कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

کل کی فکر، آج کی اصلاح

تحریر:حافظ سید ذہین علی نجفی

سورة الحشر کی آیت نمبر 18 میں اللہ ربّ العزّت اہلِ ایمان کو ایک جامع اور ہمہ گیر ہدایت عطا فرماتا ہے“اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا بھیجا ہے۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔”یہ آیت محض ایک نصیحت نہیں بلکہ ایک مکمل فکری و عملی منشور ہے۔ اس میں ایمان، احتسابِ نفس اور مستقبل کی جواب دہی—تینوں کو ایک لڑی میں پرو دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو متوجہ کرتے ہیں کہ زندگی کی اصل کامیابی لمحاتی فائدے یا وقتی آسائش میں نہیں، بلکہ اس تیاری میں ہے جو انسان اپنے“کل”—یعنی آخرت کے لیے کرتا ہے۔
آیت کا پہلا تقاضا تقویٰ ہے۔ تقویٰ محض خوف کا نام نہیں، بلکہ شعوری ذمہ داری، اخلاقی بیداری اور اللہ کی رضا کو مقدم رکھنے کا رویہ ہے۔ جب دل میں تقویٰ جاگزیں ہوتا ہے تو انسان کے فیصلے بدل جاتے ہیں، ترجیحات سنور جاتی ہیں اور عمل میں اخلاص پیدا ہوتا ہے۔ یہی تقویٰ فرد کو گناہ سے روکتا اور نیکی کی طرف مائل کرتا ہے۔
دوسرا اہم پہلو احتسابِ نفس ہے“ہر کوئی دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا بھیجا ہے۔”یہ جملہ انسان کو روزانہ اپنے اعمال کا جائزہ لینے کی دعوت دیتا ہے۔ کیا ہمارے اعمال محض دنیاوی کامیابی کے لیے ہیں یا ان میں آخرت کی روشنی بھی شامل ہے؟ ہم جو بولتے ہیں، جو کماتے ہیں، جو خرچ کرتے ہیں—کیا وہ سب اللہ کی رضا کے مطابق ہیں؟ اگر نہیں، تو یہی لمحہ اصلاح کا ہے۔
آیت کے آخر میں دوبارہ تقویٰ کی تاکید اور پھر ایک فیصلہ کن حقیقت بیان کی گئی ہے: اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔ یعنی نہ کوئی نیکی ضائع ہے، نہ کوئی برائی اوجھل۔ یہ شعور انسان کو دکھاوے سے بچاتا اور باطن کی درستگی کی طرف لے جاتا ہے۔ کیونکہ جب معلوم ہو کہ ہر عمل اللہ کے علم میں ہے، تو ریا، فریب اور غفلت کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
آج کے پُرآشوب اور مادہ پرست دور میں یہ آیت ہمیں ٹھہر کر سوچنے کا موقع دیتی ہے۔ ہم ترقی، طاقت اور شہرت کی دوڑ میں یہ نہ بھول جائیں کہ اصل کامیابی وہی ہے جو اللہ کے حضور سرخروئی کا سبب بنے۔ کل کی فکر دراصل آج کی اصلاح ہے؛ اور آج کی اصلاح ہی کل کی نجات۔
اور اس وقت مجموعی طور پر صورتِ حال یہی ہے کہ انسان کی توجہ کل کی تیاری کے بجائے صرف آج کی آسائش پر مرکوز ہو کر رہ گئی ہے۔ مادّی ترقی، سوشل میڈیا کی چکاچوند اور مفادات کی دوڑ نے احتسابِ نفس کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ ہم دوسروں کی غلطیوں پر نگاہ رکھتے ہیں مگر اپنے اعمال کا جائزہ لینے سے غافل ہیں۔ عبادات رسمی ہو چکی ہیں، اخلاق کمزور پڑ رہا ہے اور نیتوں میں اخلاص کی جگہ مفاد نے لے لی ہے۔
اسی اجتماعی غفلت کا نتیجہ ہے کہ معاشرے میں بے چینی، ناانصافی اور بداعتمادی بڑھتی جا رہی ہے۔ حالانکہ سورة الحشر کی یہ آیت ہمیں فرداً فرداً جھنجھوڑتی ہے کہ اصلاح کا آغاز باہر سے نہیں، اپنے اندر سے کیا جائے۔ اگر ہر شخص اپنے عمل کو اللہ کی رضا کے پیمانے پر پرکھنا شروع کر دے تو نہ صرف فرد سنور سکتا ہے بلکہ پورا معاشرہ بھی درست سمت میں گامزن ہو سکتا ہے۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ اپنی اخلاقیات کاجائزہ لیا جائے۔اخلاقی زوال کسی ایک سبب کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ فکری، روحانی، سماجی اور عملی کمزوریوں کا مجموعہ ہے، جو آہستہ آہستہ فرد سے معاشرے تک سرایت کرتا ہے۔
مثلاً روحانی کمزوری،اخلاق کی بنیاد دل کی پاکیزگی اور اللہ سے تعلق پر قائم ہوتی ہے۔ جب عبادات محض رسم بن جائیں اور تقویٰ زندگی کی رہنمائی نہ کرے تو نیت کمزور ہو جاتی ہے۔ اللہ کی نگرانی کا احساس ختم ہو جائے تو انسان چھوٹے گناہوں کو معمولی سمجھنے لگتا ہے، جو رفتہ رفتہ بڑے اخلاقی انحراف میں بدل جاتے ہیں۔
یہ کہ احتسابِ نفس کا فقدان،آج کا انسان دوسروں کا محاسبہ تو شدت سے کرتا ہے مگر خود کو سوال کے کٹہرے میں کھڑا کرنے سے کتراتا ہے۔ سورة الحشر کی آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہر شخص خود دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا بھیجا، مگر اجتماعی رویّہ اس کے برعکس نظر آتا ہے۔ جب خود احتسابی ختم ہو جائے تو ضمیر خاموش ہو جاتا ہے۔
اورپھرمادّی سوچ کا غلبہ،کامیابی کو صرف دولت، طاقت اور شہرت کے پیمانے پر ناپا جا رہا ہے۔ ایسے میں سچ، دیانت، صبر اور قناعت جیسے اوصاف غیر ضروری سمجھے جانے لگتے ہیں۔ مقصد کے حصول کے لیے ذرائع کو نظر انداز کرنا اخلاقی کمزوری کی واضح علامت ہے۔
نیزسماجی بے حسی،اخلاق صرف انفرادی نہیں بلکہ سماجی قدر بھی ہے۔ جب معاشرہ ظلم، جھوٹ اور ناانصافی پر خاموش رہنے لگے تو برائی مضبوط ہو جاتی ہے۔ غلط کو غلط کہنے کا حوصلہ ختم ہونا بھی اخلاقی زوال کی ایک سنگین صورت ہے۔
علاوہ ازیں تربیت کا بحران،گھر، تعلیمی ادارے اور معاشرتی ماحول،تینوں سطحوں پر کردار سازی کمزور پڑ چکی ہے۔ بچوں کودنیاوی کامیابی کا سبق دیا جا رہا ہے، مگر اچھا انسان بننے کی تربیت ثانوی ہو گئی ہے۔ جب اقدار منتقل نہ ہوں تو اخلاقی خلا پیدا ہو جاتا ہے۔
علاوہ ازیں قول و فعل کے تضاد کایہ عالم ہے کہ ہم اخلاقی اقدار کی بات تو کرتے ہیں مگر عملی زندگی میں ان کی نفی کر دیتے ہیں۔ یہ تضاد نئی نسل کو الجھن میں ڈال دیتا ہے اور اخلاقی ابہام کو جنم دیتا ہے۔ جب کہ کردار وہ درس ہے جو بغیر الفاظ کے منتقل ہوتا ہے۔
اوراخلاق کی کمزوری دراصل دل کی کمزوری، سوچ کی گمراہی اور عمل کی کوتاہی کا سبب بن جاتی ہے۔ اس کا علاج بھی وہی ہے جس کی طرف قرآن رہنمائی کرتا ہے۔یعنی تقویٰ، احتسابِ نفس اور اللہ کی جواب دہی کا شعور۔ جب فرد اپنی اصلاح شروع کرے گا تو یہی اصلاح خاندان، معاشرے اور بالآخر پوری قوم کی اخلاقی بحالی کا سبب بن سکتی ہے۔
اس لئے ضروری ہے کہ ہم بحیثیت مجموعی وقتی مفادات کے خول سے باہر نکل کر دائمی کامیابی کی طرف متوجہ ہوں۔ کل کی جواب دہی کا شعور زندہ ہو جائے تو آج کا ہر قدم محتاط، ہر فیصلہ با مقصد اور ہر عمل نجات کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ یہی اس آیت کا پیغام ہے اور یہی ہمارے موجودہ حالات کا واحد م¶ثر علاج۔
ہم اپنے دن کا اختتام اس سوال پر کریں، میں نے آج اپنے کل کے لیے کیا بھیجا؟ اگر یہ سوال زندہ رہا تو زندگی سنورتی جائے گی، اور اگر یہ سوال مر گیا تو کامیابیاں بھی خسارے میں بدل سکتی ہیں۔
اللہ ماہ رمضان کی برکت سے ہماری اخلاقیات بہتر کرے کاسبب بنے۔آمین

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے