कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

آخری چائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!

ایک مختصر حساس تحریر۔۔۔۔

تحریر:ف۔خ۔مسرت

دن بھر کی تپتی گرمی اور تیز دھوپ کے بعد موسم کا مزاج اچانک ہی تبدیل ہوگیا تھا تیز ہواؤں کے ساتھ بادل کی رسہ کشی میں بادل جیت گئے ۔ بوندیں برسنے لگیں
برستی بارش کی بوندیں دکان کی چھت پر ایسی موسیقی دے رہی تھیں جیسے کوئی پرانا گیت یاد دلانا ہو۔ شام کے پانچ بجے بزرگ رحمت علی نے پرانے اسٹوؤ پر چائے کی آخری کیتلی چڑھائی۔ ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے، سردی سے نہیں ، بلکہ اس احساس سے کہ وہ یہ آخری بار چائے بنا رہے ہیں

چالیس سال۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ دکان ان کی زندگی تھی۔ یہیں انہوں نےاپنی بیوی فاطمہ کے ساتھ پہلی چائے پئی تھی۔ یہیں بیٹی کی پیدائش کی خوشی میں مفت چائے بانٹی تھی۔ اور یہیں بیوی کی آخری سانس کے بعد وہ دیر تک روتے ہوئے بیٹھے رہے تھے۔ وہ یادوں میں گم تھے جبکہ چائے کی کیتلی اب بھی سیٹی بجا رہی تھی۔

"چاچا، ایک کپ چائے۔” ایک بھیگا ہوا نوجوان اندر آیا۔

رحمت علی نے مسکراتے ہوئے چائے بنائی، مگر ان کی آنکھیں نم تھیں۔ لڑکے نے پوچھا، "آج کچھ زیادہ خاموش کیوں ہیں؟”

بزرگ نے گہری سانس لی۔ آواز میں بڑھاپے کی لرزش تھی:
"بیٹا… آج میری دکان کا آخری دن ہے۔ کل سے یہ جگہ بند ہو جائے گی۔”

لڑکا حیران رہ گیا۔ "کیوں چاچا؟ یہ تو آپ کی زندگی اور آپ کی روح ہے”

رحمت علی نے چائے کا کپ آگے بڑھایا۔ ان کی غمزدہ نگاہیں کپ میں گھومتی چائے پر ٹک گئیں، جیسے اس میں پرانی یادیں دیکھ رہے ہوں
"بیٹی کا فون آیا تھا صبح۔ رو رہی تھی۔ کہتی ہے، ‘ابا، اب اکیلے مت رہو۔ تمہارا بڑھاپا مجھے سونپ دو۔’
میں نے اسے کہا تھا کہ دکان چھوڑ کر نہیں جا سکتا۔ یہ میری فاطمہ کی یاد ہے… یہ میری زندگی ہے۔
تو وہ رو پڑی۔ بولی، ‘ابا، آپ کی زندگی اب ہم ہیں۔'”

کہتے ہوئے بزرگ رحمت علی کی آواز بھر آئی۔
"بیٹا، میں نے سوچا… کتنا اور اکیلا رہوں گا؟ رات کو جب درد اٹھتا ہے تو کون پوچھے گا؟ جب یادوں کا بوجھ سینے پر رکھ کر سوؤں گا تو کون ہاتھ پکڑے گا؟”

نوجوان خاموش ہو گیا۔ رحمت علی نے اپنے جھریوں بھرے ہاتھ دیکھے۔
"یہ ہاتھ چالیس سال چائے بناتے رہے۔ بیوی کے مرنے کے بعد بھی میں نے دکان نہیں چھوڑی۔ سوچا تھا کہ یہیں مر جاؤں گا… مگر اب بیٹی کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر لگا کہ شاید اب ‘رہنا’ بھی کوئی فرض ہے۔”

بارش تیز ہو گئی۔

رحمت علی نے آہستہ سے دکان کا پرانا بورڈ چھوا، جس پر "رحمت علی ٹی اسٹال” لکھا تھا۔
"مجھے ڈر لگتا ہے بیٹا… کہ جب یہ دکان بند ہو جائے گی تو فاطمہ مجھ سے پوچھے گی کہ تم نے میری یاد بھی چھوڑ دی؟”

لڑکے نے آنکھیں پونچھیں اور اٹھتے ہوئے کہا،
"چاچا، میں کل بھی آؤں گا۔”

رحمت علی نے نرم مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا:
"کل دکان نہیں ہو گی… مگر تم آ جانا۔ میں تمہیں گھر پر چائے پلاؤں گا۔”
لڑکا باہر نکل گیا تو رحمت علی نے اسٹوؤ سے کیتلی اتاری لائٹ بند کی۔ دکان میں اندھیرا پھیل گیا۔
اس نے آخری بار چائے کی مہک کو سانس میں بھرا اور آہستہ سے دل میں بولا
*فاطمہ… میں آ رہا ہوں*۔
رات کو رحمت علی کے ہاتھ کی چائے پینے والے لڑکے نے صبح ٹی اسٹال کے آگے لوگوں کا ہجوم دیکھا۔ وہ بھی آگے بڑھا ۔قریب پہنچ کر دیکھا رحمت علی زندگی کی قید سے آزاد پرسکون مسکراتا چہرہ لئے ٹی اسٹال کے سامنے پڑا تھا۔ اس لڑکے کو رحمت علی کی رات کو کہی بات یاد آئی *کل دکان نہیں ہوگی۔مگر تم آجانا میں تمہیں گھر پر چائے پلاؤں گا۔۔۔* لڑکے کی آنکھیں بھر آئیں ۔اسے پتہ ہی نہیں چلا کہ کب گاڑی آئی کب رحمت علی کو گھر پہنچایا گیا ۔ ساتھ میں یہ لڑکا بھی اس کے گھر پہنچا۔۔۔وہاں کسی نے چائے کا انتظام کیا ہوا تھا ۔یہ چائے پیتے ہوئے سوچنے لگا
*رحمت کے دکھی دل کی دھڑکنوں کا اچانک رک جانا بھلے ہی موت کا ایک بہانہ ہو لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ رحمت علی فاطمہ اور چائے دونوں سے اپنی وفا نبھا گیا۔‌۔۔۔*

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے