कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

دینی مدارس جدید تعلیم اور AI کا دور ایک نئی سمت، ایک جامع حکمتِ عملی

از قلم :محمود علی لیکچرر

ہندوستان کے تعلیمی منظرنامے میں اس وقت ایک خاموش مگر گہری تبدیلی جاری ہے۔ دینی مدارس جو صدیوں سے دینِ اسلام کی حفاظت اور اشاعت کا فریضہ انجام دیتے آئے ہیں، اب نئے دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ NEET اور UPSC جیسے مشکل امتحانات میں مدرسہ طلبہ کی کامیابیاں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ اگر صحیح رہنمائی، وسائل اور تعلیمی حکمتِ عملی فراہم کی جائے تو یہ طلبہ ہر میدان میں نمایاں کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔
اگرچہ Shaheen Group of Institutions نے “دینی + عصری تعلیم” کا ایک کامیاب ماڈل پیش کیا ہے، لیکن اب ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ سوچ پورے ملک میں پھیلے۔ ہمارے علما و فقہیہ بھی ایسے جدید تعلیمی مراکز قائم کریں جہاں قرآن و حدیث کے ساتھ سائنس ریاضی انگریزی اور مسابقتی امتحانات کی باقاعدہ تیاری کروائی جائے۔
آج کا زمانہ Artificial Intelligence (AI) کا زمانہ ہے جس نے تعلیم کو نہایت آسان اور عام کر دیا ہے۔ اب علم صرف مہنگے کوچنگ سینٹرز تک محدود نہیں رہا بلکہ فری ویب سائٹس اور موبائل ایپس کے ذریعے ہر طالب علم تک پہنچ چکا ہے۔ خاص طور پر UPSC کی تیاری کے لیے کئی معتبر پلیٹ فارمز دستیاب ہیں، جیسے
Unacademy
BYJU’S
Testbook
Khan Sir Official
یہ پلیٹ فارمز فری ویڈیوز MCQs، ٹیسٹ سیریز اور اسمارٹ گائیڈنس فراہم کرتے ہیں۔ اسی طرح کئی یوٹیوب چینلز اور ویب سائٹس طلبہ کو صفر سے لے کر اعلیٰ سطح تک رہنمائی دیتے ہیں۔
مزید یہ کہ ہندوستان میں کچھ اہم فری کوچنگ سینٹرز بھی کام کر رہے ہیں جو خاص طور پر غریب اور مدرسہ پس منظر رکھنے والے طلبہ کو UPSC کی تیاری کرواتے ہیں، مثلاً
Residential Coaching Academy Jamia Millia Islamia
Zakat Foundation of India
یہ ادارے ہر سال کئی طلبہ کو IAS، IPS جیسے اہم عہدوں تک پہنچانے میں مدد دیتے ہیں۔
جہاں تک حوصلہ افزائی کا تعلق ہے، ہمارے سامنے کئی روشن مثالیں موجود ہیں
شاہد رضا خان — UPSC کامیاب
T. شاہد — UPSC کامیاب
حافظ محمد علی اقبال NEET میں نمایاں کامیابی
حافظ غلام احمد زردی NEET کامیاب
یہ نام صرف چند مثالیں ہیں، مگر یہ ایک بڑی حقیقت کی نمائندگی کرتے ہیں کہ مدرسہ کے طلبہ میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ انہیں صرف صحیح معلومات رہنمائی اور مواقع کی ضرورت ہے۔
اس پس منظر میں Jamiat Ulema-e-Hind جیسے اداروں کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ وہ ملک گیر سطح پر تعلیمی بیداری مہم چلائیں کانفرنسز اور سیمینارز کا انعقاد کریں، اور مدارس میں جدید تعلیم کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کریں۔
قوم کے اساتذہ اور تعلیم یافتہ افراد کو بھی چاہیے کہ وہ اپنا کچھ وقت مدرسہ طلبہ کی رہنمائی کے لیے وقف کریں۔ اگر ہر مدرسہ میں ذہین طلبہ کی نشاندہی کے لیے ٹیسٹ لیا جائے اور انہیں خصوصی طور پر جدید تعلیم، انگریزی اور سائنسی مضامین سے جوڑا جائے تو ایک نئی نسل تیار ہو سکتی ہے جو دین اور دنیا دونوں میں مہارت رکھتی ہو۔
عوام کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ علما کی عزت اور ان کا تعاون کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے، کیونکہ علما کو “انبیا کی میراث” کہا گیا ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں علما کو وہ مقام نہیں دیا جاتا جس کے وہ مستحق ہیں، جبکہ دیگر قومیں اپنے علما کو نہایت عزت دیتی ہیں۔ ہمارے اکثر علما اپنی پوری زندگی دین کی خدمت میں وقف کر دیتے ہیں، اس لیے ان کی حوصلہ افزائی اور مدد ضروری ہے۔
تاریخی طور پر Darul Uloom Deoband کے علما نے ہر نازک دور میں قوم کی رہنمائی کی ہے۔ آج بھی اسی بصیرت اور حوصلے کی ضرورت ہے، مگر ایک جدید تعلیمی وژن کے ساتھ۔ اس مقصد کے لیے فقہی اختلافات کو وقتی طور پر پسِ پشت ڈال کر ایک مشترکہ تعلیمی حکمتِ عملی اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ دینی مدارس کے طلبہ ذہین اور باصلاحیت ہوتے ہیں۔ اگر انہیں فری ویب سائٹس، آن لائن MCQs، AI ٹولز اور جدید تعلیمی وسائل سے جوڑ دیا جائے تو وہ نہ صرف NEET اور UPSC جیسے امتحانات میں کامیاب ہو سکتے ہیں بلکہ ملک و قوم کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
یہ وقت کا تقاضہ ہے کہ دینی اور دنیاوی تعلیم کے درمیان فاصلے کو ختم کر کے ایک ایسا متوازن نظام قائم کیا جائے جہاں علم، شعور اور کردار تینوں کا حسین امتزاج ہو۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے