कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ڈاکٹر فرزانہ فرح کی تصنیف "گل افشانیاں”: طنز و ظرافت کا مرقع

از: واجد اختر صدیقی
گلبرگہ، کرناٹک۔ 9739501549

اردو ادب کی دلکش و دلآویز روایت میں طنز و مزاح ایک ایسا رنگ ہے جو نہ صرف تحریر کو شگفتگی عطا کرتا ہے بلکہ اسے فکری گہرائی سے بھی ہمکنار کرتا ہے۔ یہ وہ فن ہے جس میں ہنسی محض ہنسی نہیں رہتی بلکہ ایک سنجیدہ پیغام کا پیرہن اوڑھ لیتی ہے، اور قاری کو مسکرانے کے ساتھ ساتھ سوچنے پر بھی مجبور کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو کے سنجیدہ ادب میں طنز و مزاح ہمیشہ ایک معتبر اور باوقار صنف کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ اسی درخشاں روایت کو اپنے مخصوص اسلوب اور متوازن انداز میں آگے بڑھانے والوں میں فرزانہ فرح کا نام نہایت اہمیت کا حامل ہے۔
ڈاکٹر فرزانہ فرح ریاست کرناٹک کی معروف، شاعرہ اور طنز و ظرافت نگار ہیں۔ تاحال ان کی چار کتابیں—شوخیِ تحریر (انشائیہ-2011)، دیکھنا تحریر کی لذت (انشائیہ-2016)، رُکا سا موسم (شاعری-2023) اور گل افشانیاں (انشائیہ-2024)—شائع ہو کر اہلِ ذوق میں مقبولیت حاصل کر چکی ہیں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ ڈاکٹر فرزانہ بنیادی طور پر شاعرہ ہیں یا انشائیہ نگار، کیونکہ وہ ان دونوں میدانوں میں اپنی انفرادی شناخت اور تخلیقی توانائی کا بھرپور اظہار کرتی نظر آتی ہیں۔ اگرچہ ان کی تحریروں اور ان کے مزاج میں ظرافت کی ہلکی سی مہک ہمیشہ موجود رہتی ہے، لیکن جہاں تک ان کی شاعری کا تعلق ہے تو وہاں وہ غیر معمولی سنجیدگی، گہرائی اور بے باکی کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہیں۔ اپنے انشائیوں میں وہ ہنستے ہنساتے سماج کی دکھتی رگوں پر انگلیاں رکھتی ہیں، تو شاعری میں دو ٹوک، بے لاگ اور سنجیدہ لہجہ اختیار کرتی ہیں۔ ان کی تخلیقات کے سوتے بظاہر دو مختلف سمتوں میں بہتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں، مگر درحقیقت ان کی منزل ایک ہی ہے—معاشرے میں پھیلی ہوئی نابرابری، ناانصافی، مسائلِ زیست، دھوکہ، فریب، کینہ، حسد، جلن اور انسانی کمزوریاں۔ وہ نہ صرف ان تمام پہلوؤں کی نشاندہی کرتی ہیں بلکہ ان سے نبرد آزما ہونے کا حوصلہ بھی عطا کرتی ہیں اور ان سے نکلنے کی راہ بھی دکھاتی ہیں۔ گویا ان کے ہاں ادب محض تفریحِ طبع نہیں بلکہ ایک سنجیدہ سماجی اور اخلاقی فریضہ بھی ہے، جو زندگی کو سنوارنے اور نکھارنے کا وسیلہ بنتا ہے۔
سن 2024 میں شائع ہونے والی ان کی کتاب گل افشانیاں میں جملہ چودہ مضامین شامل ہیں، مگر یہ مضامین محض تحریریں نہیں بلکہ ایک ایک مضمون اپنے اندر ایک مکمل جہانِ معنی سمیٹے ہوئے ہے۔ ہر مضمون اپنے دائرے میں ایک مکمل فکری اکائی بن کر سامنے آتا ہے اور قاری کو اپنے ساتھ لے کر چلتا ہے۔ اردو طنز و مزاح کی معتبر شخصیت مصطفیٰ کمال، جنہوں نے نصف صدی سے زیادہ عرصے تک اردو کی شمع کو روشن رکھنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا، ان کے نام اس کتاب کو معنون کرکے ڈاکٹر فرزانہ فرح نے نہایت بجا طور پر ان کی ادبی خدمات کا اعتراف کیا ہے۔ "حروفِ اخلاص” کے عنوان سے مصطفیٰ کمال نے تبرکاً اظہارِ خیال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
گل افشانیاں کی خالق فرزانہ فرح اکیسویں صدی میں تیزی سے ابھرنے والی ایسی مزاح نگار ہیں، جن کی رشحاتِ قلم طنز و مزاح کے دلدادہ قارئین بڑے شوق و دلچسپی سے پڑھتے ہیں۔ وہ شگوفہ کی مستقل قلمکار ہیں، علاوہ ازیں زندہ دلانِ حیدرآباد کے سالانہ نثری ادبی جلسوں میں گزشتہ کئی برسوں سے مضامین سنا رہی ہیں۔”
وہ مزید لکھتے ہیں کہ:
فرزانہ فرح اپنی خوش باش تحریروں کے ذریعے قاری کو مہکاتی ہیں اور طنز و مزاح کے علم کو بلند رکھنے میں حصہ ادا کیا ہے۔ ان کے چونکا دینے والے مضامین پڑھ کر قاری مسرت و شادمانی کے جذبوں سے سرشار رہتا ہے۔ ان کے ہاں تلخی اور زہرخند لہجہ کا گزر نہیں ہے۔”
مندرجہ بالا اقتباس میں مصطفیٰ کمال نے نہایت باریک بینی سے تین اہم نکات کی طرف اشارہ کیا ہے۔ پہلی بات "قاری کو مہکانے” کی ہے، جس کی تعبیر مختلف ہو سکتی ہے، مگر بلاشبہ اس سے مراد وہ دلنشیں تاثیر ہے جو قاری کے ذہن و دل کو معطر کر دیتی ہے۔ آگے وہ خود اس کی وضاحت کرتے ہیں کہ ان کے مضامین چونکا دینے والے ہوتے ہیں اور قاری کو مسرت و شادمانی کے جذبوں سے سرشار رکھتے ہیں۔ میرے نزدیک بھی چونکا دینے کی یہ صفت ایک کامیاب مزاح نگار کے لیے نہایت اہم ہے، کیونکہ یہی وہ عنصر ہے جو تحریر کو محض تفریح سے بلند کر کے فکر کی سطح تک لے جاتا ہے۔ اسی طرح "زہرخند لہجے” سے اجتناب بھی ایک بڑی خوبی ہے، کیونکہ طنز اگر حد سے بڑھ جائے تو دل آزاری کا سبب بن جاتا ہے۔ فرزانہ فرح اس نازک توازن کو بڑی مہارت سے قائم رکھتی ہیں۔ دراصل ایک اچھے مزاح نگار کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ "سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے”—اور یہی ہنر ان کے یہاں نمایاں طور پر جلوہ گر ہے۔
اپنے پیش لفظ "اقرار” میں ڈاکٹر فرزانہ طنز و مزاح کو تسکینِ خاطر کا وسیلہ قرار دیتے ہوئے نہایت دلنشیں انداز میں لکھتی ہیں:
میرے لیے طنز و ظرافت، دراصل تسکینِ خاطر کی وہ چنندہ راہ ہے، جہاں دریائے زیست کے مدوجزر کا پرتو راست نہ سہی، بالواسطہ جھلک دکھا جاتا ہے۔ زندگی سے جب کوئی گھاؤ ملا، توجہ میدانِ مزاح کی جانب مبذول کی۔ مداوا الفاظ میں تلاشا اور اس سعی میں کبھی ناکام نہیں رہی۔ تخیل نے حوصلوں کو پرواز بخشی اور ادب کا آسمان بانہیں پھیلائے میری اڑان کو اعتماد بخشتا رہا۔”
مزید وہ لکھتی ہیں:
یہ انشائیے زندگی میں توازن بنائے رکھنے کی دانستہ کاوشوں کا ثمر ہیں کہ شاعری میں اتنا رو لیا جائے کہ ہنسنے کی ہمت جٹائی جا سکے۔”
یہ اقتباسات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ان کے یہاں طنز و مزاح محض ہنسی کا سامان نہیں بلکہ داخلی کرب، تجربات اور احساسات کا ایک مہذب اور تخلیقی اظہار ہے۔ شاعری ہو یا نثر، یہ دلی جذبات، کیفیات، مشاہدات اور تخیلات کو الفاظ کا پیرہن پہنانے کا نام ہے۔ یہ صرف محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ اس میں داخلی ورود اور لاشعوری تحریک بھی کارفرما ہوتی ہے۔ فنکار کسی منصوبہ بندی کے تحت نہیں بلکہ ایک فطری میلان کے زیرِ اثر اس راہ پر گامزن ہوتا ہے۔ میری دانست میں فرزانہ فرح کا رجحان بھی اسی فطری کشش کا نتیجہ ہے۔
اس کتاب میں شامل بیشتر مضامین کے موضوعات انسانی زندگی سے نہایت قریب ہیں اور قاری میں فوراً مانوسیت کا احساس پیدا کرتے ہیں۔ ٹماٹر کی ٹر ٹر، ٹیریفک ٹرافک، تم کو معلوم ہے کہ ویڈیو کی حقیقت کیا ہے، اومیکرون، کھدائی کی خدائی، دھن کی بات، آ گلے لگ جا، آن لائن مشاعرے، نہیں سہل پرچوں کی تدوین یارو، سیل کا کھیل، مفت ہاتھ آئے تو، بادِ زن، سفر خوبصورت ہے منزل حسین ہے جیسے عنوانات بظاہر سادہ معلوم ہوتے ہیں مگر ان کے اندر ایک گہری سماجی معنویت پوشیدہ ہے۔
آخر میں ڈاکٹر فرزانہ فرح نے افسانوی انداز میں اپنی آپ بیتی "من خوب می شناسم” کے عنوان سے قلم بند کی ہے جو نہایت دلچسپ اور دلکش ہے۔ اس کتاب کے آغاز میں انیس صدیقی کا لکھا ہوا خاکہ "خوش جمال و خوش خصال: فرزانہ فرح” بھی خاص اہمیت رکھتا ہے، جس سے ان کی شخصیت کے کئی پہلو روشن ہو کر سامنے آتے ہیں۔
ڈاکٹر فرزانہ فرح کے ان مضامین کے چند اقتباسات ملاحظہ ہوں، جن سے ان کے گہرے مطالعے اور پختہ مشاہدے کا اندازہ ہوتا ہے:
"ٹماٹر کی ٹر ٹر”
"سنتے ہیں کہ ارتقا کی راہ میں ٹماٹر ان دنوں بہت آگے بڑھ گیا ہے۔ معیاری زندگی اس قدر بلند کہ آلو بخاروں اور سیب کے ساتھ نشست و برخاست ہونے لگی ہے”
ٹماٹر کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ایسا خوبصورت انداز انہوں نے اپنایا ہے کہ گراں گزرتی قیمتوں کا درد کھل کر عیاں ہونے نہیں دیا۔
"ٹیریفک ٹرافک”
"وہ بھی کیا دن تھے جب انڈمان جزائر کے خاموش آتش فشاں سی ٹریفک پولیس لبِ شاہراہ شرمائی لجائی کھڑی فریضۂ رہبری انجام دیتی تھی۔”
ٹریفک کنٹرول اور دستاویزات کی تنقیح کے نام پر افراد کو جس طرح الجھایا جاتا ہے، اس کی عمدہ عکاسی یہاں ملتی ہے۔
"رائڈ کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تیری چیکنگ کبھی ایسی تو نہ تھی”
"دھن کی بات”
"سنتے ہیں کہ 8 نومبر کی شب ساکنانِ عرش نے دیکھا کہ نہ صرف آسمان پر چاند معمول سے زیادہ بڑا ہے بلکہ زمین کا سیارہ بھی غیر معمولی روشن ہے۔ فرشتوں نے خبر دی ہندوستان میں ہر طرف رت جگا چل رہا ہے۔ آدھا ہندوستان اپنی جمع پونجی گن رہا ہے اور باقی آدھا ملک کی صورتِ حال کا لطف لیتے ہوئے واٹس ایپ پر خود کو اپ ڈیٹ کر رہا ہے۔”
نوٹ بندی پر یہ طنز بیک وقت فرحت بخش بھی ہے اور دل میں ایک ہلکی سی کسک بھی پیدا کرتا ہے۔
"آن لائن مشاعرے”
"یوں ہینگ لگے نہ پھٹکری، گھر بیٹھے بیٹھے غیر معروف شاعر بین الاقوامی شاعر بنتے ہوئے شکاگو، نیو یارک، اٹلی تک مشہور ہو جاتے ہیں۔”
لاک ڈاؤن کے پس منظر میں آن لائن مشاعروں اور سیمیناروں کی دنیا کو نہایت فنکارانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
اردو ادب میں طنز و مزاح کی روایت نہایت قدیم، شاندار اور تہذیب یافتہ رہی ہے۔ یہ محض ہنسانے کا فن نہیں بلکہ اصلاحِ معاشرہ کا ایک مہذب وسیلہ ہے۔ ایک کامیاب طنز نگار وہی ہوتا ہے جو ہنسی کے پردے میں حقیقت کی تلخی کو اس انداز سے پیش کرے کہ قاری نہ صرف محظوظ ہو بلکہ سوچنے پر بھی مجبور ہو جائے۔ طنز میں شگفتگی ہو مگر ابتذال نہ ہو، مزاح میں برجستگی ہو مگر سطحیت نہ ہو—یہی اس فن کا حسن ہے۔
اسی تناظر میں اگر فرزانہ فرح کے اسلوب کا جائزہ لیا جائے تو وہ اس روایت کی ایک باوقار اور متوازن نمائندہ کے طور پر سامنے آتی ہیں۔ ان کے یہاں شگفتگی ہے مگر پھکڑ پن نہیں، طنز ہے مگر زہرخند نہیں، اور چبھن ہے مگر کڑواہٹ نہیں۔ وہ نرم لہجے میں سخت بات کہنے کا ہنر جانتی ہیں اور یہی ان کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ ان کی تحریریں قاری کو ہنساتی بھی ہیں، چونکاتی بھی ہیں اور کہیں نہ کہیں اسے اپنے اندر جھانکنے پر بھی مجبور کر دیتی ہیں۔
مختصراً یہ کہ ڈاکٹر فرزانہ فرح نے سلگتے ہوئے موضوعات کو اپنے قلم کا اسیر بنا کر نہایت خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ انہوں نے اپنے شگفتہ اسلوب کے ذریعے تلخی کو شائستگی میں اور ترشی کو لطافت میں بدل دیا ہے۔ زبان و بیان کی روانی، شگفتگی اور ادبی چاشنی نے ان کی تحریروں کو مزید دلنشیں بنا دیا ہے۔ 143 صفحات پر مشتمل یہ دیدہ زیب کتاب محبانِ اردو تنظیم برائے فروغ اردو زبان و ادب گلبرگہ نے شائع کی ہے، جو یقیناً اردو ادب کے شائقین کے لیے ایک گراں قدر اضافہ ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے