कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

قربانی کے فضائل ومسائل

رضی اللہ قاسمی خیرآبادی
جامعہ امھات المؤمنین للبنات سونار گاؤں ،امیٹھی

قربانی کی شرعی حیثیت:
قربانی دینِ اسلام کی ایک اہم ترین عبادت اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے ساتھ عشق و محبت کی واضح دلیل ہے۔ یوں تو سابقہ امتوں میں بھی قربانی کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کیا جاتا تھا، لیکن حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل علیہما السلام کے واقعے نے قربانی کو جو عظمت، روحانیت اور عالمگیر مقام عطا کیا، وہ تاریخِ انسانیت میں اپنی مثال آپ ہے۔
حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو جو بیٹا برسوں کی آرزوؤں اور تمناؤں کے بعد ملا تھا، اس محبوب بیٹے کی قربانی کا حکم ملتے ہی آپ نے فوراً سرِ تسلیم خم کر دیا اور اس کی گردن پر چھری چلا کر اطاعت شعاری و فرمانبرداری کی ایسی مثال قائم فرما دی جسے دنیا پیش کرنے سے قاصر ہے۔ جس حکم کی تعمیل کا تصور بھی دنیا والے نہیں کر سکتے تھے، اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے بسر و چشم قبول کرکے خوش دلی کے ساتھ اس حکمِ ربانی کی تعمیل کا شرف حاصل کیا۔
اللہ تعالیٰ کو اپنے بندے کی یہ ادا اس قدر پسند آئی کہ اسے ایک اہم دینی فریضہ اور مستقل عبادت کی حیثیت عطا فرما دی۔ چنانچہ جس شخص کو مالی وسعت حاصل ہو، اسے ہر سال خوش دلی کے ساتھ قربانی کرکے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کو زندہ کرنا چاہیے۔ جو شخص مالی وسعت کے باوجود قربانی نہ کرے، اس کے لیے احادیث میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔ یہاں تک کہ اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“جو شخص استطاعت اور گنجائش کے باوجود قربانی نہ کرے، وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے۔”
(ابن ماجہ، ص: ۲۲۶)
اس وعید سے ہر مسلمان کو ڈرنا چاہیے۔
اسی طرح قربانی کے بے شمار فضائل احادیث میں مذکور ہیں۔ چنانچہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: “یہ تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔”
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ان میں ہمارے لیے کیا اجر ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایا: “جانور کے ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے۔”
(ابن ماجہ، ص: ۲۲۴)
اس حدیث میں اللہ کے نبی ﷺ نے قربانی کرنے کا کتنا عظیم ثواب بیان فرمایا ہے کہ جانور کے بالوں کے بقدر، جو کہ شمار سے باہر ہیں، اللہ تبارک و تعالیٰ بندے کو نیکیاں عطا فرماتے ہیں۔
قربانی کس پر واجب ہے؟ (قربانی کا نصاب):
قربانی ہر اس عاقل، بالغ مرد و عورت پر واجب ہے جو ساڑھے باون تولہ (۶۱۲ گرام ۳۶۰ ملی گرام) چاندی یا اس کی نقد قیمت کا مالک ہو، یا اتنا مالِ تجارت رکھتا ہو، یا اس کے پاس ضرورت سے زائد سامان موجود ہو۔
مثلاً گھر میں دو فریج یا دو بائیک ہوں، مگر استعمال صرف ایک کا ہوتا ہو اور دوسرا ضرورت سے زائد ہو، جس کے استعمال کا کبھی موقع ہی نہ آتا ہو، تو اگر اس زائد سامان کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر پہنچ جائے تو ایسے شخص پر قربانی واجب ہوگی، البتہ واجب الادا اخراجات مثلاً قرض وغیرہ منہا کرنے کے بعد۔
نوٹ: گھر کی وہ چیزیں جو استعمال میں ہوں، اگرچہ تعداد میں زیادہ ہوں، تب بھی انہیں نصاب میں شمار نہیں کیا جائے گا۔ نصاب میں صرف وہی چیزیں شمار ہوں گی جو ضرورت سے زائد ہوں۔
ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت ذوالحجہ ۱۴۴۷ھ / ۲۰۲۶ء میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے بنتی ہے، لہٰذا جو شخص اتنی مالیت کا مالک ہو، اس پر قربانی واجب ہے۔
قربانی کے ایام اور وقت:
دسویں ذی الحجہ سے لے کر بارہویں ذی الحجہ کی شام تک قربانی کا وقت رہتا ہے۔ شہر اور قصبے کے رہنے والوں کے لیے عید الاضحی کی نماز سے پہلے قربانی درست نہیں۔ البتہ اگر شہر کی کسی ایک مسجد یا عیدگاہ میں عید الاضحی کی نماز ادا ہو جائے تو پورے شہر والوں کے لیے قربانی درست ہو جائے گی، اگرچہ قربانی کرنے والے نے ابھی تک نمازِ عید ادا نہ کی ہو۔
اور دیہات وغیرہ میں، جہاں عید الاضحی کی نماز نہیں ہوتی، وہاں دسویں ذی الحجہ کی فجر کے بعد ہی قربانی درست ہو جاتی ہے۔
قربانی کے جانور:
بکرا اور بکری کا ایک سال مکمل ہونا ضروری ہے، اگر ایک دن بھی کم ہوگا تو قربانی درست نہیں ہوگی۔ البتہ بھیڑ یا دنبہ اگر ایک سال سے کم ہو مگر اتنا موٹا تازہ ہو کہ دیکھنے میں ایک سال کا معلوم ہوتا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔
اسی طرح گائے، بھینس اور بھینسے وغیرہ کا دو سال مکمل ہونا ضروری ہے، جبکہ اونٹ کا پانچ سال مکمل ہونا شرط ہے۔
بڑے جانوروں میں سات حصے دار شریک ہو سکتے ہیں، لیکن اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ سب کی نیت عبادت اور قربانی کی ہو۔ اگر کسی ایک شخص کی نیت میں فساد ہو جائے، مثلاً محض دکھاوا مقصود ہو یا گوشت حاصل کرنے کی نیت ہو، تو کسی کی بھی قربانی درست نہیں ہوگی۔
قربانی کا جانور کیسا ہو؟:
قربانی کا جانور خوبصورت، صحت مند، فربہ اور عیوب سے پاک ہونا چاہیے۔ اس سلسلے میں فقہاء نے یہ ضابطہ بیان فرمایا ہے کہ ہر وہ عیب جو جانور کی کسی منفعت یا خوبصورتی کو نمایاں طور پر ختم کر دے، اس کی وجہ سے قربانی درست نہیں ہوتی۔ البتہ جو عیب معمولی درجے کا ہو، جس سے جانور کی صحت اور قیمت پر خاص اثر نہ پڑتا ہو، تو اس میں حرج نہیں۔
مثلاً اگر جانور بھینگا ہو، یا اس کا ایک تہائی سے کم کان یا دُم کٹی ہوئی ہو، تو قربانی درست ہے، لیکن اگر ایک تہائی سے زیادہ کٹا ہو تو قربانی درست نہیں ہوگی۔
اسی طرح اگر جانور کو رسولی (گلٹی) کی بیماری ہو اور عرف میں اسے عیب سمجھا جاتا ہو، نیز اس کی وجہ سے قیمت میں کمی آتی ہو، تو ایسے جانور کی قربانی درست نہیں۔ اور اگر عرف میں اسے عیب نہ سمجھا جاتا ہو تو قربانی درست ہے۔
اسی طرح جس جانور کے پیدائشی طور پر سینگ نہ ہوں، یا سینگ کا صرف خول اتر گیا ہو، اس کی قربانی درست ہے۔
مندرجہ ذیل عیب دار جانوروں کی قربانی درست نہیں:
(١) ایسا جانور جو بالکل لنگڑا ہو، یا اس قدر لنگڑا ہو کہ تین پاؤں سے چلتا ہو اور چوتھا پاؤں زمین پر رکھنے کی طاقت نہ رکھتا ہو۔
(٢) ایسا جانور جس کے تمام یا اکثر دانت ٹوٹ چکے ہوں۔
(٣) ایسا خنثی جانور جس کا نر یا مادہ ہونا واضح نہ ہو۔
(٤) ایسا جانور جس کے کان، ناک، دُم یا بینائی کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ ختم ہو چکا ہو۔
(٥) ایسا جانور جس کے پیدائشی طور پر کان نہ ہوں
(٦) ایسا جانور جس کے تھن کا سرا کٹا ہوا ہو یا تھن خشک ہوگئے ہوں۔ مثلاً بھینس کے دو تھن یا بکری کا ایک تھن خشک ہوگیا ہو۔
(٧) ایسا جانور جو اتنا لاغر اور کمزور ہو کہ قربان گاہ تک خود چل کر نہ جا سکتا ہو، خواہ کمزوری خارش یا جنون کی وجہ سے ہو۔
(٨) جس جانور کو کتے یا کسی دوسرے جانور نے کاٹ لیا ہو، محض کاٹ لینے کی وجہ سے اس کی قربانی پر کوئی اثر نہیں پڑیگا۔ البتہ اگر زخم گہرا ہو اور اس کی وجہ سے جانور میں نمایاں عیب پیدا ہوگیا ہو یا وہ کمزور و بیمار ہوگیا ہو، تو ایسے جانور کی قربانی درست نہیں۔
ہاں! اگر ایامِ قربانی تک زخم بھر جائے، یا زخم معمولی ہو جس سے جانور کی صحت اور گوشت پر کوئی خاص اثر نہ پڑا ہو، تو ایسے جانور کی قربانی درست ہے۔
نوٹ: اگر خریدتے وقت جانور صحیح سالم تھا لیکن بعد میں عیب دار ہو گیا، تو مالدار شخص پر اس کے بدلے دوسرا صحیح سالم جانور قربان کرنا لازم ہے، البتہ فقیر اسی عیب دار جانور کی قربانی کرسکتا ہے۔
قربانی کے مختلف مسائل:
عوام میں یہ بات مشہور ہے کہ جس گھر میں پہلی مرتبہ قربانی ہو، وہ نبی کریم ﷺ کے نام سے کی جائے، حالانکہ شرعاً اس کی کوئی اصل نہیں۔ بلکہ اگر کوئی شخص خود صاحبِ نصاب ہو اور اپنی واجب قربانی ادا نہ کرکے حضور ﷺ کے نام سے قربانی کرے، تو وہ گنہگار ہوگا۔
بعض لوگ پورے گھر کی طرف سے صرف ایک بکرا یا بکری قربان کرتے ہیں، حالانکہ بسا اوقات گھر کے کئی افراد صاحبِ نصاب ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں ہر صاحبِ نصاب پر الگ الگ قربانی واجب ہوگی۔ ایک بکرا یا بکری سب کی طرف سے کافی نہیں ہوگا، کیونکہ چھوٹے جانور میں ایک سے زیادہ حصے نہیں ہو سکتے۔
اسی طرح ایک چھوٹے جانور میں مختلف نیتیں جمع کرنا بھی درست نہیں، مثلاً قربانی اور عقیقہ دونوں کی نیت کر لینا ایک ہی جانور میں ۔البتہ بڑے جانور میں قربانی کے حصے کے ساتھ ساتھ عقیقے کا بھی حصہ کرنا درست ہے۔
قربانی کا جانور عورت بھی ذبح کر سکتی ہے۔ اسی طرح ایسا نابالغ بچہ جو باشعور ہو اور ذبح کرنے کی قدرت رکھتا ہو، اس کا ذبح کرنا بھی درست ہے۔
ایامِ قربانی میں رات کے وقت بھی قربانی کرنا جائز اور درست ہے۔
قربانی کا ارادہ رکھنے والوں کے لیے مستحب ہے کہ ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد قربانی تک اپنے بال اور ناخن وغیرہ نہ کاٹیں۔ البتہ یہ عمل مستحب ہے، کوئی لازم یا ضروری نہیں۔
نویں ذوالحجہ کی فجر سے لے کر تیرہویں ذوالحجہ کی عصر تک ہر فرض نماز کے بعد تکبیرِ تشریق: "الله أكبر الله أكبر، لا إله إلا الله، والله أكبر الله أكبر ولله الحمد”
پڑھنا مرد و عورت دونوں پر واجب ہے:
مرد بلند آواز سے اور عورت آہستہ آواز سے پڑھے۔
قربانی کرتے وقت زبان سے نیت اور دعا پڑھنا ضروری نہیں۔ اگر دل میں نیت موجود ہو اور صرف "بسم الله، الله أكبر” کہہ کر ذبح کر لیا جائے تو بھی قربانی درست ہو جائے گی۔ البتہ دعائیں یاد ہوں تو ان کا پڑھنا بہتر اور باعثِ اجر ہے۔
ذبح کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ جانور کو بائیں کروٹ پر اس طرح لٹایا جائے کہ اس کے پاؤں قبلہ کی طرف ہوں، سر جنوب کی جانب اور دُم شمال کی جانب ہو، پھر ذبح کرنے والا اپنا دایاں پاؤں اس کے شانے پر رکھ کر تیز چھری سے "بسم الله الله أكبر” کہتے ہوئے جلد ذبح کرے۔
ذبح سے پہلے یہ آیات پڑھنا مستحب ہے:
إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ”
اور ذبح کے بعد یہ دعا پڑھے:
اَللّٰهُمَّ تَقَبَّلْهُ مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ حَبِيبِكَ مُحَمَّدٍ وَخَلِيلِكَ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِمَا السَّلَام”
اگر کسی دوسرے کی طرف سے قربانی کر رہا ہو تو "مِنِّي” کی جگہ "مِنْ” کے بعد اس شخص کا نام لے لے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے