوڑنا یہ دونوں نیکی کے کام ہیں ۔ نوک سوزن یہ کام اتنی نزاکت سے انجام دیتی ہے کہ علاج درد میں بھی ایک لذت نصیب ہوتی ہے ۔
علاج درد میں بھی درد کی لذت پہ مرتا ہوں
جو تھے پاؤں میں چھالے ،نوک سوزن سے نکالے ہیں
نوک سوزن ہوکہ جوہری توانائی ،انسان ہر چیز پر دسترس رکھتا ہے ۔اس کا صحیح اور غلط استعمال انسان کے عقیدہ اور ذہنی تربیت کا نتیجہ ہوتا ہے ۔ شرلوک ہومس کے جاسوسی ناولوں میں زہریلی نوک سوزن کو پراسرار طریقے سے قتل کرنے میں استعمال کیا جاتا تھا لیکن دوسری طرف یہی نوک سوزن، اربوں انسانوں کو ٹیکے لگانے میں کام آئی جس کی وجہ سے چیچک ،پلیگ ،ٹی بی اور نہ جانے کتنی مہلک بیماریوں نے دم توڑدیا ۔
دنیا کی ہر چھوٹی بڑی شئے رحمت بھی ہے اور زحمت بھی فرق صرف یہ ہے کہ وہ کس کے ہاتھ میں ہے ،صحیح العقیدہ لوگوں کے ہاتھوں میں ہے یا گمراہ لوگوں کے ہاتھوں میں ۔۔ضرورت اس بات کی ہے کہ صحیح العقیدہ لوگوں کو اللہ کی بے شمار نعمتوں کا شعور ذرا اور بڑھانے کہ ضرورت ہے ۔
جگر مرادآبادی نے کیا خوب کہا ہے ۔
بے فائدہ الم نہیں بے کار غم نہیں
توفیق دے خدا تو یہ نعمت بھی کم نہیں

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے