कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

فلسطینی اسیررہ نما ولید الدقہ اسرائیلی زندان میں شہید ہوگئے

رام اللہ:8؍اپریل:اسرائیلی جیلوں میں منظم اورمجرمانہ طبی غفلت کاشکار فلسطین کے ایک سرکردہ اسیر فلسطینی رہ نما ولید الدقہ جام شہادت نوش کرگئے ہیں۔اسیر رہ نما ولید الدقہ کئی سال سے امراض کا شکار تھے مگرانہیں جان بوجھ کر نظرانداز کیا جاتا رہا۔ وہ مسلسل طبی غفلت کا شکار رہے اور بار بار حالت خراب ہونے کے باوجود انہیں طبی امداد فراہم نہیں کی جاتی تھی۔چند روز قبل ولید الدقہ کو رملہ شہر کے آسا ہروفیہ ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ مزید طبی غفلت کے باعث انتقال کرگئے۔قیدیوں اور سابق نظربندوں کی اتھارٹی نے کینسر کے مرض میں مبتلا قیدی کی موت کی تصدیق اس وقت کی جب قابض افواج کی جانب سے اس کی صحت کی شدید خرابی کے باوجود اسے رہا کرنے سے بار بار انکار کیا گیا۔نام نہاد اسرائیلی سپریم کورٹ نے نومبر 2023 میں حراست میں لیے گئے ولید دقہ کی صحت کی نازک حالت کے باوجود اسے رہا کرنے سے انکار کر دیا تھا اور اس کا خاندان چار ماہ سے زائد عرصے سے اس سے ملنے سے محروم ہے۔ولید دقہ کی عمر 62 سال تھی۔ وہ 1948 کے مقبوضہ فلسطین کے قصبے باقا الغربیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ 25 مارچ 1986 سیپابند سلاسل تھے۔ اس وقت عسقلان کی جیل میں تھے۔ دوران حراست ہی ان کے والد کا انتقاہ ہوگیا تھا۔2022 میں اس نے بون میرو کینسر کی ایک نادر قسم کے کینسر کا انکشاف کیا۔ جس کے لیے سخت علاج اور پیروی کی ضرورت تھی۔قابل ذکر ہے کہ قابض فوج نے قیدی ولید دقہ کو اور اس کے ساتھیوں کے ایک گروپ کو ایک اسرائیلی فوجی کو قتل کرنے کا الزام لگا کر عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ بعد ازاں اس کی قید کی مدت 37 سال مقرر کی گئی تھی جو اس سال مارچ میں ختم ہو گئی تھی۔ 2023، لیکن قابض حکام نے اس کی سابقہ سزا میں دو سال کا اضافہ کر کے 39 سال کردیا تھا۔قیدی ولید دقع کو اسرائیلی قبضے کی جیلوں میں قیدیوں کے رہ نماں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔انہوں نے دوران حراست کئی کتابیں اور مضامین بھی لکھے۔
ولید الدقہ کی شہادت اسرائیل کے ہاتھوں سوچا سمجھا قتل ہے:حماس
اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” نے اسرائیلی زندانوں میں طبی غفلت کا شکار فلسطینی رہ نما ولید الدقہ کی شہادت پرگہرے دکھ اور افسوس کا ظہار کرتے ہوئے کہا ہے یہ قدرتی موت نہیں بلکہ ایک فلسطینی قیدی کا سوچا سمجھا قتل ہے۔حماس کی طرف سے جاری ایک بیان کی نقل مرکزاطلاعات کو موصول ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ہم اپنے عظیم فلسطینی عوام، اپنی اسلامی اور عرب قوم اور دنیا کے آزاد لوگوں کے لیے قیدی لید دقہ کی شہادت پر سوگوار ہیں۔ انہیں مسلسل 38 سال تک پابند سلاسل رکھا گیا حالانکہ وہ کینسر جیسے مہلک اور موذی مرض کا شکار تھے۔ انہیں دوران حراست کسی قسم کی طبی امداد فراہم نہیں کی گئی۔ ولید دقہ کی شہادت صہیونی نازی دشمن کے عقوبت خانوں میں ایک اور مجرمانہ قتل ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ "طوفان الاقصی معرکے کے درمیان اور غزہ میں مزاحمت اور ہمارے عظیم فلسطینی عوام کی بیت المقدس اور مسجد اقصی کے دفاع اور قیدیوں کے ساتھ وفاداری کے دوران آئیے قابض اسرائیل اور اس کے نو نازی گماشتوں کے جرائم پر اپنے قیدیوں کے ساتھ اپنے عہد کی تجدید کریں”۔انہوں نے وضاحت کی کہ "قیدیوں کے خلاف ایتمار بین گویرکے جرائم جن میں تازہ ترین ولید دقہ کی شہادت ہے، ثالثوں کی کوششوں کو ناکام بنانے اور ان کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش ہے”۔قبل ازیں اتوار کی شامل فلسطینی محکمہ امور اسیران اور فلسطینی کلب برائے امور اسیران نے بتایا تھا کہ مقبوضہ شہر رملہ کے آسا ھروفیہ ہسپتال کے اندر قابض دشمن کی حراست میں 62 سالہ ولید دقہ 39 سال قید کاٹنے کے بعد جام شہادت نوش کرگئے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے