कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

خانگی و کارپوریٹ اسکولس کی من مانی کے خلاف اقدمات ناگزیر

مہنگی تعلیم اور والدین پر بڑھتا بوجھ

تحریر: سید سرفراز احمد

مہنگائی کے اس دور میں پورے خاندان کی کفالت کرنا صدر خاندان کے لیئے ایک مشکل ترین کام ہے۔ لیکن صدر خاندان اس مشکل ترین کام کو بھی حتی الامکان ممکن بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس فرد کے لیئے نہ صرف اپنے خاندان کو دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنا ہوتا ہے بلکہ امور خانہ داری کی ہر چھوٹی چیز سے لے کر بڑی بڑی اشیاء کا بھی پورا انتظام کرنا ہوتا ہے۔ آج کے حالات اس قدر سنگین ہے کہ بازار کی اشیاۓ ضروریات کی قیمتوں کو دیکھ کر کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے۔ یہ درد ایک صدر خاندان سے بہتر کوئی اور نہیں جان سکتا۔ لیکن پھر بھی وہ اپنے خاندان کی کفالت کرنے سے پیچھے نہیں ہٹتا۔ حالات چاہے کیسے ہی ہوں ایک مرد جو باپ اور شوہر کے روپ میں ہر حال میں جینا سیکھ جاتا ہے۔ موجودہ حالات ایک مرد کے لیئے ایسے ہی ہیں کہ جس کی آمدنی آٹھنی اور خرچہ روپیہ کے مترادف ہے۔ ایسے میں ایک باپ کے لیئے اپنے بچوں کو اس دور کی مہنگی تعلیم سے آراستہ کرنا کسی بوجھ سے کم نہیں ہے۔جس سے والدین نہ صرف پریشان بلکہ ذہنی تناؤ کا شکار بھی ہورہے ہیں۔
ایک دور تھا تعلیم کی کوئی قیمت نہیں ہوا کرتی تھی۔ بلکہ تعلیم کو عبادت سمجھ کر اساتذہ اپنے حصہ کی شمع روشن کرتے تھے۔ اُس دور میں ایک گھر کے سات آٹھ طلبہ بھی معیاری تعلیم حاصل کرلیتے تھے۔ اور والدین پر اس کا کوئی بوجھ بھی نہیں ہوتا تھا۔ لیکن آج کے اس دور میں تعلیم اچھی خاصی آمدنی کا ذریعہ بن چکی ہے۔ والدین کے لیئے تین بچوں کی تعلیم کو بھی پورا کرنا ایک بڑا بوجھ بن گیا ہے۔ ہاں اردو مدارس میں یہی تعلیم آج بھی اسی طرح معیاری طور پر جاری ہے۔ نہ والدین پر بوجھ بنتی ہے نہ کسی کو تعلیم سے محروم کرتی ہے۔ لیکن عصری تقاضوں کی تکمیل کے لیئے والدین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کا بچہ انگلش میڈیم کی تعلیم حاصل کرتے ہوۓ قابل بنے اور ترقی کرے۔ لیکن والدین کی یہی خواہش ان کے لیئے بوجھ بن چکی ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ خانگی و کارپوریٹ انگلش میڈیم اسکولس میں تعلیم کے نام پر لوٹ کھسوٹ مچی ہوئی ہے۔ داخلہ فیس سے لے کر سالانہ فیس کتابیں اور اسکول یونی فارم یہ سب اسکولس انتظامیہ کی طرف سے بھاری رقم وصول کرتے ہوۓ دیا جاتا ہے۔ جو غریب اور متوسط طبقہ کے والدین کے لیئے کسی وزنی پہاڑ کے مترادف بوجھ بن چکا ہے۔
معمولی نرسری کے طلبہ کے لیئے چار تا پانچ ہزار کی کتابیں، تیس سے چالیس ہزار کی سالانہ فیس اور بھاری رقم پر یونی فارم، مجموعی طور پر اوسطاً ایک نرسری کے طالب علم کے لیئے سالانہ پچاس ہزار کا خرچ ایک والد کو اٹھانا ہے۔ اگر کسی کے تین یا چار بچے الگ الگ کلاسس میں پڑھتے ہوں تو سالانہ دو سے ڈھائی لاکھ بچوں کی تعلیم پر صرف کرنا ہوگا۔ ورنہ بچوں کو انگلش میڈیم میں پڑھانے کا ان کا اپنا خواب ادھورا بن کر رہ جاۓ گا۔ اسی انگلش میڈیم میں تصویر کا دوسرا رخ مسلم منیجمنٹ کے اوسط درجہ کے خانگی اسکولس ہیں۔ جہاں والدین تعلیم کا معیار جانچ کرکے اپنے بچوں کو داخلہ دلا سکتے ہیں۔ لیکن ایسے اسکولس سے والدین کو کچھ خامیوں کو لے کر شکایت رہتی ہے۔ لہذا مسلم منتظمین کو چاہیئے کہ وہ اپنی خامیوں کو دور کرتے ہوۓ تعلیم کے معاملے میں اتنے معقول انتظامات کریں کہ کوئی بھی سرپرست آپ کے اسکول کو اپنی اولین ترجیح میں شامل کرسکے۔
مہنگی تعلیم والدین کے لیئے بوجھ بن چکی ہے۔سوال یہ ہے کہ اس سے نکلنے کا حل کیا ہے؟ تلنگانہ حکومت نے خانگی و کارپوریٹ اسکولس کی من مانیوں کے خلاف فیس ریگولیشن بل کو تجویز کیا ہے۔ جس کو تلنگانہ ایجوکیشن کمیشن نے تلنگانہ پرائیویٹ ان ایڈیڈ فیس ریگولیٹری اینڈ مانیٹرنگ کمیشن بل2025 کا مسودہ تیار کرکے حکومت کو پیش کیا تھا۔تاہم اسکول فیس کو باقاعدہ بنانے والا یہ بل ابھی تک قانونی شکل اختیار نہیں کرسکا۔اس بل میں یہ تجاویز شامل ہے کہ اسکولس کی فیس میں اضافہ ہر دو سال میں 8 فیصد تک محدود کیا جاۓ۔ داخلہ فیس کی نگرانی کی جاۓ۔فیس کی وصولی کو طلبہ کے معیار تعلیم اور اسکول کی سہولیات سے جوڑا جاۓ۔والدین کو کسی بھی طرح کی لوٹ مار، زائد فیس، جبراً کتابیں اور یونی فارم اسکول میں خریدنے پر مجبور کرنا وغیرہ کے لیئے آن لائن شکایت درج کرنے کے لیئے پلیٹ فارم دستیاب کرنا شامل ہیں۔باوجود اس کے اس قانون پر عمل آواری نہ ہوگی تو اس اسکول کی مسلمہ حیثیت (Recognition)منسوخ کردی جاۓ گی۔
تلنگانہ حکومت نے اس بل کو نافذ کرنے کے لیئے فروری 2026 میں اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیئے تھے۔ اور خانگی و کارپوریٹ اسکولس کو متنبہ کیا تھا کہ اگر مقررہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی گئی تو اجازت نامے منسوخ کردیئے جائیں گے۔ جب کہ نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوچکا ہے لیکن اسکولس منتظمین پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ بلکہ وہ اپنی من مانی چلانے میں مصروف ہیں۔ اور نہ ہی تلنگانہ سرکار کی جانب سے اس بل کو قانونی شکل دی گئی۔ اگر اس بل کو قانونی شکل دی جاتی تو شائد آج والدین پر فیس کا بوجھ کم ہوجاتا اور خانگی و کارپوریٹ اسکولس اپنی من مانی فیس وصول کرنے سے گریز کرتے۔ سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ حکومت کے پاس فیس ریگو لیشن بل موجود ہونے کے باوجود وہ اس کو قانوی شکل دینے سے کیوں گریز کر رہی ہے؟ جس کا جواب تو سرکار ہی دے سکتی ہے۔ لیکن والدین پر اپنے بچوں کی فیس کا بوجھ جوں کا توں برقرار ہے۔ بلکہ ہر سال فیس میں بھاری اضافہ کیا جارہا ہے۔ جب کہ سرکار کی تجویز دو سال میں آٹھ فیصد فیس کے بڑھانے کو پوری طرح سے نظر انداز کیا گیا۔
ہم دیکھتے ہیں کہ جیسے ہی تعلیمی سال کا آغاز ہوتا ہے تو کچھ تنظیمیں تعلیمی میدان میں سرگرم ہوجاتی ہیں۔ ویسے ہی اس سال بھی بی جے پی کی اساتذہ تنظیم اے بی وی پی کی جانب سے بڑھتی فیس اور کتابوں کے اسکول میں فروخت کرنے پر ہنگامہ آرائی کی گئی۔ اے بی وی پی کے کارکنوں نے ریاست کے مختلیف مقامات پر اسکولس پہنچ کر شور شرابہ کیا۔ کہیں اسکولس کے بک اسٹورس کو سِل کیا۔ کہیں اسکولس منتظمین پر غصہ کا اظہار کیا۔ اور ایک دن ریاست گیر سطح پر اسکولس کے بند کا اعلان بھی کیا۔ اے بی وی پی نے دو چار دن اسکولس منتظمین کو ڈرایا دھمکایا اور پھر پتہ نہیں ایسا کیا ہوا اور اس نے اپنے جوش کو ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا۔ اے بی وی پی کی اس ہٹ دھرمی سے خانگی و کارپوریٹ اسکولس پر کچھ اثر نہیں ہوا۔ اور نہ ہوسکتا۔ کیوں کہ اس کے لیئے حکومت کو سنجیدہ ہونا پڑے گا۔ جب تک حکومت اس معاملے میں سنجیدہ نہیں ہوگی تب تک والدین کے سر پر سے مہنگی تعلیم کا بوجھ نہیں اتر سکتا۔
یہ بات والدین کو ذہن نشین کرنی چاہیئے کہ رائٹ ٹو ایجوکیشن (RTE) ایکٹ 2009 کے تحت خانگی (پرائیویٹ) اسکولس میں غریب اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے بچوں کے لیے 25 فیصد نشستیں مختص کرنا لازمی ہے۔ سپریم کورٹ کا بھی یہ فیصلہ ہے کہ کوئی بھی خانگی اسکول حکومت کی طرف سے الاٹ کیئے گئے غریب بچوں کو داخلہ دینے سے انکار نہیں کرسکتا۔ہاں ایک بات ضرور ہے اقلیتی ادارے اس 25 فیصد کوٹے کے قانون سے مستشنیٰ ہیں۔لیکن خانگی و کارپوریٹ اسکولس کا معاملہ اس قانون سے بالکل مختلیف نظر آتا ہے۔ جہاں 25 فیصد غریب بچے تو بہت دور کی بات ہے بلکہ ایک دو فیصد کا بھی داخلہ نہیں لیا جاتا۔ لہذا عملی طور پر یہ قانون کہیں بھی نظر نہیں آتا۔دوسری بات یہ کہ خانگی اسکولس نے بازار کے بک اسٹورس کی روزی روٹی کے ساتھ بھی نا انصافی کی ہے۔ کیوں کہ اسکول خود یا اپنے متعین کردہ بُک اسٹور پر مہنگے دام پر کتابیں فروخت کر رہا ہے۔ جس سے عام بک اسٹورس کا بھی اچھا خاصہ نقصان ہورہا ہے۔
خانگی و کارپوریٹ طرز کے اسکولس کی حالت دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایسے اسکولس میں تعلیم کے نام پر بڑی تجارت کی جارہی ہے۔ کئی اسکولس سے والدین اپنے بچوں کی کتابیں لاکر ویڈیو بناکر سوشیل میڈیا پر اپ لوڈ بھی کررہے ہیں۔ جس میں تیس صفحات سے پچاس صفات کی کتابوں کی پرنٹ قیمت اس کتاب سے دو گنا ذیادہ ہے۔ اوسطاً اپر پرائمری کلاس کی کتابیں و نوٹ بکس کا کُل پکیج نو ہزار تا دس ہزار ہے۔ جب کہ یہ تین سے چار ہزار کے درمیان متوقع ہے۔ خانگی انگلش میڈیم اسکولس کا یہ حال اضلاع سے لے کر شہروں تک پھیلا ہوا ہے۔ اور دن بہ دن ایسے اسکولس میں اضافہ بھی ہوتا جارہا ہے۔ لہذا حکومت فوری اس جانب توجہ دیتے ہوۓ اس فیس ریگو لیشن بل کو قانونی حیثیت دیتے ہوۓ آئندہ سال والدین کے لیئے راحت فراہم کرے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے