कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

میلاد النبی ﷺ: ماہِ دعوت، اخوت اور اتحادِ امت

(ربیع الاول: فکری یگانگت اور بین المسالک یکجہتی کا مہینہ)

ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین

ماہِ ربیع الاول اسلامی تقویم کا وہ بابرکت مہینہ ہے جس کی ہر ساعت اور ہر لمحہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک عظیم الشان نعمت ہے۔ یہ وہ ماہِ منیر ہے جس میں باری تعالیٰ نے نوعِ انسانی پر اپنا سب سے بڑا احسان فرمایا، اور اپنے حبیبِ مکرم، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو رحمۃٌ للعالمین کے منصبِ جلیل پر فائز فرما کر اس دنیا میں مبعوث کیا۔ چنانچہ یہ مہینہ محض روایتی مسرت یا ذاتی جشن کا موقع نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے نام امن، رواداری، اخوت اور بے لوث خدمت کا ایک آفاقی منشور لے کر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ربیع الاول کو صرف روایتی عید کے دائرے میں سمیٹنے کے بجائے دعوت و تبلیغ کا سرچشمہ اور اتحادِ امت کا مظہر بنانا چاہیے۔ اس مبارک مہینے کو بھارتی معاشرے کے تمام ہم وطنوں اور غیر مسلم بھائیوں تک پیغمبرِ اسلام ﷺ کا عالمگیر پیغامِ رحمت پہنچانے کا مؤثر ذریعہ بنانا وقت کا سب سے اہم تقاضا ہے۔
ماہِ ربیع الاول مسلمانوں کے تمام طبقات میں فکری ہم آہنگی اور باہمی ربط استوار کرنے کا نادر موقع فراہم کرتا ہے۔ ایک طرف اگر اہلِ سنت 12 ربیع الاول کو حضورِ اکرم ﷺ کی ولادتِ باسعادت مناتے ہیں تو دوسری طرف اہلِ تشیع 17 ربیع الاول کو اس مبارک دن کا انعقاد کرتے ہیں، مگر یہ تقویمی فرق تفریق کا باعث ہرگز نہیں بننا چاہیے۔ امام خمینی نے اسی تاریخی نکتے کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے 12 سے 17 ربیع الاول کے درمیانی ایام کو "ہفتۂ وحدت” قرار دے کر نزاع کی گنجائش کو یگانگت کے سنگِ میل میں بدل دیا۔ اس ہفتۂ وحدت کا تقاضا ہے کہ تمام مکاتبِ فکر، بشمول شیعہ، سنی، دیوبندی، بریلوی اور اہلِ حدیث، اپنے فروعی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک پرچم تلے جمع ہوں اور امتِ واحدہ کا عملی ثبوت پیش کریں۔ یہ بین المسالک یکجہتی ہی دراصل غیر مسلموں کے سامنے اسلام کی سچی تصویر پیش کرتی ہے کہ یہ دینِ برحق انتشار کے بجائے امن، باہمی احترام اور اجتماعی نظم کا امین ہے۔
دعوت و تبلیغ کا فریضہ ہر کلمہ گو پر عائد ہوتا ہے، اور اس کی عظمت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ سرکارِ دو عالم ﷺ نے اپنی حیاتِ طیبہ کا ہر لمحہ اسی مقدس مشن کی تکمیل کے لیے وقف فرما دیا۔ آپ ﷺ نے اعلانِ نبوت کے اولین ایام سے لے کر حیاتِ مبارکہ کے آخری سانس تک خلقِ خدا کو صراطِ مستقیم کی طرف بلانے، اخلاقِ حسنہ کی شمعیں روشن کرنے اور انسانی معاشرے کو ظلم و جہالت کی تاریکیوں سے نکالنے کی بے مثل جدوجہد فرمائی۔ آپ ﷺ کی سیرتِ طیبہ کا ہر ورق دعوت و ہدایت کا شاہکار ہے۔ نبی کریم ﷺ کے اوصافِ حمیدہ، مثلاً صداقت، امانت، اعلیٰ فہم اور حکمت و دانائی، آج بھی بھٹکی ہوئی انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ جب ہم میلاد النبی ﷺ کا مہینہ مناتے ہیں تو درحقیقت اسی عظیم نبوی مشن سے تجدیدِ عہد کرتے ہیں، لہٰذا اس ماہ کو فریضۂ دعوت کے لیے مختص کرنا خود سنتِ نبوی کی پیروی اور آپ ﷺ کے مشن کو آگے بڑھانا ہے۔
اس بابرکت موقع پر تفہیمِ دین کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ میلاد کی محافل اور فکری سیمیناروں میں دیگر مذاہب کے پیروکاروں کو باقاعدہ اور پرخلوص انداز میں مدعو کیا جائے۔ ان مجالس میں آقائے دو جہاں ﷺ کے عدل و انصاف، عفو و درگزر، شجاعت، رحمت، حلم اور انسان دوستی کے تابناک نقوش کو اجاگر کیا جائے۔ یہ وہ آفاقی اخلاقی اوصاف ہیں جن کی ضرورت ہر قوم، ہر خطے اور ہر زمانے کے انسان کو یکساں طور پر رہتی ہے۔ جب غیر مسلم ان مجالس میں شریک ہوں گے تو وہ محسنِ انسانیت ﷺ کے اسوۂ حسنہ سے براہِ راست مستفید ہوں گے اور ان کے اذہان پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ مزید برآں، اس مہینے مساجد اور اسلامی مراکز کے دروازے بھی غیر مسلموں کے لیے کھول دیے جانے چاہییں تاکہ وہ اسلامی عبادات کی سادگی، خشوع اور تہذیبی حسن کا کھلے دل سے مشاہدہ کر سکیں، جس سے صدیوں پر محیط اوہام، غلط فہمیاں اور شکوک و شبہات خودبخود زائل ہو جائیں گے۔
میلاد کے شایانِ شان اہتمام کا ایک اور روشن پہلو دکھی انسانیت کی بے لوث خدمت ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے پوری زندگی بے کسوں، یتیموں، ناداروں، محتاجوں اور مسکینوں کی دستگیری کو اپنا مستقل شیوہ اور معمول بنایا۔ چنانچہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے پروگراموں کو صرف تقاریر، خطبات اور چراغاں تک محدود نہ رکھیں بلکہ رفاہی میدان میں عملی کردار ادا کریں۔ نادار افراد کی مالی اعانت کرنا، بھوکوں کو طعام کھلانا، پیاسوں کے لیے صاف پانی کا بندوبست کرنا، مریضوں کی عیادت کرنا اور یتیموں کی کفالت کی ذمہ داری سنبھالنا وہ نبوی تعلیمات ہیں جو سماجی مساوات کا ڈھانچہ تشکیل دیتی ہیں۔ جب برادرانِ وطن دیکھیں گے کہ مسلمان اس مبارک مہینے میں بلا تفریقِ مذہب و ملت معاشرے کے پسماندہ اور لاچار طبقات کے کام آ رہے ہیں، تو ان کے قلوب میں اسلام کے لیے قدرتی احترام اور خیر سگالی کے جذبات بیدار ہوں گے، کیونکہ خدمتِ خلق وہ خاموش زبان ہے جس کی تاثیر صدیوں پر محیط ہوتی ہے۔
موجودہ پرآشوب دور میں اسلام دشمن قوتیں، سامراجی عزائم اور فتنہ پرور لابی مسلمانوں کو آپس میں لڑانے اور کمزور کرنے کی مذموم کوششوں میں لگی ہوئی ہیں۔ یہ عناصر مسلکی تعصبات کو ہوا دے کر امت کے مختلف گروہوں کے درمیان دیواریں کھڑی کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے نازک موڑ پر ربیع الاول کا مہینہ ان تمام سازشوں کو ناکام بنانے کی مضبوط ترین ڈھال بن سکتا ہے۔ تمام مسالک کو مشترکہ مقاصد کے لیے یکجا ہو کر یہ باور کرانا ہوگا کہ ان کا کلمہ، قرآن اور رسول ﷺ ایک ہیں، اس لیے ان کا باہمی مفاد اور بقا بھی ایک ہی رشتے سے جڑی ہے۔ دانشمند علمائے کرام اور ملی رہنماؤں کا یہ دینی فریضہ ہے کہ وہ بین المذاہب ہم آہنگی اور باہمی مکالمے کو تقویت دیں تاکہ نفرت اور انتشار پھیلانے والوں کا ایجنڈا مکمل طور پر خاک میں مل جائے۔
عالمی میڈیا کے منفی پروپیگنڈے اور اسلاموفوبیا کی موجودہ لہر کے تدارک کے لیے بھی میلاد النبی ﷺ کا موقع ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ جہاں ذرائع ابلاغ کی یکطرفہ رپورٹنگ کے ذریعے دینِ فطرت کے متعلق منفی تاثر قائم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، وہاں مسلمانوں کی یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ خود آگے بڑھ کر دنیا کو اسلام کا پرامن رخ دکھائیں۔ جب لوگ براہِ راست سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کی تعلیمات سے روشناس ہوں گے تو وہ جان لیں گے کہ اسلام جبر اور تشدد کا نہیں بلکہ حریتِ فکر، انسانی وقار، برابری اور عدل و قسط کا نظام ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے معاشرتی ناانصافیوں، طبقاتی تفریق اور غلامی کی بیڑیوں کو کاٹ کر متصادم قبیلوں کو امن کے ساتھ جینے کا سلیقہ سکھایا تھا۔
سماجی سطح پر بین المذاہب رواداری اور باہمی بقائے باہمی کے اصولوں کو عام کرنے کے لیے یہ مبارک ایام بے حد موزوں ہیں۔ جب مختلف مذاہب کے دانشور، سماجی رہنما اور عام شہری مل بیٹھ کر ایک دوسرے کے جذبات کا احترام کریں گے اور پرامن مکالمے کی بنیاد رکھیں گے، تو ایک ایسا سازگار ماحول پروان چڑھے گا جہاں نفرت، تنگ نظری اور تعصب کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔ میلاد النبی ﷺ دراصل انسانیت کو باہمی یگانگت کے اس رشتے میں پرونے کا ایک سنہری پلیٹ فارم ہے جس کا درس محسنِ انسانیت ﷺ نے خطبۂ حجۃ الوداع میں ارشاد فرمایا تھا۔
اس مبارک مقصد کو منظم انداز میں پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے درج ذیل عملی اقدامات ناگزیر ہیں:
* میلاد کی تمام مجالس، علمی سمیناروں اور خطابات میں برادرانِ وطن کو باقاعدہ اور احترام کے ساتھ شریک کیا جائے۔
* مساجد اور اسلامی مراکز میں "اوپن ہاؤس” کا انعقاد کیا جائے تاکہ غیر مسلم مہمان بلا جھجک اسلامی تہذیب کا مشاہدہ کر سکیں۔
* سیرتِ نبوی ﷺ کے تابناک اور اخلاقی پہلوؤں پر مشتمل معیاری لٹریچر کثیر لسانی تراجم کی صورت میں شائقین تک پہنچایا جائے۔
* بین المذاہب ادبی نشستوں، افہام و تفہیم کے مکالموں اور مشترکہ طعام کی مجالس کا کثرت سے اہتمام کیا جائے۔
* ہسپتالوں، یتیم خانوں اور پسماندہ بستیوں میں بلاتفریقِ مذہب امدادی اور طبی کیمپ قائم کیے جائیں۔
* ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کے تمام ذرائع کو جدید تکنیکی انداز میں امن اور انسانی حقوق سے متعلق نبوی ارشادات کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے۔
یہ حقیقت بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ ربیع الاول کا پیغام صرف دوسروں کو مدعو کرنے تک محدود نہیں، بلکہ یہ خود مسلمانوں سے باطنی اصلاح اور خود احتسابی کا تقاضا کرتا ہے۔ جب تک کلمہ گو مسلمان اپنی تجارت، گفتار، معاملات اور روزمرہ زندگی میں اسوۂ حسنہ کا سچا عکس پیش نہیں کریں گے، ان کی زبانی دعوت اثر سے محروم رہے گی۔ انسان کا اپنا اعلیٰ کردار اور دیانت داری ہی سب سے بڑا مبلغ ہے جس سے متاثر ہو کر لوگ حق کی جانب راغب ہوتے ہیں۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ ماہِ ربیع الاول کو روایتی رسوم کے بجائے افہام و تفہیم، تبلیغِ دین اور امت کے اتحاد کا عملی منشور بنانا چاہیے۔ حضور نبی اکرم ﷺ تمام جہانوں کے لیے رحمت کا سرچشمہ بن کر تشریف لائے۔ آئیے اس ماہِ مقدس میں اپنے بھارتی ہم وطنوں سمیت دنیا بھر کے تمام انسانوں تک محبت اور امن کا نبوی پیغام پہنچائیں، باہمی اتحاد و یکجہتی کو مضبوط کریں، اور ثابت کریں کہ اسلام سراپا رحمت اور سلامتی کا دین ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس مقدس فریضے کو اخلاص کے ساتھ نبھانے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے