कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

وَندے ماترم: سیاست کی کشمکش سے حقیقت کا اُفق

تحریر: ڈاکٹر سید تابش امام
رابطہ نمبر ۔۔۔9934933992

قوموں کی ترقی کا انحصار صرف ان کے ماضی کے نقوش پر نہیں ہوتا بلکہ ان کے اجتماعی شعور، فکری ایمانداری، آئینی وفاداری اور سیاسی سچائی پر ہوتا ہے۔ وطن سے محبت کے اظہار کے بے شمار طریقے ہیں، مگر جب سیاست ایک گیت، ایک ترانہ یا ایک قومی علامت کو پیمانہ بنا دے تو پھر سوال یہ نہیں رہتا کہ ترانہ کیا ہے، سوال یہ بن جاتا ہے کہ سیاست کیا چاہتی ہے۔
پیر، ۸ دسمبر کو پارلیمان میں ’’وَندے ماترم‘‘ پر ہوئی طویل بحث اسی حقیقت کی تازہ مثال ہے، جہاں ایک قومی گیت کو اس انداز میں پیش کیا گیا جیسے وہ کسی مخصوص جماعت کی امانت ہو۔ بحث کا عنوان قومی گیت تھا، مگر پس منظر میں انتخابی سیاست، بیانیہ سازی اور مخالفین کو دفاعی پوزیشن پر دھکیلنے کی کوشش نمایاں تھی۔ خود حکومت کے حامی میڈیا پلیٹ فارمز نے بھی تسلیم کیا کہ یہ بحث لوک سبھا کے سرد موسمِ سرما اجلاس میں غیرمعمولی طور پر طویل اور جذباتی رہی اور وزیر اعظم سے لے کر اپوزیشن کے نمایاں چہروں تک سب نے اسے اپنی اپنی سیاست کے مطابق برتا۔
جس سے یہ ظاہر ہو گیا کہ یہ بحث کسی فوری جذباتی جوش یا اچانک ابھرے ہوئے قومی احساس کا۔نتیجہ نہیں تھی۔ یہ قبل سےتیار شدہ سوچی سمجھی حکمتِ عملی کاحصہ تھی، جس کا مقصد عوامی توجہ کو ان اہم ترین مسائل سے ہٹانا تھا جوآج ملک کے لاکھوں نوجوان، کسان، مزدور،خواتین اور عام شہریوں کو درہیش ہے۔ایک ایسے وقت میں جب کہ معیشت، روزگار، کسانوں کے مسائل اور خواتین کی سلامتی سے متعلق سوالات پہلے ہی میڈیا اور عوامی حلقوں میں شدت سے اٹھ رہے تھے، ’’وَندے ماترم‘‘ کو موضوع بنا کر بحث چھیڑنا دراصل توجہ کو ایک جذباتی موڑ پر منتقل کرنے کی کوشش تھی۔ خود لوک سبھا کی کارروائی دیکھنے والے مبصرین نے بھی اس جانب اشارہ کیا کہ بحث میں تاریخ، جذبات، مذہب اور سیاست، سب کچھ ایک ساتھ ملایا گیا، مگر حقیقی معاشی اور سماجی بحران تقریباً پس منظر میں رہا۔وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں ’’وَندے ماترم‘‘ کے ۱۵۰ سالہ پس منظر اور آزادی کی جدوجہد میں اس کے کردار کا ذکر کیا، مگر ساتھ ہی انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب گاندھی جی اسے قومی ترانہ مانتے تھے تو پھر اس کے ساتھ ناانصافی کیوں ہوئی۔ یہ سوال بظاہر تاریخ سے جڑا تھا، لیکن اس کی پیشکش زیادہ سیاسی تھی۔ انہوں نے خاص طور پر ۱۹۳۷ء کے بعد مسلم لیگ کے اعتراضات اور کانگریس کے فیصلوں کو اس زاویہ سے پیش کیا جیسے قومی گیت کی تدوین میں اصول سے زیادہ ’’دباؤ‘‘ کارفرما رہا ہو۔تاریخ کی مستند بحثیں بتاتی ہیں کہ ۱۹۳۰ کی دہائی میں جب ’’وَندے ماترم‘‘ کے بعض اشعار پر مذہبی نوعیت کے اعتراضات سامنے آئے تو آزادی کی تحریک کے اہم رہنما—سبھاش چندر بوس، مولانا ابوالکلام آزاد، راجندر پرساد اور جواہر لال نہرو—نے مشترکہ طور پر یہ رائے بنائی کہ قومی گیت میں صرف وہ حصہ شامل رہیں جو تمام مذاہب اور طبقات کے لیے یکساں طور پر قابلِ قبول ہوں۔ یہ فیصلہ کمزوری نہیں، ہندوستانی تکثیریت کا عملی اظہار تھا۔ اس کے باوجود مودی کے خطاب میں اس عمل کو ’’تاریخی ناانصافی‘‘ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی، جس پر کئی مبصرین نے سوال اٹھایا کہ کیا ایک صدی پر محیط قومی اتفاقِ رائے کو آج کے انتخابی بیانیہ کی کسوٹی پر پرکھنا درست ہے؟
مسئلہ یہاں صرف اتنا نہیں کہ تاریخ کا کون سا حصہ یاد رکھا گیا اور کون سا نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ اختلاف کو بدگمانی اور سوال کو غداری کے مترادف بنا دیا گیا ہے۔ جب کوئی شہری یا منتخب نمائندہ یہ کہتا ہے کہ وطن سے محبت گیت کے احترام کے ساتھ ساتھ آئین کی پاسداری، انسانی وقار اور انصاف سے بھی جڑی ہے، تو فوراً اسے شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ یہی موجودہ سیاسی کلچر کا سب سے تشویشناک پہلو ہے۔اس ماحول میں کانگریس کی رہنما پرینکا گاندھی وڈرا نے جب لوک سبھا میں خطاب کیا تو بحث کا رخ ایک حد تک بدلا۔ انہوں نے وزیر اعظم کے تاریخی بیانیہ پر براہِ راست حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’وَندے ماترم‘‘ پر یہ طویل بحث دو وجہوں سے چھیڑی گئی ہے: ایک، بنگال سمیت دیگر ریاستوں میں آئندہ سال ہو نے والے انتخابات؛ دوسرا، عوام کی توجہ کو مہنگائی اور بے روزگاری جیسے حقیقی مسائل سے ہٹانا۔ یہ بات انہوں نے الزامی لہجے میں نہیں بلکہ ٹھوس سیاسی تجزیہ کے طور پر رکھی، اور ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر حکومت واقعی عوام کی فلاح کے لیے پرعزم ہے تو پھر پارلیمان کا اتنا قیمتی وقت ایک ایسے موضوع پر کیوں صرف کیا جا رہا ہے جس پر ملک بنیادی طور پر متفق ہے؟پرینکا گاندھی نے اپنی تقریر میں وزیر اعظم اور پنڈت نہرو کے درمیان جو تقابلی جملہ کہا، وہ فوری میڈیا اور عوامی مباحثے کا حصہ بن گیا: ’’وزیر اعظم نے بارہ سال وزارتِ عظمیٰ میں گزارے، اور نہرو نے بارہ سال جیل میں۔‘‘ یہ جملہ نہ صرف سیاسی تاریخ کا حوالہ تھا بلکہ اقتدار اور قربانی کے درمیان فرق کی یاد دہانی بھی تھا۔ ان کا یہ کہنا کہ ۲۸ اکتوبر ۱۹۳۷ء کو کانگریس ورکنگ کمیٹی نے ’’وَندے ماترم‘‘ کو قومی گیت کا درجہ دیا تھا، اس حقیقت کی طرف اشارہ تھا کہ جس گیت کے احترام پر سب متفق ہوں، اس کے نام پر آج اختلافات بھڑکانا دراصل تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہے، نہ کہ گیت کے ساتھ۔بحث کا ایک اہم رخ اس وقت سامنے آیا جب سماج وادی پارٹی کی نوجوان رکنِ پارلیمان اقرا حسن نے نہ صرف لوک سبھا کے اندر بلکہ باہر میڈیا کے سامنے بھی اپنی صاف، متوازن اور آئینی فکر پر مبنی رائے پیش کی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ہندوستانی مسلمانوں کو بار بار وفاداری کے کٹہرے میں کھڑا کرنا خود اس ملک کی تکثیری روح کے منافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’وَندے ماترم‘‘ پر ہمارا اعتراض نہیں، اعتراض اس رویے پر ہے جس میں اسے وفاداری کے ٹیسٹ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔اقرا حسن نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ ہم Indian Muslims ’’by choice‘‘ ہیں، ’’by chance‘‘ نہیں، یعنی تقسیمِ ہند کے وقت جس نے اس سرزمین کو اپنا وطن چنا، اس کی حب الوطنی کو روز آزمائش کے دائرے میں لانا، تاریخ کو الٹا پڑھنے کے مترادف ہے۔ ان کا یہ جملہ کہ وطن ماں ضرور ہے مگر عبادت کا حق صرف خدا کو ہے، ایک ایسی متوازن فکر کی جھلک ہے جو مذہب اور قومیت دونوں کو اپنی اپنی جگہ عزت دیتی ہے، مگر انہیں ایک دوسرے پر مسلط نہیں کرتی۔ انہوں نے ایوان میں اپنی تقریر کے دوران کسانوں، عورتوں، قبائلیوں اور عام شہریوں کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اگر ’’ماترَم‘‘ واقعی ماں ہے تو پھر اس کی ہر بیٹی، ہر مزدور، ہر کسان اور ہر مجبور انسان کی عزت و حفاظت بھی اسی محبت کا تقاضہ ہے جس کا ذکر گیت میں کیا جاتا ہے۔اقرا حسن کا بیانیہ نوجوان ہندوستان کی آواز اس لیے محسوس ہوا کہ اس میں نہ جارحیت تھی نہ معذرت، بلکہ آئینی وفاداری اور سماجی انصاف پر قائم ایک پختہ یقین تھا۔ وہ یہ واضح کر رہی تھیں کہ حب الوطنی کا خلاصہ صرف کسی لفظ کی ادائیگی نہیں، بلکہ اس کے پیچھے موجود آئینی اور انسانی ذمہ داری ہے۔ یہی طرزِ فکر دراصل اس ملک کے مستقبل کی ضمانت ہے، اگر سیاست اسے سمجھنے پر آمادہ ہو۔اسی مباحثے میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی نے بھی ’’وَندے ماترم‘‘ کو وفاداری کے لازمی معیار کے طور پر پیش کرنے کی کوششوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت کو مسلمانوں یا کسی بھی شہری کو اس گیت کی ادائیگی پر مجبور نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ہندوستان کی آزادی اس لیے محفوظ رہی کہ یہاں ریاست اور مذہب کو ایک نہیں بنایا گیا۔ اگر آج ’’بھارت ماتا‘‘ کو دیوی کے طور پر پیش کر کے ’’وَندے ماترم‘‘ کو مذہبی رنگ دیا جائے تو یہ اسی بنیادی اصول سے انحراف ہوگا جس نے اس ملک کو ایک جمہوری وفاق کے طور پر جوڑے رکھا۔اویسی نے اپنے مخصوص انداز میں یہ بھی کہا کہ اگر خود گاندھی، ٹیگور، امبیڈکر، راجندر پرساد اور دوسرے کئی رہنماؤں نے مذہبی حساسیت کا احترام کرتے ہوئے اس گیت کے بعض حصوں کو سرکاری سطح پر اختیار نہ کیا، تو آج اس پر زبردستی کا مطالبہ دراصل انہی شخصیات کے وژن سے انکار کے مترادف ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ ’’وفاداری کا سرٹیفکیٹ ہم سے مت لیجیے، یہ ہمارا دستوری حق ہے‘‘ اس حقیقت کی جانب اشارہ تھا کہ حب الوطنی ثبوت کے محتاج کاغذ پر نہیں، عمل اور کردار میں نظر آتی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اس سب کے باوجود بحث کہاں جا کر ٹھہرتی ہے؟ کیا واقعی مسئلہ ایک گیت کا ہے؟ یا اصل مسئلہ وہ ماڈلِ سیاست ہے جو قومی علامتوں، مذہبی استعاروں اور جذباتی نعروں کو اس وقت استعمال کرتا ہے جب معیشت، روزگار، زرعی بحران، تعلیمی زوال اور جمہوری اداروں کی کمزوری جیسے تلخ حقائق سامنے ہوں؟ معاشی ماہرین، عالمی رپورٹس اور خود حکومتی اعداد و شمار اشارہ کر رہے ہیں کہ بے روزگاری تشویشناک سطح پر ہے، مہنگائی عام شہری کے بجٹ کو توڑ چکی ہے، کسان قرض اور غیر یقینی مستقبل کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور ملک کی فی کس آمدنی عالمی سطح پر بہت پیچھے ہے۔جب ایسی صورتِ حال میں پارلیمان کا ایک بڑا حصہ اور میڈیا کا بڑا حصہ ’’وَندے ماترم‘‘ پر بحث میں مصروف ہو، تو فطری طور پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا ہم اصل مسائل سے نظریں چرارہے ہیں؟ کیا حب الوطنی اور قوم پرستی کا نام لے کر عوام کے سوالات کو مؤخر کیا جا رہا ہے؟پرینکا گاندھی نے اسی پس منظر میں جب یہ سوال اٹھایا کہ کیا موجودہ اقتدار خود کو گاندھی، ٹیگور، مولانا آزاد، امبیڈکر اور راجندر پرساد سے زیادہ سمجھدار اور محبِ وطن سمجھنے لگا ہے، تو یہ سوال محض سیاسی نکتہ نہیں تھا بلکہ ایک فکری چیلنج تھا۔ اگر وہ عظیم رہنما، جنہوں نے آزادی کی جدوجہد میں جان، عزت اور سکون قربان کیا، مذہبی حساسیت کا لحاظ رکھتے ہوئے ایک متوازن راستہ اختیار کر سکتے تھے، تو آج کے حکمران اس سے زیادہ سخت پیمانہ کیوں بنانا چاہتے ہیں؟یہاں آ کر بات ایک بنیادی اصول پر ٹک جاتی ہے: وطن سے محبت کو اگر گیت، نعرے یا کسی مخصوص مذہبی تصور کے ساتھ اس طرح جوڑ دیا جائے کہ جو اس سے اختلاف کرے وہ مشکوک بن جائے، تو پھر آئین کی اصل روح مجروح ہوتی ہے۔ آئین نے ہر شہری کو مذہب، اظہار اور ضمیر کی آزادی دی ہے۔ اگر کوئی شہری اپنے عقیدے کی بنا پر کسی لفظ، استعارے یا تصور کو ادا نہ کرے، تو اس کی وفاداری کو کٹہرے میں کھڑا کرنا آئین کی حدوں سے آگے بڑھ جانا ہے۔ یہی وہ حد ہے جسے اقرا حسن، اویسی، اور کئی دوسرے رہنما اپنی اپنی زبان میں واضح کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔وطن سے محبت ایک فطری جذبہ ہے، اسے کسی گیت، کسی نعرے، کسی پارٹی یا کسی خاص علامت کے ساتھ اس حد تک مشروط نہیں کیا جا سکتا کہ اختلاف رائے کی گنجائش ختم ہو جائے۔ ’’وَندے ماترم‘‘ بلاشبہ ہماری تاریخ، تہذیب اور آزادی کے سفر کا اہم حصہ ہے، لیکن اسے سیاسی ہتھیار بنا کر اپنے مخالفین کو ’’غدار وطن‘‘ ثابت کرنا نہ گیت کے ساتھ انصاف ہے، نہ وطن کے ساتھ۔آج ملک کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، وہ یہ ہے کہ ہم آئینی شعور کو مضبوط کریں، باہمی احترام کو بڑھائیں، اقلیتوں اور کمزور طبقات کے اعتماد کو بحال کریں، اور ایسی سیاست کو فروغ دیں جس میں اتحاد اختلاف سے بڑا اصول ہو۔ اقرا حسن کی سادگی اور آئینی دلیل، اویسی کی اصولی بات، پرینکا گاندھی کی سیاسی بصیرت اور بابائے قوم مہاتما گاندھی، جواہر لالنہرو، مولانا ابوالکلام آزاد، معمار آئین بھیم راؤامبیڈکر اور دوسرے رہنماؤں کا تاریخی وژن یہی کہتا ہے کہ:وطن سےمحبت کسی نعرے کی پابند نہیں۔
گیت دل سے نکلے تو وحدت بن جاتا ہے،
سیاست سے نکلے تو تقسیم۔
یہ ملک گیتوں سے نہیں، آئین اور انصاف سے چلتا ہے—
اور جب آئین کمزور ہو جائے،
تو کوئی نغمہ قوم کو متحد نہیں رکھ سکتا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے