कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ایک ہی دن میں دو نوجوان طالبِ علموں کی موت!

تحریر: رضی اللہ قاسمی خیرآبادی ( شریک شعبۂ افتاء دارالعلوم وقف دیوبند )
(بذریعہ محمد سرور شریف پربھنی مہاراشٹر،نامہ نگار عتبار نیوز9960451708)
مورخہ 18 جولائی 2024 بروز جمعرات

موت سےکس کو رستگاری ہے
آج وہ، کل ہماری باری ہے
محترم قارئین! یقیناً موت تو سب کو آنی ہے ،لیکن کچھ موتیں ایسی ہوتی ہیں جو سب کو بے چین کرکے رکھ دیتی ہیں ، جو راتوں کی نیندیں اڑا کر رکھ دیتی ہیں ،جسے سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں، جو جلدی بھلائی نہیں جاتیں ، ایک ساتھ دو دو موتیں ،وہ بھی نوجوان ،اور دونوں کی موت کا سبب ایک۔
دوستو! واقعہ یہ ہوا کہ: دس محرم الحرام 1446ھ، بروز بدھ کو ہلکی ہلکی بارش ہورہی تھی ،بڑا خوش گوار موسم تھا ،دوپہر کے تقریبا ڈیڑھ بج رہے تھے ،تبھی اچانک خبر ملی کہ ایک طالب علم” محمد سعد” جو جامع مسجد امروہہ میں دورہ حدیث شریف کے طالبِ علم تھے،جو کرناٹک کے رہنے والے تھے، دیوبند ٹہلنے آئے تھے، تبھی دارالعلوم وقف روڈ پر ایک شٹر میں ہاتھ لگنے کی وجہ سے انتقال ہو گیا، اسی طرح دارالعلوم وقف کا ایک طالب علم حبیب البشر جو ہفتم پڑھ رہاتھا اس کا بھی کرنٹ لگنے کی وجہ سے انتقال ہوگیا۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
دوستو! یہ دونوں حادثہ سن میرے ہوش اڑ گئے، موت کا ایک ڈر دل میں بیٹھ گیا، ساری رات کروٹ بدلتے بدلتے گزر گئی ،کیونکہ دونوں نوجوان تھے اور جوانی کی موت ایک ایسی چیز ہوتی ہے جو دوسروں کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ جوانی وہ زمانہ ہوتا ہے جب انسان کی طاقت، خوبصورتی، صحت اور جذبات اپنے نقطہ عروج پر ہوتے ہیں۔ جینے کی امنگ، کچھ کرنے کا جذبہ، ان تھک جدوجہد کا حوصلہ، مسلسل محنت، کام کرنے کی استعداد اور مقصد زندگی کو پالینے کا جنون جوانی ہی کے اوصاف ہیں،اور نوجوانی کے عالم میں کیسے کیسے پلان اور ارادے ہوتے ہیں ،گھر والوں کو بھی بڑی امیدیں لگی رہتی ہیں ،لیکن جب اللہ کا حکم آجاتا ہے تو اس کے سامنے سارے پلان اور سارے ارادے فیل ہوجایا کرتے ہیں۔
کیا گزرتی ہوگی انکے والدین پر ،ان کے بھائی بہنوں پر ،کیا کیا سوچ رکھا ہوگا اپنے بیٹو کے لئے،کتنی خوشی ہوتی گھر والوں کو جب یہ مدرسہ سے فارغ ہوتے ،لیکن نہیں منظور تھا میرے رب کو ،بس اتنی زندگی ان کی لکھی جاچکی تھی ،تو کیسے اور آگے زندہ رہتے۔
دوستو! محمد سعد کرناٹک سے چلے تھے تو کیا ان کو خبر تھی؟ کہ یہ میرا آخری سفر ہے،کیا وہ سوچ سکتے تھے؟ کہ یہ گھر والوں کی آخری ملاقات ہے ،اب اس کے بعد دوبارہ ملنا مشکل ہے ،کیا وہ جب ٹرین پر سوار ہوئے ہونگے تو کیا ذہن میں یہ سوال تک آیا ہوگا کہ چند ہی دن میں دارفانی کوچھوڑ کر دار بقا کی طرف کوچ کرنا ہے۔
دونوں کی موت ہمارے لئے پیغام ہے
عزیز ساتھیو! ان دونوں واقعہ سے ہم تمام ساتھیوں کے لئے یہ کھلا پیغام ہے، کہ موت بھلانے والی چیز نہیں ہے ،اس سے ہم غفلت نہ برتیں ،غفلت میں زندگی نہ گزاریں ،موت کو ہر وقت سامنے رکھیں ،اس خیال میں نہ رہیں کہ صرف بوڑھوں یا مریضوں ہی کو موت آئے گی بلکہ ایسے ایسے نوجوان بھی جارہے ہیں جن کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا ،اس لئے ہر وقت تیار رہنا چاہئے ، گناہوں سے اور اللہ کی نافرمانی سے بچتے ہوئے زندگی گزارنا چاہئے۔
اللہ تعالی ہم سب کو موت سے پہلے موت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے ،اور دونوں ساتھیوں کی مغفرت فرمائے ،گھر والوں کو صبرِ جمیل عطافر مائے آمین

️رضی اللہ خیرآبادی (سیتاپور یوپی)
شریک شعبہ افتاء دارالعلوم وقف دیوبند
فون نمبر 9415309707

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے