कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

تنہا علم مفید نہیں

تحریر:فضیل اختر قاسمی بھیروی
خادم التدریس دارالعلوم رحیمیہ پیلیر آندھراپردیش

علم انسانیت کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے جو انسان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔ لیکن علم کی حقیقی روح اور اس کا حسن صرف اسی وقت ظاہر ہوتا ہے جب وہ عمل کے سانچے میں ڈھل جائے۔ اگر علم کے ساتھ عمل نہ ہو، تو وہ محض معلومات کا ایک بے جان ڈھیر بن کر رہ جاتا ہے جو نہ انسان کی اپنی ذات کو کوئی فائدہ پہنچاتا ہے اور نہ ہی معاشرے کے لیے کسی خیر کا باعث بنتا ہے۔ تنہا علم، عمل کے بغیر ایک ایسا درخت ہے جو سرسبز تو دکھائی دیتا ہے مگر اس پر کوئی پھل نہیں آتا۔
اسلامی تعلیمات میں علمِ بے عمل کی شدید مذمت کی گئی ہے اور اسے انسان کے لیے ایک بہت بڑا وبال قرار دیا گیا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسی حقیقت کو بے نقاب کرتے ہوئے فرمایا کہ بے عمل عالم سے جاہل بھی نفرت کرتا ہے، اس لیے اس سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کر پاتا؛ بے عمل عالم کے علم سے نہ خود کو فائدہ پہنچتا ہے اور نہ دوسروں کو، چاہے اس کے پاس کتنا ہی زیادہ علم ہو۔ یہ ایک نفسیاتی سچائی ہے کہ لوگ ہمیشہ اس شخص کی بات کو دل سے قبول کرتے ہیں جس کا کردار اس کے قول کے مطابق ہو، ورنہ زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کانوں سے ٹکرا کر ہوا میں غائب ہو جاتے ہیں۔
تاریخِ عالم میں ایسے کئی واقعات موجود ہیں جو ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ علم کی کثرت یا کتابوں کے انبار انسان کو اس وقت تک کوئی فضیلت نہیں بخش سکتے جب تک وہ ان پر عمل پیرا نہ ہو۔ چنانچہ بنی اسرائیل میں ایک شخص نے کتابوں کے اسی (80) صندوق جمع کیے تھے، اللہ تعالیٰ نے اس وقت کے پیغمبر کے ذریعہ کہلوایا کہ اگر تو اتنے ہی صندوق اور جمع کرے تو تجھے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، جب تک کہ ان باتوں پر عمل نہ کرے: (۱) دنیا کی محبت دل سے نکالے کیونکہ یہ دنیا مؤمن کا گھر نہیں، (۲) شیطان کا ساتھ چھوڑے کہ وہ مسلمان کا دوست نہیں، اور (۳) مسلمانوں کو نہ ستائے کہ یہ کام اللہ والوں کا نہیں۔ یہ واقعہ صاف بتاتا ہے کہ کتابوں کی مادی کثرت انسان کی نجات کا ذریعہ نہیں بن سکتی جب تک کہ وہ علم انسان کے اخلاق اور معاملات کو درست نہ کرے۔
علم کا اصل مقصد انسان کے اندر خشیتِ الٰہی، عاجزی اور حقوق العباد کا احساس پیدا کرنا ہے۔ جو علم انسان کے دل سے دنیا کی حرص کا خاتمہ نہ کر سکے، جو اسے شیطان کے بہکاوے سے نہ بچا سکے اور جو اسے مخلوقِ خدا کے لیے سراپا رحمت بنانے کے بجائے دوسروں کو ستانے کا سبب بنے، وہ علم درحقیقت علم ہی نہیں بلکہ ایک دھوکہ ہے۔ علم ایک چراغ کی مانند ہے اور عمل اس کی روشنی ہے؛ چراغ کتنا ہی قیمتی کیوں نہ ہو، اگر وہ اندھیری رات میں روشنی دینے سے قاصر ہو تو اس کی کوئی افادیت نہیں رہ جاتی۔ سچی کامیابی صرف اسی علم میں ہے جو عمل کے نور سے منور ہو۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے