कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

قابض صہیونی عقوبت خانوں میں 11 اسیران کی زندگی کی تین دہائیاں مکمل: مرکز حقوق انسانی

تل ابیب:14؍اپریل:فلسطین سینٹر فار پریزنر اسٹڈیز نے اس لرزہ خیز حقیقت کی تصدیق کی ہے کہ 11 فلسطینی اسیران اب بھی تین دہائیوں سے زائد عرصے سے قابض اسرائیل کے عقوبت خانوں میں قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں۔ مرکز کے مطابق یہ صورتحال اس عالمی نظام کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے جو انسانیت اور انصاف کے دعوے تو کرتا ہے مگر فلسطینیوں کے معاملے میں گونگا اور بہرا بن جاتا ہے۔مرکز کے ڈائریکٹر اور محقق ریاض الاشقر نے وضاحت کی کہ مقبوضہ اندرون فلسطین سے تعلق رکھنے والے دو اسیران ابراہیم عبد الرزاق بیادس اور احمد علی ابو جابر قابض اسرائیل کی جیلوں میں مسلسل 40 سال گزار چکے ہیں۔ سنہ 1986 میں اپنی گرفتاری کے بعد سے وہ اسیران میں سب سے طویل مدت قید کاٹنے والے مجاہدین میں شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اریحا سے تعلق رکھنے والے اسیر محمود سالم ابو خربیش اور رام اللہ کے جمعہ ابراہیم آدم سنہ 1988 سے مسلسل 38 سالوں سے قید تنہائی اور مظالم کا سامنا کر رہے ہیں۔ریاض الاشقر نے مزید بتایا کہ چار اسیران جن میں ابراہیم حسن اغباری، محمد سعید اغباری، یحیی مصطفی اغباری اور محمد توفیق اغباری شامل ہیں، سنہ 1992 سے اب تک 34 سال سے زائد عرصہ اسارت میں گزار چکے ہیں اور ان تمام کا تعلق مقبوضہ اندرون فلسطین سے ہے۔رپورٹ کے مطابق شمالی غزہ کی پٹی میں واقع جبالیہ کیمپ کے اسیر عبد الحلیم ساب البلبیسی سنہ 1995 سے 31 سال سے قید ہیں جبکہ القدس سے تعلق رکھنے والے اکرم القواسمی اور خان یونس کے حسن عبد الرحمن سلامہ سنہ 1996 سے مسلسل 30 سال سے ان تاریک کوٹھڑیوں میں بند ہیں۔الاشقر نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اسیران محض اعداد و شمار نہیں ہیں بلکہ یہ اس صہیونی سفاکیت کے زندہ جاوید گواہ ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزار دی۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سے ہر ایک کی کہانی مصائب کے باوجود زندگی اور آزادی سے والہانہ لگا کی داستان ہے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کہ ان اسیران کی اکثریت نے قید کے طویل برسوں کے دوران اپنے پیاروں کو کھو دیا اور وہ انہیں آخری بار دیکھنے یا الوداع کہنے کے حق سے بھی محروم رہے۔ ان میں سے اکثر کے والدین، بہن بھائی اور بچے اس دنیا سے رخصت ہو گئے مگر یہ اسیران ان کے جنازوں میں شریک نہ ہو سکے۔انہوں نے عالمی برادری کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ دنیا ان اسیران کی زندگیوں کو سلاخوں کے پیچھے ختم ہوتے ہوئے تماشائی بن کر دیکھ رہی ہے جہاں سنگین حالات انہیں موت یا دائمی بیماریوں کی طرف دھکیل رہے ہیں مگر ان کی رہائی کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔مرکز کے ڈائریکٹر نے کہا کہ انسانی حقوق کا راگ الاپنے والے عالمی ادارے ان اسیران کی حمایت کرنے یا انہیں جیلوں میں باوقار زندگی اور علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے دبا ڈالنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان میں سے کئی اسیران کی عمریں 70 سال سے تجاوز کر چکی ہیں اور وہ مختلف امراض کا شکار ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ اسیران جو 25 سال سے زائد عرصہ قید کاٹ چکے ہیں، وہ سنگین طبی مسائل کا شکار ہیں جو کہ قابض دشمن کے مسلسل تشدد اور غیر انسانی سلوک کا نتیجہ ہے۔طبی غفلت کی پالیسی پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قابض دشمن دانستہ طور پر انہیں علاج اور سرجری کی سہولیات سے محروم رکھتا ہے بلکہ گذشتہ دو سالوں کے دوران ان کے خلاف اقدامات میں مزید شدت پیدا کر دی گئی ہے۔ریاض الاشقر نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور ان اسیران کی رہائی کے لیے مداخلت کرے جنہوں نے اپنی زندگی کا بہترین حصہ دشمن کی قید میں بدترین تشدد اور محرومیوں کے سائے میں گزارا ہے۔اسیران کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں کے مطابق یکم اپریل سنہ 2026 تک قابض اسرائیل کے عقوبت خانوں میں قید فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 9600 سے تجاوز کر چکی ہے، جن میں 84 خواتین اور 350 بچے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 3532 انتظامی قیدی اور 1251 ایسے افراد ہیں جنہیں دشمن نے غیر قانونی جنگجو قرار دے کر پس دیوارِ زنداں ڈال رکھا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے