कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

علمائے دین کیلئے فقہ اور قانون دونوںسے واقفیت ضروری

تحریر:ڈاکٹر امتیاز احمد قاسمی ازہری

ہندوستان کے مسلمان اس وقت ایک ایسے عہد سے گزر رہے ہیں جہاں ان کی اجتماعی زندگی کے متعدد اہم معاملات براہِ راست قانون، آئین اور عدالتی نظام سے وابستہ ہو چکے ہیں۔ مسلم پرسنل لا، اوقاف، وراثت، اقلیتی تعلیمی اداروں کے حقوق، مذہبی آزادی، تعلیمی خودمختاری اور سماجی نمائندگی جیسے موضوعات اب محض دینی یا سماجی گفتگو تک محدود نہیں رہے بلکہ ان کا ایک مضبوط قانونی اور آئینی پس منظر بھی وجود میں آ چکا ہے۔ ایسے حالات میں یہ سوال غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ کیا ہمارے مدارس ایسے علماء تیار کر رہے ہیں جو اپنے عظیم علمی ورثے کے ساتھ اس قانونی ماحول اور ریاستی نظام کو بھی سمجھتے ہوں جس میں ہندوستانی مسلمان اپنی اجتماعی زندگی بسر کر رہے ہیں؟
یہ سوال دراصل مدارس کے نظام پر اعتراض نہیں بلکہ اس علمی روایت کو اس کی اصل وسعت کے ساتھ دوبارہ سمجھنے کی دعوت ہے۔ برصغیر کے مدارس نے دین، فقہ، حدیث، عربی زبان اور دینی شناخت کے تحفظ میں تاریخی کردار ادا کیا ہے، لیکن بدلتے ہوئے سماجی اور قانونی حالات نئے علمی تقاضے بھی پیدا کرتے ہیں جن سے صرفِ نظر مستقبل میں ایک فکری خلا پیدا کر سکتا ہے۔اس موضوع پر گفتگو سے قبل فقہِ اسلامی کے اصل تصور کو سمجھنا ضروری ہے۔ عام طور پر فقہ کا تذکرہ آتے ہی ذہن عبادات کی طرف منتقل ہو جاتا ہے، حالانکہ اسلامی فقہ کی کلاسیکی روایت اس تصور سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ فقہی ذخیرے میں عبادات کے ساتھ معاملات، تجارت، مالیات، معاہدات، شہادات، قضاء، حدود، تعزیرات، نظمِ اجتماعی، سیاسی اصول اور بین الاقوامی تعلقات جیسے موضوعات بھی شامل ہیں۔اسلامی فقہ زندگی کو صرف فرد کی سطح پر نہیں بلکہ معاشرے اور ریاست کے تناظر میں بھی دیکھتی ہے۔ اسی لیے کلاسیکی روایت میں فقیہ کا کردار محض مذہبی معلم کا نہیں تھا بلکہ وہ سماجی رہنما، عدالتی مشیر اور اجتماعی مسائل کا حل پیش کرنے والا فرد سمجھا جاتا تھا۔
اسلامی تاریخ اس حقیقت کی روشن مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔ امام ابو یوسفؒکی کتاب الخراج مالیاتِ عامہ اور ریاستی نظم پر ایک اہم دستاویز ہے، جبکہ امام محمدؒکی السیر الکبیر بین الاقوامی تعلقات اور ریاستی ذمہ داریوں سے متعلق فقہی فکر کی وسعت کو ظاہر کرتی ہے۔ عثمانی دور کا مجلہ الاحکام العدلیہ اور برصغیر کا فتاویٰ عالمگیری بھی اس بات کے شاہد ہیں کہ فقہ ہمیشہ عملی زندگی سے جڑی رہی۔اسلامی علمی روایت میں سیاستِ شرعیہ ایک مستقل علمی شعبہ رہا ہے جس کے تحت نظامِ حکومت، عدالتی نظام، مالیاتِ عامہ، شہری حقوق اور انتظامی اصول زیرِ بحث آتے رہے ہیں۔ اس روایت کا بنیادی تصور یہی تھا کہ عالمِ دین اپنے زمانے کے سیاسی اور قانونی حالات سے بے خبر نہ رہے۔
راقم کو گزشتہ صدی کی آٹھویں دہائی میں جامعہ ازہر کے شعبۂ سیاستِ شرعیہ میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔ اس وقت نصاب میں نظام الحکم، المالیۃ العامۃ، الاقتصاد الاسلامہ، القواعد الفقہیۃ، نظام القضاء ، الجنایات اور العلاقات الدولیۃ جیسے مضامین شامل تھے۔ اس تجربے نے واضح کیا کہ اسلامی فقہ کو صرف عبادات کے علم کے طور پر نہیں بلکہ ایک جامع عملی نظام کے طور پر پڑھایا جاتا ہے۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر فقہ کی روایت اتنی جامع تھی تو برصغیر کے مدارس میں اس کا دائرہ نسبتاً محدود کیوں ہو گیا؟
اس کی تاریخی وجوہات موجود ہیں۔ مسلم سیاسی اقتدار کے خاتمے، نو آبادیاتی نظام اور دینی تشخص کے تحفظ کی ضرورت نے مدارس کو بنیادی دینی علوم کی حفاظت پر مرکوز کر دیا۔ مدارس نے اس مرحلے میں عظیم تاریخی خدمت انجام دی، لیکن اس کے ساتھ فقہ کے بعض اجتماعی اور قانونی پہلو عملی زندگی سے نسبتاً دور ہوتے گئے۔آج ہندوستان ایک مکمل آئینی اور قانونی ریاست ہے۔ مسلمانوں کے بہت سے معاملات عدالتوں، سرکاری اداروں اور قانونی تشریحات کے دائرے میں طے ہوتے ہیں۔ مسلم پرسنل لا، اوقاف، اقلیتی حقوق اور مذہبی آزادی مسلسل قانونی مباحث کا حصہ ہیں۔
یہاں ایک واضح خلا محسوس ہوتا ہے۔ ایک طرف فقہ کے ماہر علماء ہیں جو جدید قانونی نظام سے محدود واقفیت رکھتے ہیں، دوسری طرف قانون دان ہیں جو فقہِ اسلامی کی علمی روایت سے مکمل آگاہ نہیں ہوتے۔ ملت کو ایسے افراد درکار ہیں جو ان دونوں علمی دنیاؤں کے درمیان ایک مؤثر پل بن سکیں۔یہ ضرورت نئی نہیں۔ مصر میں جامعہ ازہر کی کلیۃ الشریعہ والقانون نے ایسے علماء تیار کیے جنہوں نے قضاء، افتاء اور قانونی میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ ملیشیا نے شرعی علوم اور جدید قانون کے امتزاج کے ذریعے اسلامی مالیات کو عالمی شناخت عطا کی۔ مراکش اور دیگر مسلم ممالک نے بھی اس اشتراک سے مثبت نتائج حاصل کیے۔ان تجربات سے واضح ہوتا ہے کہ شرعی علوم کے ساتھ قانونی شعور کا اضافہ دینی شناخت کو کمزور نہیں کرتا بلکہ اس کی عملی افادیت بڑھاتا ہے۔اسی تناظر میں ہندوستانی مدارس کے اعلیٰ درجات میں فقہِ اسلامی اور ہندوستانی قانون کے تقابلی مطالعہ کے اختیاری کورسز، ڈپلومہ پروگرام اور تخصصی شعبے قائم کیے جا سکتے ہیں۔ دستورِ ہند، عدالتی نظام، قانونِ شہادت، مسلم پرسنل لا، اوقاف کے قوانین، فقہ القضاء، سیاستِ شرعیہ اور فقہ المعاملات جیسے مضامین علمی افق کو وسعت دے سکتے ہیں۔
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ مقصد مدارس کو لا کالج بنانا نہیں اور نہ علماء کو وکیل بنانا مقصود ہے، بلکہ عالم دین کو اپنے زمانے کی قانونی حقیقتوں سے واقف بنانا مطلوب ہے تاکہ وہ دینی رہنمائی زیادہ مؤثر انداز میں انجام دے سکے۔مسلمانان ہندکیلئے تعلیمی اور دینی ادارے صرف تدریسی مراکز نہیں بلکہ ان کی اجتماعی بقا، فکری خودمختاری اور تہذیبی تسلسل کی بنیاد ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب اقوام سیاسی یا معاشی کمزوری کا شکار ہوتی ہیں تو ان کے علمی ادارے ہی ان کی اصل طاقت بنتے ہیں۔اکیسویں صدی میں قانون صرف عدالتوں کی زبان نہیں بلکہ اجتماعی وجود کی زبان بن چکا ہے۔ حقوق کے تحفظ، اداروں کی بقا، تعلیمی خودمختاری اور مذہبی آزادی کے اکثر مباحث قانونی دائرے میں طے ہوتے ہیں۔ملکی مدارس کو وکلاء تیار کرنے کی ضرورت نہیں، لیکن ایسے علماء کی ضرورت ضرور ہے جو فقہِ اسلامی کی گہرائی کے ساتھ آئینی شعور اور قانونی بصیرت بھی رکھتے ہوں۔ ایسا عالم صرف مسائل کا جواب دینے والا نہیں ہوگا بلکہ ملت اور نظام کے درمیان اعتماد، فہم اور رہنمائی کا مؤثر ذریعہ بنے گا۔ اگر ہماری دینی روایت اپنی اصل جامعیت کے ساتھ عصر حاضر کے قانونی شعور سے ہم آہنگ ہو جائے تو مدارس صرف ماضی کے محافظ نہیں رہیں گے بلکہ مستقبل کی فکری قیادت بھی انجام دے سکیں گے۔ یہی علمی امتزاج ملت کی بہتر نمائندگی، مضبوط ادارہ سازی اور باوقار مستقبل کی حقیقی بنیاد بن سکتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے