कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

قرآنِ کریم اور نظامِ شمسی

از قلم : عارف محمد خان، جلگاؤں

انسان جب رات کے پرسکون آسمان کی طرف نگاہ اٹھاتا ہے تو اسے بے شمار ستارے، چمکتے سیارے، چاند کی روشنی اور کائنات کی وسعت حیرت میں ڈال دیتی ہے۔ صدیوں سے انسان یہ جاننے کی کوشش کرتا رہا ہے کہ سورج، چاند، ستارے اور سیارے کس نظام کے تحت حرکت کرتے ہیں۔ جدید سائنس نے دوربینوں، خلائی تحقیقات اور سائنسی تجربات کے ذریعے کائنات کے بہت سے راز دریافت کیے، مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ قرآنِ کریم نے چودہ سو سال پہلے ہی ان حقائق کی طرف اشارہ کر دیا تھا۔
قرآنِ مجید نہ صرف ہدایت کی کتاب ہے بلکہ یہ انسان کو کائنات میں غور و فکر کی دعوت بھی دیتا ہے۔ نظامِ شمسی، اجرامِ فلکی، دن رات کی گردش اور آسمانی نظام کے بارے میں قرآن کے بیانات انسان کو خالقِ کائنات کی عظمت کا احساس دلاتے ہیں۔
نظامِ شمسی کیا ہے؟:
نظامِ شمسی سورج اور اس کے گرد گردش کرنے والے تمام سیاروں، چاندوں، شہابیوں اور دیگر اجرامِ فلکی پر مشتمل ایک عظیم نظام ہے۔ سورج اس نظام کا مرکز ہے جبکہ زمین سمیت تمام سیارے اس کے گرد اپنے اپنے مدار میں گردش کرتے ہیں۔
جدید سائنس کے مطابق نظامِ شمسی میں آٹھ بڑے سیارے شامل ہیں۔ عطارد، زہرہ، زمین، مریخ، مشتری، زحل، یورینس اور نیپچون۔
ہر سیارہ نہایت منظم انداز میں اپنے مدار میں حرکت کرتا ہے۔ اگر ان کی رفتار یا فاصلوں میں معمولی تبدیلی بھی واقع ہو جائے تو پورا نظام متاثر ہو سکتا ہے۔ یہی حیرت انگیز نظم و ضبط اللہ تعالیٰ کی قدرت کا عظیم شاہکار ہے۔
قرآنِ کریم اور اجرامِ فلکی کی گردش:
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۖ كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ
“اور وہی ہے جس نے رات اور دن، سورج اور چاند کو پیدا کیا، سب ایک ایک مدار میں تیر رہے ہیں۔”
(سورۂ الانبیاء: 33)
اس آیت میں “فَلَك” کا لفظ مدار کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ آج سائنس اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ سورج، چاند اور تمام سیارے اپنے اپنے مدار میں مسلسل حرکت کر رہے ہیں۔
چودہ سو سال پہلے جب انسان زمین کو ساکن سمجھتا تھا، قرآن نے واضح طور پر اجرامِ فلکی کی حرکت کا ذکر کیا۔ یہ قرآن کا ایک عظیم سائنسی اعجاز ہے۔
سورج کی حرکت اور جدید سائنس:
ایک زمانہ تھا جب لوگ سمجھتے تھے کہ سورج ساکن ہے اور صرف زمین حرکت کرتی ہے، لیکن جدید فلکیات نے ثابت کیا کہ سورج بھی اپنی کہکشاں “ملکی وے” میں مسلسل سفر کر رہا ہے۔
قرآنِ کریم فرماتا ہے:
وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا
“اور سورج اپنے مقررہ راستے پر چل رہا ہے۔”(سورۂ یٰسین: 38)
آج سائنس دان بتاتے ہیں کہ سورج تقریباً 220 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے کہکشاں میں سفر کر رہا ہے۔ قرآن کا یہ بیان جدید سائنسی انکشافات سے مطابقت رکھتا ہے۔
چاند کی منازل اور قمری نظام:
قرآنِ کریم میں چاند کی مختلف منزلوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاهُ مَنَازِلَ
“اور ہم نے چاند کے لیے منزلیں مقرر کر دی ہیں۔”(سورۂ یٰسین: 39)
چاند ہر روز اپنی شکل بدلتا ہوا نظر آتا ہے۔ کبھی ہلال، کبھی آدھا اور کبھی مکمل چاند دکھائی دیتا ہے۔ یہی قمری گردش اسلامی مہینوں اور عبادات مثلاً رمضان، حج اور عیدین کے تعین کا ذریعہ بنتی ہے۔
زمین کی گردش اور دن رات کا نظام:
قرآنِ مجید میں رات اور دن کے ایک دوسرے کے پیچھے آنے کا بار بار ذکر ملتا ہے۔
يُكَوِّرُ اللَّيْلَ عَلَى النَّهَارِ وَيُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى اللَّيْلِ
“وہ رات کو دن پر لپیٹ دیتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹ دیتا ہے۔”
(سورۂ الزمر: 5)
لفظ “يُكَوِّرُ” عربی میں گول چیز لپیٹنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ اشارہ زمین کی گولائی اور اس کی گردش کی طرف سمجھا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں دن اور رات وجود میں آتے ہیں۔
ستارے اور آسمانی زینت:
قرآنِ کریم ستاروں کو آسمان کی زینت قرار دیتا ہے۔
وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ
“اور بے شک ہم نے قریب والے آسمان کو چراغوں سے مزین کیا۔”
(سورۂ الملک: 5)
جدید سائنس کے مطابق ستارے دراصل سورج جیسے عظیم آتشیں گولے ہیں جو روشنی اور حرارت پیدا کرتے ہیں۔ ان کی تعداد اربوں کھربوں میں ہے۔ انسان جتنا کائنات کا مشاہدہ کرتا ہے اتنا ہی اللہ کی قدرت پر حیران ہوتا ہے۔
نظامِ شمسی میں توازن:
کائنات میں موجود یہ حیرت انگیز نظم اتفاقیہ نہیں ہو سکتا۔ زمین سورج سے نہ زیادہ قریب ہے نہ زیادہ دور۔ اگر فاصلہ کم ہوتا تو شدید گرمی زندگی کو ختم کر دیتی اور اگر زیادہ ہوتا تو زمین برف کا گولا بن جاتی۔
اسی طرح زمین کی رفتار، کششِ ثقل، ہوا، پانی اور ماحول سب ایک خاص تناسب کے تحت قائم ہیں۔ قرآن اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے۔
إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ
“بے شک ہم نے ہر چیز ایک اندازے کے ساتھ پیدا کی ہے۔”
(سورۂ القمر: 49)
قرآن اور سائنسی تحقیق کی ترغیب:
قرآنِ کریم بار بار انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔
أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى السَّمَاءِ كَيْفَ رُفِعَتْ
“کیا وہ آسمان کی طرف نہیں دیکھتے کہ اسے کیسے بلند کیا گیا؟”
(سورۂ الغاشیہ: 18)
یہ آیات انسان کو تحقیق، مشاہدہ اور علم حاصل کرنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی دورِ عروج میں مسلمان سائنس دانوں نے فلکیات میں عظیم کارنامے انجام دیے۔ البیرونی، ابنِ ہیشم اور دیگر مسلم ماہرینِ فلکیات نے دنیا کو نئی سائنسی راہیں دکھائیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے