कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اپوزیشن سے ایک کڑوا سوال: نعرے کب تک؟ اب آگے کیا؟

تحریر:ڈاکٹر اسد اللہ خان

لوری کا ایک ہی کام ہے: سلانا۔
اور ملک کی سب سے پرانی حزبِ اختلاف آج یہی کام کر رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرتی ایک ویڈیو میں کانگریس کی خواتین رہنما، پرینکا گاندھی سمیت، دائرے میں بیٹھی وہ گیت گا رہی ہیں جو کاکروچ جنتا پارٹی کے نوجوانوں نے مشہور کیا تھا۔ وہی دھن، بچے کو جھلانے کا وہی اشارہ؛ بس نشانہ «بال نریندر» سے ہٹ کر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر آ گیا۔ منظر شادی کی محفلِ سنگیت کا تھا، مگر موقع ماتم کا تھا، اور ضرورت للکار کی۔
سوال سیدھا ہے، اور اسے سیدھے لفظوں میں پوچھا جانا چاہیے: جس جماعت کا فرض قوم کو جگانا تھا، وہ لوری کیوں گا رہی ہے؟ جس کے ہاتھ میں قلم ہونا چاہیے تھا، اس کے ہاتھ میں تالی کیوں ہے؟ اور جس سے نقشہ مانگا جا رہا ہے، وہ گیت کیوں سنا رہی ہے؟
جنتر منتر پر یہی گیت جب نوجوان لڑکیوں کی زبان پر تھا تو اس میں آگ تھی۔ وہ ان کی آواز تھی جن کے پاس نہ ایوان ہے، نہ دفتر، نہ تنظیم، نہ خزانہ؛ صرف ایک زخم ہے اور اسے دکھانے کی جرأت۔ مگر وہی گیت ایک سو برس سے پرانی جماعت کے ڈرائنگ روم تک پہنچا تو آگ راکھ ہو گئی۔ کیوں؟ اس لیے کہ آگ اُدھار نہیں لی جا سکتی۔ نعرہ مانگا جا سکتا ہے، دھن چرائی جا سکتی ہے، مگر وہ درد جس سے نعرہ پیدا ہوتا ہے، کسی کی جھولی سے اٹھا کر اپنے سینے میں نہیں رکھا جا سکتا۔
نوجوان سڑک پر اس لیے ہیں کہ ان کے لیے ہر دروازہ بند ہے۔ مگر کانگریس کے لیے کون سا دروازہ بند ہے؟ پارلیمان اس کی ہے، ریاستی حکومتیں اس کی ہیں، دانش وروں کی فوج اس کی ہے، دہائیوں کا انتظامی تجربہ اس کا ہے۔ جس کے پاس اتنی کنجیاں ہوں، وہ اگر دوسروں کی طرح صرف دستک دیتا رہے تو یہ بے بسی نہیں، کاہلی ہے۔
سارا زور ایک مطالبے پر ہے: چیف الیکشن کمشنر استعفیٰ دیں۔ ٹھیک ہے۔ مان لیجیے کل صبح استعفیٰ آ جاتا ہے۔ پھر کیا؟ حکومت دو دن شرمندہ ہوگی، تیسرے دن اسی طریقے سے ایک نیا کمشنر بٹھا دیا جائے گا۔ اور وہ نیا چہرہ بھی اسی مہر سے نکلے گا جس سے پرانا نکلا تھا۔ زہریلے کنویں سے ایک ڈول پانی نکال کر پھینک دینے کو صفائی نہیں کہتے۔ یہ صفائی کا تماشا ہے۔
اصل بیماری فرد نہیں، طریقۂ کار ہے؛ اور یہ بیماری کوئی راز نہیں۔ ۲۰۲۳ء میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ جب تک پارلیمان قانون نہ بنائے، الیکشن کمشنروں کا انتخاب وزیر اعظم، قائدِ حزبِ اختلاف اور چیف جسٹس کی کمیٹی کرے؛ اسی برس کے قانون نے چیف جسٹس کو ہٹا کر وزیر اعظم کے نامزد کردہ وزیر کو اس کرسی پر بٹھا دیا۔ یہ زخم تین برس پرانا ہے۔ تو پھر بتائیے: ان تین برسوں میں حزبِ اختلاف کے تھنک ٹینک کہاں سوئے رہے؟ تقرری کا متبادل طریقہ کہاں ہے؟ کمشنروں کی مدت اور برطرفی کا ضابطہ کہاں ہے؟ ووٹر فہرست سے نام کٹنے پر شہری کو اطلاع اور اپیل کا نظام کہاں ہے؟ ایک صفحہ، ایک مسودہ، ایک بل کا خاکہ؟ کچھ بھی؟
یہ سوال کسی نوجوان تحریک سے پوچھنا ناانصافی ہوگی۔ مگر جو جماعت پچاس برس سے زیادہ اس ملک پر حکومت کر چکی ہو، اس سے نہ پوچھنا اس سے بڑی ناانصافی ہے۔
جمہوریت ختم ہو گئی۔ ادارے تباہ ہو گئے۔ آئین خطرے میں ہے۔ راہل گاندھی یہ جملے اتنی بار دہرا چکے ہیں کہ اب یہ دلیل نہیں رہے، پس منظر کا شور بن گئے ہیں، جیسے سڑک کا ٹریفک جسے کان سنتے ہیں مگر دماغ درج نہیں کرتا۔ خطرے کی گھنٹی اگر صبح شام بجتی رہے تو لوگ اسے گھڑیال سمجھنے لگتے ہیں۔
اگر ادارے واقعی تباہ ہوئے ہیں تو ثبوت کی فہرست کہاں ہے؟ کون سا ادارہ؟ کس فیصلے سے؟ کس تاریخ کو؟ اور سب سے بڑھ کر: اقتدار ملنے پر آپ کون سی دیوار کھڑی کریں گے کہ کل کوئی حکومت، آپ کی اپنی حکومت بھی، اسے دوبارہ نہ گرا سکے؟ جو مریض کا حال تو روز سنائے مگر نسخہ کبھی نہ لکھے، اسے طبیب نہیں، نوحہ خواں کہتے ہیں۔ اور جب تک نسخہ نہیں آتا، مخالفین کا یہ طعنہ زندہ رہے گا کہ جمہوریت کا ماتم دراصل ہاری ہوئی کرسی کا ماتم ہے۔ یہ طعنہ غیر منصفانہ ہو سکتا ہے، مگر ہر نیا نوحہ اسے اور سچا بنا دیتا ہے۔
اگر ایک طالب علم جوابی کاپی پر صرف یہ لکھ آئے کہ پرچہ غلط بنا ہے، اسے صفر ملتا ہے۔ ہمیشہ۔ ممکن ہے پرچے میں خامی ہو، مگر ممتحن پرچہ بنانے والے کو نہیں، جواب لکھنے والے کو جانچتا ہے۔ حزبِ اختلاف بارہ برس سے امتحان گاہ میں بیٹھی ہے، ممتحن ووٹر ہے، اور کاپی اب تک خالی ہے۔
سوال مشکل نہیں؛ ہر چائے خانے میں پوچھے جاتے ہیں۔
معیشت کا نسخہ کیا ہے؟
نیچے تک سرایت کر چکی بدعنوانی کا علاج کیا ہے؟
سرکاری اسکولوں اور اسپتالوں کی خستہ حالی، جو ہم روز دیکھتے ہیں، اسے کس منصوبے سے بدلیں گے؟
میونسپلٹی اور پنچایت کی سطح پر حکمرانی کیسے سدھرے گی؟
اور وہ بے روزگار نوجوان جن کا گیت آپ گا رہے ہیں، انہیں روٹی کب اور کیسے ملے گی؟
گیت ان کا ہے؛ کم از کم جواب تو آپ کا اپنا ہو۔
کئی جمہوریتوں میں اپوزیشن پارٹی "شیڈو کابینہ” بناتی ہے۔ ہر وزیر کے مقابل ایک سایہ وزیر، جو اس محکمے کی ہر فائل پر نظر رکھتا ہے، ہر غلطی پر انگلی رکھتا ہے، اور ہر غلطی کے ساتھ اپنا متبادل بھی رکھتا ہے۔ عوام جانتے ہیں کہ کل اقتدار بدلا تو کون سا چہرہ کس محکمے میں کس نقشے کے ساتھ آئے گا۔
کانگریس بارہ برس سے اپوزیشن کی بنچوں پر ہے۔ بارہ برس! اتنے میں پہلی جماعت میں داخل ہونے والا بچہ بارہویں کا امتحان دے کر کالج پہنچ جاتا ہے۔ اس بچے نے بارہ برس میں حساب، سائنس اور زبانیں سیکھ لیں؛ اور ملک کی سب سے تجربہ کار جماعت بارہ برس میں ایک متبادل بجٹ، ایک متبادل تعلیمی پالیسی، ایک متبادل صحت منصوبہ، ایک متبادل ترقیاتی ماڈل بھی قوم کے سامنے نہ رکھ سکی؟ یہ وقت کی کمی نہیں۔ یہ ارادے کی کمی ہے۔
کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ احتجاج کے خلاف دلیل ہے۔ احتجاج جمہوریت کی سانس ہے، اور دارالحکومت کی سڑکوں نے حالیہ دنوں میں یہ ثابت کر دیا کہ نوجوانوں کا غصہ کسی کا گھڑا ہوا ڈراما نہیں، ایک حقیقت ہے۔ مگر سڑک سوال لکھتی ہے، جواب نہیں۔ جواب میز پر لکھا جاتا ہے۔ جو جماعت صرف سڑک پر ہو، وہ ہجوم چلا سکتی ہے، ملک نہیں۔ جو صرف میز پر ہو، وہ فائلیں سنبھال سکتی ہے، عوام نہیں۔ زندہ حزبِ اختلاف وہ ہے جس کا ایک پاؤں سڑک پر ہو اور ایک ہاتھ میز پر۔
اور یاد رہے: نوجوانوں کا گیت اُدھار لینا آسان ہے، ان کا بھروسا کمانا مشکل۔ یہ نسل نعرے پر جتنی جلدی لپکتی ہے، اتنی ہی جلدی اسے چھوڑ بھی دیتی ہے۔ اسے ساتھ رکھنا ہے تو اسے دکھانا ہوگا کہ اس کا غصہ کسی کی انتخابی مہم کا ایندھن نہیں بن رہا، ایک سنجیدہ منصوبے کی بنیاد بن رہا ہے۔ ورنہ کل وہ کسی اور دروازے پر کھڑی ہوگی، اور تب یہ شکوہ کرنے کا حق بھی باقی نہیں رہے گا کہ نوجوان کیوں روٹھ گئے۔
مہینوں سے جاری احتجاج ایک ہی بات کہہ رہے ہیں، اور بلند آواز میں کہہ رہے ہیں: لوگ متبادل ڈھونڈ رہے ہیں۔ ہر ہجوم ایک اشتہار ہے کہ ایک کرسی خالی ہے۔ قوم کسی ایسے کی منتظر ہے جو صرف یہ نہ بتائے کہ گھر میں کہاں کہاں دراڑ ہے، بلکہ اینٹ، گارا اور نقشہ لے کر بھی آئے۔ یہ کرسی زیادہ دیر خالی نہیں رہتی۔ جو پہلے نقشہ لے کر پہنچے گا، وہی بیٹھے گا؛ خواہ اس کے پاس سو برس کی تاریخ ہو یا سو دن کی۔
تنقید حزبِ اختلاف کا حق ہے؛ متبادل اس کا فرض۔ ماتم دکھ کا اظہار ہے؛ متبادل امید کا اعلان۔ قومیں ماتم کرنے والوں کے ساتھ آنسو بہا لیتی ہیں، مگر اپنی تقدیر کی کنجی ان کے ہاتھ میں دیتی ہیں جو امید کا نقشہ لے کر آئیں۔ لوری بند کیجیے۔ ملک سو نہیں رہا؛ وہ جاگ کر آپ کی طرف دیکھ رہا ہے، اور پوچھ رہا ہے: صبح ہو چکی، اب بتائیے، کرنا کیا ہے؟

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے