कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اسیرِ نسواں اور جیل الدامون: انسانی وقار کا نوحہ اور عالمی ضمیر کا امتحان

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

اسلام کا تصورِ انسانیت اس بنیادی اصول پر قائم ہے کہ ہر انسان؛ خواہ وہ کسی بھی نسل، قوم، مذہب یا حیثیت سے تعلق رکھتا ہو اپنے اندر ایک فطری وقار اور حرمت رکھتا ہے۔ قرآنِ مجید اعلان کرتا ہے: "ہم نے بنی آدم کو عزّت بخشی”، جو اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ انسانی شرف کسی سیاسی نظام، طاقت یا اختیار کا مرہونِ منّت نہیں بلکہ خالقِ کائنات کی عطاء ہے۔ اسی لیے اسلام میں قید، سزا اور عدل کے تمام تصورات محض قانونی نظم و ضبط تک محدود نہیں بلکہ اخلاق، رحم اور انصاف کے ہمہ گیر اصولوں سے جڑے ہوئے ہیں۔
نبی اکرمﷺ کی تعلیمات اور اسوۂ مبارکہ میں قیدیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔ غزوۂ بدر کے قیدیوں کے ساتھ جو رحمت، شفقت اور عدل کا برتاؤ کیا گیا، وہ انسانی تاریخ میں ایک درخشاں مثال ہے، جہاں دشمن ہونے کے باوجود ان کے کھانے، لباس اور عزّتِ نفس کا خیال رکھا گیا۔ اسلامی تعلیمات اس بات پر زور دیتی ہیں کہ قیدی، چاہے وہ مجرم ہی کیوں نہ ہو، اپنی انسانیت سے محروم نہیں ہوتا اور اس کے بنیادی حقوق برقرار رہتے ہیں۔
اسلام ظلم کو صرف ایک انفرادی گناہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی فساد قرار دیتا ہے۔ قرآن کہتا ہے "زیادتی نہ کرو، بے شک اللّٰہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا”۔ اسی طرح مظلوم کی حمایت اور اس کے حق میں آواز بلند کرنا ایمان کا تقاضا ہے۔ حدیثِ نبویﷺ میں آیا ہے کہ ظالم کو ظلم سے روکنا بھی اس کی مدد ہے، اور مظلوم کا ساتھ دینا ایک دینی فریضہ۔ اسی اسلامی تناظر میں جب ہم دنیا کے کسی بھی خطے میں قیدیوں خصوصاً خواتین کے ساتھ ہونے والے غیر انسانی سلوک کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ محض ایک سیاسی یا انسانی حقوق کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ ایک گہرا اخلاقی اور دینی سوال بن جاتا ہے۔ یہ ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ کیا ہم اس تعلیم کے وارث ہیں جو عدل، رحمت اور کرامتِ انسانی کو اپنی بنیاد قرار دیتی ہے، یا ہم نے ان اصولوں کو محض الفاظ تک محدود کر دیا ہے؟
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا
زیرِ نظر مضمون اسی اخلاقی و انسانی بحران کو اجاگر کرتا ہے، جہاں انسانی وقار مجروح ہو رہا ہے اور عالمی ضمیر ایک کڑے امتحان سے گزر رہا ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر ہمیں نہ صرف اس ظلم کی نشاندہی کرنے کی دعوت دیتا ہے بلکہ یہ بھی سکھاتا ہے کہ خاموشی اختیار کرنا دراصل ظلم کے تسلسل کو تقویت دینا ہے۔ لہٰذا یہ تحریر صرف ایک تجزیہ نہیں بلکہ ایک پکار ہے! انسانیت، انصاف اور دینی غیرت کے نام۔
اسی تناظر میں اگر ہم انسانی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ قید و بند کا تصور محض جسمانی پابندی تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ ہمیشہ طاقت، اختیار اور مزاحمت کے باہمی تصادم کی علامت بھی رہا ہے۔ تاہم جب قید کا یہ نظام ظلم، تذلیل اور انسانیت سوز رویّوں میں ڈھل جائے تو وہ محض ایک انتظامی عمل نہیں رہتا بلکہ ایک گہرا اخلاقی المیہ بن جاتا ہے۔ شمالی فلسطین میں واقع Damun Prison میں فلسطینی اسیر خواتین کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک اسی المیے کی ایک دردناک اور چونکا دینے والی تصویر پیش کرتا ہے، جو نہ صرف انسانی ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے بلکہ عالمی انصاف کے دعوؤں پر بھی سوالیہ نشان قائم کرتا ہے۔
جیل الدامون، جو شمالی فلسطین میں حیفا کے قریب واقع ہے، برطانوی دورِ حکومت میں ایک تمباکو فیکٹری کے طور پر قائم کیا گیا تھا، جسے بعد میں اسرائیلی حکام نے خواتین قیدیوں کے لیے جیل میں تبدیل کر دیا۔ اس جیل میں بنیادی سہولیات کی کمی اور سخت سکیورٹی اقدامات کے باعث قیدیوں کی زندگی نہایت دشوار اور کٹھن ہو چکی ہے۔ یہی پس منظر اس امر کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ یہاں محض قید نہیں بلکہ ایک ایسا ماحول قائم ہے جو جسمانی تکالیف کے ساتھ ساتھ ذہنی و نفسیاتی اذیت کو بھی جنم دیتا ہے، اور یوں یہ مقام انسانی وقار کے لیے ایک مسلسل آزمائش کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔
یہاں بیان کردہ صورتِ حال کو اگر مزید تحقیقی تناظر میں دیکھا جائے تو مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس بھی اسی جانب اشارہ کرتی ہیں۔ Addameer Prisoner Support and Human Rights Association اور Amnesty International کے مطابق اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی خواتین کی تعداد وقتاً فوقتاً بدلتی رہتی ہے، تاہم ایک تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ ان میں کم عمر لڑکیاں بھی شامل ہوتی ہیں۔ ان قیدیوں میں سے متعدد کو "انتظامی حراست” (Administrative Detention) کے تحت بغیر فردِ جرم اور بغیر کسی باقاعدہ مقدمے کے طویل عرصے تک قید رکھا جاتا ہے، جو بین الاقوامی قوانین اور انصاف کے بنیادی اصولوں کے صریح منافی ہے۔ یہ حقائق اس امر کو مزید واضح کرتے ہیں کہ مسئلہ محض انفرادی زیادتیوں تک محدود نہیں بلکہ ایک منظم اور پیچیدہ نظام کی عکاسی کرتا ہے، جس کے اثرات انسانی وقار اور قانونی انصاف دونوں پر گہرے پڑتے ہیں۔
اسی تناظر میں "انتظامی حراست” کا مسئلہ بھی نہایت اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا متنازع قانونی طریقہ ہے جس کے تحت کسی فرد کو بغیر فردِ جرم اور بغیر باقاعدہ ٹرائل کے مہینوں بلکہ بعض اوقات سالوں تک قید رکھا جا سکتا ہے، اور اکثر اس کی بنیاد ایسے خفیہ شواہد پر ہوتی ہے جن تک خود قیدی یا اس کے وکیل کو بھی رسائی نہیں دی جاتی۔ اس نوعیت کا نظام نہ صرف شفاف انصاف کے اصولوں کو مجروح کرتا ہے بلکہ قیدی کو اپنے دفاع کے بنیادی حق سے بھی محروم کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے ادارے اس عمل کو انصاف کے بنیادی تقاضوں کے خلاف قرار دیتے ہیں اور اسے قانونی و اخلاقی سطح پر ایک سنگین تشویش کا باعث سمجھتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق اس جیل میں اسیر خواتین کو نہ صرف جسمانی بلکہ نفسیاتی اذیتوں کا بھی سامنا ہے۔ جیل کی قمعی یونٹس کا ان کے کمروں پر اچانک دھاوا بولنا، آنسو گیس اور ساؤنڈ بموں کا استعمال، اور اس کے بعد براہِ راست جسمانی تشدّد یہ سب ایک منظم حکمتِ عملی کا حصّہ محسوس ہوتا ہے، جس کا مقصد محض نظم و ضبط قائم رکھنا نہیں بلکہ خوف اور بے بسی کی فضا پیدا کرنا ہے۔ یہ طرزِ عمل کسی بھی مہذب قانونی نظام کے اصولوں سے متصادم ہے، جہاں قیدی even if accused or convicted بنیادی انسانی وقار کے حامل تصور کیے جاتے ہیں۔
اسیر خواتین کو تنگ، تاریک اور آلودہ تنہائی کی کوٹھڑیوں میں منتقل کرنا، جہاں ہوا، روشنی اور صفائی جیسی بنیادی ضروریات تک محدود یا ناپید ہوں، ایک ایسی سزا ہے جو جسم کے ساتھ ساتھ روح کو بھی مجروح کرتی ہے۔ تنہائی، جسے ماہرینِ نفسیات ایک شدید ذہنی دباؤ کا باعث قرار دیتے ہیں، یہاں ایک ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔ اس کے ساتھ دانستہ بھوک کی پالیسی اور طبی غفلت اس صورتِ حال کو مزید سنگین بنا دیتی ہے، جہاں قیدی نہ صرف اپنے حقوق سے محروم ہوتے ہیں بلکہ زندگی کی بنیادی ضمانتوں سے بھی دور کر دیے جاتے ہیں۔
قیدیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے اس طرزِ عمل کی سنگینی کو بین الاقوامی سطح پر بھی محسوس کیا گیا ہے۔ Human Rights Watch اور United Nations Office for the Coordination of Humanitarian Affairs (OCHA) کی رپورٹس میں ایسے متعدد واقعات کا ذکر ملتا ہے جہاں فلسطینی قیدیوں، خصوصاً خواتین کے ساتھ ناروا سلوک، طبی غفلت اور ذہنی اذیتوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان رپورٹس کے مطابق، قیدیوں کو وکیل اور اہلِ خانہ سے ملاقات کے بنیادی حقوق میں بھی غیر معمولی رکاوٹوں کا سامنا رہتا ہے، جو انصاف کے تقاضوں کو مزید مشکوک بنا دیتا ہے۔ یوں یہ صورتحال نہ صرف انفرادی سطح پر انسانی تکلیف کی عکاس ہے بلکہ ایک ایسے نظام کی نشاندہی بھی کرتی ہے جہاں قانونی اور اخلاقی حدود کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی قوانین، خصوصاً اقوامِ متحدہ کے تحت منظور شدہ قیدیوں کے حقوق کے ضوابط جنہیں "نیلسن منڈیلا رولز” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ واضح طور پر اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ ہر قیدی کے ساتھ انسانی وقار کے مطابق سلوک کیا جائے، اسے مناسب خوراک، طبی سہولت اور تحفّظ فراہم کیا جائے، اور کسی بھی قسم کے ظالمانہ، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک سے بچایا جائے۔ ان اصولوں کی روشنی میں دیکھا جائے تو جیل الدامون کے یہ حالات نہ صرف اخلاقی بلکہ قانونی طور پر بھی شدید خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر قیدیوں کے حقوق کے تحفّظ کے لیے جو اصول وضع کیے گئے ہیں، وہ بھی اسی بنیادی انسانی قدر یعنی وقارِ انسانیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ اصول 2015ء میں اقوامِ متحدہ نے منظور کیے، جن میں قیدیوں کے ساتھ سلوک کے لیے واضح عالمی معیار طے کیے گئے ہیں۔ ان میں تشدّد کی ممانعت، مناسب طبی سہولتوں کی فراہمی، معیاری خوراک، صفائی ستھرائی کا اہتمام، اور سب سے بڑھ کر انسانی وقار کا تحفّظ بنیادی نکات کے طور پر شامل ہیں۔ اس تناظر میں جب موجودہ حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ سوال مزید شدّت اختیار کر جاتا ہے کہ کیا ان بین الاقوامی معیارات پر واقعی عمل ہو رہا ہے، یا وہ محض دستاویزی اصول بن کر رہ گئے ہیں؟
یہ صورتِ حال اس امر کی متقاضی ہے کہ عالمی برادری اور مسلم ممالک محض بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے ایسے مظالم کا سدّباب کرے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں، آزاد مبصرین اور بین الاقوامی اداروں کو چاہیے کہ وہ ان حالات کی شفاف تحقیقات کو یقینی بنائیں اور ذمّہ داران کا احتساب ممکن بنائیں۔
موجودہ حالات کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ معاملہ محض ایک خطے یا چند افراد تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ آج جب دنیا انسانی حقوق، جمہوریت اور انصاف کے بلند دعوے کرتی ہے، تو ایسے واقعات ان دعوؤں کی حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں۔ یہ صورتِ حال نہ صرف فلسطینی خواتین کا مسئلہ ہے بلکہ عالمی ضمیر، بین الاقوامی قانون اور انسانی اقدار کی ساکھ کا ایک سنجیدہ امتحان بن چکی ہے، جو ہم سب کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ انصاف کے عالمی معیارات آخر کس حد تک حقیقی اور مؤثر ہیں۔
سر نہیں جھکنے دیا اہلِ وفا نے اپنا
ہم نے ہر دور میں زندان کو گلزار کیا
اس تاریک منظرنامے میں ایک پہلو امید کا بھی ہے، اور وہ ہے ان اسیر خواتین کا عزم و حوصلہ۔ تاریخ گواہ ہے کہ ظلم کی شدّت کبھی بھی حوصلے کی روشنی کو مکمل طور پر بجھا نہیں سکتی۔ یہ خواتین، جو جسمانی قید کے باوجود اپنے وقار اور حوصلے کو زندہ رکھے ہوئے ہیں، درحقیقت انسانی آزادی اور عزّتِ نفس کی ایک روشن علامت ہیں۔ یہ سوال ہر صاحبِ ضمیر کے سامنے کھڑا ہے: کیا ہم ایسے مظالم کو محض خبروں کا حصّہ سمجھ کر نظر انداز کر دیں گے، یا اسے انسانیت کے اجتماعی ضمیر کی آزمائش مان کر اس کے خلاف آواز بلند کریں گے؟ کیونکہ خاموشی، اکثر اوقات، ظلم کی سب سے بڑی معاون بن جاتی ہے۔
اسلامی تاریخ کا مطالعہ اس حقیقت کو مزید واضح کرتا ہے کہ قیدیوں کے ساتھ حسنِ سلوک محض ایک نظری تعلیم نہیں بلکہ ایک عملی نظام کا حصّہ رہا ہے۔ حضرت عمر بن الخطابؓ کے دورِ خلافت میں قیدیوں کے ساتھ برتاؤ کی باقاعدہ نگرانی کی جاتی تھی، اور اگر کسی قیدی کے ساتھ زیادتی کی شکایت سامنے آتی تو فوری انصاف فراہم کیا جاتا۔ یہ طرزِ حکمرانی اس بات کی روشن مثال ہے کہ عدل و رحمت کو کس طرح عملی صورت دی جا سکتی ہے۔ یہی اسلامی عدل و رحمت کا وہ بلند معیار ہے جسے آج کے عالمی نظام کے لیے بھی ایک قابلِ تقلید نمونہ سمجھا جا سکتا ہے، خصوصاً ایسے حالات میں جب دنیا کے مختلف حصّوں میں قیدیوں کے حقوق مسلسل پامال ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔
اسلامی تعلیمات ہمیں صرف مظالم کی نشاندہی تک محدود نہیں رکھتیں بلکہ ایک زندہ اور بیدار ضمیر کے ساتھ عمل کی دعوت بھی دیتی ہیں۔ قرآنِ مجید بار بار ہمیں عدل پر قائم رہنے، حق کی گواہی دینے اور مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے کا حکم دیتا ہے، خواہ اس کی قیمت خود اپنے مفادات کی قربانی ہی کیوں نہ ہو۔ "اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو اور اللّٰہ کے لیے گواہی دو”، یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ خاموشی اختیار کرنا یا بے حسی کا مظاہرہ کرنا درحقیقت اس ذمّہ داری سے پہلو تہی کے مترادف ہے جو ایک مؤمن پر عائد ہوتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ آزمائشیں ہمیشہ اہلِ ایمان کے لیے محض آزمائش نہیں بلکہ تطہیر، بیداری اور رجوع الی اللّٰہ کا ذریعہ بھی ہوتی ہیں۔ ایسے حالات میں جہاں ظلم اپنی انتہاؤں کو چھو رہا ہو، وہاں صبر، دعا اور حق کے لیے جدوجہد تینوں لازم و ملزوم بن جاتے ہیں۔ اسیر خواتین کا صبر و استقامت ہمیں حضرت آسیہؑ، حضرت مریمؑ اور تاریخِ اسلام کی دیگر باوقار خواتین کی یاد دلاتی ہے، جنہوں نے ظلم اور آزمائش کے باوجود اپنے ایمان اور وقار کو برقرار رکھا۔
خاموشی ظلم کی تائید بن جاتی ہے اکثر
حق بات جو نہ کہی جائے، گناہ ہوتی ہے
یہ تحریر محض ایک فکری و تجزیاتی کاوش نہیں بلکہ ایک تذکیر ہے۔ اپنے ربّ سے تعلق کو مضبوط کرنے کی، اپنے ضمیر کو زندہ رکھنے کی، اور مظلوم کی حمایت میں اپنی آواز اور کردار کو مؤثر بنانے کی۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ قیامت کے دن نہ صرف ہمارے اعمال بلکہ ہماری خاموشی بھی سوال کے دائرے میں ہوگی۔ کیا ہم نے ظلم کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لیں، یا اس کے خلاف اپنی بساط کے مطابق آواز بلند کی؟ لہٰذا آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے اندر دینی غیرت، اخلاقی جرأت اور انسانی ہمدردی کو بیدار کریں۔ دعا، شعور، اور عمل یہ تینوں ہمارے ہتھیار ہیں۔ اور یاد رکھیں، ظلم چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ دائمی نہیں ہوتا؛ جب کہ حق، صبر اور ایمان کی روشنی کبھی بجھتی نہیں۔ یہی پیغام اسلام کا ہے، اور یہی اس مضمون کی اصل روح۔
🗓 (14.04.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے