कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

پاکستان کی ثالثی ‘ہندوستان کیلئے ایک نئی تشویش

تحریر:ڈاکٹر شیخ حاجی حسین

پاکستان نے عالمی سفارتکاری کے میدان میں ایک ایسا کردار ادا کیا ہے جو بہت کم لوگوں نے سوچا بھی نہ تھا ہوگا۔ فروری 2026 میں جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کیے تو پورا خطہ جنگ کی آگ میں جلنے لگا۔ تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی تھیں، سٹریٹ آف ہرموز بند ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا اور علاقائی استحکام شدید خطرے میں پڑ گیا تھا۔ ایسے میں ترکی، قطر، سعودی عرب، چین اور اقوام متحدہ جیسے بڑے کھلاڑی ثالثی کی کوششوں میں مصروف تھے، مگر جب ان کی کاوشیں ناکام ہوتی دکھائی دیں تو اچانک پاکستان میدان میں اتر آیا۔
8 اپریل 2026 کو پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی طے پا گئی۔ اس جنگ بندی کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ دونوں فریقوں نے سٹریٹ آف ہرموز کو فوری طور پر کھولنے اور لبنان میں اسرائیلی حملوں کو روکنے پر اتفاق کیا۔ اس کے فوراً بعد اسلام آباد میں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح کے وفود کے درمیان طویل اور اہم بات چیت شروع ہوئی۔ نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد اور ایرانی اعلیٰ حکام کے درمیان 21 گھنٹے تک جاری رہنے والی یہ ملاقاتیں 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان سب سے اعلیٰ سطح کی براہ راست بات چیت تھیں۔
ان مباحثوں میں امریکہ نے اپنے واضح مطالبات رکھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنا جوہری پروگرام مکمل طور پر روک دے، یورینیم افزودگی ختم کر دے، بیلسٹک میزائل پروگرام محدود کر دے اور حزب اللہ، حماس سمیت علاقائی پراکسی گروہوں کو فنڈنگ بند کر دے۔ اس کے مقابلے میں ایران نے اپنے مطالبات پیش کیے جن میں تمام پابندیوں کا فوری خاتمہ، جنگ کے نقصانات کا معاوضہ اور لبنان میں اسرائیلی حملوں کی مکمل روک تھام شامل تھی۔ پاکستانی ثالثوں نے دونوں فریقوں کو الگ الگ ملاقاتوں کے ذریعے تیار کیا اور پیغامات کا تبادلہ کروایا۔ مگر گہرے اختلافات کی وجہ سے کوئی حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی دوران غزہ میں Trump کے مشہور Board of Peace منصوبہ بھی ناکامی کا شکار نظر آ رہا ہے۔ اکتوبر 2025 میں طے پانے والی جنگ بندی کے چھ ماہ گزر چکے ہیں، مگر غزہ اب بھی ’’نہ جنگ نہ امن‘‘ کی کیفیت میں ہے۔ غزہ کے دو ملین لوگ ملبے کے ڈھیروں میں جینے پر مجبور ہیں۔ صرف ایک اسرائیلی کنٹرول والا کراسنگ (کیرم شالوم) کھلا ہے، جبکہ رفح کراسنگ اب بھی جزوی طور پر بند ہے۔ امداد کی راہیں اتنی محدود ہیں کہ لوگ بھوک، زخموں اور بیماریوں کے درمیان زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں جیسے آکسفام، نورویجین ریفیوجی کونسل اور Doctors Without Borders (MSF) کی تازہ رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد بھی سینکڑوں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ صرف اپریل کے آغاز سے اب تک 32 فلسطینی اسرائیلی فوج کی فضائی حملوں، گولی باری میں جان سے گئے۔ حالیہ دنوں میں الجزیرہ کے نامور رپورٹر محمد وشاح کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ MSF کی رپورٹ بتاتی ہے کہ جنگ بندی کے بعد 56,000 سے زائد بچے شدید نفسیاتی صدمے میں مبتلا ہیں۔ ہسپتال تباہ، پانی کی شدید قلت، وبائی امراض پھیل رہے ہیں اور لاکھوں لوگ خیموں میں رہ رہے ہیں۔ تعمیر نو کا کام تقریباً شروع ہی نہیں ہوا۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ ولکر ٹرک نے 10 اپریل 2026 کو سخت الفاظ میں کہا کہ جنگ بندی کے چھ ماہ بعد بھی فلسطینی غزہ میں محفوظ نہیں ہیں۔ یہ مسلسل ہلاکتیں فلسطینی جانوں کی بے حرمتی کی عکاسی کرتی ہیں۔
اس بات چیت میں ایک اہم بات یہ تھی کہ امریکہ، پاکستان اور ایران سب ہی غزہ اور فلسطین کے مسئلے پر بڑی بڑی باتیں کرتے رہے ہیں، مگر اسلام آباد کی ان تمام ملاقاتوں میں کہیں بھی فلسطین، غزہ کی امداد، حماس کے غیر مسلح ہونے یا Board of Peace منصوبے کا کوئی ذکر تک نہیں کیا گیا۔ یہ جان بوجھ کر تاخیر اور نظر انداز کی گئی تھی تاکہ بات چیت صرف امریکہ۔ایران کے دو طرفہ مفادات تک محدود رہے اور غزہ جیسا حساس انسانی بحران اسے پیچیدہ نہ بنا دے۔ اس سے یہ واضح ہو گیا کہ جب بڑی طاقتوں کے اپنے مفادات شامل ہوں تو غزہ کا درد آسانی سے پس پشت ڈھکیل دیا جاتا ہے۔
عالمی ماہرین نے پاکستان کے سفارتکاری کے اس کردار کو سراہا ہے۔ جنوبی ایشیا کے مشہور تجزیہ کار مائیکل کوگلمین نے کہا کہ پاکستان نے بہت سے شک کرنے والوں کو غلط ثابت کر دیا اور ایک پیچیدہ صورتحال میں قابل اعتماد ثالث کا کردار ادا کیا۔ فرانسیسی ماہر کرسٹوف جافریلو نے بھی تسلیم کیا کہ پاکستان نے ایک غیر معمولی موقع پر سفارتکاری کا مظاہرہ کیا۔ اقوام متحدہ نے بھی پاکستان کے کردار کا خیر مقدم کیا۔ اقوام متحدہ کے ترجمان نے کہا کہ کوئی بھی ملک جو امریکہ اور ایران کو ایک میز پر لانے میں مدد کر سکے، اس کا استقبال کیا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ اس وقت علاقائی تنازعات کو کم کرنے کی کوششوں میں مصروف تھی، مگر اس کی براہ راست ثالثی محدود تھی۔ پاکستان کی کوششوں نے اقوام متحدہ کو ایک عارضی سانس لینے کا موقع ضرور دیا، حالانکہ مستقل امن اب بھی دور نظر آ رہا ہے۔
مگر جب اس پورے واقعے کو ہندوستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو تصویر کچھ مختلف اور تشویش ناک نظر آتی ہے۔ ہندوستانی ماہرین اور سیاستدانوں کی رائے میں اس ثالثی کو’’ہندوستان کی سفارتی کمزوری‘‘ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ کانگریس لیڈر ششی تھرور نے کہا کہ پاکستان کا یہ کردار ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ معروف اسٹریٹجک تجزیہ کار برہما چیلانی نے لکھا کہ پاکستان نے ”war of narratives” میں ہندوستان کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ سابق سفارت کار اشوک کانتھا اور کنگشوک چیٹرجی نے بھی کہا کہ پاکستان نے بیک چینل کے ذریعے ایک اہم کردار ادا کیا، جبکہ ہندوستان اس عمل سے باہر رہا۔
ملک کے لیے یہ پیش رفت صرف سفارتی نہیں بلکہ اسٹریٹجک طور پر بھی تشویش ناک ہے۔ ایک طرف پاکستان امریکہ۔ایران جنگ بندی میں ثالث بن کر عالمی سطح پر اہمیت حاصل کر رہا ہے، تو دوسری طرف وہ خود افغانستان پر مسلسل فضائی حملے کر رہا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں پاکستان نے افغان سرحد کے قریب ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر کئی بار حملے کیے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں نئی کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ یہ تضاد ہندوستان کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان جب اپنے مفادات کی بات آتی ہے تو امن کی بات کرتا ہے اور جب اپنے مخالفین کی بات آتی ہے تو طاقت کا استعمال کرتا ہے۔
اسلام آباد میں 21 گھنٹے کی ماراتھن بات چیت ناکام ہو گئی۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ’’ایران نے ہماری حتمی اور بہترین پیشکش قبول نہیں کی‘‘۔ ایرانی فریق نے الزام لگایا کہ امریکہ بہانہ بنا کر نکل گیا۔ پاکستانی وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے فوری طور پر دونوں فریقوں سے اپیل کی کہ عارضی جنگ بندی برقرار رکھی جائے۔ یہ ناکامی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان نے تو دونوں کو ایک میز پر بٹھا دیا، مگر گہرے اختلافات کو حل کرنا اب بھی بہت بڑا چیلنج ہے۔اس پورے عمل کے بعد عالمی سیاست میں پاکستان کی اہمیت اب پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہو چکی ہے۔ اس ثالثی نے پاکستان کو خطے کا ایک اہم کھلاڑی بنا دیا ہے۔ پاکستان کے عزائم بھی اب کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ افغانستان کے تناظر میں پاکستان کا مقصد سرحد پر مکمل کنٹرول قائم کرنا اور ٹی ٹی پی جیسی تنظیموں کو ختم کر کے اپنی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ طالبان کی حکومت پر بھی اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا ہے تاکہ افغانستان میں اپنا اسٹریٹجک گہرائی برقرار رکھ سکے۔ ہندوستان کے تناظر میں پاکستان کا مقصد ہندوستان کی علاقائی برتری کو چیلنج کرنا ہے۔ یہ سفارتی کامیابی پاکستان کو کشمیر، دہشت گردی اور پانی کے مسائل پر ہندوستان کے خلاف عالمی دباؤ بڑھانے کا موقع دے سکتی ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ ہندوستان کے مقابلے میں امریکہ اور چین دونوں کے ساتھ متوازن تعلقات رکھ کر خطے میں اپنا وزن بڑھائے۔
البتہ سب سے بڑی تنقید یہ ہے کہ پاکستان خود معاشی اور سیاسی بحران کا شکار ہے۔ معیشت قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے، سیاسی عدم استحکام جاری ہے اور اندرونی سیکورٹی کے مسائل حل نہیں ہو رہے۔ ایسے میں پاکستان کو پہلے اپنے گھر کا بندوبست کرنا چاہیے تھا۔ پاکستان کے بعض ماہرین بھی اسی رائے کے حامی ہیں۔ سابق سفارت کار نجم الدین شیخ نے کہا کہ ’’پاکستان کو بین الاقوامی ثالثی سے پہلے اپنے اندرونی مسائل کو حل کرنا چاہیے، ورنہ یہ کامیابی صرف عارضی اور سطحی ثابت ہوگی‘‘۔ دوسرے پاکستانی تجزیہ کاروں نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ ثالثی اندرونی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
وہیں دوسری جانب ہندوستان کے لیے اب یہ ایک نئی حقیقت اور سوچنے کا موقع ہے۔ خطے میں سفارتکاری اب صرف طاقت اور قومی مفادات کی زبان بولتی ہے۔ ہندوستان کو اس سے سبق لے کر اپنی خارجہ پالیسی کو مزید مضبوط، فعال اور متوازن بنانا ہوگا تاکہ ایسے غیر متوقع کردار خطے کے توازن کو متاثر نہ کر سکیں۔یہ پیش رفت نہ صرف پاکستان کی ایک محدود کامیابی ہے بلکہ ہندوستان کے لیے ایک نیا چیلنج اور حقیقت بھی ہے۔
علاوہ ازیں یہ بات واضح ہو جانی چاہیے کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں کو امریکہ اور اسرائیل کے جھانسے میں نہیں آنا چاہیے۔ دونوں ممالک کو اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے باہمی تعاون کی راہ تلاش کرنی چاہیے۔ بیرونی طاقتیں جب خطے میں اپنے مفادات پورے کرنے کے لیے ایک ملک کو اٹھاتی ہیں تو دوسرے کو کمزور کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ پاکستان اور ہندوستان دونوں کو اپنے اندرونی مسائل حل کرنے، معاشی استحکام پیدا کرنے اور باہمی تنازعات کو بات چیت سے حل کرنے پر توجہ دینی چاہیے، نہ کہ بیرونی طاقتوں کے کھیل میں ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہونے پر۔جیسا کہ ہندوستانی اسٹریٹجک تجزیہ کار ہپی مون جیکب نے خبردار کیا ہے کہ بیرونی طاقتیں خطے میں توازن بگاڑنے کے لیے ایک ملک کو دوسرے کے خلاف استعمال کرتی ہیں۔ دونوں ممالک کو اس حقیقت کو سمجھنا ہوگا کہ حقیقی طاقت اندرونی استحکام اور باہمی تعاون سے آتی ہے، نہ کہ بیرونی کھیل میں شریک ہونے سے۔
بحرکیف اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ عارضی جنگ بندی کس طرف جاتی ہے اور پاکستان اس سفارتی کردار کو آگے کیسے استعمال کرتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے