कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

’’گلبرگہ کے ادب ساز‘‘ گلبرگہ کے قلمکاروں پر ڈاکٹر انیس صدیقی کا کارنامہ

از: واجد اختر صدیقی، گلبرگہ، کرناٹک
9739501549

ڈاکٹر انیس صدیقی غیر معمولی صلاحیتوں سے مالامال ایک ہمہ جہت شخصیت کا نام ہے۔ ان کی ذات کے کئی روشن پہلو ہیں۔ جہاں وہ ایک ممتاز محقق، معتبر اشاریہ ساز، منفرد تدوین کار اور سنجیدہ تنقید نگار ہیں، وہیں ایک عمدہ خاکہ نگار کی حیثیت سے بھی اردو ادبی دنیا میں اپنی مستحکم شناخت قائم کر رہے ہیں۔ صحافت، خصوصاً ادبی صحافت سے ان کا گہرا اور مضبوط رشتہ ہے۔ ان کی ادارت میں شائع ہونے والا ڈیجیٹل ویکلی اخبار "قلمکدہ” اردو حلقوں میں ایک خوشگوار ہلچل پیدا کر رہا ہے، جس سے ان کی مدیرانہ صلاحیتیں کھل کر سامنے آتی ہیں۔
ڈاکٹر انیس صدیقی کی اب تک کم و بیش ایک درجن کتابیں شائع ہو چکی ہیں، جن میں "کرناٹک میں اردو صحافت” (2005)، "شب خون کا توضیحی اشاریہ” (جلد اول و دوم، 2017) اور "اشاراتِ صحافت” (2020) خاص طور پر مقبول اور اہم تصنیفات کے طور پر جانی جاتی ہیں۔
’’گلبرگہ کے ادب ساز‘‘ انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ کے زیر اہتمام سن 2024ء میں شائع ہوئی، جس کے مرتب ڈاکٹر انیس صدیقی ہیں۔ دراصل یہ کتاب انجمن کی اشاعتی سرگرمیوں کی ایک اہم کڑی ہے۔ اس نوعیت کی کئی اور کتابیں بھی انجمن کے زیر اہتمام منظر عام پر آتی رہی ہیں، جو اس کے فعال ادبی کردار کی غمازی کرتی ہیں۔
کتاب کی اشاعت کا جواز پیش کرتے ہوئے فاضل مرتب اپنے پیش لفظ میں رقم طراز ہیں:
اردو کے نامزد مراکز سے دور جنوبی ہندوستان میں بطور گہوارۂ علم و دانش معروف شہر گلبرگہ اور اس کے اکناف میں شعر و ادب کی سمت و رفتار پر ایک طائرانہ نظر اس بات کی گواہی دے گی کہ ممتاز صوفی بزرگ، اردو نثر کی اولین کتاب کے خالق اور دکنی شاعر خواجہ بندہ نواز گیسو دراز رح (1321–1422) سے لے کر آج تک ہر دور میں اس سرزمین سے کئی چاند اور سورج شعر و ادب کے افق پر طلوع ہوئے ہیں، جنہوں نے خونِ جگر صرف کر کے اپنے فکر و فن کی ضیا سے نہ صرف گلبرگہ کی ادبی فضاؤں کو منور کیا بلکہ دنیائے ادب کو بھی روشنی بخشی اور اس شہر کے نام کو بامِ رفعت تک پہنچایا۔ بلا شبہ اس شہر میں شعری و ادبی روایات کی تابندگی انہی صاحبانِ قلم و قرطاس کی مرہونِ منت ہے۔”
ڈاکٹر انیس صدیقی نے اپنے اس پیش لفظ میں اس حقیقت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے کہ گلبرگہ کے قلمکار بے پناہ صلاحیتوں کے حامل رہے ہیں، مگر اردو کی بڑی بستیوں میں انہیں وہ خاطر خواہ پذیرائی حاصل نہ ہو سکی جس کے وہ مستحق تھے۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں ایک اہم سبب شمالی ہند کے بعض ناقدین کا علاقائی تعصب بھی رہا ہے، جس کے باعث جنوبی ہند کے قلمکاروں کو نظرانداز کیا گیا۔ یہ رویہ، میری دانست میں، ادبی دیانت کے منافی ہے اور فروغِ اردو میں ایک رکاوٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔
انیس صدیقی نے ایک اور جواز پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ گلبرگہ کے گلشنِ شعر و ادب کو شادابی عطا کرنے والے ان فراموشیدہ آبیاروں کی حیات اور ادبی کارناموں کو محفوظ و مامون کرنے کے مقصد سے انجمن ترقی اردو ہند، شاخ گلبرگہ نے یہ فیصلہ کیا کہ ان شخصیات پر مستند محققین سے مفصل و جامع مضامین لکھوائے جائیں اور انہیں کتابی صورت میں شائع کیا جائے۔
علاقائی ادب اور اپنے علاقے کے قلمکاروں کی شخصیت اور کارناموں کے تحفظ کے لیے یہ کاوش یقیناً قابل تقلید اور لائق ستائش ہے۔ یہ نہ صرف مرحوم قلمکاروں کے لیے ایک خوبصورت خراجِ عقیدت ہے بلکہ نئی نسل کے لیے ایک قیمتی ادبی سرمایہ بھی ہے۔
’’گلبرگہ کے ادب ساز‘‘ میں گلبرگہ کی پندرہ ادبی شخصیات کی حیات و خدمات پر مشتمل مفصل تحقیقی مضامین شامل ہیں، جنہیں پندرہ مختلف محققین نے قلمبند کیا ہے۔
جن شخصیات پر مضامین لکھے گئے ہیں، ان کی ترتیب (جیسا کہ اصل میں ہے) اس طرح ہے: قوسین میں تحقیق نگاروں کے نام درج کیے گئے ہیں۔
صابر شاہ آبادی (حامد اکمل)، سید مجیب الرحمن (ڈاکٹر صدیقی انیسہ)، عبدالرحیم آرزو (ڈاکٹر جلیل تنویر)، وقار خلیل (ڈاکٹر انیس صدیقی)، محمد ہاشم علی (ڈاکٹر خالدہ بیگم)، محمد اعظم اثر (ڈاکٹر مقبول احمد مقبول)، راہی قریشی (ڈاکٹر حامد اشرف)، حمید الماس (ڈاکٹر پیرزادہ فہیم الدین)، تنہا تما پوری (واجد اختر صدیقی)، صغریٰ عالم (اسما عالم)، طیب انصاری (ڈاکٹر غضنفر اقبال)، خمار قریشی (منظور وقار)، صابر فخرالدین (ڈاکٹر محمد عظمت الحق)، خالد سعید (ڈاکٹر بی بی رضا خاتون) اور فوزیہ چودھری (ڈاکٹر کوثر فاطمہ) شامل ہیں۔
فاضل مرتب نے مقالہ نگاروں کے لیے ایک رہنمایانہ خاکہ بھی ترتیب دیا، تاکہ تمام مضامین میں یکسانیت برقرار رہے اور ہر شخصیت کے سوانحی کوائف اور ادبی خدمات کا بھرپور اور منظم احاطہ ممکن ہو سکے۔
یہ امر واضح ہے کہ یہ تمام پندرہ قلمکار اپنے اپنے میدانِ شعر و ادب کے درخشاں ستارے تھے، مگر اپنی حیات میں انہیں وہ مقام و مرتبہ نہ مل سکا جس کے وہ بجا طور پر مستحق تھے۔ ایسے میں ان کی یاد کو تازہ کرنا، ان کے کارناموں کو محفوظ کرنا اور انہیں نئی نسل تک منتقل کرنا ایک عظیم ادبی خدمت ہے، جسے بجا طور پر ایک قابل قدر کارنامہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
کتاب کی طباعت بھی نہایت دیدہ زیب ہے۔ سرورق پر مرحوم قلمکاروں کی رنگین تصاویر کی ایک حسین کہکشاں سجائی گئی ہے، جبکہ پسِ ورق پر ان کے دستخط بھی شامل کیے گئے ہیں۔ غالباً یہ ایک منفرد اور اختراعی پہلو ہے، جو مرتب کے جمالیاتی ذوق کی عکاسی کرتا ہے۔ 350 صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت 400 روپے مناسب ہے، اور اسے ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی نے شائع کیا ہے۔
مختصراً یہ کہ "گلبرگہ کے ادب ساز” نہ صرف ایک اہم تحقیقی دستاویز ہے بلکہ گلبرگہ کی ادبی تاریخ کو محفوظ کرنے کی ایک سنجیدہ، بامقصد اور کامیاب کوشش بھی ہے، جو اردو ادب کے طلبہ، محققین اور شائقین کے لیے یکساں طور پر مفید ثابت ہوگی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے