कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

شوقِ کمال بھی نہیں خوفِ زوال بھی نہیں

تحریر: ایمن فردوس بنت عبدالقدیر

ٹیچر بننے کے خواب کو پورا کرنے کے لئے ،ہم نے بی ایڈ کی ڈگری مکمل کرلی اور ملازمت کی تلاش میں نکل پڑے ۔۔۔ اور تقریباً دو مہینے بلکہ انہتر دن ہوگئے ابھی بھی ملازمت نہ ملی ۔
ہم تقریباً دسوں اسکولوں سے واپس لوٹے ، ان ناکامیوں میں بے شک کہیں نہ کہیں ہمارا قصور بھی تھا ، ان میں ہماری کم علمی بھی تھی باوجود ان سب کے، ہماری ملازمت سے بے دخلی، ناکام لوٹنے کی اور بھی کچھ معصوم وجوہات ہیں ، جو آپ کے پیشِ خدمت( نظر ۔۔۔۔۔۔ ) ہیں ۔۔۔۔۔
ایک اسکول میں ہمارا انٹرویو ، بلکہ تفصیلی انٹرویو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سر : اچھا تو آپ بی ایس سی ، بی ایڈ ہیں ؟
ہم: جی سر ،
اس کے بعد سے انٹرویو کا تفصیلی پروگرام شروع ہوا تو تقریباً ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہا ۔۔۔
جس میں ہم سے بہت سوال پوچھے گئے ، ہم نے تقریباً سوالوں کے جواب دیے ، اس میں کچھ پرسنل سوالات بھی پوچھے گئے ،
اور اسی بنا پر جاب سے انکار کر دیا ،
سر : آپ کی نالج تو ٹھیک ٹھاک ہے ،اور آپ جاب کے قابل تو ہیں لیکن ، آپ بہت چھوٹی ہیں ۔
ہم :جی سر؟؟؟
سر : جی ، آپ کا قداور ہمارے اسکول کے نہم اور دہم جماعت کے بچوں کا قد یکساں ہے ، آپ کیسے کلاس کنٹرول کر پائیں گی؟؟؟ آپ کی عمر بھی کم ہے ؟
ہم :سر عمر تو بالکل صحیح ہے ۔۔۔۔
اور اس طرح ،
ہم وہاں سے ناکام واپس ہوئے ۔۔
….
دوسرا اسکول ،
میم : دیکھئے ،ہمارے اسکول کے کچھ اصول ہیں ،
آپ کو ساڑی پہن کر اسکول آنا ہوگا ! ہم نے ساڑی پہننے کی وجہ دریافت کی تو محترمہ کہنے لگیں ، ساڑی پہننے سے ٹیچر کا attitude دکھائی دیتا ہے ، اور ٹیچر کی شخصیت پر مثبت اثرات رونما ہوتے ہیں ۔ محترمہ ساڑی پہناوے کی ایسی تعریف کر رہی تھیں کہ گویا انھیں ساڑی پہننے سے ثواب ملتا ہو؟
ہم نے کہا برقعہ پہن کر آئیں گے ، وہ یوں منع کر گئیں کہ اصول ہے اصول ہے ۔۔۔
….
تیسرا اسکول ،
آپ کو ایکسپرینس (تجربہ ) نہیں ہے ،
ٹیوشن اور انٹر ن شپ کا تجربہ قابل قبول نہیں کیا جا سکتا ۔۔۔
….
چوتھا اسکول ،
آپ چھوٹی سی ہیں ،لہٰذا دوسری جماعت کو پڑھائیے ،
تنخواہ ، ماہانہ 3000 روپیہ
….
پانچواں اسکول ،
آپ بہت جلدی جلدی بولتی ہیں ،
پہلے آپ بولنے کی صلاحیت کو بہتر کیجئے , you should be soft speaker , As a teacher,
….
چھٹا اسکول ،
ہمارے پاس گرانٹ بلکہ %100 ، گرانٹ اور %20 گرانٹ بھی ہے ،
CTET , TET, TAIT
جیسے امتحانات میں کامیاب چاہئے ،
اور 26 لاکھ روپئے چاہئے ۔
….
ٔایک اسکول میں سر کہنے لگے ، ہمارے پاس گرانٹ اور ٹیمپرری ٹیچر کی بھی اسامی خالی ہے ۔۔۔۔
ہم نے مزید معلومات حاصل کی تو پتہ چلا کہ 18 لاکھ روپئے چاہئے ،
ہم نے ٹیمپرری ٹیچر کی اسامی کی بات تو کہنے لگے ،
ہم کون ہوتے ہیں ، تنخواہیں دینے والے ، تنخواہیں دینا تو حکومت کا کام ہے ،
ہم صرف ہدیہ دے سکتے ہیں ،
ہم نے پوچھا ، خیر آپ کتنا ہدیہ دیں گے ؟؟؟
کہنے لگے آٹھویں ، نویں اور دسویں جو سائنس اور میتھس ،( ریاضی ) پڑھائیے ، 2500 روپیے ہدیہ ۔
….
ایک اسکول میں ،
سر نے تو اتنا انتظار کرایا ، کہ ہماری ہمت جواب دینے لگی ۔۔۔
اس کے بعد اندر بلایا ، اتنا لمبا انٹرویو لیا ، انٹرویو میں عمر ، شادی ، رسم ، اور رشتہ کے بارے میں بھی پوچھا ،
والد صاحب باہر انتظار کر رہے تھے ، انھیں بھی اندر بلایا ،
پوچھا کیا کیا کر تے ہیں ؟؟؟
خیر اب والد صاحب کا بھی تفصیلی انٹرویو ہوا ۔۔۔
اب حضرت جی اپنا انٹرویو دینا شروع کیا ، وہ نہایت خود پسند انسان معلوم ہوتے تھے ۔۔۔وہ کافی وقت سے اپنی تعریف کر رہے تھے ، اور اپنی زندگی سے متعلق غریب ، کمزور ، اور بیزار کن لطیفے سنا رہے تھے ، جن پر زبردستی ہنسنا ہماری مجبوری تھی ، خیر ہم ہنستے رہے ۔۔۔
محترم وہی خوش مزاجی سے ہمیں ، کہنے لگے ، آپ تو پڑھا لیں گی،
لیکن آپ میں وہ ٹیچر کا رباب اور دبدبہ نہیں ہے! آپ کا Attitude ایک ٹیچر کی طرح ہونا چاہیے ۔۔۔
اور پہلے آپ ، اپنے آپ کو دیکھئے ، اور ان شریر بچوں کو دیکھیۓ !!!
لہذا آپ اپنی صحت کا خیال رکھیۓ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے اسکول ،
اس اسکول میں ،
آپ نے جماعت دہم تک اردو میڈیم میں تعلیم حاصل کی ، آپ یہاں انگریزی اسکول میں داخل مراٹھی اور ہندی پڑھانا چاہتی ہیں ۔۔۔۔۔ایک اسکول میں ہم انٹرویو ،اور تحریریں امتحان میں بھی کامیاب ہوئے ،
لیکن شہر سے دور ہونے کے سبب والد صاحب نے انکار کرد یا ، ہم نے ضد کی لیکن والد صاحب نے نہ جانے کیوں ، انکار کردیا ۔۔۔
ایک اسکول میں ،
آپ نے مراٹھی لفظ ،शिक्षिका غلط لکھا تھا ۔۔۔۔
وہ انگریزی اسکول تھا ، ہمارے ذہن میں یہ بات تھی کہ انگریزی اسکول کے بچے کافی ذہین ہوتے ہیں ۔۔۔
لیکن ہم انھیں پندرہ منٹ سے ایک موضوع پڑھا رہے تھے لیکن وہ سمجھنے سے قاصر تھے ، ہمیں افسوس ہو رہا تھا کہ اگر طلبہ کو ہم سے کوئی استفادہ حاصل نہ ہوا تو ہمارے ٹیچر بننے کا کیا فائدہ ؟؟؟
لہٰذا ہم اردو زبان میں پوچھ لیا ، ہمارا جملہ کچھ اس طرح تھا، اگر آپ کو سمجھ میں نہیں آتا تو آپ بے جھجھک ہوکے پوچھ سکتے ہیں ، بے باکی سے بولیے ، سوال پوچھئے ۔۔۔۔
اور یہی انگریزی اسکول میں اردو کے الفاظ بولنے کی بے باکی کی اور بے دخل ہوگئے ۔۔۔ایک انٹرویو میں سر نے انٹرویو لیا ، اور پوچھا کہ اور کیا کیا جانتے ہیںسر : آپ میں کون کون سی خوبیاں ہیں ؟
ہم : اردو کے ادنیٰ سی انشائیہ نگار ہیں ۔۔
سر : اور کچھ؟
ہم :مراٹھی زبان بولنے کی خوبی
سر: आपण मराठवाड्यात राहतो ,बोलता आली च पाहिजे ..
अजून काय काय येते
ہم : اردو کے اشعار،
سر :کیا اردو کے اشعار!
ہم: یاد ہیں ،بہت سارے ۔۔
سر: کتنے ؟
ہم : 60 یا 70
سر : طنزیہ انداز میں ہنستے ہوئے ، اچھا اچھا ،
اور کیا آتا ہے
ہم : تقاریر اور نظامات ،
سر :اچھا ، اور کچھ ،
ہم : ۔۔۔۔۔۔ٹھیک ہے لیکن ، ابھی آپ کے قابل کوئی جاب نہیں ہے ، اگر ہو تو ہم ضرور آپ کو کال کریں گے ۔۔۔
….
ایک اور اسکول
پہلے آپ ، self confidence کو develop کیجئے ، نالج حاصل کیجیے ، اور پھر انٹرویو دیجیے ٔ ۔۔۔ فی الحال ہم آپ کو کسی صورت میں نہیں رکھ سکتے۔
….
ایک اسکول میں ، یہ اسکول بہت ہی خستہ حال تھا ۔۔ اسکول میں کوئی دیوار نہیں تھی ،صرف ٹین تھے گرمی بہت زیادہ تھی، اور شہر سے بہت دور ، کوئی سہولت نہیں تھی ۔
ہم اسکول پہنچے تو کیا دیکھا ،
طلبہ صرف شرارت میں مشغول تھے لیکن ہم پھر بھی پڑھاتے رہے، طلبہ ہر وقت مذاق اڑا رہے تھے اور فضول سی باتیں کر رہے تھے، ایک دوسرے کو دیکھ دیکھ کر بلاوجہ ہنسنا ، باتیں کرنا ، لڑائی جھگڑا کرنا وغیرہ ۔۔ باوجود ان سب کے ہم نے کوشش جاری رکھی ، نہم جماعت میں ہم مساوات پڑھا رہے تھے ۔ہم نے بورڈ پر لکھا کہ
4-6 =-2
نہم جماعت کی ایک لڑکی کہنے لگی آپ نے سراسر غلط لکھا ، 4میں سے 6نہیں جاتے نا ؟؟؟
ہم نے انھیں بالکل شروعات سے سمجھانے کی کوشش کی تو ، وہ پھر سے شور مچانے لگے ،
اسی طرح دہم جماعت میں sin cos tan
پڑھانے کے لیے گئے تو معلوم ہوا کہ یہ طلبہ تو مثلث کے رس اور ضلع اور زاویے سے بھی نا واقف تھے ، ہم نے طلبہ کو وہی سمجھایا ، اور ہمارے sin cos tan انتظار ہی کرتے رہ گئے ،اور گھنٹہ ختم ہوا ،
غرض ،طلبہ کی چھوٹی سوچ ، اخلاقیات کا فقدان ،کم عمری میں عشق اور عاشقی کی گھٹیا عادتیں ، ان سب کے ساتھ ساتھ ساتھ ، مختصر سی تنخواہ ،
ہم واپس لوٹے
….
ہمیں جاب نہ ملنے پر ہم سے کسی نے مفت کامشورہ دیا کہ جیسے ہمارے معصوم ذہن میں وہ خیال ہی نہ آیا ہو وہ کہنے لگے ،کہ یہاں وہاں پھرنے سے بہتر ہے کہ آپ ہوم ٹیوشن شروع کریں ۔۔۔
ایک اسکول میں کسی نے کہا کہ ، آپ کا اس طرح ، جاب تلاش کرنا ، یہ واضح کرواتا ہے کہ آپ بہت غریب ہیں ؟؟؟
ہم:بالکل بھی نہیں ، الحمدللہ بہت اچھے گھر سے تعلق ہے ،
بس جاب کا شوق ہے ۔۔۔
سر: خیر ، آپ آئیے ہمارے اسکول ، ہم سارے ٹیچر مل کر آپ کو کچھ نہ کچھ تنخواہ ضرور دیں گے ۔۔۔۔
….
آخری اسکول ،
پانچویں ، چھٹی ، ساتویں اور آٹھویں کو ،
مراٹھی ، ہندی ، اور انگریزی پڑھانا ہے ، بچے ان مضامین میں ذرا کمزور ہیں ، زیادہ توجہ کی ضرورت ہے ، ایکسٹرا کلاس (exrta class ) کی بھی ضرورت ہوگی ۔۔۔۔۔
آپ کو اسکول کے یونیفارم کے مطابق ڈریس سلوانا ہوگا ، اور بھی کچھ فضول سے اصول تھے ۔۔۔۔۔۔۔
تنخواہ ، ماہانہ 4000 روپئے ۔
….
خیر اتنی ساری ناکامیوں کے باوجود خود اعتمادی اور اقبال کے شاہین کا تصور ، اور خواب پورے کرنے کی خواہش، اور جو ہوتا ہے اچھا کے لیے ہوتا ہے ، یا اچھا ہی ہوتا ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم ابھی بھی جاب کی تلاش میں ہیں ۔ ۔۔
اور ہمیں اپنی آپ بیتی پر جان ایلیا کا اک شعر یاد آگیا
کہ
تو میرا حوصلہ تو دیکھ داد تو دے کہ اب مجھے
شوقِ کمال بھی نہیں خوفِ زوال بھی نہیں

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے