कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

وندے ماترم کی لازمیت: آئینی حقوق اور سیکولر تنظیموں کا امتحان

از قلم: ڈاکٹر سید تابش امام
رابطہ۔۔۔۔۹۹۳۴۹۳۳۹۹۲

وندے ماترم ہندوستان کی آزادی کی تحریک کی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے۔ آزادی کی جدوجہد کے دوران اس نغمے نے عوام میں قومی جذبہ بیدار کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا اور یہ تحریکِ آزادی کی ایک اہم علامت بن گیا۔ اس تاریخی کردار سے انکار ممکن نہیں۔ تاہم وندے ماترم کے بعض اشعار کے مذہبی مفہوم پر ابتدا ہی سے کچھ حلقوں کے اعتراضات بھی رہے ہیں۔ اسی تاریخی پس منظر میں دستور ساز اسمبلی نے ’’جن گن من‘‘ کو قومی ترانہ اور ’’وندے ماترم‘‘ کو قومی گیت کا درجہ دیا۔
اب وندے ماترم سے متعلق نئی قانون سازی کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر قومی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ قومی علامت کا احترام اپنی جگہ، لیکن کیا کسی شہری کو اس کے مذہبی عقیدے یا ضمیر کے خلاف کوئی مخصوص نغمہ یا نعرہ ادا کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب سیاسی جذبات کے بجائے آئین اور قانون کی روشنی میں تلاش کیا جانا چاہیے۔
ہندوستانی آئین شہریوں کو بنیادی حقوق فراہم کرتا ہے۔ آرٹیکل 19 آزادیٔ اظہار کا حق دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 25 ہر شخص کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ و اشاعت کی آزادی فراہم کرتا ہے۔ تاہم یہ حقوق مطلق نہیں ہیں اور قانون، امنِ عامہ، اخلاق اور صحت سے متعلق آئینی پابندیوں کے تابع ہیں۔ اس لیے کسی بھی قانون کی تشریح کرتے وقت قومی احترام اور شہری آزادی، دونوں پہلوؤں کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔
اس سلسلے میں سپریم کورٹ کا 1986 کا Bijoe Emmanuel بنام ریاستِ کیرالہ فیصلہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس مقدمے میں عدالتِ عظمیٰ نے ایسے طلبہ کے حق میں فیصلہ دیا تھا جو اپنے مذہبی عقیدے کی وجہ سے قومی ترانہ نہیں گاتے تھے، لیکن اس دوران احترام کے ساتھ کھڑے رہتے تھے۔ عدالت نے محض قومی ترانہ نہ گانے کی بنیاد پر ان کے خلاف کارروائی کو درست نہیں مانا۔ اس فیصلے کا بنیادی سبق یہ ہے کہ قومی احترام اور کسی مخصوص انداز میں حب الوطنی کا اظہار ہمیشہ ایک ہی چیز نہیں ہوتے۔
یہ فیصلہ براہِ راست وندے ماترم سے متعلق موجودہ قانونی معاملے کا فیصلہ نہیں ہے، لیکن مذہبی آزادی اور ضمیر کی آزادی کے آئینی اصول کو سمجھنے میں اس کی اہمیت ضرور ہے۔ اسی لیے وندے ماترم کے معاملے میں بھی یہ دیکھنا ضروری ہوگا کہ نئی قانون سازی میں کیا چیز لازمی قرار دی گئی ہے، کس عمل کو جرم بنایا گیا ہے اور قانون کی حدود کیا ہیں۔
یہ فرق سمجھنا بھی ضروری ہے کہ قومی گیت کا احترام کرنا اور اسے لازماً گانا ایک ہی بات نہیں ہے۔ اگر قانون کسی قومی علامت کی توہین کو قابلِ سزا جرم قرار دیتا ہے تو اس کا دائرہ قانون کی واضح دفعات سے طے ہوگا۔ کسی شہری کے لیے گیت گانا لازمی ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ قانون کی صریح دفعات اور ان کی عدالتی تشریح سے ہوگا، محض سیاسی بیانات سے نہیں۔
مسلمانوں کو بھی وطن سے محبت پر اعتراض نہیں بلکہ وندے ماترم کے بعض اشعار کے مذہبی مفہوم پر ہے۔ اسلام میں توحید بنیادی عقیدہ ہے۔ اس لیے مسلمان ایسے الفاظ ادا کرنے سے گریز کرتے ہیں جنہیں وہ اپنے مذہبی عقیدے کے مطابق عبادت یا مذہبی تقدیس سے متعلق سمجھتے ہیں۔ اس موقف کو ملک سے بے وفائی یا حب الوطنی کی کمی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ مسلمانوں کے اس موقف کو سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ان کے نزدیک قومی احترام اور مذہبی عقیدے کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سیکولر سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کی ذمہ داری سامنے آتی ہے۔ سیکولرزم کا بنیادی تقاضہ ہے کہ ریاست تمام شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک کرے اور کسی شخص کے مذہبی حقوق کو محض اس کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر متاثر نہ ہونے دے۔ اس لیے سیکولر جماعتوں کو اس مسئلے پر نہ جذباتی سیاست کرنی چاہیے اور نہ خاموش رہنا چاہیے۔
سیکولر۔جماعتوں بالخصوص حزبِ اختلاف کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں قانون کی ہر متعلقہ شق کا آئینی جائزہ لے۔ اگر کسی شق سے بنیادی حقوق متاثر ہونے کا خدشہ ہو تو اس پر واضح بحث ہونی چاہیے، قانونی ماہرین کی رائے لی جانی چاہیے اور ضرورت پڑنے پر مناسب ترامیم کی تجاویز پیش کی جانی چاہئیں۔ محض سیاسی بیان بازی یا علامتی احتجاج سے کسی آئینی مسئلے کا مستقل حل نہیں نکلتا۔
سیکولر جماعتوں کے لیے اس معاملے میں ایک اور چیلنج بھی ہے۔ انہیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان کا سیکولرزم محض انتخابی سیاست تک محدود نہیں بلکہ آئینی اصولوں پر مبنی ہے۔ اگر وہ مذہبی آزادی، آزادیٔ اظہار اور شہری مساوات کو اہم سمجھتی ہیں تو انہیں ایسے ہر معاملے میں واضح موقف اختیار کرنا ہوگا جس میں ان بنیادی حقوق کا سوال پیدا ہو۔
اسی طرح مسلم تنظیموں کو بھی اپنی حکمتِ عملی پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف مذمتی بیانات، احتجاج اور جذباتی تقریروں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ انہیں قانون کی اصل دفعات کا مطالعہ کرنا چاہیے، آئینی ماہرین اور ممتاز وکلا سے مشورہ لینا چاہیے اور ضرورت پڑنے پر قانونی چارہ جوئی کے لیے مضبوط مقدمہ تیار کرنا چاہیے۔
اس سلسلے میں ایک مشترکہ قانونی و آئینی پلیٹ فارم بھی مؤثر ثابت ہو سکتا ہے، جہاں مختلف مسلم تنظیمیں، ماہرینِ قانون، دانشور اور سماجی کارکن مل کر قانونی صورتِ حال کا جائزہ لیں۔ اس سے ردِعمل زیادہ منظم ہوگا اور عوام کو بھی یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ اعتراض کس مخصوص قانونی شق پر ہے اور اس کے لیے کون سا آئینی راستہ اختیار کیا جا رہا ہے۔
عوامی سطح پر بھی مکالمے کا راستہ اختیار کرنا انتہائی اہم ہے۔ وندے ماترم کے معاملے کو ہندو مسلم تنازع بنانے سے مسئلہ مزید پیچیدہ ہوگا۔ ہندوستان ایک کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی ملک ہے، جہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے شہری ایک ہی آئینی نظام کے تحت زندگی گزارتے ہیں۔ قومی اتحاد کا تقاضا ہے کہ کسی شہری کی حب الوطنی کو اس کے مذہبی عقیدے سے الگ کرکے دیکھا جائے۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ حب الوطنی کا اظہار صرف کسی گیت یا نعرے سے نہیں ہوتا۔ ملک کے قانون کا احترام، ایمانداری سے اپنے فرائض انجام دینا، قومی املاک کی حفاظت، تعلیم اور ترقی میں حصہ لینا، ٹیکس ادا کرنا، دوسروں کے حقوق کا احترام کرنا اور آئین کے بنیادی اصولوں کی پاسداری کرنا بھی حب الوطنی کے اہم تقاضے ہیں۔ اس لیے وطن سے محبت کو صرف ایک مخصوص نعرے یا گیت کے ساتھ وابستہ کرنا مناسب نہیں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ وندے ماترم کے تاریخی کردار اور اس کے موجودہ قانونی معاملے کو الگ الگ سمجھا جائے۔ اس گیت نے آزادی کی تحریک میں اہم کردار ادا کیا، یہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔ اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کے بعض مذہبی مفاہیم پر اختلاف موجود رہا ہے۔ دونوں پہلوؤں کو تسلیم کیے بغیر اس مسئلے پر متوازن گفتگو ممکن نہیں۔
موجودہ صورتِ حال میں حکومت، اپوزیشن، سیکولر جماعتوں اور مسلم تنظیموں، سب کے لیے ایک واضح راستہ موجود ہے۔ حکومت کو قانون کی تشریح اور نفاذ میں آئینی حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔ اپوزیشن کو پارلیمنٹ میں مؤثر آئینی نگرانی کرنی چاہیے۔ سیکولر جماعتوں کو مذہبی آزادی اور شہری مساوات کے اصول پر واضح موقف اختیار کرنا چاہیے، جبکہ مسلم تنظیموں کو قانونی اور آئینی طریقے سے اپنے تحفظات پیش کرنے چاہئیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ کسی بھی شہری کی حب الوطنی کا فیصلہ اس بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے کہ وہ کسی مخصوص گیت کے ہر لفظ کو گاتا ہے یا نہیں۔ اسی طرح قومی علامتوں کے احترام کو بھی کم تر سمجھنا درست نہیں۔ ایک جمہوری معاشرے میں قومی احترام اور مذہبی آزادی، دونوں کو ساتھ لے کر چلنا ہی آئینی توازن کا تقاضہ ہے۔
وندے ماترم کے معاملے میں اصل ضرورت کسی فریق کو فتح دلانے کی نہیں بلکہ قانون کی واضح تشریح اور آئینی اصولوں کے تحفظ کی ہے۔ اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کرنے کے بجائے دلیل، قانون اور عدالتی عمل کے ذریعے حل تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی راستہ ہندوستان کی جمہوری روایت، مذہبی تکثیریت اور آئینی نظام کے لیے زیادہ موزوں ہے۔
ایسے میں سیکولر تنظیموں کے سامنے آج اصل امتحان یہی ہے کہ وہ سیاسی مصلحت سے بالاتر ہوکر آئینی اصولوں کا دفاع کس حد تک کرتی ہیں، جبکہ مسلم تنظیموں کے سامنے چیلنج یہ ہے کہ وہ جذباتی ردِعمل کے بجائے قانونی اور علمی تیاری کو اپنی حکمتِ عملی کا مرکز کیسے بناتی ہیں۔ اگر دونوں جانب سے آئین، قانون اور باوقار مکالمے کو ترجیح دی جائے تو وندے ماترم جیسا حساس مسئلہ قومی تقسیم کا سبب بننے کے بجائے ہندوستان کے جمہوری اور تکثیری کردار کو مزید مضبوط کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے