कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ایک مینارۂ علم ہم سے جدا ہوگیا: استاذُ الاساتذہ حضرت مولانا قمر عثمانی رحمہ اللہ

خامہ بکف: فضیل اختر قاسمی بھیروی

خبرِ وفات: ایک صدمۂ جانکاہ
یہ دنیا اپنی تمام تر رونقوں اور مصروفیتوں کے باوجود ایک ایسی حقیقت کی حامل ہے جس سے کسی کو مفر نہیں، اور وہ ہے جدائی اور فراق کی تلخ گھڑی۔ کبھی کبھی ایسی خبر سننے کو ملتی ہے جو دل کی دنیا کو یکسر بدل دیتی ہے، آنکھوں کو نم اور دل کو بوجھل کر دیتی ہے۔ آج 23 اپریل 2026ء بروز جمعرات صبح فجر کی نماز اور تلاوت سے فارغ ہو کر جب موبائل کھولا تو مختلف گروپوں میں یہ اندوہناک، حزن انگیز اور دل خراش اطلاع گردش کر رہی تھی کہ استاذُ الاساتذہ جلیل القدر محدث حضرت مولانا قمر عثمانی صاحب رحمہ اللہ (استاذ حدیث دارالعلوم وقف دیوبند) طویل علالت کے بعد اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے، تو دل پر غم کی ایک گہری لہر دوڑ گئی اور زبان پر بے اختیار یہ الفاظ جاری ہو گئے۔ إنا لله وإنا إليه راجعون۔
یہ خبر علم و فضل کے ایک ایسے مینار کے ڈھ جانے کا اعلان تھی جس کی روشنی میں نہ جانے کتنے تشنگانِ علم نے اپنی پیاس بجھائی۔ حضرت کی زندگی سراپا خدمت سے لبریز تھی۔ علمِ حدیث کی اشاعت، دینِ اسلام کی ترویج اور طلبہ کی علمی و روحانی تربیت ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ وہ جہاں ایک استاذ تھے وہیں ایک مشفق مربی، ایک مخلص رہنما اور طلبہ کے تئیں ایک بہترین محسن تھے جن کی ذات سے بے شمار افراد نے فیض پایا۔ ان کے وصال کی خبر نے دلوں میں ایک خلا پیدا کر دیا ہے۔ مدارس کی فضا، درسگاہوں کی نشستیں اور طلبہ کے حلقے آج ان کی کمی شدت سے محسوس کر رہے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ایک سایہ اٹھ گیا ہو، ایک چراغ گل ہو گیا ہو، اور ایک ایسا دروازہ بند ہو گیا ہو جہاں سے علم، شفقت اور دعا کی روشنی یکساں طور پر ملا کرتی تھی۔ ان کی رحلت ہمیں پھر اس اٹل حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ یہ دنیا فانی ہے اور یہاں کسی کو دوام حاصل نہیں۔ مگر بعض ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جن کا جانا صرف اور صرف ایک فرد کا جانا نہیں ہوتا، بلکہ ایک پورے عہد کے خاتمے کی علامت بن جاتا ہے۔ حضرت مولانا قمر عثمانی رحمہ اللہ کی وفات بھی یقیناً اسی نوعیت کا ایک عظیم سانحہ ہے۔
تعارف و علمی مقام:ـ
حضرت مولانا قمر عثمانی رحمہ اللہ ان خوش نصیب اور بلند پایہ اہلِ علم میں سے تھے جنہیں صناعِ لاثانی و منعمِ حقیقی نے علمِ حدیث کی خدمت کے لیے منتخب فرمایا تھا۔ آپ کی پوری زندگی درس و تدریس، تعلیم و تربیت اور اشاعتِ دین کے مبارک کاموں میں گزری۔ خصوصاً دارالعلوم وقف دیوبند سے آپ کی وابستگی نہایت قدیم اور مضبوط رہی، جہاں آپ نے استاذِ حدیث کی حیثیت سے ایک طویل عرصہ تک تشنگانِ علومِ نبویہ کو سیراب کیا۔ آپ سن 1935ء میں دیوبند کے محلہ ابو البرکات میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کاندھلہ میں حاصل کی، جہاں آپ کے والد محترم ماسٹر محمد کامل عثمانی صاحبؒ ملازم تھے۔ اسی زمانۂ قیامِ کاندھلہ میں حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی وفات ہوئی، اور کم عمری کے باوجود آپ کو ان کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی سعادت بھی حاصل ہوئی، اس وقت آپ کی عمر تقریباً آٹھ برس تھی۔
سن 1372ھ مطابق 1952ء میں دارالعلوم دیوبند سے سندِ فضیلت حاصل کی۔ آپ کو یہ امتیاز حاصل تھا کہ صحیح بخاری اور سنن ترمذی شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ سے، اور صحیح مسلم علامہ ابراہیم بلیاویؒ سے پڑھیں، جس سے آپ کو اکابر کی علمی نسبتوں کا وافر حصہ نصیب ہوا۔ آپ حدیثِ رسول ﷺ کے نور کو طلبہ کے قلوب میں اتارنے کی فکر رکھتے تھے، اسی لیے آپ کے شاگرد علم کے ساتھ عمل، اخلاص اور ادب کا سرمایہ بھی لے کر اٹھتے تھے۔ فراغت کے بعد جامعہ اسلامیہ دارالعلوم وقف دیوبند سے وابستہ ہو گئے اور مختلف درجات میں متعدد کتابوں کا تدریسی فریضہ انجام دیا۔ دورۂ حدیث شریف میں بھی اہم کتب پڑھانے کا شرف حاصل ہوا، اور یوں ایک طویل عرصہ تک علمِ حدیث کی خدمت انجام دیتے رہے۔ آپ کی شخصیت علم و عمل کا حسین نمونہ تھی۔ سادگی، تقویٰ، اخلاص اور للہیت آپ کے نمایاں اوصاف تھے، اور آپ کے فیض سے تیار ہونے والے علماء آج مختلف گوشوں میں دین کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ اگرچہ اخیر عمر میں شدید علالت نے آپ کو کمزور کر دیا تھا اور چلنا پھرنا بھی دشوار بلکہ ناممکن ہو گیا تھا، یہاں تک کہ احقر(فضیل اختر) کے سال دورۂ حدیث شریف میں آپ تدریس کے لیے تشریف نہ لا سکے، لیکن اس کے باوجود آپ کا دل ہمیشہ مدرسہ ہی میں لگا رہتا تھا۔ طلبہ کا ذکر آتے ہی چہرہ کھل اٹھتا اور ان سے ملاقات آپ کے لیے روحانی سکون اور نشاط کا سبب بنتی تھی۔ ذاتِ حق جل مجدہ نے حضرت کو طویل عمر عطا فرمائی۔ آپ نے تقریباً 92 سال (قمری اعتبار سے 95 سال) عمر پائی اور اخیر تک طبعی ضعف کے علاوہ کسی بڑی بیماری میں مبتلا نہیں ہوئے۔ بلاشبہ آپ کا وجود علمِ حدیث کا ایک روشن باب تھا، جس کی روشنی مدتوں اہلِ علم کے لیے مشعلِ راہ بنی رہے گی۔ (بعض معلومات ماخوذ از: حضرت الاستاذ مفتی محمد نوشاد نوری قاسمی، فیس بک تحریر)
فیضانِ مدنیؒ: شاگردی کا روشن باب:ـ
حضرت مولانا قمر عثمانی صاحب رحمہ اللہ کی علمی و روحانی تربیت کا سب سے روشن پہلو یہ تھا کہ آپ کو عظیم محدث و مجاہدِ ملت شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کی شاگردی نصیب ہوئی۔ یہ نسبت خود اپنے اندر ایک مکمل درسگاہ کی حیثیت رکھتی ہے، اور اسی فیضانِ مدنیؒ نے حضرت کی شخصیت کو وہ وقار اور تاثیر عطا کی جو ان کی گفتگو، اندازِ تدریس اور طرزِ حیات میں نمایاں طور پر محسوس ہوتی تھی۔ جب بھی راقم کو حضرت کی خدمت میں حاضر ہونے کا موقع ملتا، تقریباً آدھا ایک گھنٹہ علمی و تربیتی گفتگو کا سلسلہ رہتا، اور ان گفتگوؤں میں ایک خاص رنگ حضرت مدنیؒ کے تذکروں کا ہوتا تھا۔ حضرت اپنے زمانۂ طالب علمی کے واقعات نہایت شوق اور محبت کے ساتھ بیان فرماتے، اور یوں محسوس ہوتا کہ جیسے وہ لمحے ان کے دل و دماغ میں آج بھی تازہ ہیں۔ ان کی زبان سے حضرت مدنیؒ کا ذکر صرف ایک استاد کے طور پر نہیں بلکہ ایک محسن اور ایک روحانی رہنما کے طور پر جھلکتا تھا۔ ان کے اندازِ بیان سے یہ بات بخوبی واضح ہوتی تھی کہ انہوں نے اپنے استاذ سے صرف کتابی علم ہی حاصل نہیں کیا، بلکہ ادب، اخلاص اور نسبت کا وہ قیمتی سرمایہ بھی پایا جو کسی بھی طالبِ علم کے لیے اصل زادِ راہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت رحمہ اللّٰہ کی اپنی شخصیت میں بھی وہی رنگ جھلکتا تھا۔ استاذ کے ساتھ والہانہ محبت، علم کے ساتھ گہرا تعلق اور دین کے ساتھ بے لوث وابستگی۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ حضرت مولانا قمر عثمانی رحمہ اللہ کی پوری علمی زندگی دراصل فیضانِ مدنیؒ کی ایک روشن جھلک تھی، جو ان کے ذریعے آگے منتقل ہوتی رہی اور نہ جانے کتنے دلوں کو منور کرتی رہی۔
درسِ مدنی کی دلنشین یادیں:ـ
حضرت رحمہ اللہ کی گفتگو کا ایک نہایت دلنشین پہلو وہ یادیں تھیں جو وہ اپنے استاذِ محترم شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کے درس سے متعلق سنایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ راقم نے حضرت سے عرض کیا کہ حضرت! آپ درسِ مدنی رحمۃ اللّٰہ علیہ میں کہاں بیٹھا کرتے تھے؟ تو آپ نے نہایت محبت بھرے انداز میں فرمایا کہ "میں حضرت مدنیؒ کی مسند کے بالکل سامنے بیٹھتا تھا۔” پھر مسکراتے ہوئے ایک عجیب و دلکش کیفیت بیان فرمائی کہ "میں حضرت کو دیکھتا تو دیکھتا ہی رہ جاتا، یہاں تک کہ پورا درس ختم ہو جاتا تھا۔” گویا سماعت درس سن رہی ہوتی تھی مگر نگاہیں مسلسل اپنے محبوب استاذ کے چہرۂ انور پر جمی رہتی تھیں۔ حضرت نے مزید فرمایا کہ حضرت مدنیؒ کا چہرہ اس قدر حسین، پُرکشش اور نورانی تھا کہ نگاہ ہٹانے کو دل ہی نہیں چاہتا تھا۔ میں یہ سوچتا تھا کہ کتابیں تو سن کر حاصل ہو ہی جائیں گی، لیکن حضرت مدنیؒ کا یہ حسین و جمیل چہرہ پھر کہاں دیکھنے کو ملے گا، اس لیے جی بھر کر دیکھ لیتا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ استاذ کے ساتھ اس درجے کی محبت اور عقیدت ہی طالب علم کو کمال تک پہنچاتی ہے، اور حضرت مولانا قمر عثمانی رحمہ اللہ کی یہ یادیں اسی حقیقت کی روشن دلیل ہیں۔
راقم کا ذاتی تعلق اور ملاقاتیں:ـ
حضرت رحمہ اللہ سے راقم کا تعلق ایک علمی رشتہ تھا جس میں عقیدت اور استفادہ کی کیفیت نمایاں تھی۔ دارالعلوم وقف دیوبند میں دورۂ حدیث شریف کے سال اور تکمیلِ عربی ادب کے زمانے میں بارہا حضرت کی خدمت میں حاضر ہونے کا شرف حاصل ہوا، اور ہر حاضری اپنے اندر ایک نئی تازگی لے کر آتی تھی۔ جب بھی حاضری ہوتی، حضرت نہایت شفقت اور محبت کے ساتھ بٹھاتے، اور تقریباً آدھا ایک گھنٹہ گفتگو کا سلسلہ جاری رہتا۔ اس گفتگو میں علم، نصیحت اور محبت کا حسین نمونہ دیکھنے کو ملتا تھا۔ حضرت اپنے زمانۂ طالب علمی کے واقعات سناتے، اکابر کا تذکرہ فرماتے، اور خاص طور پر حضرت مدنیؒ کا ذکر ایک خاص والہانہ انداز میں کرتے، جس سے سننے والے کے دل میں بھی ان اکابر کی محبت جاگزیں ہو جاتی۔راقم کے لیے یہ ملاقاتیں کسی قیمتی سرمایہ سے کم نہ تھیں۔ حضرت سے مل کر دل کو جو خوشی اور اطمینان حاصل ہوتا تھا، وہ بیان سے باہر ہے۔ یہی وجہ تھی کہ جب بھی موقع ملتا، راقم پوری رغبت کے ساتھ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوتا، اور ہر بار پہلے سے زیادہ محبت اور وابستگی کے ساتھ واپس لوٹتا۔ یہ تعلق درحقیقت ایک ایسی نسبت تھی جو وقت کے ساتھ کم ہونے کے بجائے اور زیادہ مضبوط ہوتی چلی گئی۔
اجازتِ حدیث: ایک بابرکت نسبت:ـ
حضرت رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضری کا ایک نہایت قیمتی اور یادگار پہلو وہ بابرکت وقت تھا جب راقم کو آپ سے اجازتِ حدیث حاصل کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ یہ ایک عظیم علمی و روحانی نسبت کا حصول تھا، جو اہلِ علم کے نزدیک غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ جب حضرت شدید علالت کے باعث مدرسہ تشریف نہیں لا سکتے تھے اور گھر ہی پر آرام فرما رہے تھے، اس کے باوجود ان کے دروازے طلبہ کے لیے ہمیشہ کھلے رہتے تھے۔ دور دور سے طلبہ بالخصوص اجازتِ حدیث کے لیے حاضر ہوتے۔ راقم بھی اس سعادت کے حصول کے لیے حاضر ہوا اور صحیح بخاری کی آخری حدیث پڑھ کر حضرت سے اجازت حاصل کی۔ اس لمحے کی خوشی اور روحانی سرور کو الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ حضرت کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ جو بھی طالب علم ان کے پاس آتا، اسے نہایت احترام سے بٹھاتے، اس کی بات توجہ سے سنتے، حضرت کے ضعف کی وجہ سے قدرے آواز میں بولنا پڑتا تھا اور بار بار نہایت عاجزی کے ساتھ فرماتے: "آپ میرے لیے ضرور دعا کیجیے گا۔” یہ جملہ وہ اس قدر کثرت سے کہتے کہ سننے والا ان کی انکساری اور للہیت سے بے حد متاثر ہوتا۔ ساتھ ہی یہ بھی فرماتے کہ مدرسے میں جا کر سب سے میرے لیے دعا کرائیے۔
راقم جب دارالعلوم وقف دیوبند میں اساتذۂ کرام کی طرف سے حضرت کے لیے دعاؤں کا ذکر کرتا ہوا سنتا خصوصاً استاذِ محترم حضرت مولانا محمد سکندر صاحب قاسمی دامت برکاتہم العالیہ کے دارالحدیث میں دعا کرانے کا تذکرہ، میں نے حضرت رحمہ اللہ سے اس کا تذکرہ کیا کہ آپ کے لیے حضرت مولانا محمد سکندر صاحب دامت برکاتہم العالیہ خصوصی دعا کراتے ہیں تو حضرت رحمہ اللہ بہت خوش ہوتے اور نہایت محبت سے دعائیں دیتے۔ اسی طرح استاذِ محترم حضرت مولانا محمد سفیان قاسمی صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے بھی یہ ارشاد فرمایا تھا کہ حضرت مولانا قمر عثمانی رحمہ اللہ مستجاب الدعوات ہیں، اس لیے ان کے پاس جا کر آپ دعا کرایا کریں۔ یہ تمام کیفیات اس بات کی واضح دلیل تھیں کہ حضرت کی ذات ایک صاحبِ حال بزرگ کی تھی، جن کی دعاؤں میں اثر اور جن کی صحبت میں برکت تھی۔ اجازتِ حدیث کا یہ تعلق دراصل اسی فیض کا ایک تسلسل تھا، جو حضرت کے ذریعے آگے منتقل ہو رہا تھا۔
حضرت رحمہ اللہ کی علالت کے زمانے میں طلبہ جوق در جوق حاضر ہوتے، کوئی اجازتِ حدیث کے لیے آتا، کوئی دعا کی غرض سے، اور کوئی صرف زیارت و ملاقات کے شوق میں۔ راقم کو بھی بارہا اس بابرکت دروازے پر حاضری کا موقع ملا۔ ابتدا میں بعض احباب کے ساتھ جانا ہوا، مگر ایک دفعہ کے بعد تو جب جانا ہوا بعد نمازِ عصر تنہا ہی حضرت کے دولت کدہ کی طرف رخ کر لیتا۔ گھر کے باہر پہنچ کر آواز دیتا تو اندر سے کوئی بچہ یا فرد آتا اور فوراً حضرت کی خدمت میں لے جاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے دولت کدہ پر ہونے والی یہ ملاقاتیں بھی ان کی تدریسی زندگی کا تسلسل تھیں، فرق صرف یہ تھا کہ یہاں الفاظ کم اور اثرات زیادہ ہوتے تھے، اور یہی اثرات طالب علم کے لیے اصل سرمایہ بن جاتے تھے۔ ان کی عاجزی کا یہ عالم تھا کہ گفتگو میں بھی کبھی اپنی ذات یا اپنے کمالات کا ذکر نہیں کرتے تھے، بلکہ ہمیشہ اکابر کا تذکرہ، اساتذہ کی باتیں اور دین کی خدمت کا جذبہ نمایاں رہتا تھا۔ یہی اوصاف دراصل کسی بھی عالمِ ربانی کی پہچان ہوتے ہیں، اور حضرت مولانا قمر عثمانی رحمہ اللہ اس کا جیتا جاگتا نمونہ تھے۔ اس تعلق میں ایک اہم کردار راقم کے مخلص رفیق مولوی محمد ادریس قاسمی سلمہ راجستھانی کا بھی تھا، جو نہ صرف درسی ساتھی تھے بلکہ حضرت کے خادم بھی تھے۔ انہی کی معاونت سے حاضری کی ترتیب بنتی، اجازت لی جاتی اور ملاقات کا شرف حاصل ہوتا۔ مزاج کی ہم آہنگی اور خلوص کی وجہ سے یہ تعلق اور بھی خوشگوار اور بابرکت ہو گیا تھا۔ حضرت رحمہ اللہ نہایت خوش اخلاق، سادہ مزاج اور نورانی چہرے کے مالک تھے۔
استاذِ محترم حضرت مولانا قمر عثمانی صاحب رحمہ اللہ کی وفات ہمیں ایک بار پھر اس اٹل حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے جسے قرآنِ کریم نے نہایت واضح انداز میں بیان فرمایا: "كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ” یعنی ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ یہ ایک ایسا قانونِ فطرت ہے جس سے کسی کو بھی راہِ فرار نہیں ہوسکتا، نہ کوئی بڑا، نہ کوئی چھوٹا، نہ عالم، نہ عام انسان۔ قرآنِ مجید میں ایک اور مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُم مَّيِّتُونَ” یعنی (اے نبی!) آپ کو بھی وفات پانا ہے اور ان سب کو بھی۔ اس آیت میں اس حقیقت کو مزید واضح کیا گیا ہے کہ موت ایک ہمہ گیر سچائی ہے، جس کے سامنے سب برابر ہیں۔ احادیثِ نبویہ ﷺ میں بھی اس حقیقت کی طرف بار بار توجہ دلائی گئی ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: "أكثروا ذكر هادم اللذات” یعنی لذتوں کو توڑ دینے والی چیز (موت) کو کثرت سے یاد کیا کرو۔اس کا مقصد یہی ہے کہ انسان دنیا کی ناپائیداری کو سمجھ کر اپنی آخرت کی تیاری کرے۔
حضرت مولانا قمر عثمانی صاحب رحمہ اللہ جیسے اہلِ علم کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل کامیابی دنیا کی ظاہری رونقوں میں نہیں بلکہ علمِ دین کی خدمت، اخلاص اور ذاتِ حق جل مجدہ سے تعلق میں ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی اسی مقصد کے لیے وقف کر دی، اور یہی وہ اعمال ہیں جو انسان کے دنیا سے جانے کے بعد بھی باقی رہتے ہیں۔ حدیثِ پاک میں آتا ہے کہ جب انسان کا انتقال ہو جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے، سوائے تین چیزوں کے: صدقۂ جاریہ، نفع بخش علم، اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔ حضرت کی زندگی ان تینوں اوصاف کا عملی نمونہ تھی۔ انہوں نے علمِ حدیث کو پھیلایا، طلبہ کی ایسی جماعت تیار کی جو ان کے لیے صدقۂ جاریہ ہے، اور بے شمار لوگ آج بھی ان کے لیے دعا گو ہیں۔ لہٰذا ان کی وفات ہمیں غم تو دیتی ہے، مگر ساتھ ہی یہ سبق بھی دیتی ہے کہ اس دنیا میں ہمیشہ رہنا نہیں، بلکہ ایک دن سب کو اپنے رب کے حضور حاضر ہونا ہے۔ کامیاب وہی ہے جو اپنی زندگی کو اللہ کی رضا اور دین کی خدمت کے لیے وقف کر دے، جیسا کہ حضرت نے کر دکھایا۔
حضرت رحمہ اللہ اب ہمارے درمیان نہیں رہے، لیکن ان کی یادوں کو تازہ رکھنے اور ان سے تعلق کو باقی رکھنے کا سب سے مؤثر اور بابرکت ذریعہ ایصالِ ثواب ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے ہم ان کے حق میں نفع پہنچا سکتے ہیں اور اپنی عقیدت و محبت کا عملی اظہار کر سکتے ہیں۔ ایسے موقع پر ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے لیے کثرت سے دعا کریں، قرآنِ کریم کی تلاوت کر کے اس کا ثواب انہیں پہنچائیں، صدقہ و خیرات کریں اور جو بھی نیک اعمال ممکن ہو کریں۔ یہی وہ اعمال ہیں جو مرحوم کے درجات کی بلندی کا سبب بنتے ہیں اور ان کے لیے قبر میں راحت و سکون کا ذریعہ بنتے ہیں۔ حضرت کی پوری زندگی علمِ دین کی خدمت میں گزری، اس لیے اگر ہم ان کے مشن کو آگے بڑھائیں، علم کو عام کریں اور دین کی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں تو یہ بھی ایک بہترین ایصالِ ثواب ہوگا۔ ان کے پڑھائے ہوئے اسباق، ان کی نصیحتیں اور ان کی دعائیں آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں، اور ان پر عمل کرنا درحقیقت ان کے لیے سب سے بڑا خراجِ عقیدت ہے۔
حضرت رحمہ اللہ کی یادیں دل میں ایک ایسی روشنی چھوڑ گئی ہیں جو مدتوں باقی رہے گی۔ ان کی سادہ زندگی، ان کی علمی خدمات، ان کی شفقت بھری گفتگو اور ان کی دعاؤں کی تاثیر۔ یہ سب کچھ آج بھی دل و دماغ میں تازہ ہے۔ ان کا ذکر آتے ہی ایک نورانی چہرہ نگاہوں کے سامنے آ جاتا ہے اور دل بے اختیار ان کے لیے دعاگو ہو جاتا ہے۔اگرچہ ان کا وصال ہمارے لیے ایک عظیم صدمہ ہے، مگر ان کی زندگی ہمارے لیے ایک روشن مثال بھی ہے۔ اخلاص، خدمتِ دین، علم سے وابستگی اور اساتذہ سے محبت کی ایک ایسی مثال جسے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ صناع لاثانی و منعمِ حقیقی سے دعا ہے کہ وہ حضرت مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات کو بلند فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے فیوض و برکات کو جاری رکھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے پسماندگان اور متعلقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور ہمیں بھی ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیقِ ارزانی نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے