कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

صبر، شکر، دعا اور توکل

تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی ،پربھنی
9881836729
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

اللہ نے اس دنیا کو ایک آزمائش کے طور پر اور انسانوں کو اس کرۂ ارض پر رکھ دیا۔ جہاں پر انسانوں کو اور خصوصاً مومنوں کے لیے انگنت آزمائشیں اور امتحانات ہیں۔ جس سے انسانوں کو گزرنا پڑتا ہے۔ زمین پر اصلاح اور امن یہ کہ اللہ رب العزت نے انسانوں کی دل آزاری، یا تکلیف دینے سے منع کیا ہے۔ اور رحم و کرم کا معاملہ کرنے کو کہا ہے۔ صبر کے بارے میں قرآن کریم میں خدائے برتر کا ارشاد ہے۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اور حدیث میں ہے، صبر کرنا آدھا ایمان ہے۔ صبر کیسے کریں؟ ایک انسان کہتا ہے کہ فلاں کے پاس کار ہے، میرے پاس نہیں ہے، اس کے پاس رہنے کے لیے بہترین بنگلہ ہے اور میرے پاس نہیں ہے۔ اس کا حل منٹوں میں ختم ہوسکتا ہے۔ اگر ہم مذکورہ حدیث کو مدنظر رکھیں۔ الید العلیا خیر من ید السفلی۔’’ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔‘‘ اور یہ بھی ہے کہ ہم اپنے سے نیچے کے لوگوں کو دیکھیں تو یہ مسئلہ فوری ختم ہوسکتا ہے۔ اور اللہ کا شکر ادا کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ اللہ نے آپ کو نوازا ہے، بعض تو ایسے بھی ہیں جو نانِ شبینہ کے لیے دوڑ و دھوپ کرتے ہیں۔ ایک شخص یہ شکایت کرتا ہے کہ فلاں کے پاس کار ہے، اور میرے پاس نہیں۔ شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میرے پاس پیروں میں پہننے کے لیے جوتے میسر نہ تھے۔ جب میں نے دیکھا کہ ایک شخص کا پیر کٹا ہوا ہے، تو فوراً میں جوتے بھول گیا۔ اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ میرے پاؤں تو صحیح سلامت ہیں۔ اللہ کا ارشاد ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے۔ اگر آپ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو گے تو میں اس میں اضافہ کروں گا۔ اور اگر ناقدری اور ناشکری کرو گے تو بے شک میرا عذاب سخت ترین ہے۔ بے شک اللہ انسان پر بے شمار نعمتیں ہیں۔ لیکن جن کا انسان شکر ادا نہیں کرتا، اور دوسروں کی مال و دولت پر نظر رکھتا ہے۔ اللہ کی انسان پر اتنی ساری نعمتیں ہیں کہ آپ اس کو شمار کرنا چاہیں تو شمار نہیں کرسکتے اور نہ ہی اندازہ لگا سکتے۔ لیکن جب اللہ کی طرف سے انسان کو معمولی سی تکلیف پہنچتی ہے، تو وہ اللہ کو یاد کرتا ہے۔ اور جب وہ عیش و آرام میں رہتا ہے تو اللہ کو یکسر بھول جاتا ہے۔ حدیث میں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اوپر والا ہاتھ نیچے والے سے بہتر ہے۔ اللہ کا یہ نظام ہے کہ وہ اپنے بہت سارے بندوں کو خوب نوازتا ہے، اور یہ ان کا امتحان اور آزمائش ہوتی ہے کہ الید العلیا خیر من ید السفلی کی ایک بہترین مثال بنیں، اور ضرورت مندوں کی مدد اور نصرت کریں جو اللہ نے انہیں عطا کیا ہے۔ آج حالات بہت ہی سنگین ہوچکے ہیں، اور مذہب اسلام نے ہمیں لوگوں سے نرم رویہ اور محبت و انسیت سے پیش آنے کو کہا ہے۔ آج لوگ ذرا سی بات برداشت نہیں کر رہے ہیں۔ اور بات بات پر مشتعل ہوکر جنگ و جدال، قتل و غارت گری پر اتر آتے ہیں۔ اور صبر کے پہلو کو بھول جاتے ہیں، ایسے میں ہمیں برداشت اور صبر کی صلاحیت ہونا چاہیے۔ اور صبر کے دامن کو تھامے رکھنا چاہیے، جس کی سنہری تعلیم مذہب اسلام نے دنیا کے لوگوں پر آشکار کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر آپ کو غصہ آ جائے جو ایک شیطانی عمل ہے، تو بیٹھ جائیں، بیٹھے ہوئے ہیں تو لیٹ جائیں۔ کیونکہ غصہ صبر و تحمل اور عقل کو مفلوج کرتا ہے۔ جس سے انسان خود کا بھی نقصان کر بیٹھتا ہے جو ناقابلِ تلافی ہوتا ہے۔ چناں چہ حدیث میں ہے، ایک دوسرے سے عفو و صفح سے کام لیں۔ معاف کرنا، درگزر کرنا بڑی دولت ہے۔ اس ناگزیر حالات میں اسلام کے پیغام پر خود بھی عمل کریں اور دوسروں کو بھی حکمت سے روشناس کرائیں، جو آج وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ایک صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، کون سا اسلام بہتر ہے؟ یعنی اسلام میں کون سا عمل بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تم غریبوں کو کھانا کھلاؤ، اور شناسا اور غیر شناسا کو سلام کیا کرو۔ اور آپ نے فرمایا، وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں اور اذیتوں سے محفوظ نہ ہو۔ اور یہ کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مومن یا دوسرا شخص محفوظ ہو، اور مزید آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سارے انسان اور مومن بھائی بھائی کی طرح ہیں۔ اگر ایک آنکھ میں تکلیف ہو تو سارے بدن میں تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ اور مومن عمارت کی طرح ہیں کہ بعض بعض کو بہم قوت پہنچاتا ہے۔ مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے اوپر چھوڑے رہے۔ اور مسلمان کو گالی دینا فسق اور قتل کرنا کفر ہے۔ اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کسی نے اپنے مومن بھائی کے لیے جھوٹی گواہی پیش کی جس سے اس کا مال ہلاک یا ضائع ہو، تو اس نے اپنے اوپر جہنم واجب کر لی ہے۔ چناں چہ صبر اور شکر لازم و ملزوم ہیں، کہ انسان ہر حال میں صبر کا دامن تھامے رکھے اور اللہ کا شکر ادا کرتے رہیں۔ جس کو آنکھ نہیں ہے، اس سے آنکھ کی قدر و قیمت پوچھیں، جس کو پیر نہیں ہیں اس سے پیر کی قیمت کیا ہے معلوم کریں، جو گونگا ہے اس سے قوتِ گویائی کی اہمیت معلوم کریں، اور جو بہرا ہے اس سے قوتِ سماعت کی قدر و قیمت جانیں۔ قوتِ بصارت، قوتِ سماعت، قوتِ گویائی، اور قوتِ شامہ، یہ سب اللہ کی عظیم نعمتیں ہیں جن کا ہمیں ہر پل شکر ادا کرنا ہے۔ روزے کا مقصد یہ نہیں کہ اللہ آپ کو دن بھر بھوکا اور پیاسا رکھنا چاہتا ہو، بلکہ اس کا عظیم مقصد یہ کہ آپ کو یہ احساس پیدا ہو کہ تم بحالتِ روزہ اوروں کی بھوک اور پیاس کو محسوس کرو، بحالتِ روزہ مومن دن بھر صبر کا دامن تھامے رہتا ہے، اور کھانے پینے سے مقررہ وقت تک رکا رہتا ہے۔ اور یہی صبر اور اللہ کا شکر جنت کا ضامن ہے، جو ہر مومن کو مطلوب ہے۔ توکل اور دعا بھی مومن کا سرمایہ ہے۔ اللہ نے جب انسان کو پیدا کیا تو اس کے جینے کا ساز و سامان بھی پیدا کیا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے۔ زمین پر بہت ساری مخلوقات ہیں جو اپنا رزق ساتھ لے کر نہیں پھرتی، اللہ ان کو اپنے فضل سے رزق بہم پہنچاتا ہے۔ اور کیڑے مکوڑوں کو بھی رزق عطا کرتا ہے۔ آسمان کی بلند فضا میں اڑتے ہوئے پرندے بھی زمین کی طرف لپکتے ہیں، اور اپنا اپنا رزق حاصل کرتے ہیں۔ اللہ ہمیں کافی ہے، اور وہی ہمارا کارساز ہے۔ دعا بھی عبادت کا مغز ہے۔ اور ہمیں ہر مومن کے لیے دعا کرنا چاہیے۔ اور بددعا سے بچنا چاہیے، دعا کا اثر ہوتا ہے۔ اسی لیے حدیث میں ہے مظلوم کی بددعا سے بچو، کیونکہ مظلوم کی دعا میں اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں رہتا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے