कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

نتیش عہد کا خاتمہ: بہار میں اقتدار کی تبدیلی اور سیکولر سیاست کا مستقبل

از قلم:ڈاکٹر سید تابش امام
کاکو،جہان آباد
رابطہ:9934933992

بہار کی سیاست میں استحکام، توازن اور اعتدال کی علامت سمجھے جانے والے نتیش کمار کا ۱۴ اپریل کو وزارتِ اعلیٰ کے عہدے سے اچانک دستبردار ہونا محض ایک سیاسی واقعہ نہیں، بلکہ ایک ایسے عہد کے اختتام کا اعلان ہے جس نے تقریباً دو دہائیوں تک ریاست کی سیاسی، سماجی اور انتظامی سمت کو متعین کیا۔ یہ فیصلہ بظاہر جمہوری عمل کے دائرے میں ایک معمول کی تبدیلی دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے پس منظر، وقت اور اثرات نے سیاسی حلقوں، پارٹی کارکنان اور مبصرین کو یکساں طور پر چونکا دیا ہے۔ خاص طور پر اس لیے کہ حالیہ اسمبلی انتخابات میں عوامی مینڈیٹ واضح طور پر نتیش کمار کی قیادت کے حق میں نظر آیا تھا، اور “پھر سے نتیش” جیسے نعروں کے ساتھ عوام نے ان پر اعتماد کا اظہار کیا تھا۔
لیکن اسمبلی انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرنے کے محض پانچ ماہ بعد اقتدار کی اس غیر متوقع منتقلی سےکئی بنیادی سوالات کا ظہور ہوا ہے۔ کیا یہ فیصلہ محض سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، یا اس کے پیچھے کوئی گہری سازش، مجبوری یا دباؤ کارفرما ہے؟ کیا جنتا دل (یونائیٹڈ) اپنی سیاسی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے اس نئی صورتِ حال میں خود کو مستحکم کر پائے گی، یا یہ قدم اس کے تدریجی زوال کا پیش خیمہ ثابت ہوگا؟ اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس تبدیلی کے بعد بہار میں سیکولر سیاست، اقلیتی حقوق اور آئینی قدروں کا مستقبل کس سمت میں جائے گا؟
نتیش کمار کی سیاسی زندگی کو اگر غیر جانب دارانہ انداز میں دیکھا جائے تو یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ انہوں نے بہار کو ایک ایسے دور سے نکال کر نسبتاً بہتر نظم و نسق، قانون کی حکمرانی اور سماجی ہم آہنگی کی راہ پر گامزن کیا۔ ان کے دور میں اگرچہ سیاسی اتحاد بدلتے رہے، لیکن انہوں نے ایک خاص حد تک ریاست میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ خاص طور پر اقلیتوں کے حوالے سے ان کی پالیسیوں نے ایک اعتماد کی فضا قائم کی، جس کے نتیجے میں مختلف طبقات نے خود کو نسبتاً محفوظ محسوس کیا۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ اتحاد کے باوجود بہار میں وہ شدت پسندانہ ماحول پیدا نہیں ہوا، جس کا خدشہ اکثر دیگر ریاستوں میں ظاہر کیا جاتا رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ نتیش کمار کی ذاتی سیاسی ساکھ اور ان کا وہ طرزِ حکمرانی تھا جس میں اعتدال، رواداری اور آئینی قدروں کا لحاظ نمایاں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے دورِ اقتدار میں نہ صرف اقلیتیں خود کو محفوظ محسوس کرتی رہیں، بلکہ سیکولر روایت بھی کسی حد تک زندہ رہی۔
تاہم، اقتدار سے ان کی علیحدگی کے بعد اب سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا یہ توازن برقرار رہ پائے گا؟ کیا نئی قیادت اسی طرزِ حکمرانی کو جاری رکھے گی، یا ریاست ایک نئے سیاسی تجربے کی طرف بڑھ رہی ہے، جس کے اثرات دور رس ہوسکتے ہیں؟
جنتا دل (یونائیٹڈ) کے لیے یہ لمحہ محض قیادت کی تبدیلی کا نہیں، بلکہ اپنی شناخت کے بحران کا بھی ہے۔ پارٹی کی پوری سیاست طویل عرصے سے نتیش کمار کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ان کی شخصیت، ان کا امیج اور ان کا سیاسی بیانیہ ہی پارٹی کی اصل طاقت رہا ہے۔ ایسے میں جب وہ خود اقتدار سے الگ ہو گئے ہیں، تو پارٹی کے کارکنان اور خصوصاً مسلم رہنما شدید کنفیوژن کا شکار ہیں۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اب کس بنیاد پر عوام کے درمیان جائیں اور کس چہرے کو سامنے رکھ کر ووٹ طلب کریں۔ ہر چند کہ نتیش کمار نے اپنے سیاسی جانشیں کے طور پر بیٹے نشانت کمار کو آگے بڑھانے کے اشارے دیے ہیں اور انہیں تنظیمی سطح پر تیار کیا جا رہا ہے، لیکن سیاست محض وراثت کے سہارے نہیں چلتی بلکہ عوامی قبولیت اور زمینی جڑوں کی مضبوطی بھی ناگزیر ہوتی ہے۔
یہ صورتحال اس لیے بھی پیچیدہ ہے کہ بہار کی سیاست میں مسلم ووٹر ایک اہم اور فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔ جے ڈی یو نے ماضی میں جس طرح اس طبقے کا اعتماد حاصل کیا تھا، وہ بڑی حد تک نتیش کمار کی ذاتی شبیہ کا نتیجہ تھا۔ اب جبکہ وہ منظر سے ہٹ چکے ہیں، تو اس خلا کو پُر کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اگر پارٹی اس خلا کو پر کرنے میں ناکام رہتی ہے، تو اس کے سیاسی نتائج نہایت سنگین ہوسکتے ہیں۔
دوسری جانب بی جے پی کے لیے یہ موقع یقیناً ایک بڑی سیاسی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، لیکن اس کامیابی کے ساتھ ایک اخلاقی اور انتظامی ذمہ داری بھی جڑی ہوئی ہے۔ اقتدار کا استحکام اسی وقت ممکن ہے جب حکومت تمام طبقات کے اعتماد کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہو۔ اگر کسی بھی سطح پر امتیاز، عدم توازن یا عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے تو اس کے اثرات دیرپا اور خطرناک ہو سکتے ہیں۔
یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا نتیش کمار واقعی سیاست سے کنارہ کش ہو رہے ہیں، یا یہ ایک عارضی حکمتِ عملی ہے؟ بہار کی سیاست میں ان کی موجودگی اتنی گہری ہے کہ انہیں مکمل طور پر نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ ممکن ہے کہ وہ پس پردہ رہ کر پارٹی اور ریاستی سیاست پر اثر انداز ہوتے رہیں، یا مستقبل میں کسی نئے سیاسی منظرنامے کے ساتھ دوبارہ سامنے آئیں۔
سیاسی مبصرین کا ایک طبقہ اس تبدیلی کو قومی سیاست کے تناظر میں بھی دیکھ رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ محض بہار تک محدود نہیں، بلکہ اس کے اثرات قومی سطح پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔ خاص طور پر اس وقت جب ملک میں سیاسی صف بندیاں تیزی سے بدل رہی ہیں اور مختلف جماعتیں اپنے اپنے مفادات کے تحت نئے اتحاد تشکیل دے رہی ہیں۔
بہار میں سیکولر سیاست کا مستقبل بھی اس تبدیلی سے گہرے طور پر متاثر ہوگا۔ اگرچہ ماضی میں بھی سیاسی اتحادوں میں تبدیلی آتی رہی ہے، لیکن اس بار صورتحال اس لیے مختلف ہے کہ ایک مضبوط اور معتدل قیادت کا خاتمہ ہوا ہے۔ ایسے میں یہ خدشہ فطری ہے کہ کہیں ریاست میں وہ توازن نہ بگڑ جائے، جو بڑی محنت سے قائم کیا گیا تھا۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سیاست میں کوئی خلا زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہتا۔ اگر جے ڈی یو کمزور پڑتی ہے، تو دیگر جماعتیں اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش کریں گی۔ اس میں علاقائی جماعتیں بھی شامل ہوسکتی ہیں اور قومی سطح کی پارٹیاں بھی۔ اس کشمکش کا براہِ راست اثر ریاست کے عوام پر پڑے گا، جو پہلے ہی معاشی اور سماجی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔
موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی جماعتیں محض اقتدار کی سیاست سے اوپر اٹھ کر ریاست کے مفاد کو ترجیح دیں۔ بہار ایک ایسی ریاست ہے جہاں ترقی، تعلیم، روزگار اور بنیادی سہولیات کے مسائل ابھی تک پوری طرح حل نہیں ہو سکے ہیں۔ ایسے میں اگر سیاست کا محور صرف اقتدار کی رسہ کشی بن جائے، تو عوام کے مسائل مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔
یہاں ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے کہ اقتدار کی یہ منتقلی جمہوری اخلاقیات کے پیمانے پر کس حد تک پورا اترتی ہے۔ عوام نے جس قیادت کے نام پر ووٹ دیا، اگر وہی قیادت اچانک خود کو پس منظر میں لے جائے تو اس سے عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچنے کا اندیشہ فطری ہے۔ جمہوریت محض عددی اکثریت کا نام نہیں، بلکہ اخلاقی جواب دہی اور عوامی توقعات کی پاسداری کا بھی تقاضا کرتی ہے۔
اسی کے ساتھ ساتھ اپوزیشن جماعتوں کے لیے بھی یہ ایک موقع ہے کہ وہ اپنی صفوں کو منظم کریں اور ایک متبادل بیانیہ پیش کریں۔ اگر اپوزیشن اس موقع سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہتی ہے، تو سیاسی خلا مزید گہرا ہو سکتا ہے، جس کا فائدہ براہِ راست برسرِ اقتدار قوتوں کو پہنچے گا۔
نتیش کمار کے عہد کا خاتمہ یقیناً ایک اہم موڑ ہے، لیکن یہ کسی انجام کا نام نہیں بلکہ ایک نئے دور کی شروعات بھی ہو سکتی ہے۔ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ نئی قیادت کس سمت کا انتخاب کرتی ہے، اور جے ڈی یو اپنی سیاسی حکمتِ عملی کو کس طرح ازسرِ نو مرتب کرتی ہے۔
المختصر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بہار کی سیاست اس وقت ایک نازک دوراہے پر کھڑی ہے۔ ایک طرف ماضی کا تجربہ اور استحکام ہے، تو دوسری طرف مستقبل کی غیر یقینی صورتِ حال۔ ایسے میں دانشمندی کا تقاضہ یہی ہے کہ تمام سیاسی قوتیں مل کر ایک ایسا راستہ اختیار کریں، جو نہ صرف جمہوری اقدار کے تحفظ کو یقینی بنائے بلکہ ریاست کے ہر طبقے کو انصاف، تحفظ اور ترقی کے مواقع فراہم کرے۔
وقت ہی بتائے گا کہ نتیش کمار کے بعد کا بہار کس سمت میں آگے بڑھتا ہے، لیکن یہ طے ہے کہ آنے والے دن ریاست کی سیاست کے لیے نہایت اہم اور فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔
اسی پس منظر میں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ بہار کی سیاست اب شخصیات کے بجائے اداروں کی مضبوطی کی متقاضی ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں داخلی جمہوریت، شفاف قیادت اور واضح نظریاتی سمت اختیار کریں تو نہ صرف موجودہ بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ ایک مستحکم اور متوازن سیاسی کلچر کو بھی فروغ دیا جا سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر اقتدار کی یہ تبدیلی محض چہروں کی تبدیلی بن کر رہ جائے گی اور بنیادی مسائل جوں کے توں برقرار رہیں گے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں قیادت کو وقتی فائدے سے آگے بڑھ کر تاریخ کے تقاضوں کو سمجھنا ہوگا، کیونکہ عوام اب صرف وعدوں سے نہیں بلکہ عملی کارکردگی سے قائل ہوتے ہیں۔
مزید یہ کہ بہار کے بدلتے سیاسی منظرنامے میں نوجوان طبقہ ایک اہم فریق کے طور پر ابھر رہا ہے، جس کی توقعات محض نعروں سے پوری نہیں کی جا سکتیں۔ روزگار، تعلیم اور بہتر طرزِ حکمرانی جیسے مسائل پر واضح اور ٹھوس پالیسی ہی کسی بھی حکومت کی اصل کسوٹی ہوگی۔ اگر نئی قیادت ان بنیادی مسائل پر سنجیدگی سے توجہ دیتی ہے تو نہ صرف عوامی اعتماد بحال ہو سکتا ہے بلکہ جمہوریت کی جڑیں بھی مزید مضبوط ہوں گی، ورنہ سیاسی عدم استحکام کا یہ سلسلہ طویل بھی ہو سکتا ہے۔

 

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے