कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اردو مثنوی کے فروغ میں غیر مسلم شعراء کا حصہ

تحریر: ڈاکٹر تبسم آراء
لیکچرار کالج آف لینگو بجس ملے پلی۔ حیدر آباد
واٹس اپ نمبر9014782069

غیر مسلم شعراء کی اردو مثنویاں نوعیت و خصوصیات کے لحاظ سے اردو زبان و ادب و شاعری و مثنوی نگاری کا نہایت قابلِ قدر و اہم سرمایہ ہے۔ اور ان مثنویوں کی اہم خصوصیات یہ ہیں کہ سیکولر و ہم آہنگ ہیں۔
ہندوستان قدیم زمانے سے ہی مختلف نسلوں، قوموں، تہذیبوں، مذاہب اور زبانوں کا گہوارہ ہے۔ ہندوستان میں قدیم زبانیں پنجابی، ہریانوی، برج وغیرہ کے علاوہ جدید و اہم زبان اردو بھی ہے، جو دسویں، گیارھویں صدی میں ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد اور یہاں کے باشندوں کی زبانوں کے میل جول سے وجود میں آئی۔ چنانچہ اردو زبان ہندوستانیوں کے رابطے کی مشترکہ زبان ہے۔ اس لیے اس زبان کو بولنے، لکھنے، پڑھنے والے ہندوستان کے تمام باشندے ہندو، سکھ، عیسائی، جین، پارسی وغیرہ سبھی شریک ہیں۔ اور اس زبان کی تحریر و ادب و شاعری اور ان کی مختلف اقسام و اصناف کی تخلیق و ترویج و ترقی میں سبھی کا اہم حصہ ہے۔
اردو زبان فارسی، ترکی کے ساتھ ہندوستانی زبانوں پنجابی، ہریانوی، برج وغیرہ کے میل سے پیدا ہوئی۔ ہندوی عہد میں اس نے فارسی سے رسم الخط اور ادب و شاعری کی اقسام و اصناف و موضوعات مستعار لیے تو اس نے فارسی کی ایک مشہور و مقبول ترقی یافتہ ہیئت (صنف) مثنوی کو بھی پسند کیا۔ مثنوی میں ہر شعر الگ الگ ہم قافیہ ہوتا ہے، اور یہ طویل و مسلسل و مربوط مضامین تحریر کرنے کے لیے نہایت مناسب صنف مانی جاتی ہے۔ اس لیے ہندی اردو کے شعراء نے اسے پسند کیا، اس کے ابتدائی نمونے حضرت خواجہ شیخ فرید شکرگنج اور حضرت امیر خسرو سے منسوب کلام میں ملتے ہیں۔
مولانا الطاف حسین حالی مقدمہ شعر و شاعری صفحہ 193 پر لکھتے ہیں کہ فارسی اور اردو شاعری میں جتنی صنفیں ہیں، ان میں کوئی صنف مسلسل مضامین بیان کرنے کے قابل مثنوی سے بہتر نہیں ہے۔
مثنوی کی ابتدا ایران میں ہوئی، شاہنامۂ فردوسی اور مثنوی مولانا رومی فارسی کی بے مثال مثنویاں ہیں۔ شاعری کی دیگر اصناف میں مثنوی کو اس کی بعض خوبیوں کی وجہ سے فوقیت اور برتری حاصل ہے۔ چنانچہ حالی کہتے ہیں کہ ’’مثنوی سب سے زیادہ مفید اور کارآمد صنف ہے۔‘‘
1857ء کے بعد ہندوستانی تاریخ کا دور برطانوی عہد سے شروع ہوتا ہے، جو 1947ء پر ختم ہوتا ہے۔ اس طرح جدید اردو ادب و نثر و شاعری کے دور میں جدید طرز و موضوعات کی مثنوی نگاری کو فروغ حاصل ہوا۔ لہٰذا اس دور میں کئی غیر مسلم شعراء نے مذہبی، داستانی، تاریخی، سماجی، سیاسی وغیرہ موضوعاتی مثنویاں لکھیں۔ کئی شعراء نے وید، پران، رامائن، مہابھارت اور گیتا کے ترجمے کیے، اور کئی سنسکرت اور انگریزی نظموں کا مثنوی کی شکل میں ترجمہ کیا۔ ان شعراء میں پنڈت دیا شنکر نسیم، تلوک چند محروم، مہاراجہ کشن پرشاد، کنور مہندر سنگھ، لالہ سری رام، چکبست برج نرائن وغیرہ نے مختلف قسم کی مثنویاں لکھ کر اس صنف کو نہ صرف مالا مال کیا بلکہ انھوں نے اپنی مثنویوں کے ذریعے بلا لحاظ مذہب و ملت، رنگ و نسل یکجہتی کا پیغام بھی دیا۔
پنڈت دیا شنکر نسیم لکھنوی: دیا شنکر نسیم 1811ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق پنڈتوں کے معزز اور تعلیم یافتہ خاندان سے تھا۔ اس لیے ان کو بھی ادبیات سے بے حد دلچسپی تھی۔ ان کا تخلص نسیم ہے، اور یہ اپنے ادبی ذوق کی تسکین کے لیے خواجہ حیدر آتش کے شاگرد بنے۔
دیا شنکر نسیم کی مثنوی گلزارِ نسیم اردو مثنوی کی تاریخ میں شاہکار کا درجہ رکھتی ہے۔ اردو زبان میں دو مثنویوں نے بے پناہ شہرت حاصل کی ہے۔ ایک میر حسن کی مثنوی سحرالبیان، دوسری پنڈت دیا شنکر نسیم کی مثنوی گلزارِ نسیم ہے۔ مثنوی سحرالبیان سادگی کا حسن ہے، اور گلزارِ نسیم پرکاری کا جادو ہے، اس کے اشعار میں زبان کی نزاکت اور دلکشی کا مظہر ہے۔
مشہور شعر ملاحظہ فرمائیے:
پھولوں میں رنگ، خوشبو کہاں
دل ہے وہاں، جہاں تو وہاں
مثنوی گلزارِ نسیم داستانی انداز میں لکھی گئی ہے، اور اس کا موضوع عشق اور انسانی جذبات ہے۔
بحوالہ: گلزارِ نسیم ….. مرتب: خواجہ احمد فاروقی
غرض یہ کہ مثنوی گلزارِ نسیم پنڈت دیا شنکر نسیم کی وہ مثنوی ہے، جس نے انھیں حیاتِ جاوید عطا کی ہے، اور اسے لکھنؤ کی پہلی طویل نظم کا شرف حاصل ہے۔
شعر ملاحظہ ہو:
یہ عشق نہیں آساں، اتنا ہی سمجھ لیجیے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
تلوک چند محروم: تلوک چند اردو کے عظیم شاعر تھے۔ ’’محروم‘‘ ان کا تخلص تھا۔ ان کی ولادت پنجاب کے ایک گاؤں میانوالی میں ہوئی۔ اردو کے علاوہ عربی و فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ محروم انسان دوست، وسیع القلب اور مشفقانہ شخصیت کے مالک تھے، ہر مذہب کا وہ احترام کرتے تھے۔
ڈاکٹر عبدالستار، تاریخِ اردو مثنوی صفحہ 210 پر لکھتے ہیں کہ تلوک چند ممتاز اردو زبان کے وہ شاعر تھے، جنھوں نے اپنی شاعری میں اصلاحی پہلوؤں کو اجاگر کیا، اور ان کی مثنویاں عام لوگوں کے لیے اخلاقی درس کا ذریعہ تھیں، اور بلا لحاظ مذہب و ملت، رنگ و نسل تاریخ ساز ہستیوں سے وہ عقیدت رکھتے تھے۔
تلوک چند کی مثنوی خواب و خیال داستان پر مبنی ہے، جس میں عشق اور زندگی کی حقیقتوں کو بیان کیا گیا ہے، اور یہ مثنوی اردو ادب میں تخلیقی فکر اور زبان کی جدت کا عمدہ نمونہ ہے۔
ان کا شعر ہے:
دل میں بسا کے خوابِ محبت کے راز کو
دیکھا خیال میں نئی دنیا کے ساز کو
مہاراجہ کشن پرشاد: عربی اور فارسی کے مشہور شاعر کشن پرشاد 28 جنوری 1864ء کو ریاست حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا نے انھیں عربی اور فارسی میں بڑے قابل استادوں سے اعلیٰ درجے کی تعلیم دلائی۔ ’’شاد‘‘ ان کا تخلص تھا، شاد انگریزی، تیلگو اور مراٹھی زبانوں پر بھی کافی عبور رکھتے تھے، داغ دہلوی کے شاگرد تھے، فارسی اور اردو دونوں زبانوں میں شعر کہتے تھے۔ 1901ء میں شاد ریاست حیدرآباد کے وزیر اعظم ہوئے اور انھیں "یمین السلطنت” کا خطاب ملا۔ ان کے دربار میں شعراء اور مصنفین کا ہمیشہ جمگھٹا رہتا تھا۔ 9 مئی 1940ء کو حیدرآباد دکن میں انتقال کر گئے۔
مہاراجہ جو ایک ہندو حکمران تھے، اردو شاعری اور خاص طور پر مثنوی نگاری میں گہری دلچسپی رکھتے تھے، ان کی مثنویاں اخلاقی اور سماجی موضوعات پر مشتمل ہوتی تھیں۔
بحوالہ: ڈاکٹر گوپی چند نارنگ، اردو مثنوی کی روایت، صفحہ 85
ریاست حیدرآباد کے عظیم سپوت مہاراجہ کشن پرشاد کی سب سے مشہور مثنوی "مثنوی شریر سکھ” ہے۔ یہ ان کی نمایاں تخلیق ہے، جو زبان، اسلوب اور موضوع کے اعتبار سے اردو ادب میں منفرد مقام رکھتی ہے۔ اس مثنوی میں انھوں نے زندگی کے معاملات، اخلاقیات اور فلسفۂ حیات کو نہایت خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔
کنور مہندر سنگھ بیدی: منفرد شاعر کنور مہندر سنگھ 9 مارچ 1909ء کو پنجاب میں پیدا ہوئے۔ ان کا پورا نام کنور مہندر سنگھ بیدی ہے، اور ان کا تخلص ’’سحر‘‘ ہے۔ انھوں نے 15 سال کی عمر سے ہی شعر کہنا شروع کیا تھا۔ ان کی شاعری میں کلاسیکی اور جدیدیت کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ ان کا کلام جذبات، فطرت، فلسفہ اور انسانی زندگی کی حقیقتوں کو بہت خوبصورتی اور گہرائی سے پیش کرتا ہے۔
سحر کے بارے میں شاعر مالک رام اپنی کتاب ’’ہمارے کنور صاحب‘‘ کے تعارف میں لکھتے ہیں کہ سحر اپنی ذات میں ایک انجمن ہے۔ حوالہ: کتاب کا نام ’’ہمارے کنور صاحب‘‘، نئی دہلی، 8 دسمبر 1986ء
کنور مہندر سنگھ بیدی کی مثنوی ’’فسانۂ دل‘‘ میں عشق اور جذبات کی صداقت کو بڑے خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ان کی شاعری میں دل کو چھو جانے والی کیفیت پائی جاتی ہے۔ ان کا مشہور شعر ہے:
دل کی دنیا عجیب ہے، سمجھو تو راز ہے
پیار میں چھپے ہوئے ہر سوال کا جواب ہے
لالہ سری رام: اردو زبان کے ابتدائی شاعر لالہ سری رام 1838ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ یہ اردو زبان کے ابتدائی شاعروں میں سے ایک تھے، جنھوں نے اردو زبان و ادب کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ خاص طور پر اپنی اخلاقی شاعری، روایتی انداز اور انسانی زندگی کی حقیقتوں کو بیان کرنے کے لیے مشہور تھے۔
شمس الرحمن فاروقی نے کہا کہ لالہ سری رام نے اردو مثنوی کو کلاسیکی اسلوب میں پروان چڑھایا، اور ان کی مثنویاں سادگی، روانی اور فصاحت کی عمدہ مثال ہیں۔
بحوالہ: شمس الرحمن فاروقی، اردو کا ابتدائی دور اور مثنوی نگار، صفحہ 140
مثنوی کلیاتِ سری رام، اخلاقی اور سماجی موضوعات پر مبنی یہ مثنوی اردو کی ابتدائی مثنویوں میں اہم مقام رکھتی ہے۔ شعر ملاحظہ ہو:
محبت کے موتی پروتے رہیں گے
اندھیرے میں چراغ جلتے رہیں گے
چکبست برج نرائن: چکبست برج نرائن شاعر، ادیب اور نقاد کشمیری برہمن تھے۔ یہ 19 جنوری 1882ء کو فیض آباد میں پیدا ہوئے۔ وطن پرستی چکبست کی شاعری کا اہم جز ہے، اس تعلق سے ان کی نظمیں بہت مقبول ہوئیں، جن میں وطن سے محبت کا جذبہ نمایاں نظر آتا ہے۔
وطن پرست شہیدوں کی خاک لائیں گے
ہم اپنی آنکھ کا سرمہ اسے بنائیں گے
چکبست نے پہلا شعر نو برس کی عمر میں کہا۔ وہ ایک ترقی پسند اور آزاد ذہن کے مالک اور انقلابی شاعر تھے۔
حوالہ: چکبست، حیات اور ادبی خدمات
انقلابی شاعر چکبست نے رامائن کے ایک منظر کو اردو مثنوی میں بیان کیا ہے۔ اس میں رام اور سیتا کی جدائی کا منظر دکھایا گیا ہے، اور یہ مثنوی ہندوستانی تہذیب اور اردو زبان کے امتزاج کی شاندار مثال ہے۔ چکبست نرائن کی یہ مثنوی اردو شاعری میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ ان کا مشہور شعر ہے:
جس طرح خواب کا عالم نظر آتا ہے عجیب
زندگی رام کی یوں آنکھوں میں بھر آتی ہے
بہر حال اردو مثنوی کے فروغ میں غیر مسلم شعراء کا کردار اردو ادب کی وسیع ہمہ گیری اور غیر متعصبانہ روایت کا مظہر ہے۔ ان شعراء نے نہ صرف اردو مثنوی کے ذخیرے کو بڑھایا بلکہ زبان کے مختلف رنگوں اور تجربات سے منور کیا۔ ان کے کام آج بھی اردو ادب کے طلبہ اور محققین کے لیے قیمتی سرمایہ ہیں۔
عہد حاضر میں جب چاروں طرف سماج میں مذہبی تنگ نظری اپنے عروج پر ہے، ایسے موقع پر غیر مسلم شعراء اپنی مشترکہ تہذیبی روایت کی یاد دلاتے ہیں، جن کے کارناموں کا مطالعہ کرتے ہوئے ہم اپنے ماضی کی کشادہ ذہنی پر فخر کر سکتے ہیں۔ یہی مشترکہ تہذیبی روایات ہیں، جو یاد دلاتی ہیں کہ ہمارے ادیبوں اور شاعروں نے لوگوں کے دلوں کو منور کیا ہے اور ہر طرح کے مذہبی تعصبات سے اوپر اٹھ کر انسانیت کا درس دیا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے