कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

خوابوں کا آنگن

ازقلم: عارف محمد خان ،جلگاوں

سردیوں کی ہلکی دھوپ کھڑکیوں سے پھسلتی ہوئی جماعت کے فرش پر پھیل رہی تھی۔
سرکاری اردو اسکول کی دسویں جماعت میں حسبِ معمول شور تھا۔ کوئی کتاب کے اوراق پلٹ رہا تھا، کوئی آخری بینچ پر بیٹھا دوست سے سرگوشیاں کر رہا تھا، تو کوئی بلیک بورڈ پر بنے خاکے کو مٹا رہا تھا۔
اسی دوران اردو کے استاد، حامد صاحب، کلاس میں داخل ہوئے۔
ان کے ہاتھ میں رجسٹر اور چند کتابیں تھیں۔ کلاس فوراً خاموش ہوگئی۔
“آج تم سب کو ایک مضمون لکھنا ہے…”
انہوں نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
“عنوان ہے: میرا آنگن۔”
کلاس میں ہلکی سی کھسر پھسر شروع ہوگئی۔
کسی کے ذہن میں گھر کا صحن تھا، کسی کے ذہن میں نیم کا درخت، کسی کے ذہن میں بہن بھائیوں کی شرارتیں۔
مگر آخری بینچ پر بیٹھا دبلا پتلا لڑکا دانش خاموش تھا۔
اس کی آنکھوں میں عجیب سی سنجیدگی رہتی تھی۔
وہ کم بولتا تھا، مگر جب بھی کچھ لکھتا، لفظوں میں جان ڈال دیتا۔
استاد نے ہدایت دی۔
“مضمون صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتا، اس میں احساس بھی ہونا چاہیے۔”
تمام طلبہ لکھنے میں مصروف ہوگئے۔
دانش کچھ دیر خالی صفحے کو دیکھتا رہا، پھر آہستہ آہستہ قلم چلنے لگا۔
ایسا لگتا تھا جیسے وہ الفاظ نہیں لکھ رہا بلکہ اپنے دل کے زخم کاغذ پر اتار رہا ہو۔
چھٹی کے دن حامد صاحب گھر پر بیٹھے کاپیاں چیک کر رہے تھے۔
زیادہ تر مضامین ایک جیسے تھے۔
“میرے آنگن میں پھول ہیں…”
“میرے آنگن میں امرود کا درخت ہے…”
“میری امی شام کو پانی چھڑکتی ہیں…”
مگر اچانک ایک کاپی پر ان کی نگاہ ٹھہر گئی۔
اوپر صاف لفظوں میں لکھا تھا۔
"میرا آنگن”۔ دانش
حامد صاحب پڑھنے لگے۔
“میرا آنگن بہت بڑا ہے۔
اس میں چاند بھی اترتا ہے اور بارش بھی ٹھہرتی ہے۔
میری امی صبح جھاڑو دیتی ہیں تو مٹی سے خوشبو اٹھتی ہے۔
ابو شام کو تھکے ہوئے آتے ہیں تو آنگن جیسے مسکرا دیتا ہے۔
میری چھوٹی بہن بارش میں بھیگتی ہے اور میرا بھائی پتنگ اڑاتا ہے۔
رات کو جب ہم سب ایک ساتھ بیٹھتے ہیں تو لگتا ہے دنیا کی ساری خوشیاں میرے آنگن میں اتر آئی ہیں…”
ہر جملہ اتنا جیتا جاگتا تھا کہ حامد صاحب کو یوں محسوس ہوا جیسے وہ واقعی اس آنگن میں کھڑے ہوں۔
انہیں گیلی مٹی کی خوشبو محسوس ہونے لگی۔
بچوں کی ہنسی سنائی دینے لگی۔
انہوں نے پورا مضمون ایک ہی سانس میں پڑھ ڈالا۔
آخر میں ایک جملہ لکھا تھا۔
“غریب آدمی سے سب کچھ چھن جائے تو بھی خواب اس کے آنگن میں زندہ رہتے ہیں۔”
حامد صاحب دیر تک خاموش بیٹھے رہے۔
انہوں نے پہلی بار کسی طالب علم کے مضمون میں اتنی گہرائی دیکھی تھی۔
اگلے دن انہوں نے پوری کلاس کے سامنے دانش کی تعریف کی۔
دانش صرف ہلکا سا مسکرایا اور خاموشی سے بیٹھ گیا۔
وقت گزرتا گیا۔
اسکول ختم ہوا، بچے اپنی اپنی راہوں پر نکل گئے۔
کئی چہرے وقت کی دھول میں گم ہوگئے۔
تقریباً آٹھ ماہ بعد ایک شام حامد صاحب بازار سے گزر رہے تھے۔
بازار میں غیر معمولی بھیڑ تھی۔
ٹھیلوں والوں کی آوازیں، گاڑیوں کے ہارن، لوگوں کا شور…
اسی بھیڑ میں اچانک انہیں ایک جانا پہچانا چہرہ دکھائی دیا۔
“دانش!”
لڑکا چونک کر مڑا۔
چہرہ پہلے سے زیادہ مرجھایا ہوا تھا، کپڑے بوسیدہ تھے، مگر آنکھیں وہی تھیں۔
“السلام علیکم سر…”
“وعلیکم السلام بیٹا!”
حامد صاحب خوش ہوگئے۔
“ارے! تم تو بڑے دنوں بعد ملے ہو۔ کیسا ہے تمہارا گھر؟
تمہاری امی؟ ابو؟ بہن بھائی سب خیریت سے ہیں نا؟”
یہ سنتے ہی دانش کے چہرے پر عجیب خاموشی چھا گئی۔
وہ چند لمحے زمین کو دیکھتا رہا، پھر دھیمی آواز میں بولا،
“سر… میں تو یتیم ہوں۔
نہ میری ماں ہے… نہ باپ…
نہ کوئی بہن… نہ بھائی…”
حامد صاحب جیسے پتھر کے ہوگئے۔
“مگر… وہ مضمون؟
وہ آنگن؟
وہ سب لوگ؟”
دانش ہلکا سا مسکرایا۔
ایسی مسکراہٹ جس میں برسوں کی محرومی چھپی ہوئی تھی۔
“سر… وہ سب میرا خواب تھا۔
میں نے کبھی گھر دیکھا ہی نہیں…
بس دوسروں کے گھروں کو دیکھ کر اپنا آنگن بنا لیا تھا…”
حامد صاحب کے ہاتھ کانپنے لگے۔
ان کے پاس کہنے کو الفاظ نہیں بچے تھے۔
اتنے میں بازار کی بھیڑ تیز ہونے لگی۔
دانش نے آہستہ سے سلام کیا اور آگے بڑھ گیا۔
حامد صاحب دیر تک اسے جاتے ہوئے دیکھتے رہے۔
اچانک ان کی نظر دانش کے ہاتھ پر پڑی۔
وہ نہایت مہارت سے ایک اجنبی آدمی کی جیب میں داخل ہورہا تھا۔
چند لمحوں میں بٹوہ اس کے ہاتھ میں تھا۔
پھر وہ بھیڑ میں ایسے غائب ہوگیا جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔
حامد صاحب ساکت کھڑے رہ گئے۔
ان کے ذہن میں دانش کا وہ جملہ گونج رہا تھا۔
“میں نے کبھی گھر دیکھا ہی نہیں…”
بازار کا شور بڑھتا جارہا تھا،
مگر ایک استاد کے اندر کہیں گہری خاموشی اتر چکی تھی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے