कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

جو بادہ کش تھے پرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں

حضرت مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی نور اللہ مرقدہ کی یاد میں

اثر خامہ : مولانا سید آصف ملی ندوی (ناندیڑ)
موبائل : 9892794952

دن بھر کی مصروفیات اور روزمرہ کے امور نے تھکن کا ایسا بوجھ لاد دیا تھا کہ آج سوشل میڈیا کی طرف نظر اٹھانے کی بھی فرصت نہ مل سکی۔ نمازِ عشاء کے بعد جب کچھ فرصت ملی اور واٹس ایپ کھولا تو سب سے پہلے جس خبرِ جانکاہ پر نگاہ پڑی، اس نے دل کو جیسے مٹھی میں بھینچ لیا۔ بدھ، 7 اکتوبر 2026ء کا یہ دن عظیم عالمِ ربانی، استاذ الاساتذہ، حضرت مولانا سعید الرحمن اعظمی ندویؒ، مہتمم دارالعلوم ندوۃ العلماء کی وفات کی وہ دردناک خبر اپنے دامن میں لیے ہوئے تھا، جس نے نہ جانے کتنے دلوں کو سوگوار اور کتنی آنکھوں کو اشک بار کر دیا۔ حضرت اس دارِ فانی سے رخصت فرما گئے تھے إنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ أَجِرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا،ا للّٰهُمَّ اغْفِرْ لَهٗ وَارْحَمْهُ وَعَافِهٖ وَاعْفُ عَنْهُ۔
اس لمحے دل پر جو گزری، اسے لفظوں میں سمیٹنا میرے بس میں نہیں۔ دل و دماغ ماؤف ہو گئے، حروف آنکھوں میں دھندلا گئے اور آنسو بے اختیار رخساروں پر بہہ نکلے۔ بھلا ایسا کیوں نہ ہوتا؟ یہ کسی عام شخصیت کی رحلت کی خبر نہیں تھی، یہ دارالعلوم ندوۃ العلماء کے بزرگ ترین استاد کی جدائی کی خبر تھی، یہ اُس شخصیت کا اٹھ جانا تھا جو قومی اور عالمی سطح پر ہر مکتبِ فکر کے نزدیک، اور بالخصوص اہلِ علم کے حلقوں میں محبوب و محترم تھی، جی چاہا کہ اپنا درد چند تعزیتی جملوں میں اتار دوں، مگر قلم ہاتھ میں لیا تو سمجھ نہ آیا کہ کہاں سے شروع کروں اور کیسے شروع کروں۔ یادوں کا ایک ہجوم ہے اور ہر یاد دوسری یاد کا دامن تھامے کھڑی ہے۔ سو انہی یادوں کے سہارے، جیسے بن پڑتا ہے، دل کی بات کہنے بیٹھا ہوں۔
جامعہ معہد ملت مالیگاؤں میں طالب علمی کے زمانے ہی سے حضرتؒ کا نام بارہا سنتا آیا تھا۔ دل کے نہاں خانے میں اکابر علماء کی ایک فہرست تھی جن کی زیارت کی حسرت میں اپنے سینے میں لیے پھرتا تھا، اور اپنے رب کے حضور اکثر اس حسرت کا اظہار بھی کرتا تھا۔ اس فہرست میں حضرت کا نام نمایاں تھا۔ پھر میرے شفیق پروردگار نے ۱۹۹۵ء میں وہ دن دکھایا جب دارالعلوم ندوۃ العلماء میں میرا داخلہ ہوا، اور یوں برسوں کی دعا کو قبولیت کا شرف ملا۔
مجھے وہ دن آج بھی خوب یاد ہے۔ داخلے کو چند ہی روز گزرے تھے کہ پہلی بار حضرت درسگاہ میں تشریف لائے اور مسندِ تدریس پر رونق افروز ہوئے۔ میرا دل خوشی سے جھوم اٹھا۔ عربی ادب و انشاء کا مضمون حضرت کے سپرد تھا۔ عبارت خوانی میں یا انشاء و تعبیرات میں کسی طالب علم سے کوئی نحوی یا صرفی لغزش ہو جاتی تو حضرت کی پیشانی پر بل پڑ جاتے اور خفگی کا اظہار فرماتے۔ مگر یہ خفگی غصہ نہیں، تربیت تھی؛ اس میں جھڑکی نہیں، شفقت کی گرمی تھی۔ اس انداز کا اثر یہ تھا کہ ہم سب ہر ممکن کوشش کرتے کہ زبان کسی غلطی کی طرف نہ پھسلے۔ استاد کی ناراضی کا خوف طالب علم کو محنت کا وہ سبق دے جاتا ہے جو ہزار نصیحتیں نہیں دے سکتیں۔
ندوہ میں داخلے سے پہلے ہی وہاں سے شائع ہونے والے اردو اور عربی رسائل سے کسی قدر واقفیت ہو چکی تھی۔ ان میں ”البعث الاسلامی“ کا مقام میرے ذہن میں بہت بلند تھا۔ میں سمجھتا تھا کہ یہ عربی کا نہایت اعلیٰ پایہ مجلہ ہے اور اس کے لکھنے والے، اور خاص طور پر اس کے مدیرِ محترم، کوئی بہت ہی عبقری انسان ہوں گے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ حضرت یقیناً تھے بھی۔
حضرت نے دارالعلوم ندوۃ العلماء کی مسجد میںتقریبا چالیس سال تک مثالی پابندی کے ساتھ امامت و خطابت کے فرائضدئے، آپ کا خطابِ جمعہ تو ایک الگ ہی دنیا تھا۔ وہ خطاب موجودہ حالات اور عصرِ حاضر کی دکھتی رگ پر انگلی رکھ دیتا تھا، اور عربی خطبہ تو بس سننے کی چیز ہوتا۔ زبان ایسی کہ گویا بہتا ہوا دریا، اور بات ایسی کہ سیدھی دل میں اترتی چلی جائے۔ ان خطبات کو براہِ راست سن کر ہمیشہ یہ احساس جاگتا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت کو دور رس نگاہ، دردمند دل اور حالات کی تہہ تک پہنچنے والا ذہن عطا فرمایا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ”البعث الاسلامی“ اور اس کے اداریوں کے عالمِ اسلام کی موقر ترین شخصیات نہ صرف معترف تھیں، بلکہ ان کا انتظار کیا کرتی تھیں۔
عربی زبان و ادب پر عبور حضرتؒ کی سب سے نمایاں خصوصیت تھی۔ نصف صدی سے زائد عرصے تک آپ ”البعث الاسلامی“ کے مدیر رہے۔ آپ کے اداریے زبان و ادب کی چاشنی بھی رکھتے تھے اور عالمِ اسلام کے سلگتے ہوئے مسائل کی نبض پر ہاتھ بھی، وہ مسئلے کی نشاندہی ہی نہیں کرتے تھے، اس کا صحیح اور بروقت حل بھی پیش کرتے تھے۔ قلم جب ایسے دل کے ساتھ چلے تو تحریر محض تحریر نہیں رہتی، امت کے لیے رہنمائی بن جاتی ہے۔
حضرت مولانا اکابر کی بعض ایسی خوبیوں کے مالک تھے کہ اب وہ خوبیاں ناپید ہوتی جارہی ہیں، ان کی سب سے بڑی خوبی ان کی تواضع اور منکسر المزاجی اور ان کی دیانت تھی، ہم چھوٹوں سے بھی وہ اس طرح ملتے تھے کہ گویا وہ چھوٹے ہیں اور ہم بڑے ہیں، دارالعلوم ندوۃ العلماء کے موقر استاد ہونے کے باوجود، اور ”البعث الاسلامی“ کے توسط سے پورے عالمِ اسلام میں اپنی شناخت اور اپنا لوہا منوا لینے کے باوجود، حضرت کے مزاج میں غضب کی سادگی تھی۔ ہر طالب علم بلا تکلف ان سے مل سکتا تھا؛ کوئی دربان، کوئی حجاب، کوئی رکاوٹ نہ تھی۔ روزانہ نمازِ عصر کے بعد حضرت کے دولت کدے پر ایک نشست ہوا کرتی، اور حضرت سے مانوس طلبہ وہاں پہنچ جاتے۔ جو بھی آتا، آشنا ہو یا اجنبی، حضرت اپنے دستِ مبارک سے چائے تیار فرما کر پیش کرتے ، لکھنوی انداز کی چائے، جس میں دودھ الگ ہوتا ہے اور پتی کا قہوہ الگ، اپنے چھوٹوں اور شاگردوں کو اپنے ہاتھ سے چائے پلانے والا یہ استاد آج بھی نگاہوں میں پھرتا ہے۔اس مجلس کی گفتگو عالمانہ بھی ہوتی اور معلومات افزا بھی۔ ہم جیسے مبتدی طلبہ کو وہاں سے اپنا دامنِ علم بھرنے کا بہت سامان مل جاتا۔ مجلس ایسی دلچسپ تھی کہ ہر روز عصر کے بعد وہاں حاضری کا شوق بڑھتا ہی چلا جاتا۔ اور ہر بار میں نے یہی محسوس کیا کہ علم و فضل نے حضرت کے اندر کبر و نخوت کی جگہ تواضع و انکسار پیدا کیا ہے۔ اور یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ یہ وصف ہر عالم کے حصے میں نہیں آتا۔
دوسری بات جو اس عاجز نے اپنی آنکھوں سے دیکھی، یہ ہے کہ اپنی تمام تر صلاحیتوں اور ہزارہا کمالات کے باوجود حضرت اپنے بزرگوں کا بے حد احترام کرتے تھے۔ میں نے بارہا دیکھا کہ حضرت مولانا علی میاں ندوی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اورحضرت مولانا عبداللہ عباس ندوی رحمۃ اللہ علیہ سابق ناظم تعلیمات دارالعلوم ندوۃ العلماء کے سامنے حضرت نہایت ادب سے، یہاں تک کہ جھک کر انتہائی عاجزی و انکساری اور تواضع کے ساتھ گفتگو فرماتے۔ حضرت مولانا علی میاں ندویؒ جب ندوہ میں قیام فرما ہوتے تو روزانہ بعد نماز عشاء مہمان خانے میں آپ کی مختصر مجلس ہوتی، جس میں اونچے درجات کےطلبہ کو بھی حاضری کی اجازت تھی اور کئی اساتذہ بھی موجود رہتے۔ ان مجلسوں میں میں نے حضرت مولانا سعید الرحمن اعظمیؒ کو بارہا دو زانو بیٹھے، انتہائی دھیمی آواز میں، ایک شاگردانہ انداز سے حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ سے سوالات کرتے دیکھا ہے۔ جو خود اتنا بلند ہو اور بزرگوں کے سامنے اتنا جھکا ہوا ہو، یہی تو علم کی معراج ہے۔
وہ واقعہ میں کیسے فراموش کر سکتا ہوں! ۱۹۹۷ء میں حضرت مولانا علی میاں ندویؒ نے دارالعلوم ندوۃ العلماء میں قادیانیت کے خلاف ایک عالمی کانفرنس منعقد فرمائی تھی ، جس میں عالمِ اسلام کی موقر ترین شخصیات تشریف لائیں۔ ان میں علامہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی رحمۃ اللہ علیہ بھی تھے۔ مجھے بچپن ہی سے اکابر علماء اور معروف شخصیات کے آٹوگراف جمع کرنے کا شوق تھا۔ علامہ قرضاوی کا نام اور ان کی بعض کتابوں کے اردو ترجمے جامعہ مدِے ملت کے زمانۂ طالب علمی میں پڑھ چکا تھا۔ اب وہ سامنے مہمان خانے میں تشریف فرما تھے تو میرا وہی پرانا شوق انگڑائی لے کر جاگ اٹھا کہ ان سے کچھ لکھوا لوں۔دوپہر کا وقت تھا۔ مہمان خانے میں علامہ قرضاوی اور چند دیگر عرب علماء تشریف فرما تھے۔ میں وہاں جانا چاہتا تھا مگر حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب کی وجہ سے کچھ جھجک تھی۔ حضرت نے میری کیفیت بھانپ لی اور پوچھا کیا بات ہے ؟ میں نے اپنا مدعا عرض کر دیا۔ اللہ حضرت کو جزائے خیر دے، وہ خود مجھے اپنے ساتھ مہمان خانے لے گئے اور فرمایا کہ اپنی بات علامہ کے سامنے رکھو۔ نہ زبان میں اتنی سکت تھی، نہ ان اساطینِ علم و فضل کے سامنے برجستہ کچھ کہنے کا یارا۔ اور مجھے اس کا اندازہ پہلے سے تھا، اس لیے میں نے اپنی نوٹ بک کے ایک صفحے پر چند جملے عربی میں پہلے ہی سے لکھ رکھے تھے: ”سيدي المبجل! أنا الطالب المبتدی أستنصحك فانصح لي بفضلك۔“علامہ قرضاوی نے اس ابتدائی درخواست کو پڑھا، مجھ سے میرا نام پوچھا، اور نام لکھ کر الحمدللہ پورا ایک صفحہ دعاؤں اور نصیحتوں سے بھر دیا۔ وہ ورق آج بھی میرے لیے متاعِ عزیز ہے، اور اس کے پیچھے جس مہربان ہاتھ کا سہارا تھا، وہ میں کبھی نہیں بھول سکتا۔
حضرت کا تعلق اعظم گڑھ سے تھا، مگر اردو آپ خالص لکھنوی لب و لہجے میں بولتے تھے۔ مزاج میں شگفتگی غضب کی تھی، اور باتوں ہی باتوں میں دقیق سے دقیق مسئلہ ظرافت اور بذلہ سنجی کے رنگ میں چٹکیوں میں حل کر دیتے۔ حضرتؒ کی خونِ جگر سے لکھی ہوئی کتاب ”۴۸ سال شفقتوں کے سائے میں“ اس کی زندہ مثال ہے۔ اسے ایسی خوش اسلوبی اور زبان و ادب کی ایسی رعنائی کے ساتھ تحریر فرمایا ہے کہ پڑھنے والا کتاب کے ساتھ نہیں، حضرت کے ذہن اور حضرت کی فکر کے ساتھ ساتھ بہتا چلا جاتا ہے۔
حضرت کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو افراد سازی تھا۔ آج عربی زبان و ادب کے افق پر نہ جانے کتنی شخصیات آفتاب و ماہتاب بن کر آسمانِ زبان و ادب کو روشن کیے ہوئے ہیں؛ ان کی یہ تابانی حضرت ہی سے کسبِ فیض کی رہینِ منت ہے۔ استاد کی اصل کامیابی یہی ہے کہ اس کے چراغ سے ہزار چراغ جلیں، اور حضرت نے یہ کامیابی کھلے دل سے پائی۔ دراصل حضرتؒ ایک علمی خانوادے کے چشم و چراغ تھے۔ آپ کے والدِ بزرگوار حضرت مولانا محمد ایوب اعظمی رحمہ اللہ اپنے عہد کے نہایت معروف اساتذۂ حدیث میں شمار ہوتے تھے اور جامعہ تعلیم الدین ڈابھیل میں بخاری شریف کا درس دیا کرتے تھے۔ علم کی یہ خوشبو آپ کو ورثے میں ملی تھی، اور آپ نے اسے اپنی محنت و ریاضت سے اور مہکایا۔
حضرت کچھ برسوں سے علیل چلے آ رہے تھے، اور دل کو ہمیشہ یہ دھڑکا لگا رہتا تھا کہ نہ جانے کب بلاوا آ جائے اور حضرت داغِ مفارقت دے جائیں۔ آج وہ اندیشہ حقیقت بن گیا۔ مگر سچ یہ ہے کہ ایسی جدائی کے لیے دل کبھی تیار نہیں ہوتا۔ دارالعلوم ندوۃ العلماء محض ایک ادارہ نہیں، اس دور میں وہ نہ صرف ہندوستان بلکہ پورے عالمِ اسلام کے لیے امید کی ایک کرن ہے۔ اور حضرت مولانا رابع حسنی ندویؒ کے بعد حقیقت یہ ہے کہ حضرت مولانا سعید الرحمن اعظمیؒ ہی کی ذات ایسی تھی جسے صحیح معنوں میں ندوۃ العلماء کا ترجمان کہا جا سکتا تھا۔ آج وہ ترجمان خاموش ہو گیا، وہ زبان جو علم بولتی تھی، وہ قلم جو درد لکھتا تھا، وہ ہاتھ جو شاگردوں کو چائے پلاتا تھا، سب ہمیشہ کے لیے تھم گئے۔پتہ نہیں کیوں، اس موقع پر علامہ اقبالؒ کے ساقی نامہ کے یہ اشعار زبان و قلم پر خودبخود، بے ساختہ جاری ہوئے جاتے ہیں۔
شیر مردوں سے ہوا بیشۂ تحقیق تہی رہ گئے صوفی و ملا کے غلام اے ساقی
عشق کی تیغ جگردار اڑا لی کس نے علم کے ہاتھ میں خالی ہے نیام اے ساقی
حضرت کی رحلت یقیناً ایک ایسے علمی عہد کی رخصتی ہے جس کا خلا مدتوں محسوس کیا جاتا رہے گا؛ ان کے شاگرد، ان کی علمی مجالس اور وہ کتابیں جن کے ذریعے انہوں نے نسلوں کی تربیت کی، سب ان کی جدائی کے گواہ رہیں گے۔ آج آنکھیں اشک بار ہیں، دل غم سے بوجھل ہے اور زبان دعائے مغفرت کے سوا کچھ کہنے سے قاصر ہے۔ ایسے ہی کسی درد کی ترجمانی کرتے ہوئے جگر مرادآبادی نے کہا تھا:
جان کر من جملۂ خاصانِ مے خانہ تجھے
مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ تجھے
اور آج یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کے شاگرد ہی نہیں، ان کی مسندِ درس، ان کی کتابیں اور ان سے وابستہ ہر گوشہ مدتوں ان کی جدائی کا ماتم کرتا رہے گا۔ اللہ تعالیٰ حضرت کو غریقِ رحمت فرمائے، درجات بلند فرمائے اور ان کی علمی خدمات کو صدقۂ جاریہ بنائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور ہم سب شاگردوں اور چاہنے والوں کو صبرِ جمیل دے۔اے اللہ! علماء کو حضرت کا نعم البدل عطا فرما، اور ندوہ کو ہمیشہ سرسبز و شاداب رکھ۔ آمین یا رب العالمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے