कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اپنے گھروں میں اسلام اور انسانیت کے خدام پیدا کیجئے!

تحریر:سرفرازاحمدقاسمی، حیدرآباد
رابطہ: 8099695186

رمضان المبارک کی مقدس اور بابرکت ساعتیں جاری ہیں،اس مقدس ماہ میں بہت سے لوگوں کے ٹائم ٹیبل اور روٹنگ تبدیل ہوجاتی ہے اور ہونا بھی چاہئے کیونکہ اس مہینے میں مسلمانوں سے اسلام بہت ساری چیزوں کا مطالبہ کرتاہے،یہ مہینہ دوسرے عام مہینوں کی طرح ہرگز نہیں ہے،اس ماہ کے شب و روز خصوصی اہمیت کے حامل ہیں،اس کا ایک ایک لمحہ انتہائی قیمتی ہے،لہذا یہی وجہ ہے کہ خوب ناپ تول کر اس کے اوقات کو خرچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے،بے مصرف اور ناقدری کے ساتھ ہرگز اس مہینے کو ضائع نہ کیاجائے،ماہ رمضان کی ایک خصوصیت اس ماہ کا روزہ بھی ہے،روزے کا مقصد اور فلسفہ بیان کرتے ہوئے حضرت شاہ ولی اللہ صاحب فرماتے ہیں: "عبادت کا ایک طریقہ روزہ ہے۔ روزہ کی حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے معبود کے لیے شدید و ثقیل مشقت اٹھانے کے لیے تیار ہو جائے۔اس کا فلسفہ یہ ہے کہ انسان جب کسی سے سخت دل بستگی اور قلبی محبت کرتا ہے تو پھر اس بات کی پرواہ بالکل نہیں کرتا کہ اس کی اپنی زندگی اور مرافقِ حیات درست ہیں یا نہیں اور وہ عیش و آرام میں ہے یا تکلیف و رنج میں”۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن تقریر فرمائی،جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کی تعریف فرمائی کہ یہ لوگ دوسروں کو دین کی باتیں بتاتے ہیں پھر فرمایا کہ ایسا کیوں ہے کہ کچھ لوگ اپنے پڑوسیوں میں دینی سوجھ بوجھ پیدا نہیں کرتے،ان کو تعلیم نہیں دیتے،ان کو نصیحت نہیں کرتے،بری باتوں سے کیوں نہیں روکتے؟ اور ایسا کیوں ہے کہ کچھ لوگ دین کی باتیں نہیں سیکھتے؟ کیوں اپنے اندر دینی سمجھ پیدا نہیں کرتے؟ اپنی اولاد کے اندر دینی جذبہ پیدا نہیں کرتے؟ خدا کی قسم لوگوں کو آس پاس کی آبادی اور اپنے حلقے کو دین سکھانا ہوگا،ان کے اندر دینی شعور پیدا کرنا ہوگا،وعظ و تلقین کا کام کرنا ہوگا اور لوگوں کو لازما اپنے قریب کے لوگوں سے دین سیکھنا اور سکھانا ہوگا،اپنے اندر دینی سوجھ بوجھ پیدا کرنی ہوگی اور وعظ و نصیحت قبول کرنا ہوگا،ورنہ میں انہیں اس دنیا میں جلد سزا دوں گا۔اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم ممبر سے اتر آئے،لوگوں میں چہ می گوئیاں ہونے لگی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا روئے سخن کن لوگوں کی طرف تھا، کچھ لوگوں نے کہا آپ کا اشارہ قبیلہ اشعر کی طرف تھا،یہ لوگ دین کا علم رکھتے ہیں،ان کے قریب دین سے ناواقف و بے پرواہ دیہاتی بستے ہیں اور اشعری لوگ دعوت و تبلیغ سے غافل ہیں،جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تقریر کی خبر اشعری لوگوں کو ہوئی تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا یارسول اللہ! ہم سے کیا قصور سرزد ہوا کہ آپ ہم پر غضب ناک ہوئے؟ کیا تعلیم و تبلیغ بھی ہماری ذمہ داری ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا! ہاں یہ بھی تمہاری ذمہ داری ہے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی،لعن الذین کفرو امن بنی اسرائیل(طبرانی) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر جو آیت تلاوت فرمائی،اس سے ہم لوگوں کو یہ بتانا مقصود ہے کہ بنی اسرائیل نے نافرمانی کرنے والوں کو نہیں روکا جس کے نتیجے میں خدا کا غصہ ان پر بھڑکا،تم نے اگر ان کی طرح نافرمانوں کا ہاتھ نہ پکڑا اور غلط قسم کی رواداری برتی تو تم بھی اس کے غضب کے شکار ہو گے،اس کی روشنی میں ہم میں سے ہر ایک کو دین سمجھنے اور سمجھانے کی فکر کرنی ہوگی اور تعلیم و تبلیغ کے فریضے کو ہرحال میں انجام دینا ہوگا،یہی راستہ خدا کے غضب سے بچنے اور اس کی رضا کو حاصل کرنے کاہے،اس لئے اپنی خاص جدوجہد سے ہم میں سے ہرایک کو اس چراغ کو جلائے رکھناہوگا،یہ چراغ جلتا رہے،ہم سبکو اسکی جدو جہد اور کوشش کرنی ہوگی۔
بچوں کا ذہن،بچے کے اخلاق و عادات،اطوار،رہن،سہن اور اس کا دین ماں باپ کی تربیت اور تعلیم سے متاثر ہوتاہے،جیسا والدین کی تعلیم و تربیت کا طریقہ ہوگا،اسی طریقے پر بچے کی نشونما ہوپائے گی،قیامت کے دن باپ سے اولاد کے بارے میں سوال ہوگا کہ تم نے اس بچے کو کیا کیا تعلیم دی تھی؟ کیسی تہذیب اور کیسا ادب سکھایا تھا؟ لہذا اولاد کی جسمانی پرورش کے بعد ہروالدین کا سب سے بڑا فرض اور سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ انہیں اس قابل بنایا جائے کہ وہ خدا کی بارگاہ میں معزز ہوں،وہ جہنم سے خود بھی محفوظ رہیں اور دیگر لوگوں کی حفاظت کا ذریعہ بھی بنیں۔ایک مرتبہ حضرت عبداللہ ابن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ نے اپنے بچوں کو بلا کر زیتون کا تیل دیا اور فرمایا کہ سر پر اس کی مالش کرو،بچوں نے سر پر تیل لگانے سے انکار کر دیا،راوی کا بیان ہے کہ انہوں نے لکڑی لی اور بچوں کو مارنا شروع کیا،صحابی رسول،بچوں کو مارتے جاتے اور فرماتے جاتے تھے کیا تم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تیل لگانے کی سنت سے اعراض کرتے ہو؟ یہ ہے تربیت کا نبوی طریقہ اور سنت کی عظمت،جو ہر ماں باپ پر لازم ہے،تربیت کی ذمہ داری ماں پر زیادہ ہے کیونکہ باپ،بیوی اور بچوں کی ضروریات پوری کرنے کی فکر میں کمانے کے لئے گھر سے باہر چلا جاتا ہے، ماں گھر میں رہتی ہے،اس لیے ماں کو چاہیے کہ اولاد کی تعلیم و تربیت اور ان کی نقل و حرکت پر کڑی نگاہ رکھے،وہ خود بھی دیندار بنے اور اپنے بچوں کی تربیت بھی اسی خطوط پر کرے، اگر ماں نیک ہے جھوٹ نہیں بولتی، گالیاں نہیں دیتی،صبح سویرے نیند سے اٹھ جاتی ہے،نماز روزے کی پابند ہے،قرآن حکیم کی تلاوت کرتی ہے،تو انکے بچوں اور بچیوں کے اندر بھی اس قسم کے اوصاف حمیدہ پیدا ہوجاتے ہیں،جواسلام کا تقاضہ اور وقت کی اہم ضرورت ہے،اور اگر ماں جھوٹ بولتی ہے،بدزبان ہے،بدخلاق ہے اور دین کے احکام پر کاربند نہیں ہے تو بچوں کے اندر بھی یہی بری خصلتیں پیدا ہوں گی اور بچپن کی یہ برائیاں اخیر عمر تک رہیں گی جن کے برے نتائج دنیا و آخرت دونوں جگہ میں انہیں بھگتنے ہوں گے۔یہ سب گھر کے ماحول کا ثمرہ ہے،اس لیے نہایت ضروری ہے کہ ماں باپ خود بھی برائیوں سے بچتے رہیں،اپنی اولاد کو بھی بچاتے رہیں اور انہیں اچھی و معیاری تعلیم و تربیت سے آراستہ کرنے کا خاص اہتمام کریں،آج ہم جن نازک حالات کا سامنا کررہے ہیں،اسلام اور مسلمان جن تشویشناک حالات سے گذررہے ہیں،ایسے میں اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ اس وقت ہم اپنے گھروں میں اسلام اور انسانیت کے خدام پیدا کریں اور یہ اسی وقت ممکن ہے،جب والدین اپنی اولاد کی صحیح اور درست تربیت کریں،اسلام کے نقوش پر اپنی اولاد کو پروان چڑھائیں۔
نئی جنریشن اور نئے پیدا ہونے والے بچوں کی شروع ہی سے ایسی تربیت کی جائے کہ ان کے قلب و دماغ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و محبت سے رنگے ہوئے ہوں، بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے بھی حکیم الحکماء رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اصول وضع فرمائے ہیں وہ ایسے فطری اور مؤثر ہیں کہ بغیر کسی مشقت کے بچے کے نشونما کے ساتھ ساتھ اس کا ذہنی اور اخلاقی ارتقا خود بخود ہوتا چلا جائے۔سب سے پہلا کام جو بچے کی پیدائش کے متصل ماں باپ پر لازم کیا گیا وہ یہ کہ اس کے داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی جائے،نری فلسفہ تبلیغ کے پرستار تو کہیں گے کہ یہ تو فضول حرکت ہے،جو بچہ ابھی اپنی ماں کی زبان بھی نہیں سمجھتا اس کے کان میں حی علی الفلاح کے عربی جملے ڈالنے سے کیا فائدہ؟ مگر حقیقت شناس لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ الفاظ درحقیقت ایمان کا بیج ہیں،جو کان کے راستے سے بچے کے دل میں ڈالا گیا ہے اور یہی بیج پرورش پا کر کسی وقت تناور درخت بنے گا،دوسرا کام یہ کہ جب بچہ زبان کھولنے لگے تو اس کو سب سے پہلے اللہ کا نام سکھاؤ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے بچوں کی زبان کلمہ لا الہ الا اللہ سے کھلواؤ اور یہی کلمہ موت کے وقت ان کو یاد دلاؤ،گویا دنیا میں دخول و خروج اسی کلمہ لا الہ الا اللہ کے ساتھ ہونا چاہیے،پھر جب کچھ سمجھنے،بوجھنے کے قابل ہوجائے تو اللہ تعالی کی عظمت و محبت اس کے دل نشیں کرے اور سنت کے مطابق ادب و تہذیب سکھائے،بچوں کے سامنے جھوٹ بولنے اور غیبت وغیرہ کرنے سے بھی پرہیز کرے کہ بچہ ان بری خصلتوں کا عادی نہ بن جائے،بچے کے ہاتھ سے اچھے کاموں میں خرچ کرائے کہ بخل اس کی طبیعت میں جگہ نہ پائے،رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی باپ نے اپنے بیٹے کو اچھے اخلاق سے بہتر کوئی اچھی دولت نہیں بخشی اور فرمایا کوئی شخص اپنے بچے کو ادب و تہذیب سکھائے یہ اس سے بہتر ہے کہ ہر روز بقدر ایک فطرہ کے مساکین پر صدقہ کیا کرے۔
پندرہ سولہ سال قبل پڑوس کے معروف عالم دین حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب ہندوستان کے دورے پر تشریف لائے تھے اور انہوں نے دارالعلوم دیوبند کا دورہ بھی کیا تھا،اس موقع پر دارالعلوم کے بعض اساتذہ نے ان سے پوچھا تھا کہ آپ نے پوری دنیا کا دورہ کیا ہے،دنیا کو قریب سے دیکھا ہے،درجنوں ممالک میں آپ کا سفر ہوتا رہتا ہے،شاید ہی کوئی ایسا ملک ہوجہاں آپ کا سفر نہ ہوا ہو اور آپ وہاں نہ گئے ہوں،خلاصہ یہ کہ امریکہ،یورپ اور دیگر ملکوں کو آپ نے بہت قریب سے دیکھا ہے،یہ بتائیے کہ وہاں آپ نے اسلام کو کیسا پایا؟ اور دنیا بھر میں اسلام کا مستقبل کیسا ہے؟ دارالعلوم آپ سے جاننا چاہتا ہے تو حضرت مفتی صاحب نے اسکے جواب میں فرمایا کہ الحمدللہ دنیا بھر میں اسلام کا مستقبل تابناک ہے،اس پر کوئی خطرہ نہیں،اسکا مستقبل انتہائی روشن ہے،اوراسکے بعد مثال کے طور پر مختلف ملکوں کے کئی واقعات آپ نے سنائے۔
یہ ساری باتیں عرض کرنے کا مقصد اور منشا یہ ہے کہ ہم جیسے لوگ جن کا شمار دین داروں میں ہوتا ہے اور نہ ہی دنیا داروں میں،ہمارے گھروں میں 5 سے 10 سال کے چھوٹے چھوٹے بچوں کا دینی جذبہ دیکھ کر رشک آتاہے اور آنکھیں نم ہوجاتی ہیں،انکی کم سنی اور کم عمری کے باجود ماہ رمضان میں بالخصوص نماز،روزہ اورتلاوت کےلئے انکی لگن اور شوق ہماری ممانعت کے آگے ہیچ نظر آتاہے،لیکن اسکے ساتھ ہی یہ امید بھی یقین میں تبدیل ہوجاتی ہے کہ اسلام اور انسانیت کے خدام دراصل اسی ماحول سے پیدا ہونگے،ہم تو خیرخواہی کے جذبے سے انھیں منع کرتے ہیں کہ بیٹے ابھی آپ سن بلوغت کو نہیں پہونچے،اسلئے آپ کے اوپر نماز،روزہ سمیت اسلامی احکام نافذ نہیں ہونگے،آپ اسکے مکلف نہیں ہیں،ابھی آپ کی عمر روزہ رکھنے کی نہیں ہے،لیکن انکے شوق و ولولے کے آگے ہمیں سرتسلیم خم کرنا پڑتا ہے اور خاموشی اختیار کرنی پڑتی ہے،وہ روزہ،تراویح، نماز اور تلاوت وغیرہ کے لئے ہر مشقت خوشی خوشی جھیلنے تیار اور آمادہ ہیں،ہماری کسی زور زبردستی کے بغیر خوش اسلوبی اور خندہ پیشانی کے ساتھ مسلسل نماز روزے،تلاوت و تراویح کی پابندی کرتے ہیں،بعض اوقات کسی تکلیف اور پریشانی کے باوجود بھی قدم پیچھے ہٹانے ہرگز تیار نہیں،سوال یہ ہے کہ ان چھوٹے چھوٹے بچوں میں اسلامی احکام پر عمل آوری کا شوق اور جذبہ آخرکس نے پیدا کیا؟ کیا یہ مستقبل کے لئے ایک اچھی اور فرحت بخش خبر نہیں ہوسکتی؟ کیا ہم بھی اپنے گھروں میں ایسا دینی ماحول پیدا کرنے کےلئے سنجیدہ ہیں؟آج جب کہ بے دینی،بے حیائی،عریانیت اور فحاشی وغیرہ کو ہم لوگ اپنے گھروں میں عام کررہے ہیں؟کیا اسی طرح دینی و روحانی ماحول ہمارے گھروں میں قائم ہورہاہے؟ رمضان المبارک میں بھی اگر اس پر پابندی سے عمل کرلیا گیا،بچوں کو دینی و روحانی ماحول فراہم کردیاگیا اور اسلامی خطوط پر انکی تربیت کردی گئی تو پھر میرا خیال ہے کہ کسی مایوسی کی ہرگز ضرورت نہیں ہے،آنے والے وقت میں اسلام کے نام لیوا،اسکے سپاہی اور اسکے خدام خود ہمارے گھروں سے پیدا ہونگے،شرط یہ ہے کہ پہلے ہم اپنے گھروں میں،اپنے حلقوں میں،اپنے خاندان میں ایسا ماحول قائم تو کریں،جہاں بچے کم عمری اور کم سنی میں اسلامی احکام اور اسکی تعلیمات کو سینے سے لگانے لگیں،انھیں اچھے،برے کی تمیز سکھلائی جائے،اس پر عمل آوری کے لئے انھیں کوئی طاقت نہ روک سکے،انکے عزم کے سامنے کوئی حربہ کامیاب نہ ہو،وہ دیوانہ وار اسلام کے سپاہی بننے کےلئے تیارہوں،اسی لئے اپنے بچوں کو کم عمری میں تعزیت کرنا،تیمار داری کرنا،احساس اور برداشت کرنا،تواضع و انکساری،احترام،تحمل اور بردباری سکھائیں،انسانیت سے ہمدردی اور خیرخواہی کی تعلیم دی جائے،کھانا تو دیگر حیوان بھی اپنی اولاد کو کھلاتے ہیں لیکن بچوں کی اچھی تربیت اور انھیں اچھے اخلاق سکھلانا ہم میں سے ہر ایک کا اصل فریضہ ہے۔شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی کی یہ بات کتنی سچی ہے کہ حفاظت اسلام کے نعرے تو بہت بلند کئے جاتے ہیں،مگر عملی پہلوؤں سے ہم خود گریزاں رہتے ہیں،اسلام کوئی مجسمہ نہیں کہ جسکی حفاظت کے لئے کسی لاؤ لشکر کی ضرورت ہو،آپ اپنے اندر اسلام سمو لیجئے،آپ بھی محفوظ ہوجائیں گے اور اسلام بھی محفوظ ہوجائے گا۔
(مضمون نگار،معروف صحافی اور اسلامی اسکالر ہیں)
sarfarazahmedqasmi@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے