कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

محبتِ رسول ﷺ کے عملی تقاضے اور ہماری غفلت

تحریر:ف۔خ۔مسّرت

بسم اللہ الرحمن الرحیم
محبتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مسلمان کے ایمان کا لازمی اور بنیادی جزو ہے۔ یہ محبت صرف جذباتی کیفیت یا زبانی اظہار کا نام نہیں، بلکہ ایمان کی بنیاد، کمالِ ایمان کی نشانی اور نجات کا ذریعہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے خود فرمایا:
لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
(تم میں سے کوئی شخص کامل مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والدین، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔)
(صحیح بخاری)
ایک اور روایت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: “یارسول اللہ! میری ذات کے بعد مجھے آپ سے سب سے زیادہ محبت ہے।” آپ ﷺ نے فرمایا: “تمہارا ایمان کامل نہیں۔” پھر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: “آپ مجھے اپنی ذات سے بھی زیادہ عزیز ہیں،” تو آپ ﷺ نے فرمایا: “اللہ کی قسم! اب تمہارا ایمان مکمل ہو گیا۔”
یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ محبتِ رسول ﷺ کا معیار عام انسانی تعلقات سے بالاتر ہے۔ یہ محبت صرف دل کی کیفیت نہیں بلکہ عملی زندگی کا تقاضا کرتی ہے۔
قرآن مجید میں محبتِ رسول ﷺ کا مقام:
اللہ تعالیٰ نے خود محبتِ رسول کو اپنی محبت سے جوڑا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(آپ کہہ دیں کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا۔ اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔)
(آل عمران: 31)
اس آیت میں دو عظیم انعامات کا وعدہ کیا گیا ہے: اللہ کی محبت اور گناہوں کی مغفرت۔ دونوں کا حصول نبی کریم ﷺ کی اتباع پر موقوف ہے۔ ایک اور جگہ فرمایا:
مَّن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ
(جس نے رسول کی اطاعت کی تو اس نے اللہ کی اطاعت کی۔)
(النساء: 80)
یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ محبتِ رسول ﷺ کا حقیقی اظہار اطاعت اور اتباع میں پوشیدہ ہے۔
محبتِ رسول ﷺ کے بنیادی عملی تقاضے:
۱۔ خواہشاتِ نفس کا شریعتِ محمدیہ کے تابع ہونا :
آپ ﷺ نے فرمایا:
لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ هَوَاهُ تَبَعًا لِمَا جِئْتُ بِهِ
( تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک اس کی خواہشات اس دین کے تابع نہ ہو جائیں جو میں لے کر آیا ہوں۔ )
(مشکوٰۃ)
سچی محبت کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی ذاتی پسند و ناپسند، خواہشات اور رجحانات کو شریعت کے سامنے قربان کر دے۔ جہاں شریعت حکم دے وہاں نفس کی آواز دب جائے۔
۲۔ سنتِ نبوی ﷺ پر مکمل عمل:
محبت کا سب سے بڑا مظہر سنت پر عمل ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ أَحَبَّ سُنَّتِي فَقَدْ أَحَبَّنِي وَمَنْ أَحَبَّنِي كَانَ مَعِي فِي الْجَنَّةِ
(جس نے میری سنت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی، اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔)
فسادِ امت کے دور میں سنت پر عمل کرنے والے کو شہید کا اجر ملنے کی بشارت دی گئی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے معمولی سنتوں کو بھی اپنی زندگی کا حصہ بنایا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کو کدّو پسند نہ تھا، لیکن جب دیکھا کہ آپ ﷺ اسے پسند فرماتے ہیں تو وہ بھی کھانے لگے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سفر میں اس جگہ بیٹھتے جہاں آپ ﷺ نے قضائے حاجت کی تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حجرِ اسود کو بوسہ دیتے ہوئے فرماتے: “اگر میں رسول اللہ ﷺ کو بوسہ دیتے نہ دیکھتا تو کبھی نہ دیتا۔”
۳۔ کثرت سے درود و سلام:
محبت کا ایک عملی اظہار درود و سلام کی کثرت ہے۔ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے:
إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا
(اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔)
(الاحزاب: 56)
درود محبت کو بڑھاتا ہے، گناہوں کا کفارہ بنتا ہے اور قیامت کے دن شفاعت کا ذریعہ بنتا ہے۔
4۔ سیرتِ نبوی کا مطالعہ اور اسوہ حسنہ کو اپنانا:
آپ ﷺ کی سیرت محبت کا سب سے بڑا خزانہ ہے۔ آپ کے اخلاق، عدل، رحم، صبر، ایثار، سچائی اور حسنِ معاملہ کو اپنی زندگی میں اتارنا حقیقی محبت کا ثبوت ہے۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا:
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ
( یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ کی ذات میں بہترین نمونہ موجود ہے )
(الاحزاب: 21)
۵۔ امتِ محمدیہ سے محبت اور خیرخواہی:
آپ ﷺ اپنی امت پر بے حد شفیق تھے۔ محبت کا تقاضا ہے کہ ہم امت کے ساتھ محبت، ہمدردی، ایثار اور اصلاح کا رویہ رکھیں۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر، حقوق العباد کی ادائیگی اور امت کے اتحاد کی کوشش بھی محبت کے تقاضوں میں شامل ہے۔
۶۔ آپ کی تعظیم و توقیر اور ادب :
آپ ﷺ کی شان میں گستاخی سے بچنا، آپ کے نام کا ادب کرنا، حدیث سننے وقت توجہ اور احترام کا مظاہرہ کرنا، اور آپ سے منسوب ہر چیز کی تعظیم کرنا محبت کا لازمی حصہ ہے۔
ہماری غفلت کا المناک منظر:
افسوس کہ آج ہم محبتِ رسول ﷺ کا بہت زیادہ دعویٰ کرتے ہیں مگر عمل میں شدید غفلت کا شکار ہیں۔ چند نمایاں پہلو ملاحظہ فرمائیں
فرائض میں کوتاہی , نمازوں میں سستی، زکوٰۃ میں کوتاہی، روزوں کی حفاظت نہ کرنا اور حج کی استطاعت کے باوجود ٹال مٹول۔
سنن و مستحبات سے بـے رغبتی، مسواک، وضو کی سنتیں، لباس اور کھانے پینے کے آداب، صبح و شام کے اذکار جیسے معاملات سے غفلت۔
حقوق العباد کی پامالی، والدین کے حقوق، رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی، پڑوسیوں کے حقوق، سچائی، امانت داری اور عدل جیسے معاملات میں کوتاہی۔
اخلاقِ نبوی سے دوری غصہ، بدگمانی، غیبت، تکبر، اور بـے رحمی عام ہو گئی ہے۔ آپ ﷺ جو رحمۃ للعالمین تھے، ہم ان کے اخلاق سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
زبانی جذبات پر اکتفا:
محافل، جلوس اور نعمت خوانی تو ہوتی ہے مگر زندگی میں سنت کا نفاذ نہیں ہوتا۔ محبت کا دعویٰ ہوتا ہے مگر خواہشاتِ نفس شریعت کے سامنے جھکتی نہیں۔
بدعات اور افراط و تفریط:
کچھ لوگ محبت کے نام پر ایسی رسومات ایجاد کر لیتے ہیں جو کتاب و سنت سے ثابت نہیں، جبکہ کچھ لوگ محبت کے اظہار کو ہی بدعت قرار دے کر خشکی اختیار کر لیتے ہیں۔ دونوں راستے افراط و تفریط ہیں۔
صحیح بخاری کی حدیث کے مطابق محبت بغیر عمل کے ناقص ہے۔ جو شخص محبت کا دعویٰ کرے مگر اطاعت نہ کرے، اس کا دعویٰ جھوٹا ہے۔ قاضی عیاض رحمہ اللہ نے الشفاء میں لکھا ہے کہ سچی محبت محبوب کی مرغوبات سے محبت اور ناپسندیدہ چیزوں سے نفرت کا تقاضا کرتی ہے۔
اصلاح کی راہیں:
1. سیرتِ نبوی کا باقاعدہ مطالعہ اور خاندان میں اس کی تعلیم۔
2. سنتوں کو بتدریج اپنی زندگی میں داخل کرنا۔
3. کثرت سے درود پڑھنا اور اس کے معانی پر غور کرنا۔
4. نفس کا محاسبہ کرنا اور خواہشات کو شریعت کے تابع کرنے کی کوشش۔
5. نیک لوگوں کی صحبت اور علمائے حق سے رہنمائی حاصل کرنا۔
6. امت کے ساتھ خیرخواہی اور اصلاح کا کردار ادا کرنا۔
محبتِ رسول ﷺ ایک زندہ حقیقت ہے جو دل کو جگا دیتی ہے، عمل کو سنوارتی ہے اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنتی ہے۔ زبانی دعویٰ کافی نہیں؛ کردار کا ثبوت ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سچی محبتِ رسول ﷺ عطا فرمائے، سنت پر عمل کی توفیق دے، غفلت سے بچائے اور قیامت کے دن آپ ﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے