कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

کریٹین: پٹھوں سے آگے دماغ کا محافظ

تحریر: جنید عبدالقیوم شیخ

آج کے دور میں جب بھی "کریٹین” کا نام لیا جاتا ہے تو فوراً ذہن میں جم جانے والے نوجوانوں کی تصویر ابھرتی ہے جو اپنے جسم کو مضبوط بنانے کے لیے اس سپلیمنٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ لیکن سائنس کی دنیا میں حالیہ پیش رفت نے اس تصور کو یکسر بدل دیا ہے۔ اب کریٹین کو صرف ایک اسپورٹس سپلیمنٹ نہیں بلکہ انسانی دماغ کے لیے ایک اہم توانائی بخش عنصر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
انسانی دماغ جسم کا وہ حصہ ہے جو سب سے زیادہ توانائی استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ اس کا وزن جسم کے مقابلے میں بہت کم ہوتا ہے، مگر یہ تقریباً بیس فیصد توانائی خرچ کر لیتا ہے۔ جب دماغ کو مناسب توانائی نہیں ملتی تو انسان کی سوچنے کی صلاحیت، یادداشت اور فیصلہ کرنے کی قوت متاثر ہوتی ہے۔ اسی مقام پر کریٹین ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ دماغی خلیات میں جا کر توانائی کے بنیادی ذرائع یعنی اے ٹی پی کی پیداوار کو بڑھاتا ہے، جس سے دماغ کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔
حالیہ طبی تحقیق، خصوصاً ڈاکٹر کیاٹ کی گفتگو، اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ کریٹین دماغ کے لیے ایک "سپر چارجر” کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب انسان ذہنی دباؤ، نیند کی کمی یا بڑھتی عمر کے اثرات کا شکار ہوتا ہے تو دماغ کو اضافی توانائی درکار ہوتی ہے۔ کریٹین اس کمی کو پورا کر کے دماغ کو فعال رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
الزائمر اور ڈیمنشیا جیسے امراض آج کی دنیا میں ایک سنگین مسئلہ بن چکے ہیں۔ ایسے مریض نہ صرف اپنی یادداشت کھو دیتے ہیں بلکہ اپنی شناخت اور روزمرہ زندگی کے بنیادی پہلوؤں سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق جسے سابا ٹرائل کے نام سے جانا جاتا ہے، اس میں کریٹین کے استعمال سے الزائمر کے مریضوں میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔ صرف چند ہفتوں کے استعمال سے دماغی توانائی میں اضافہ ہوا اور یادداشت و توجہ میں بہتری آئی۔ اگرچہ یہ تحقیق ابتدائی مرحلے میں ہے، لیکن اس نے ایک نئی امید ضرور پیدا کر دی ہے۔
کریٹین کے فوائد صرف مریضوں تک محدود نہیں بلکہ عام افراد بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ خاص طور پر وہ افراد جو چالیس سال سے زیادہ عمر کے ہیں، یا جو شدید ذہنی دباؤ اور نیند کی کمی کا شکار ہیں، ان کے لیے یہ ایک مفید معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی طرح سبزی خور افراد، جن کی غذا میں قدرتی طور پر کریٹین کم ہوتا ہے، اور خواتین جنہیں ہارمونل تبدیلیوں کے دوران ذہنی دھند کا سامنا ہوتا ہے، ان کے لیے بھی یہ فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
استعمال کے حوالے سے ماہرین کا مشورہ ہے کہ روزانہ تین سے پانچ گرام کریٹین کافی ہے۔ اسے پانی یا کسی بھی مشروب کے ساتھ لیا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ بات نہایت اہم ہے کہ کسی بھی سپلیمنٹ کے استعمال سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کیا جائے، خصوصاً اگر کسی کو گردوں یا دیگر بیماریوں کا مسئلہ ہو۔
یہاں ایک بنیادی حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی بھی سپلیمنٹ مکمل حل نہیں ہوتا۔ اگر انسان کا طرز زندگی غیر متوازن ہو، وہ ورزش نہ کرے، نیند پوری نہ لے، یا اپنی صحت کا خیال نہ رکھے تو محض سپلیمنٹ اس کی بہتری کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ دماغی صحت کے لیے باقاعدہ ورزش، متوازن غذا، پرسکون نیند اور بلڈ پریشر و شوگر کا کنٹرول بنیادی ستون ہیں۔
کریٹین کے حوالے سے یہ نئی سائنسی تحقیق ہمیں ایک ایسے مستقبل کی جھلک دکھاتی ہے جہاں انسان نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی طور پر بھی طویل عرصے تک متحرک رہ سکتا ہے۔ یہ محض پٹھوں کو طاقت دینے والا مادہ نہیں بلکہ ایک ایسا عنصر بنتا جا رہا ہے جو دماغ کو توانائی، استحکام اور تحفظ فراہم کرتا ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ دماغ اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم نعمت ہے جس کی حفاظت ہر انسان کی ذمہ داری ہے۔ جدید سائنس ہمیں ایسے ذرائع فراہم کر رہی ہے جو اس نعمت کو محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ کریٹین بھی انہی میں سے ایک ہے — ایک خاموش مگر مؤثر محافظ، جو ہمیں بڑھتی عمر میں بھی شعور، توانائی اور زندگی کی روشنی عطا کر سکتا ہے۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے