कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

منھ بولے بھائی بہن کے رشتے ایک خطرناک فتنہ

تحریر:محمد عادل ارریاوی

آج کے موجودہ دور میں یہ بھی ایک افسوس ناک اور تشویش ناک فتنہ عام ہوتا جا رہا ہے کہ نامحرم لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے کو بھائی یا بہن بنا لیتے ہیں پھر اسی منھ بولے رشتے کی آڑ میں گھنٹوں گفتگو مسلسل رابطہ بے تکلفی ہنسی مذاق اور نجی بات چیت کو معمول بنا لیتے ہیں۔ حالانکہ ہر صاحبِ ایمان کو یہ سوچنا چاہیے کہ کیا کسی نامحرم کو صرف بھائی یا بہن کہہ دینے سے وہ حقیقتاً محرم بن جاتا ہے؟ کیا اس سے اس کے ساتھ آزادانہ گفتگو تنہائی میں بات چیت یا بے تکلف تعلقات جائز ہو جاتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔
ذرا غور کیجیے کیا آپ کے اپنے گھر میں حقیقی بھائی یا بہن کم ہیں کہ آپ سوشل میڈیا یا دیگر ذرائع پر کسی اجنبی کو بھائی یا بہن بنانے لگیں؟ اسلام نے جن رشتوں کو محرم قرار دیا ہے وہی محرم ہیں جبکہ صرف زبان سے کسی کو بھائی بہن بیٹی یا باپ کہہ دینے سے شرعی احکام تبدیل نہیں ہوتے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسے بہت سے منھ بولے رشتے ابتدا میں انتہائی معصوم اور پاکیزہ دعووں کے ساتھ قائم ہوتے ہیں لیکن رفتہ رفتہ یہی تعلقات ضرورت سے زیادہ گفتگو جذباتی وابستگی ملاقاتوں اور بعض اوقات ایسے گناہوں تک پہنچ جاتے ہیں جن کے نتائج دنیا و آخرت دونوں میں نہایت تباہ کن ہوتے ہیں یعنی دن میں بھائی بھائی اور رات میں چارپائی تک بات پہنچ جاتی ہے شیطان انسان کو ایک ہی مرتبہ بڑے گناہ میں مبتلا نہیں کرتا بلکہ آہستہ آہستہ چھوٹے قدموں سے اسی طرف لے جاتا ہے۔
یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ نامحرم نامحرم ہی رہتا ہے۔ اس کے ساتھ شریعت نے جن حدود و آداب کا حکم دیا ہے ان کی پابندی ہر حال میں ضروری ہے۔ کسی کو بھائی بہن بیٹی یا باپ کہہ دینے سے نہ نکاح حرام ہوتا ہے نہ وہ محرم بن جاتا ہے اور نہ ہی اس کے ساتھ بے تکلف گفتگو یا غیر ضروری تعلقات جائز ہو جاتے ہیں۔
آج ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ کہتے ہیں میں نے اسے بہن بنا لیا ہے میں اسے بیٹی سمجھتا ہوں میں اسے بھائی مانتی ہوں یا میں انہیں باپ کی جگہ سمجھتی ہوں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا شریعت نے صرف ایسے دعووں کی بنیاد پر محرمیت کا حکم دیا ہے؟ کیا اس کے بعد نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاتا ہے؟ یقیناً نہیں۔ حقیقی محرم وہی ہیں جنہیں اللہ ربّ العزت اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے محرم قرار دیا ہے اس کے علاوہ ہر نامحرم اپنی اصل حیثیت پر باقی رہتا ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مرد اور عورت کے درمیان فطری کشش اللہ ربّ العزت کی پیدا کردہ چیز ہے۔ اس لیے خواہ نیت کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو شریعت نے ایسے تمام راستوں سے بچنے کی تعلیم دی ہے جو فتنہ اور گناہ کا سبب بن سکتے ہیں۔
لہٰذا نہ بہنیں ایسے منھ بولے رشتوں کے دھوکے میں آئیں اور نہ بھائی اس عنوان کو بے جا تعلقات کا ذریعہ بنائیں۔ اپنی محبت شفقت اور توجہ کا حق سب سے پہلے اپنے حقیقی بھائیوں اور بہنوں کو دیجیے کیونکہ وہی اس کے زیادہ مستحق ہیں۔
اللہ ربّ العزت ہم سب کو شریعت کی حدود کی حفاظت کرنے ہر قسم کے فتنوں سے بچنے اور پاکیزہ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین ۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے