कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

غلطی، توبہ اور تعمیرِ شخصیت

Mistakes, Repentance, and Character Building

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

تمام تعریفیں اس اللہ ربّ العالمین کے لیے ہیں جس نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا، اسے عقل و شعور کی دولت سے نوازا، خیر و شر کی تمیز عطا کی، اور اپنی بے پایاں رحمت کے دروازے ہر اس بندے کے لیے کھلے رکھے جو اپنی لغزش پر نادم ہو کر اس کی بارگاہ میں رجوع کرے۔ درود و سلام ہوں حضرت محمدﷺ پر، جنہوں نے انسانیت کو یہ عظیم سبق دیا کہ انسان کی اصل عظمت اس کے بے خطا ہونے میں نہیں بلکہ اپنی خطا کو پہچان کر اس کی اصلاح کرنے میں ہے۔ انسان کی فطرت میں کمزوری بھی ہے اور عظمت بھی۔ وہ کبھی فرشتوں سے بڑھ جاتا ہے اور کبھی اپنی خواہشات کے ہاتھوں لغزش کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں ایسا کوئی انسان نہیں جس سے کبھی نہ کبھی کوئی غلطی سرزد نہ ہوئی ہو۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ لوگ اپنی غلطیوں سے سبق حاصل کر لیتے ہیں اور کچھ لوگ انہی غلطیوں کے گرد اپنی پوری زندگی کو قید کر لیتے ہیں۔
یہ حقیقت ذہن نشین رہنی چاہیے کہ خطا انسان کی فطری کمزوری ہے، لیکن گناہ پر اصرار اور اپنی غلطی کو حق ثابت کرنے کی ضد اس کی حقیقی تباہی ہے۔ اسلام انسان سے فرشتہ بننے کا مطالبہ نہیں کرتا، بلکہ یہ چاہتا ہے کہ جب اس سے لغزش ہو جائے تو وہ عاجزی، ندامت اور اخلاص کے ساتھ اپنے ربّ کی طرف رجوع کرے۔ اس حقیقت کی بہترین مثال حضرت آدم علیہ السلام کے واقعے میں ملتی ہے۔ آپؑ سے ایک اجتہادی لغزش ہوئی، لیکن جونہی اپنی کوتاہی کا احساس ہوا، فوراً بارگاہِ الٰہی میں جھک گئے، اپنی خطا کا اعتراف کیا، توبہ و استغفار کی، اور اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان کی توبہ قبول فرما لی۔ اس کے برعکس شیطان نے اپنی نافرمانی پر ندامت کے بجائے تکبر، ہٹ دھرمی اور خود پسندی کا راستہ اختیار کیا۔ اس نے اپنی خطا تسلیم کرنے کے بجائے اسے درست ثابت کرنے کی کوشش کی، اور یہی رویہ اس کی دائمی محرومی اور ہلاکت کا سبب بن گیا۔
گویا اسلام کی نگاہ میں انسان کی عظمت اس کے بے خطا ہونے میں نہیں، کیونکہ بے خطائی انبیائے کرام علیہم السلام کی خصوصی عطا ہے، بلکہ عام انسان کی فضیلت اس بات میں ہے کہ وہ اپنی لغزش کو پہچانے، اس پر شرمندہ ہو، اپنے ربّ کے حضور جھک جائے اور اپنی عملی زندگی کو سنوارنے کی مسلسل کوشش کرتا رہے۔ یہی رجوع الی اللہ، یہی توبہ اور یہی خود احتسابی درحقیقت تعمیرِ شخصیت کی مضبوط بنیاد ہے، جو انسان کو گناہوں کی تاریکی سے نکال کر تقویٰ، اخلاص اور قربِ الٰہی کی روشنی میں داخل کر دیتی ہے۔ انسان کی فطرت میں کمزوری بھی ہے اور عظمت بھی۔ وہ کبھی فرشتوں سے بڑھ جاتا ہے اور کبھی اپنی خواہشات کے ہاتھوں لغزش کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں ایسا کوئی انسان نہیں جس سے کبھی نہ کبھی کوئی غلطی سرزد نہ ہوئی ہو۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ لوگ اپنی غلطیوں سے سبق حاصل کر لیتے ہیں اور کچھ لوگ انہی غلطیوں کے گرد اپنی پوری زندگی کو قید کر لیتے ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ اپنی ماضی کی کوتاہیوں کو اس طرح اپنے وجود پر مسلّط کر لیتے ہیں جیسے ان کے لیے اب بہتری کا کوئی راستہ باقی ہی نہ ہو۔ وہ اپنے ضمیر کی عدالت میں خود ہی مجرم، خود ہی گواہ اور خود ہی سزا یافتہ بن جاتے ہیں، حالانکہ اسلام انسان کو مایوسی نہیں بلکہ امید، توبہ اور اصلاح کا پیغام دیتا ہے۔ قرآنِ مجید بار بار انسان کو یہ یقین دلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے گناہوں سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ سچی توبہ انسان کے ماضی کو معاف کروا دیتی ہے، بلکہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ گناہوں کو بھی نیکیوں میں تبدیل فرما دیتا ہے۔ یہی اسلام کی وہ انفرادی اور روحانی تربیت ہے جو انسان کو احساسِ جرم کی زنجیروں میں قید نہیں کرتی بلکہ اسے نئی زندگی عطا کرتی ہے۔
توبہ کی حقیقت اور اس کی عظمت کو قرآن و سنّت نے نہایت مؤثر انداز میں واضح کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اور وہ لوگ کہ جب ان سے کوئی بے حیائی کا کام ہو جائے یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھیں تو فوراً اللہ کو یاد کرتے ہیں، پھر اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں” (سورۂ آلِ عمران: 135)۔ یہ آیت اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ مومن کی پہچان گناہ سے معصوم ہونا نہیں، بلکہ لغزش کے بعد عاجزی، ندامت اور استغفار کے ساتھ اپنے ربّ کی طرف پلٹ آنا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں” (سورۂ ہود: 114)۔ یہ آیت بندۂ مومن کو امید، حوصلہ اور عملی اصلاح کا پیغام دیتی ہے کہ اخلاص کے ساتھ کی گئی توبہ، استغفار اور نیک اعمال گناہوں کے اثرات کو مٹا دیتے ہیں۔
احادیثِ نبویﷺ بھی توبہ کی روح کو نہایت بلیغ انداز میں بیان کرتی ہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: "ندامت ہی توبہ ہے”۔ یعنی دل کی حقیقی پشیمانی اور گناہ پر افسوس ہی سچی توبہ کی بنیاد ہے۔ نبی کریمﷺ نے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا یہ دل نشین منظر بیان فرمایا کہ: "اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جسے ویران صحرا میں اپنی گمشدہ اونٹنی اچانک واپس مل جائے”۔ یہ مبارک تعلیمات اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے۔ وہ اپنے بندوں کی واپسی کا منتظر رہتا ہے، اور جب کوئی بندہ اخلاص، ندامت اور امید کے ساتھ اس کی بارگاہ میں رجوع کرتا ہے تو وہ نہ صرف اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے بلکہ اس پر اپنی بے پایاں رحمتوں کے دروازے بھی کھول دیتا ہے۔ اس لیے مومن کو کبھی بھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہر لغزش کے بعد توبہ، استغفار اور نیک اعمال کے ذریعے اپنے ربّ سے تعلق کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
قرآنِ حکیم نے توبہ کے باب کو اس قدر وسعت، محبت اور امید کے ساتھ بیان کیا ہے کہ مایوسی کی ہر تاریکی چھٹ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں کو بھی، جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہو، رحمت سے محروم نہیں کرتا، بلکہ نہایت شفقت کے ساتھ انہیں مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ "اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بے شک اللہ تمام گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے، یقیناً وہی بڑا بخشنے والا، نہایت مہربان ہے” (الزمر: 53)۔ اسی طرح قرآن اعلان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں اور ظاہری و باطنی پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ (البقرۃ: 222) غور کیجیے! یہاں صرف توبہ کی قبولیت کا ذکر نہیں، بلکہ توبہ کرنے والوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی محبت کا مژدہ سنایا گیا ہے، اور بندۂ مؤمن کے لیے اس سے بڑھ کر سعادت اور کیا ہو سکتی ہے کہ اس کا ربّ اس سے محبت کرے۔
اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کی وسعت کا ایک اور حیرت انگیز پہلو بیان فرماتا ہے کہ جو لوگ اخلاصِ دل کے ساتھ توبہ کریں، ایمان و عملِ صالح کی راہ اختیار کریں، ان کے ماضی کے گناہوں کو بھی اپنی رحمت سے نیکیوں میں تبدیل فرما دیتا ہے۔ (الفرقان: 70) یہ صرف معافی کا اعلان نہیں، بلکہ گناہ گار انسان کے لیے امید، حوصلے اور نئی زندگی کا وہ عظیم پیغام ہے جو اسے مایوسی کی گہرائیوں سے نکال کر ایمان، اصلاح اور قربِ الٰہی کی شاہراہ پر گامزن کر دیتا ہے۔ یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ اچھے لوگ بھی کبھی غلط فیصلے کر بیٹھتے ہیں۔ حالات کی پیچیدگی، معلومات کی کمی، جذبات کی شدت یا وقتی کمزوری انسان سے ایسے فیصلے کروا دیتی ہے جن پر بعد میں اسے افسوس ہوتا ہے۔ لیکن کسی ایک غلط فیصلے کی بنیاد پر پورے انسان کو برا قرار دینا نہ انصاف ہے، نہ عقل مندی اور نہ ہی اسلامی مزاج کے مطابق ہے۔
رسولِ اکرمﷺ نے انسانوں کو ان کی لغزشوں کے باوجود امید دلائی۔ آپﷺ نے فرمایا کہ ہر انسان خطاکار ہے، اور بہترین خطاکار وہ ہیں جو توبہ کرتے ہیں۔ یہی حدیث انسان کو یہ پیغام دیتی ہے کہ غلطی انسان کی پہچان نہیں، بلکہ غلطی کے بعد اس کا رویہ اس کی اصل پہچان ہے۔ البتہ یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ توبہ محض زبان سے استغفار کے چند الفاظ دہرا دینے کا نام نہیں، بلکہ یہ دل، فکر اور عمل کی ایک ہمہ گیر کیفیت ہے۔ شریعتِ اسلامیہ نے توبۂ نصوح کے لیے چند بنیادی شرائط بیان فرمائی ہیں۔ سب سے پہلے انسان اپنے گناہ پر سچے دل سے نادم ہو، کیونکہ ندامت ہی توبہ کی روح ہے۔ پھر فوراً اس گناہ کو چھوڑ دے اور اس پر اصرار نہ کرے۔
اس کے ساتھ آئندہ دوبارہ اس گناہ کی طرف نہ لوٹنے کا پختہ عزم کرے۔ اور اگر اس کی کوتاہی کا تعلق بندوں کے حقوق سے ہو تو محض استغفار کافی نہیں، بلکہ جس کا حق تلف کیا ہو، اس کا حق ادا کرے یا اس سے معافی طلب کرے۔ جب توبہ ان شرائط کے ساتھ کی جائے تو وہ محض ایک وقتی جذبہ نہیں رہتی، بلکہ انسان کی زندگی میں حقیقی انقلاب، کردار کی پاکیزگی اور شخصیت کی تعمیر کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ غلطیاں دراصل زندگی کی وہ درسگاہ ہیں جہاں انسان تجربہ، بصیرت اور حکمت حاصل کرتا ہے۔ جو شخص کبھی ٹھوکر نہیں کھاتا، وہ راستوں کی دشواریوں کو بھی نہیں سمجھ پاتا۔ اس لیے بعض اوقات ایک تلخ تجربہ برسوں کی نصیحت سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ بشرطیکہ انسان ضد، انا اور ہٹ دھرمی کے بجائے عاجزی کے ساتھ اپنی اصلاح کا راستہ اختیار کرے۔
اسلام خود احتسابی کی تعلیم دیتا ہے۔ ایک مومن ہر روز اپنے اعمال کا جائزہ لیتا ہے، اپنی کمزوریوں کو پہچانتا ہے اور انہیں دور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ مسلسل محاسبہ ہی شخصیت کی تعمیر کرتا ہے۔ جو شخص اپنی غلطی تسلیم کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے، حقیقت میں وہی ترقی کی منزلیں طے کرتا ہے، کیونکہ اعترافِ خطا کمزوری نہیں بلکہ اخلاقی قوت کی علامت ہے۔ اسلامی تربیت کا ایک بنیادی ستون محاسبۂ نفس ہے۔ ایک سچا مومن دوسروں کا احتساب کرنے سے پہلے اپنے دل، نیت، کردار اور اعمال کا جائزہ لیتا ہے۔ اسی احساسِ ذمّہ داری نے صحابۂ کرامؓ کی ایسی عظیم جماعت تیار کی، جس نے پہلے اپنی اصلاح کی اور پھر دنیا کی اصلاح کا فریضہ انجام دیا۔
اسی حقیقت کو نہایت بلیغ انداز میں حضرت عمر بن خطاب نے یوں بیان فرمایا: "اپنا محاسبہ خود کر لو، اس سے پہلے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے، اور اپنے اعمال کو خود تول لو، اس سے پہلے کہ وہ تمہارے لیے تولے جائیں”۔ یہی مسلسل خود احتسابی انسان کو غفلت سے بیدار، غرور سے محفوظ اور گناہوں سے دور رکھتی ہے۔ جو شخص روزانہ اپنے اعمال کا جائزہ لیتا ہے، اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرتا ہے اور ان کی اصلاح کی کوشش کرتا رہتا ہے، وہ بتدریج ایک مضبوط، باکردار اور اللہ تعالیٰ کا مقرب بندہ بن جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسروں کے ساتھ ہمارا رویہ بھی نہایت اہم ہے۔ جس طرح ہم چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری لغزشوں کو معاف فرمائے، اسی طرح ہمیں بھی دوسروں کی خطاؤں سے درگزر کرنا چاہیے۔ کسی کے ماضی کو ہمیشہ کے لیے اس کی شناخت بنا دینا اسلامی اخلاق کے منافی ہے۔
اسلام اصلاح کا دروازہ کھولتا ہے، تحقیر اور مایوسی کا نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسروں کی لغزشوں کے بارے میں ہمارا طرزِ عمل بھی اسلامی تعلیمات کا آئینہ دار ہونا چاہیے۔ کسی انسان کی ایک غلطی کو اس کی پوری شخصیت کا عنوان بنا دینا انصاف، دیانت اور حسنِ اخلاق کے خلاف ہے۔ ہر انسان میں اصلاح کی صلاحیت موجود ہوتی ہے، اس لیے اس کے ماضی کے بجائے اس کے حال اور مستقبل کو بھی دیکھنا چاہیے۔ اسلام عیب جوئی کے بجائے خیر خواہی، نفرت کے بجائے شفقت اور تشہیر کے بجائے اصلاح کا درس دیتا ہے۔ اسی لیے اسلامی معاشرے میں پردہ پوشی کو ایک عظیم اخلاقی وصف قرار دیا گیا ہے۔ رسولِ اکرمﷺ نے فرمایا کہ "جو شخص کسی مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے عیبوں پر پردہ ڈالے گا”۔
اس ارشادِ نبویؐ سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کی کمزوریوں کو اچھالنے اور اسے رسوا کرنے کے بجائے اس کی اصلاح کی فکر کرنا، اس کی عزّتِ نفس کا تحفّظ کرنا اور خیر خواہی کے جذبے سے اس کا ہاتھ تھامنا ہی اسلامی اخلاق کا تقاضا ہے۔ خصوصاً موجودہ دور میں، جب سوشل میڈیا کے ذریعے کسی کی ایک لغزش کو لمحوں میں پوری دنیا کے سامنے پہنچا دیا جاتا ہے، ہمیں پہلے سے کہیں زیادہ احتیاط، تقویٰ اور احساسِ ذمّہ داری کی ضرورت ہے۔ ایک مومن کا شیوہ یہ ہے کہ وہ تنقید برائے تنقید کے بجائے خیر خواہی کو اپنا شعار بنائے، لوگوں کی اصلاح کا ذریعہ بنے، ان کی عزّت و آبرو کی حفاظت کرے اور ایسا ماحول پیدا کرے جہاں گناہ گار بھی مایوس ہونے کے بجائے توبہ، اصلاح اور نیکی کی طرف لوٹنے کا حوصلہ پا سکے۔
آج کے دور میں سوشل میڈیا اور عوامی زندگی نے ایک اور خطرناک رجحان پیدا کر دیا ہے کہ کسی ایک غلطی کی بنیاد پر کسی شخصیت کو ہمیشہ کے لیے مجرم قرار دے دیا جاتا ہے۔ حالانکہ عدل کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کے پورے کردار، اس کی ندامت، اصلاح اور بعد کی زندگی کو بھی دیکھا جائے۔ اسلام انسان کو اس کی توبہ اور اصلاح کے بعد ایک نئی ابتداء کا حق دیتا ہے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ شیطان کی سب سے بڑی کامیابی صرف گناہ کروانا نہیں بلکہ انسان کو اللہ کی رحمت سے مایوس کر دینا ہے۔ جب انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اب میرے لیے واپسی کا کوئی راستہ نہیں، تب وہ مزید گمراہی کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔ اس کے برعکس ایمان انسان کے دل میں ہمیشہ امید کا چراغ روشن رکھتا ہے کہ جب تک سانس باقی ہے، اصلاح، توبہ اور اللہ کی رضا کا راستہ بھی کھلا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ شیطان کی سب سے خطرناک چال صرف انسان کو گناہ میں مبتلا کرنا نہیں، بلکہ گناہ کے بعد اسے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس کر دینا ہے۔ کیونکہ جب انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اب اس کی بخشش ممکن نہیں، یا اس کے لیے واپسی کے تمام راستے بند ہو چکے ہیں، تو وہ اصلاح کی کوشش بھی ترک کر دیتا ہے اور گناہوں کے اندھیروں میں مزید گم ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں شیطان اپنی سب سے بڑی کامیابی حاصل کرتا ہے۔ اس کے برعکس ایمان انسان کے دل میں امید، رجوع اور حسنِ ظن کا چراغ روشن رکھتا ہے۔ ایک صاحبِ ایمان جانتا ہے کہ جب تک زندگی کی مہلت باقی ہے، توبہ، اصلاح اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا دروازہ بھی کھلا ہے۔ اسی یقین کی قوت اسے ہر لغزش کے بعد دوبارہ اٹھنے، اپنی کمزوریوں پر قابو پانے اور نئے عزم کے ساتھ نیکی کی راہ پر چلنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مایوسی انسان کو جمود اور ہلاکت کی طرف لے جاتی ہے، جبکہ امید اسے ہر نئے دن ایک نئی ابتدا، بہتر کردار اور اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔
یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ تاریخ کی عظیم شخصیات کی درخشاں کامیابیوں کے پس منظر میں بے شمار آزمائشیں، ناکامیاں، لغزشیں اور تلخ تجربات پوشیدہ ہوتے ہیں۔ وہ ہر ٹھوکر سے سبق سیکھتے، ہر ناکامی کے بعد نئے عزم کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوتے اور اپنی کمزوریوں کو اپنی قوت میں تبدیل کر لیتے تھے۔ اس لیے وقتی ناکامی یا غلط فیصلہ انسان کی منزل کا اختتام نہیں، بلکہ اگر وہ صبر، بصیرت اور خود احتسابی کے ساتھ اس سے سبق حاصل کرے تو یہی تجربہ آئندہ کامیابی کی مضبوط بنیاد بن جاتا ہے۔ درحقیقت ناکامی انجام کا نام نہیں، بلکہ بہتر منصوبہ بندی، پختہ عزم اور بلند کردار کے ساتھ ایک نئی اور زیادہ روشن ابتداء کی تیاری کا نام ہے۔
مومن کی زندگی کا حسن بھی یہی ہے کہ وہ ہر آزمائش اور ہر لغزش کو اپنے ربّ کی طرف مزید رجوع، اپنی شخصیت کی تعمیر اور اپنی منزل کے مزید قریب ہونے کا ذریعہ بنا لیتا ہے۔ لہٰذا اگر ماضی میں کوئی غلطی ہوئی ہے تو اس سے سبق حاصل کیجیے، اس پر سچی توبہ کیجیے، نقصان کی تلافی کی کوشش کیجیے اور پھر اعتماد، اخلاص اور عزم کے ساتھ آگے بڑھیے۔ زندگی کا حسن اسی میں ہے کہ انسان ہر دن خود کو پہلے سے بہتر بنانے کی کوشش کرے۔ ماضی سے سبق لینا دانش مندی ہے، مگر ماضی میں قید ہو جانا کمزوری ہے۔
یہ حقیقت ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ انسان کی قدر اس کی بے خطائی سے نہیں بلکہ اس کے اخلاص، توبہ، مسلسل اصلاح اور نیکی کی طرف پیش قدمی سے ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب وہ بندہ ہے جو بار بار اس کی طرف رجوع کرتا ہے، اپنی لغزشوں سے سبق سیکھتا ہے اور ہر نئے دن کو اپنی شخصیت کی تعمیر، اپنے کردار کی پاکیزگی اور اپنے ربّ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بنا لیتا ہے۔ یاد رکھیے! انسان کی حقیقی شکست لغزش میں نہیں، بلکہ لغزش کے بعد مایوسی، بے حسی اور اصلاح کا راستہ چھوڑ دینے میں ہے۔ جو شخص ہر ٹھوکر کے بعد سنبھل جاتا ہے، ہر گناہ کے بعد سچی توبہ کرتا ہے، ہر ناکامی سے سبق سیکھتا ہے اور ہر نئے دن اپنے ربّ کی طرف رجوع کرتے ہوئے بہتر انسان بننے کی کوشش کرتا ہے، وہی درحقیقت کامیاب اور اللہ تعالیٰ کا محبوب بندہ ہے۔
توبہ ماضی کی تاریکیوں کو رحمتِ الٰہی کے نور سے منور کر دیتی ہے، اخلاص حال کو پاکیزگی اور وقار عطا کرتا ہے، جب کہ استقامت مستقبل کو امید، کامیابی اور قربِ الٰہی سے آراستہ کر دیتی ہے۔ اس لیے اپنی لغزشوں کو اپنی مستقل شناخت نہ بنائیے اور نہ ہی ماضی کی زنجیروں میں خود کو قید کیجیے، بلکہ اپنی سچی توبہ، پاکیزہ کردار، مسلسل خود احتسابی اور مثبت تبدیلی کو اپنی اصل پہچان بنائیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو دنیا میں عزّت، دل کا اطمینان اور آخرت میں اپنے ربّ کی رضا و مغفرت سے ہم کنار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرنے، سچی توبہ نصیب فرمانے، اپنی اصلاح کی توفیق عطا کرنے اور ایسا پاکیزہ کردار عطا فرمائے جو دنیا و آخرت میں ہماری کامیابی کا ذریعہ بنے۔ آمین۔
🗓 (09.07.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے