कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مادی ترقی کے دور میں اخلاقی اقدار کی بازیافت

تحریر:ڈاکٹر محمد سعید اللہ ندوی
8175818019

انسانی تاریخ کے ہر دور نے اپنے ساتھ کچھ نئے امکانات اور کچھ نئے چیلنجز ضرور لائے ہیں، لیکن موجودہ صدی کا منظرنامہ گزشتہ تمام ادوار سے اس اعتبار سے مختلف ہے کہ آج دنیا نے سائنسی ترقی، ڈیجیٹل انقلاب، مصنوعی ذہانت، تیز رفتار مواصلاتی نظام اور معاشی وسعت کے ایسے مراحل طے کر لیے ہیں جن کا چند دہائیاں قبل تصور بھی ممکن نہ تھا۔ انسان چند لمحوں میں ہزاروں میل دور بیٹھے شخص سے گفتگو کر لیتا ہے، علم کی بے شمار کتابیں ایک چھوٹے سے موبائل فون میں سمٹ چکی ہیں، علاج، تجارت، تعلیم اور تحقیق کے میدان حیرت انگیز ترقی کی داستانیں رقم کر رہے ہیں، لیکن ان تمام کامیابیوں کے باوجود ایک سوال پوری شدت کے ساتھ ہمارے سامنے کھڑا ہے کہ کیا انسان واقعی پہلے سے زیادہ مہذب، بااخلاق اور پرسکون ہو گیا ہے؟
اگر معاشرے کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ مادی ترقی کی رفتار جتنی تیز ہوئی ہے، اخلاقی اقدار کی گرفت اتنی ہی کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ انسان کی سہولتیں بڑھ گئی ہیں مگر سکون کم ہوگیا ہے، ذرائع ابلاغ میں وسعت آگئی ہے مگر دلوں کے فاصلے بڑھ گئے ہیں، تعلیم عام ہوئی ہے مگر کردار سازی کا عمل کمزور پڑ گیا ہے، دولت میں اضافہ ہوا ہے مگر قناعت اور شکر گزاری ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ یہی وہ المیہ ہے جس نے پوری دنیا کے دانشوروں، سماجی مفکرین، مذہبی رہنماؤں اور ماہرین تعلیم کو فکر مند کر رکھا ہے۔
اسلام نے چودہ سو سال قبل جس معاشرے کی بنیاد رکھی تھی اس کی اصل روح اخلاق، عدل، امانت، دیانت، رحم، برداشت، خیر خواہی اور انسانی احترام تھی۔ قرآن مجید نے بار بار انسان کو اس کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا اور رسول اکرمؐ نے اپنی پوری عملی زندگی کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ بہترین معاشرہ صرف مضبوط معیشت یا جدید ٹیکنالوجی سے نہیں بلکہ اعلیٰ کردار سے وجود میں آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ؐنے فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کے اخلاق سب سے بہتر ہوں۔
افسوس یہ ہے کہ آج اخلاقیات کو محض نصیحت کی کتابوں تک محدود کر دیا گیا ہے، جبکہ عملی زندگی میں اس کی جھلک کم کم نظر آتی ہے۔ جھوٹ کو ذہانت، دھوکہ کو کاروباری مہارت، وعدہ خلافی کو مجبوری، رشوت کو سہولت، اور بدزبانی کو اظہارِ رائے کا نام دے دیا گیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ معاشرے کا اعتماد ٹوٹ رہا ہے، خاندان کمزور ہو رہے ہیں اور نئی نسل صحیح اور غلط کے درمیان فرق کھوتی جا رہی ہے۔
سوشل میڈیا نے جہاں معلومات تک رسائی کو آسان بنایا، وہیں اس نے انسان کے صبر، برداشت اور ذمہ داری کے احساس کا بھی امتحان لیا ہے۔ چند سیکنڈ میں ایک جھوٹی خبر لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے، کسی کی عزت اچھالنے میں لمحے لگتے ہیں، نفرت انگیز تبصرے معمول بنتے جا رہے ہیں اور بے مقصد ویڈیوز و پیغامات قیمتی اوقات نگل رہے ہیں۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ان تمام کاموں کو اکثر لوگ معمولی سمجھتے ہیں، حالانکہ اسلام ہر لفظ اور ہر عمل کی جواب دہی کا احساس دلاتا ہے۔ قرآن کریم کا واضح حکم ہے کہ اگر کوئی خبر آئے تو اس کی تحقیق کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ لاعلمی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر ندامت اٹھانی پڑے۔
اسی طرح مصنوعی ذہانت نے بے شمار آسانیاں پیدا کی ہیں، لیکن اگر اس کا استعمال دیانت داری، تحقیق اور اخلاقی ذمہ داری کے بغیر ہوگا تو یہ سہولت کی بجائے نقصان کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ ہر نئی ایجاد بذات خود نہ اچھی ہوتی ہے نہ بری، بلکہ اس کا استعمال اس کی حیثیت کا تعین کرتا ہے۔ چاقو سے پھل بھی کاٹا جا سکتا ہے اور کسی کو زخمی بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہی معاملہ جدید ٹیکنالوجی کا بھی ہے۔ اگر اس کے ذریعے علم، دعوت، تحقیق، تعلیم اور خدمت خلق کو فروغ دیا جائے تو یہ نعمت ہے، لیکن اگر اس سے جھوٹ، فریب، جعل سازی، کردار کشی اور گمراہی پھیلائی جائے تو یہی نعمت آزمائش بن جاتی ہے۔
آج ہمارا تعلیمی نظام بھی ایک بڑے سوال کے سامنے کھڑا ہے۔ ڈگریاں بڑھ رہی ہیں، مگر کردار کمزور ہو رہا ہے۔ مقابلے کے امتحانات میں کامیابی کو تعلیم کا آخری مقصد سمجھ لیا گیا ہے، جبکہ تعلیم کا اصل مقصد ایک باکردار، ذمہ دار، بااخلاق اور مفید انسان تیار کرنا ہے۔ وہ تعلیم جو انسان کو دوسروں کے حقوق کا احترام نہ سکھا سکے، وہ معاشرے کے لیے مکمل خیر ثابت نہیں ہو سکتی۔
آج کے حالات میں سب سے زیادہ تشویش نوجوان نسل کے حوالے سے ہے۔ نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ انہی کے ہاتھوں میں مستقبل کی باگ ڈور ہوتی ہے، لیکن اگر یہی نسل مقصدِ حیات سے بے خبر، اخلاقی اقدار سے دور، وقت کی ناقدر اور ظاہری چمک دمک کی اسیر ہو جائے تو قوموں کا مستقبل خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ آج کے نوجوان ذہین ہیں، باصلاحیت ہیں، جدید ٹیکنالوجی سے واقف ہیں اور دنیا کے ہر گوشے کی خبر رکھتے ہیں، لیکن انہیں اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ وہ اپنے علم کو حکمت، اپنے جذبے کو کردار اور اپنی صلاحیت کو انسانیت کی خدمت کے لیے استعمال کریں۔ صرف کامیاب کیریئر انسان کی کامیابی کی ضمانت نہیں، بلکہ اچھا انسان بننا سب سے بڑی کامیابی ہے۔
خاندانی نظام بھی ہمارے معاشرے کی وہ بنیاد ہے جس پر پوری تہذیب کھڑی ہوتی ہے۔ جب خاندان مضبوط ہوتے ہیں تو معاشرے مضبوط ہوتے ہیں، اور جب خاندان بکھرنے لگتے ہیں تو معاشرہ بھی انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔ افسوس کہ آج والدین کے لیے وقت کم اور موبائل فون کے لیے وقت زیادہ ہے۔ گھروں میں ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے افراد ایک دوسرے سے کم اور اسکرینوں سے زیادہ گفتگو کرتے ہیں۔ بچوں کی تربیت میں اساتذہ اور والدین کے کردار کو کسی بھی مصنوعی ذریعہ سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ محبت، شفقت، دعا، نصیحت اور عملی نمونہ ہی وہ ذرائع ہیں جن سے صالح نسلیں پروان چڑھتی ہیں۔
اسی طرح معاشی دوڑ نے انسان کو اس قدر مصروف کر دیا ہے کہ حلال و حرام کی تمیز بھی دھندلی ہوتی جا رہی ہے۔آج پوری دنیا ماحولیاتی تبدیلی، جنگوں، معاشی بحران، بے روزگاری، مہنگائی، نفسیاتی دباؤ اور سماجی بے چینی جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ ان مسائل کا حل صرف قوانین یا حکومتوں کے پاس نہیں بلکہ ہر فرد کی ذمہ داری میں بھی پوشیدہ ہے۔ اگر ہر شخص اپنی ذمہ داری کو امانت سمجھ کر ادا کرے، اپنے حصے کا انصاف کرے، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھے، ماحول کی حفاظت کرے، پانی، بجلی اور وسائل کے استعمال میں اعتدال اختیار کرے، ضرورت مندوں کی مدد کرے اور اپنے رویے میں نرمی پیدا کرے تو معاشرہ خود بخود بہتر ہونے لگے گا۔
ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو صرف کامیاب ڈاکٹر، انجینئر، افسر یا تاجر بنانے کی فکر نہ کریں بلکہ انہیں سچا، دیانت دار، باحیا، رحم دل اور ذمہ دار انسان بنانے کی بھی کوشش کریں۔ قوموں کی اصل دولت ان کی بلند عمارتیں نہیں بلکہ ان کے باکردار افراد ہوتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کردار مضبوط ہوتا ہے تو وسائل کی کمی بھی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتی، اور جب کردار کمزور ہو جائے تو بے شمار وسائل بھی قوموں کو زوال سے نہیں بچا سکتے۔
وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم دوسروں کو بدلنے سے پہلے اپنی ذات کا محاسبہ کریں۔ اپنے گھروں سے اصلاح کا آغاز کریں، اپنی زبان کو جھوٹ، غیبت اور بدکلامی سے محفوظ رکھیں، اپنے موبائل کو خیر کے پیغام کا ذریعہ بنائیں، اپنے قلم کو انصاف کا علمبردار بنائیں اور اپنے عمل سے دوسروں کے لیے مثال قائم کریں۔ یاد رکھیے، معاشرے کی تقدیر کسی ایک دن میں نہیں بدلتی بلکہ چھوٹے چھوٹے نیک اعمال، مسلسل کوشش، خلوصِ نیت اور اجتماعی احساس ذمہ داری قوموں کی قسمت بدل دیتے ہیں۔ حقیقی ترقی وہ نہیں جو صرف معیشت کو مضبوط کرے، بلکہ وہ ہے جو انسان کے ضمیر کو زندہ، اس کے کردار کو مضبوط، اس کے دل کو نرم اور اس کے معاشرے کو انصاف، محبت اور انسانیت کا گہوارہ بنا دے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک باوقار قوم، ایک مہذب معاشرے اور ایک روشن مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے، اور یہی وہ پیغام ہے جس کی آج پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے