कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

حضرت شیخ فریدالدین عطارؒ: حیات، افکار اور تصانیف

عبدالرحمٰن ، ناندیڑ

تمہید:
اسلامی تصوف کی تاریخ میں حضرت شیخ فریدالدین عطار نیشاپوریؒ ایک درخشاں ستارے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ نہ صرف ایک بلند پایہ صوفی تھے بلکہ فارسی زبان کے ممتاز شاعر، مفکر اور حکیم بھی تھے۔ ان کی تصانیف آج بھی روحانیت کے متلاشیوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔

حیاتِ مبارکہ:
حضرت شیخ فریدالدین عطارؒ 1145ء میں ایران کے شہر نیشاپور میں پیدا ہوئے۔ آپ کا اصل نام فریدالدین ابو حامد بن ابوبکر تھا۔ چونکہ آپ کا پیشہ عطاری (ادویات بیچنا) تھا، اس نسبت سے "عطار” کہلائے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم نیشاپور میں حاصل کی اور بعد ازاں طب، علم الادویہ، حکمت اور دینی علوم میں مہارت حاصل کی۔
ابتدائی زندگی میں آپ ایک ماہر طبیب اور عطاری کی حیثیت سے مشہور تھے۔ آپ کا دکان پر مختلف مریضوں سے ملنا اور ان کی بیماریوں کے ساتھ ساتھ روحانی کرب کو محسوس کرنا آپ کی روحانی بیداری کا باعث بنا۔ کہا جاتا ہے کہ ایک درویش کی باتوں نے آپ کی زندگی کا رخ بدل دیا اور آپ نے دنیاوی مشاغل ترک کر کے تصوف کی راہ اپنائی۔

روحانی سفر اور افکار:
حضرت عطارؒ نے طریقت اور معرفت کے لیے طویل سفر کیے۔ آپ نے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور بے شمار اولیاء سے ملاقاتیں کیں۔ ان کے افکار میں عشقِ حقیقی، فنا فی اللہ، اور نفس کی پاکیزگی جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔
ان کے نزدیک روحانیت کا اصل مقصد انسان کو "خود شناسی” کے ذریعے "خدا شناسی” تک لے جانا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ راہِ تصوف میں سب سے بڑی رکاوٹ "نفس” ہے، جس پر قابو پائے بغیر قربِ الٰہی حاصل نہیں ہو سکتا۔

تصانیف:
حضرت عطارؒ نے کئی گراں قدر تصانیف رقم کیں، جن میں نثر اور نظم دونوں شامل ہیں۔ ان کی معروف تصانیف درج ذیل ہیں:

منطق الطیر (پرندوں کی منطق): یہ ان کی سب سے مشہور مثنوی ہے جس میں پرندوں کی زبان میں روحانی سفر کی داستان بیان کی گئی ہے۔ پرندے اپنے بادشاہ "سیمرغ” کی تلاش میں نکلتے ہیں اور مختلف وادیوں سے گزرتے ہیں۔ اس سفر کے ذریعے عطارؒ نے سالک کے روحانی مراحل کی نشاندہی کی ہے۔

تذکرۃ الاولیاء: یہ ایک نثری تصنیف ہے جس میں 72 اولیائے کرام کے حالاتِ زندگی بیان کیے گئے ہیں۔ یہ کتاب صوفی ادب میں ایک بنیادی مقام رکھتی ہے اور آج بھی تصوف کے طالب علموں کے لیے قیمتی سرمایہ ہے۔

مصیبت نامہ: ایک اور مثنوی جس میں انسان کی کمزوریوں، نفسانی خواہشات اور دنیاوی علائق سے نجات کا پیغام دیا گیا ہے۔

الہی نامہ: اس مثنوی میں حضرت عطارؒ نے حکایتوں کے ذریعے توحید، قربِ الٰہی، اور بندگی کا درس دیا ہے۔

اسرار نامہ: ایک تصوفی مثنوی جس میں اسرارِ باطن اور سلوک کے مراحل کو شعری انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

ادبی و روحانی کارنامے:
حضرت عطارؒ کی شاعری میں تمثیل، حکایات، استعارے اور عرفانی اشارات کا کثرت سے استعمال ملتا ہے۔ ان کی زبان سادہ، مگر معنویت سے بھرپور ہے۔ انہوں نے فارسی ادب اور اسلامی تصوف کو ایک نیا رخ دیا۔
ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے پیچیدہ روحانی حقائق کو عام فہم حکایتوں اور قصوں کے قالب میں ڈھالا۔ ان کی تعلیمات نے بعد میں آنے والے صوفیا جیسے مولانا روم پر گہرا اثر چھوڑا۔

وصال:
حضرت عطارؒ نے 1221ء میں نیشاپور میں وصال فرمایا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ منگول حملے کے دوران شہید کیے گئے۔ ان کا مزار نیشاپور میں ہے، جو آج بھی زائرین کی توجہ کا مرکز ہے۔
حضرت شیخ فریدالدین عطارؒ کی حیات و تعلیمات تصوف، حکمت، اور ادب کا حسین امتزاج ہیں۔ ان کی فکر انسان کو باطن کی طرف متوجہ کرتی ہے اور دنیا کی ظاہری چمک دمک سے ہٹا کر حقیقت کی تلاش پر آمادہ کرتی ہے۔ ان کا ادبی اور روحانی سرمایہ آج بھی انسانیت کے لیے باعثِ فخر ہے۔

کلامِ اقبال میں حضرتِ عطار کا ذکر:
شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے اپنے کلام میں جہاں تاریخِ اسلام کی مختلف نابغۂ روزگار شخصیات کا تذکرہ کیا ہے وہیں آپ نے اپنے اشعار میں حضرت شیخ فریدالدین عطار کو بھی جابجا خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ ذیل میں اقبال کے وہ اشعار دیے جارہے ہیں جن میں حضرتِ عطار کو یاد کیا گیا ہے۔ ہر شعر کی تشریح بھی پیش کردی گئی ہے۔

(1) تیرے احساں کا نسیمِ صُبح کو اقرار تھا
باغ تیرے دم سے گویا طبلۂ عطّار تھا
(بانگِ درا ، نظم گلِ پژمردہ)
تشریح :حضرت عطارؒ کی روحانی عظمت ایسی تھی کہ صبح کی نسیم بھی ان کے احسان کا اعتراف کرتی تھی، اور ان کی موجودگی سے ہر طرف زندگی، لطافت، اور روحانی موسیقی کی کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔

(2) عطّارؔ ہو، رومیؔ ہو، رازیؔ ہو، غزالیؔ ہو
کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہِ سحَر گاہی
(بالِ جبریل)

تشریح: صرف علم، فلسفہ یا شاعری کافی نہیں۔ اصل چیز سحر کے وقت کی وہ دل سے نکلی ہوئی آہ ہے جو بندے کو اللہ سے جوڑتی ہے۔ معرفتِ الٰہی اور روحانی بلندی صرف عبادت اور عاجزی سے حاصل ہوتی ہے، نہ کہ صرف عقل و علم سے۔

(3) مقامِ ذکر، کمالاتِ رومیؔ و عطّارؔ
مقامِ فکر، مقالاتِ بوعلیؔ سِینا
(ضربِ کلیم، نظم ذکر و فکر)

تشریح: روحانی بلندی، سچی یادِ الٰہی اور عشقِ حقیقی کا مقام رومیؒ و عطّارؒ جیسے صوفیاء کی زندگی میں نظر آتا ہے۔
جبکہ فکری و علمی بلندی اور عقل و فلسفے کا مقام بوعلی سینا کی تحریروں میں ملتا ہے۔

(4) ما از پئے سنائی و عطّار آمدیم
از حجرۂ حجاز و بخارا آمدیم
(بالِ جبریل)

تشریح: ہمارا راستہ سنائیؒ و عطارؒ جیسے صوفیاء کا ہے جو عشق، معرفت اور سلوک کی علامت ہیں۔
ہمارا ماخذ اور مرکز حجاز اور بخارا کی وہ درسگاہیں ہیں جہاں سے روحانیت، علم، اور حقیقت کی روشنی پھیلی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے