कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

آم: جنّت کا میوہ، شاعروں کا محبوب، اور گرمیوں کی سلطنت کا تاجدار

Mango: The Fruit of Paradise, the Beloved of Poets, and the Crown Jewel of Summer’s Kingdom

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

گرمی کی دوپہر جب سورج اپنی پوری سرکاری طاقت کے ساتھ زمین پر اتر آتا ہے، پنکھے وفاداری نبھاتے نبھاتے ہانپنے لگتے ہیں، اور بجلی بھی قوم کے صبر کا امتحان لینے لگتی ہے، تب قدرت اپنی رحمت کی ایک سنہری ٹوکری کھولتی ہے اور اس میں سے آم نکلتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے موسمِ گرما نے اپنی تمام تر سختی کے بدلے انسان کو رشوت میں آم پیش کیے ہوں۔ تبھی تو جونہی بازار میں آموں کی پہلی خوشبو پھیلتی ہے، لوگوں کے مزاج بدلنے لگتے ہیں۔ گھروں کے فریج اچانک معزز ہوجاتے ہیں، دسترخوان کی اہمیت بڑھ جاتی ہے، اور مہمان نوازی کا معیار بھی "ٹھنڈے آم موجود ہیں یا نہیں؟” سے ناپا جانے لگتا ہے۔
گویا گرمی کی شدّت کے خلاف قدرت نے یہ میٹھا احتجاج آم کی صورت میں انسان کے حوالے کردیا ہو۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اردو ادب میں اگر کسی پھل کو بادشاہت نصیب ہوئی ہے تو وہ آم ہے۔ یہ واحد پھل ہے جس کے ذکر پر فلسفی نرم پڑ جاتے ہیں، صوفی مسکرا دیتے ہیں، شاعر غزل چھیڑ دیتا ہے، اور روزہ دار افطار سے پہلے اس کی طرف ایسے دیکھتا ہے جیسے عاشق محبوب کے دروازے کی طرف۔ آم صرف ذائقہ نہیں، ایک کیفیت ہے؛ ایک ایسا موسمی جذبہ جو زبان سے زیادہ دل پر اثر کرتا ہے۔
برصغیر کی تہذیب میں شاید ہی کوئی اور پھل ہو جس نے اتنی محبت، اتنی شاعری، اور اتنی گفتگو سمیٹی ہو۔ چائے پر سیاست ہوسکتی ہے، کافی پر فلسفہ ہوسکتا ہے، مگر آم پر گفتگو ہمیشہ محبت سے شروع ہوتی ہے اور تعریف پر ختم۔ یہ وہ نعمت ہے جس کے سامنے بڑے بڑے پرہیزگار بھی اپنے اصول وقتی طور پر معطل کر دیتے ہیں۔ شوگر کے مریض ڈاکٹر کی ہدایات جیب میں رکھ دیتے ہیں، اور پرہیزی حضرات یہ کہہ کر دوسرا آم اٹھا لیتے ہیں: "بھئی! موسم تو سال میں ایک ہی بار آتا ہے”۔
آم کی خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ صرف کھایا نہیں جاتا، منایا جاتا ہے۔ گھر میں آموں کی پیٹی آئے تو بچّے ایسے خوش ہوتے ہیں جیسے عید قبل از وقت آگئی ہو۔ گھر کے بزرگ نہایت سنجیدگی سے اعلان کرتے ہیں: "پہلے پانی میں ٹھنڈے کرو، تب اصل مزہ آئے گا”۔ پھر آم کھانے کی محفلیں بھی اپنی مثال آپ ہوتی ہیں۔ کسی کے ہاتھ میں چاقو ہوتا ہے، کوئی آم کو دبا دبا کر نرم کر رہا ہوتا ہے، اور کوئی پہلے ہی رومال گلے میں ڈال کر میدانِ عمل میں اترتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے کوئی ثقافتی رسم ادا کی جارہی ہو۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ آم انسان کی اصل شخصیت بھی ظاہر کر دیتا ہے۔ جو شخص عام دنوں میں نہایت سنجیدہ، باوقار اور فلسفیانہ گفتگو کرتا ہو، وہ بھی آم چوستے وقت بچپن میں واپس چلا جاتا ہے۔ ادب، تہذیب، رکھ رکھاؤ!!! سب چند لمحوں کے لیے پس منظر میں چلے جاتے ہیں، اور انسان اور آم کے درمیان ایک خالص، سادہ اور میٹھا تعلق باقی رہ جاتا ہے۔ شاید اسی لیے شاعروں نے آم کو صرف پھل نہیں سمجھا، بلکہ ایک جذباتی تجربہ قرار دیا۔ یہ گرمیوں کی تھکن کا انعام بھی ہے، دوستوں کی محفل کا بہانہ بھی، اور بچپن کی یادوں کا ذائقہ بھی۔ واقعی، قدرت نے اگر زمین پر کسی پھل میں مسکراہٹ گھول کر اتارا ہے، تو وہ آم ہی ہے۔
اردو کے شہنشاہِ ظرافت و تغزل مرزا غالبؔ نے آم کے باب میں ایک ایسا تاریخی، فکری اور تہذیبی فتویٰ صادر فرمایا جس پر آج تک قوم متفق ہے: "آم میں دو خوبیاں ہونی چاہئیں؛
اوّل وہ میٹھے ہوں، دوم بہ کثرت ہوں”۔ یہ مختصر جملہ نہیں، پوری غذائی فلسفہ ہے۔
گویا غالبؔ نے انسانی خواہشات کا نچوڑ بیان کردیا۔ کیونکہ دنیا میں ہر نعمت محدود ہو تو انسان صبر کر لیتا ہے، مگر آم محدود ہوں تو صبر بھی استعفیٰ دے دیتا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ اگر غالبؔ آج زندہ ہوتے تو شاید اس فہرست میں ایک تیسری شرط بھی شامل کر دیتے: "اور قیمت سن کر دل کا دورہ بھی نہ پڑے”۔
کیونکہ موجودہ دور میں آم خریدنے کے بعد آدمی آم کم اور اپنی مالی شہادت زیادہ محسوس کرتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے پھل والے نے آم نہیں، پلاٹ بیچے ہوں۔ ایک زمانہ تھا جب گھر میں آم کی پیٹی آتی تھی تو پورا خاندان خوش ہوجاتا تھا۔ اب پیٹی آئے تو پہلے لوگ رسید دیکھتے ہیں، پھر بلڈ پریشر چیک کرتے ہیں۔ غالبؔ کی یہ خواہش دراصل انسانی فطرت کی ترجمانی ہے۔ ایک آم کھانے کے بعد آدمی دوسرا اس لیے نہیں مانگتا کہ بھوک باقی ہوتی ہے، بلکہ اس لیے کہ دل ابھی تک مطمئن نہیں ہوتا۔ آم وہ واحد پھل ہے جسے کھانے کے بعد انسان پلیٹ کو اس عقیدت سے دیکھتا ہے جیسے کوئی فقیر خالی کشکول کو۔
آم وہ واحد پھل ہے جسے لوگ خریدنے سے پہلے سونگھتے بھی ہیں، دباتے بھی ہیں، اور پھر بھی دکاندار سے پوچھتے ہیں: "میٹھا تو ہے نا؟”۔ پھر آم کی اقسام بھی گویا برصغیر کی سیاست کی طرح بے شمار ہیں؛ ہاپُس الفانسو، چونسہ، حسن آرا، الماس، دسہری، بادام، نیلم، فجری، توتاپری، لنگڑا، مالدہ، ملغوبہ — ہر ایک کی اپنی جماعت، اپنا منشور، اپنا حلقۂ اثر، اپنے اندھے عقیدت مند اور اپنے متوالے۔
حسن آرا آم اپنے نام ہی کی طرح نہایت نفیس، نازک مزاج اور خوددار قسم کا آم ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آموں کی دنیا کی کوئی رئیس زادی ہو، جو عام ٹوکری میں پڑنے کے بجائے مخملی گدی کی حقدار ہو۔ اس کے چاہنے والے بھی عموماً بڑے باوقار انداز میں آم کھاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو آم چوستے نہیں، "تناول فرماتے” ہیں۔ کھانے کے بعد ہاتھ دھونے کے بجائے نیپکن سے انگلیاں اس طرح صاف کرتے ہیں جیسے کسی سفارتی معاہدے پر دستخط کیے ہوں۔ حسن آرا آم کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کا نام سن کر آدمی پہلے ہی مرعوب ہوجاتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے آم نہیں، کسی پرانی فلم کی ہیروئن ہو جس کے تعارف میں پس منظر سے ستار بج رہا ہو۔
اور اگر کسی محفل میں کوئی شخص بڑے فخر سے کہہ دے: "مجھے تو صرف حسن آرا پسند ہے” تو باقی لوگ اسے فوراً ایسے دیکھتے ہیں جیسے وہ آم نہیں، اپنا خاندانی شجرہ بیان کر رہا ہو۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ حسن آرا آم کھانے سے انسان کے لہجے میں شائستگی آجاتی ہے۔ اسی لیے اس کے شوقین حضرات کبھی یہ نہیں کہتے: "دو کلو آم دے دو” بلکہ فرماتے ہیں: "اگر زحمت نہ ہو تو چند منتخب حسن آرا عنایت کردیجیے”۔ ویسے حقیقت یہ ہے کہ حسن آرا آم کم کھایا جاتا ہے، زیادہ "ڈسکس” کیا جاتا ہے۔ لوگ اس کے ذائقے سے پہلے اس کے نام سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آموں کی دنیا میں حسن آرا وہ شخصیت ہے جو ہر تقریب میں دیر سے آئے، کم بولے، مگر ساری توجہ لے جائے۔
ہاپُس الفانسو” والے خود کو آموں کی اشرافیہ سمجھتے ہیں۔ ان کے انداز میں ایسا تکبر ہوتا ہے جیسے آم نہیں، بیرونِ ملک سے تعلیم یافتہ سفیر کھا رہے ہوں۔ "چونسہ” کے متوالے دلیل کم اور جذبات زیادہ رکھتے ہیں۔ وہ ہر بحث کا اختتام صرف ایک جملے پر کرتے ہیں: "بھائی! اصل آم تو چونسہ ہی ہے”۔ "لنگڑا” پسند کرنے والے ذائقے کے صوفی سمجھے جاتے ہیں۔ یہ لوگ نام پر نہیں، باطن پر یقین رکھتے ہیں۔ "دسہری” کے چاہنے والے نہایت مہذب لوگ ہوتے ہیں؛ ہر وقت متوازن گفتگو، نرم مزاجی، اور ہلکی مٹھاس۔ اور "توتاپری”… اس کے چاہنے والوں کو خود بھی پوری طرح یقین نہیں ہوتا کہ وہ آم کھا رہے ہیں یا تجربہ کر رہے ہیں۔
یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آم نہیں، سیاسی جماعتیں ہوں؛ ہر قسم دوسرے کو ناکام، بے ذائقہ اور قوم کے لیے خطرہ ثابت کرنے پر تُلی ہوئی ہے۔ اگر کسی محفل میں دو مختلف آموں کے حامی اکٹھے ہوجائیں تو بحث فوراً ذائقے سے نکل کر نظریاتی جنگ میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ اور بعض اوقات تو حالات یہاں تک پہنچ جاتے ہیں کہ لوگ ایک دوسرے کے کردار پر بھی سوال اٹھانے لگتے ہیں: "جو آدمی لنگڑے کو چھوڑ کر توتاپری کھا سکتا ہے، اُس سے کسی بھی فیصلے کی توقع کی جاسکتی ہے!”۔ بعض لوگ آموں کے معاملے میں اتنے جذباتی ہوتے ہیں کہ اگر آپ نے ان کے پسندیدہ آم پر تنقید کردی تو وہ اسے ذاتی حملہ سمجھ لیتے ہیں۔ چونسہ پسند افراد لنگڑے والوں کو کم ذوق سمجھتے ہیں، اور لنگڑا پسند کرنے والے دسہری والوں پر ایسے ترس کھاتے ہیں جیسے وہ ابھی تک فنی بلوغت تک نہ پہنچے ہوں۔
لیکن علامہ محمد اقبالؔ کو لنگڑا آم بے حد پسند تھا۔ لنگڑا — نام ایسا کہ پہلی بار سننے والا سمجھے شاید آم نہیں، کسی زخمی سپاہی کا ذکر ہو رہا ہے۔ مگر ذائقہ ایسا کہ ایک بار کھالو تو انسان اپنے باقی عقائد پر بھی نظر ثانی کرنے لگے۔ ویسے "لنگڑا” نام رکھنے والا شخص اگر آم نہ ہوتا تو شاید زندگی بھر احساسِ کمتری کا شکار رہتا۔ قدرت کا کمال دیکھیے کہ نام کمزور رکھا مگر ذائقہ ایسا دیا کہ بادشاہوں کی میز تک پہنچ گیا۔ یہ بھی آم کی واحد قسم ہے جسے کھاتے وقت آدمی نام بھول جاتا ہے اور صرف ذائقہ یاد رہ جاتا ہے۔
روایت ہے کہ نامور شاعر اکبر الہٰ آبادی نے علامہ اقبالؔ کو لنگڑا آموں کا تحفہ ڈاک کے ذریعے روانہ کیا۔ اب یہ وہ دور تھا جب ڈاک کا نظام آج کے بعض کورئیر اداروں سے زیادہ بااعتماد ہوا کرتا تھا۔ پارسل لاہور پہنچ گیا تو اقبالؔ نے رسید پر ایک ایسا مصرع لکھا جو آج بھی آم کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جاتا ہے:
اثر یہ تیرے اعجازِ مسیحائی کا ہے اکبرؔ
الٰہ آباد سے لنگڑا چلا، لاہور تک پہنچا
اس مصرع میں صرف ظرافت نہیں، تہذیب بھی ہے، محبت بھی، اور آم کے لیے وہ احترام بھی جو شاید بعض لوگ اپنے رشتہ داروں کے لیے بھی نہیں رکھتے۔
ویسے آم کا اصل لطف بھی کچھ شرائط کا محتاج ہے۔ صرف آم ہونا کافی نہیں۔ اہلِ ذوق کے نزدیک آم میں چار خوبیاں ہونی چاہئیں:
میٹھے ہوں
ڈھیر سارے ہوں
مفت کے ہوں
اور خوب ٹھنڈے ہوں
اگر یہ چاروں صفات جمع ہوجائیں تو انسان دنیاوی غم وقتی طور پر بھول جاتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے جنّت کی کوئی قسط قبل از وقت وصول ہوگئی ہو۔
ہمارے معاشرے میں مفت کے آم ایک الگ سماجی نظام رکھتے ہیں۔ جو شخص پورا سال سلام تک نہ کرے، آموں کے موسم میں اچانک محبت سے پوچھتا ہے: "بھائی جان! کبھی یاد ہی نہیں کرتے!”۔ اور انسان بھی جان جاتا ہے کہ یہ خیریت دریافت نہیں، آموں کی مردم شماری ہے۔ بعض مہمان تو ایسے ہوتے ہیں کہ اگر میز پر آم رکھ دیے جائیں تو ان کی واپسی کی تمام امیدیں ختم ہو جاتی ہیں۔ مفت کے آم کی تو بات ہی الگ ہے۔ خریدے ہوئے آم میں وہ روحانی سرور کہاں جو دوست کے گھر سے "صرف چکھنے کے لیے” آئے ہوئے آم میں ہوتا ہے۔ انسان اپنے پیسوں سے خریدے ہوئے آم احتیاط سے کھاتا ہے، مگر مفت کے آم پر حملہ آور فوج کی سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔
اور اگر آم ٹھنڈے ہوں تو "سبحان اللّٰہ”! پھر انسان آم نہیں کھاتا، آم انسان کو کھا جاتے ہیں۔ ہاتھ، منہ، کپڑے، رومال!! سب آم کے حضور قربان ہوجاتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے تہذیب و شائستگی نے چند لمحوں کی رخصت لے لی ہو۔ حکیموں نے آم کو "گرم تاثیر” کہا، مگر عوام نے جواب دیا: "حضور! تاثیر بعد میں دیکھی جائے گی، پہلے دو اور پلیٹیں لائیے”۔ پھر آم کھانے کے بھی اپنے اپنے مسلک ہیں۔ کچھ لوگ آم کاٹ کر کانٹے سے کھاتے ہیں، جیسے کوئی سرکاری فائل نمٹا رہے ہوں۔ اور کچھ لوگ آم کو دبا دبا کر اس کا رس نکالتے ہیں اور پھر گردن جھکا کر یوں چوستے ہیں جیسے صدیوں کی تشنگی بجھا رہے ہوں۔
آم کھانے کے بعد ہاتھ دھونے کا مرحلہ بھی ایک تہذیبی امتحان ہوتا ہے۔ کچھ لوگ صابن سے ہاتھ دھوتے ہیں، اور کچھ انگلیاں اس عقیدت سے چاٹتے ہیں جیسے آم کے آخری قطرے میں ہی نجات پوشیدہ ہو۔ ایک طبقہ وہ بھی ہے جو آم کھانے کے بعد پلیٹ میں بچا رس چمچ سے پیتا ہے تاکہ رزق کی بے حرمتی نہ ہو۔ دوسرا طریقہ زیادہ جمہوری، زیادہ مشرقی، اور زیادہ خطرناک ہے؛ کیونکہ اس میں کپڑوں کی شہادت تقریباً یقینی ہوتی ہے۔
ایک بزرگ فرمایا کرتے تھے: "آم وہ نعمت ہے جسے کھاتے وقت انسان کی اصل شخصیت ظاہر ہو جاتی ہے”۔ واقعی، بڑے بڑے سنجیدہ لوگ آم کے سامنے بچّوں کی طرح ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹر شوگر بھول جاتا ہے، پروفیسر فلسفہ بھول جاتا ہے، اور پرہیزی آدمی اپنی تمام غذائی قسمیں۔ ڈاکٹر لاکھ منع کریں، مگر آم کے موسم میں ہر مریض کے اندر ایک باغی شاعر جاگ اٹھتا ہے۔ لوگ شوگر کی رپورٹ جیب میں ڈال کر کہتے ہیں: "زندگی دو دن کی ہے، آم چار دن کے ہیں”۔ شاعر نے کیا خوب کہا:
خالق کو ہے مقصود کہ مخلوق مزہ لے
وہ چیز بنا دی کہ بوڑھا بھی چبا لے
یہ شعر دراصل آم کی عالمگیر مقبولیت کا اعلان ہے۔ آم صرف پھل نہیں، ایک تہذیب ہے۔ یہ گرمیوں کی وہ سفارتی زبان ہے جس سے رشتے مضبوط ہوتے ہیں۔ جس گھر میں آم کی پیٹی پہنچ جائے، وہاں کے گلے شکوے آدھے ختم ہوجاتے ہیں۔ برصغیر میں شاید ہی کوئی ایسا رشتہ ہو جو ایک اچھی قسم کے ٹھنڈے آم سے بہتر نہ ہوسکے۔ قدرت نے شاید آم اس لیے بنایا کہ انسان کو معلوم ہو کہ دنیا اب بھی رہنے کے قابل ہے۔ چنانچہ جب بھی آموں کی بہار آئے، دوستوں، عزیزوں اور پڑوسیوں کو یاد رکھیے۔ اور خاص طور پر ہمیں بھی۔
کیونکہ آم بانٹنے سے محبت بڑھتی ہے، تعلقات میٹھے ہوتے ہیں، اور فریج کی رونق دوبالا ہوجاتی ہے۔ اور اگر کوئی دوست آم کھاتے وقت آپ کو یاد نہ کرے تو سمجھ لیجیے کہ یا تو آم بہت میٹھے تھے… یا دوستی بہت کمزور تھی۔ دعا یہی ہے کہ اللّٰہ آپ کے آموں میں برکت دے، انھیں کیمیکل سے محفوظ رکھے، اور آپ کو ایسے مخلص دوست عطاء فرمائے جو آم کھاتے وقت صرف "ایک آدھ” پر اکتفا نہ کریں بلکہ پوری پیٹی لے کر حاضر ہوں۔
🗓 (17.05.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے