कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

حج: دل کی حاضری یا دنیا کی نمائش؟

Hajj: Presence of the Heart or Display for the World?

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

حج محض ایک سفر نہیں، بلکہ بندۂ مومن کی پوری زندگی کا ایک روحانی انقلاب ہے۔ یہ وہ مقدّس عبادت ہے جس میں انسان اپنے ربّ کے حضور سراپا عجز و نیاز بن کر حاضر ہوتا ہے۔ دنیا کے تمام امتیازات، عہدے، دولت، شہرت اور ظاہری تفاخر کو اتار کر ایک سفید کفن جیسے احرام میں ملبوس ہو کر یہ اعلان کرتا ہے کہ اصل عظمت صرف بندگیٔ ربّ میں ہے۔ مگر افسوس کہ جس عبادت کی بنیاد اخلاص، عاجزی اور فنا فی اللّٰہ پر رکھی گئی تھی، اُسے آج بعض لوگوں نے نمود و نمائش، ریاکاری اور سماجی تفاخر کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ حج و عمرہ جیسے مقدّس سفر سے پہلے اور بعد میں بعض معاشروں میں جس انداز سے مہنگی دعوتوں، فارم ہاؤسز، بینکیٹ ہالز، پُرتعیش اجتماعات اور نمائشی تقریبات کا رواج بڑھتا جا رہا ہے، وہ نہ صرف روحِ حج کے خلاف ہے بلکہ اس عبادت کے حقیقی مقصد کو بھی دھندلا دیتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے عبادت کم اور "اسٹیٹس” زیادہ دکھایا جا رہا ہو۔
حالاں کہ حج کا پیغام تو یہ ہے کہ انسان اپنے نفس کو مٹائے، نہ کہ اپنی حیثیت کو نمایاں کرے۔ یہ سفر بندے کو سادگی، ایثار، مساوات اور تقویٰ کا درس دیتا ہے۔ میدانِ عرفات میں امیر و غریب، بادشاہ و فقیر، سب ایک ہی لباس میں ایک ہی ربّ کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں؛ وہاں نہ کسی کی دولت کام آتی ہے، نہ شہرت، نہ خاندانی برتری۔ اصل قدر صرف دل کی پاکیزگی، نیت کے اخلاص اور عمل کی قبولیت کی ہوتی ہے۔ افسوس اس وقت اور بڑھ جاتا ہے جب حج جیسی عظیم عبادت بھی معاشرتی مقابلہ آرائی کا حصّہ بن جائے۔ کوئی اپنے سفر کی تشہیر میں مصروف ہے، کوئی پُرتکلف دعوتوں کے ذریعے اپنی حیثیت جتلا رہا ہے، اور کوئی حاجی کے لقب کو عزّت کے بجائے تفاخر کا ذریعہ بنا رہا ہے۔ حالاں کہ جس عبادت کا آغاز ہی "لبیک اللّٰہم لبیک” کی صدا سے ہوتا ہے، وہ بندے کو اپنی ذات مٹانے اور صرف اللّٰہ کی بڑائی بیان کرنے کا سبق دیتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم حج کو رسم و رواج اور سماجی نمائش سے نکال کر دوبارہ اُس کی اصل روح کے ساتھ جوڑیں۔ سادگی، انکساری، خاموش عبادت، دل کی اصلاح اور بندگی کا احساس ہی حج کی حقیقی شان ہے۔ اگر حج کے بعد انسان کے اندر عاجزی، تقویٰ، صبر، اخلاق اور انسان دوستی پیدا نہ ہو، تو پھر صرف ظاہری سفر اپنی اصل غایت کو مکمل نہیں کر پاتا۔ حج دراصل اپنے ربّ سے تعلق مضبوط کرنے، اپنے نفس کو بدلنے اور زندگی کو اطاعتِ الٰہی کے سانچے میں ڈھالنے کا نام ہے؛ اور یہی وہ پیغام ہے جسے آج دوبارہ سمجھنے اور اپنانے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
اسلام نے ہر عبادت کی روح "اخلاص” کو قرار دیا ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "اور انہیں یہی حکم دیا گیا تھا کہ اللّٰہ کی عبادت کریں، خالص اسی کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے”۔ حج میں تو اخلاص کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے، کیونکہ یہ عبادت مالی، جسمانی اور روحانی ہر طرح کی قربانی کا مجموعہ ہے۔ ایک حاجی جب لبیک کی صدا بلند کرتا ہے: "لبیک اللہم لبیک”۔ تو درحقیقت وہ دنیا کی ہر مصنوعی بڑائی سے دستبردار ہو کر اپنے ربّ کی غلامی کا اعلان کرتا ہے۔ لیکن جب یہی سفر سوشل میڈیا کی تشہیر، قیمتی ضیافتوں، نمائشی بینرز، پروٹوکول اور ظاہری شان و شوکت کی نذر ہو جائے تو عبادت کی روح متاثر ہونے لگتی ہے۔
حج کا اصل مقصد صرف ظاہری اعمال کی ادائیگی نہیں بلکہ انسان کے اندر تقویٰ، صبر، برداشت اور بندگی کی روح پیدا کرنا ہے۔ قرآنِ کریم نے واضح فرمایا: "اور اپنے لیے زادِ راہ لے لو، بے شک بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے”۔ گویا حج کا سب سے بڑا سرمایہ نہ قیمتی سوٹ کیس ہیں، نہ مہنگے ہوٹل اور نہ عالی شان انتظامات، بلکہ "تقویٰ” ہے۔ اگر حج کے بعد بھی انسان کے اندر عاجزی پیدا نہ ہو، اخلاق نہ بدلیں، دل میں نرمی نہ آئے اور زندگی میں اللّٰہ کا خوف پیدا نہ ہو تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس نے حج کی ظاہری مشقت تو اٹھائی، مگر اس کی روح کو نہ پا سکا۔
ریاکاری وہ خاموش زہر ہے جو عبادت کے اجر کو کھا جاتا ہے۔ بظاہر عمل نیک ہوتا ہے مگر نیت میں لوگوں کو دکھانا شامل ہو جائے تو وہی عمل اللّٰہ کے ہاں بے وقعت ہو جاتا ہے۔ حضرت محمدﷺ نے جس چیز کا اپنی امت کے بارے میں سب سے زیادہ خوف ظاہر فرمایا، وہ "شرکِ اصغر” یعنی ریاکاری تھی۔ کیونکہ انسان بظاہر عبادت گزار دکھائی دیتا ہے مگر دل میں اللّٰہ کی رضا کے بجائے لوگوں کی تعریف مطلوب ہوتی ہے۔ آج بعض افراد حج و عمرہ کو روحانی تربیت کے بجائے سماجی وقار کی علامت بنا لیتے ہیں۔ روانگی سے پہلے بڑی بڑی دعوتیں، قیمتی تحائف، تصویری نمائش، اور واپسی پر استقبالی ہجوم! یہ سب بعض اوقات اس نیت سے ہوتا ہے کہ معاشرے میں ایک خاص مقام اور حیثیت قائم ہو۔
حالانکہ جس سفر کا آغاز "لبیک” سے ہو، اس میں "میں” اور "میرا” کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔ بعض لوگ حج کے بعد "الحاج” کے لقب کو ایسا ذریعۂ تفاخر بنا لیتے ہیں جیسے یہ عبادت نہیں بلکہ کوئی دنیاوی اعزاز ہو۔ حالاں کہ حقیقی حاجی وہ ہے جس کے کردار میں حج نظر آئے، نہ کہ صرف نام کے ساتھ لگے ہوئے لقب میں۔ اسلاف میں سے بہت سے بزرگ ایسے گزرے ہیں جو برسوں حج کرتے رہے مگر لوگوں کو خبر تک نہ ہونے دی۔ کیونکہ ان کے نزدیک اصل اہمیت "قبولیت” کی تھی، "مشہوری” کی نہیں۔
اگر ہم حقیقت میں حج کو سمجھنا چاہتے ہیں تو ہمیں حضرت محمدﷺ کے حج کو دیکھنا ہوگا۔ آپﷺ نے حجۃ الوداع ایسے عالم میں ادا فرمایا کہ آپ پوری انسانیت کے سب سے عظیم رہبر تھے، مگر سادگی کا یہ عالم تھا کہ نہ شاہانہ جلوس، نہ تکلفات، نہ نمود۔ آپﷺ نے فرمایا: "اے اللّٰہ! اسے ایسا حج بنا جس میں نہ ریا ہو نہ شہرت”۔ یہ الفاظ قیامت تک آنے والے مسلمانوں کو یہ سبق دیتے ہیں کہ حج کا حسن اخلاص میں ہے، نہ کہ دکھاوے میں۔ حج دراصل حضرت ابراہیمؑ، حضرت اسماعیلؑ اور حضرت ہاجرہؑ کی قربانیوں کی یادگار ہے۔ یہ وہ مقدّس داستان ہے جس میں صبر ہے، ایثار ہے، توکل ہے اور اللّٰہ کے حکم پر اپنی خواہشات قربان کر دینے کا جذبہ ہے۔ مگر افسوس کہ آج اسی عبادت کے گرد آسائش، نمود اور سماجی مقابلہ آرائی کا ایسا ماحول پیدا ہو گیا ہے کہ قربانی کی روح پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ حج ہمیں "اپنے نفس” کو قربان کرنا سکھاتا ہے، نہ کہ دوسروں پر اپنی حیثیت ظاہر کرنا۔
صحابۂ کرامؓ اور اسلافِ اُمّت کی زندگیاں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ عبادت جتنی عظیم ہو، اُس میں اخلاص اور خاموشی اُتنی ہی زیادہ ہونی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے نیک اعمال کو حتی المقدور لوگوں کی نظروں سے چھپا کر رکھتے تھے، تاکہ دل ریا اور نمود سے محفوظ رہے۔ حضرت عمر بن خطابؓ حج کے سفر میں عام مسلمانوں کی طرح سادگی اختیار کرتے، نہ کوئی شاہانہ اہتمام ہوتا اور نہ امتیازی طرزِ زندگی۔ حضرت علی بن ابی طالبؓ اور دیگر صحابۂ کرامؓ عبادت کو شہرت اور تعریف سے بچانے کی بھرپور کوشش کرتے تھے۔
اسلافِ اُمّت کا حال تو یہ تھا کہ وہ اپنے اعمالِ صالحہ کو اس قدر مخفی رکھتے کہ بعض اوقات قریبی لوگوں کو بھی برسوں بعد معلوم ہوتا کہ فلاں شخص حج یا عمرہ ادا کر چکا ہے۔ اُن کے نزدیک اصل اہمیت اس بات کی تھی کہ عمل اللّٰہ کے ہاں قبول ہو، نہ کہ لوگوں میں اُس کا چرچا ہو۔ یہی وہ روح تھی جس نے عبادت کو دلوں کی اصلاح اور قربِ الٰہی کا ذریعہ بنایا۔ مگر افسوس کہ آج صورتِ حال بڑی حد تک بدلتی جا رہی ہے۔ عبادت سے پہلے تشہیر، دورانِ سفر مسلسل تصاویر اور ویڈیوز، اور واپسی پر تفاخر و نمائش گویا ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے کہ روحانیت پس منظر میں چلی گئی ہے اور دکھاوا نمایاں ہو گیا ہے۔
حالاں کہ حج انسان کو اپنی ذات مٹانے، عاجزی اپنانے اور دنیاوی تفاخر سے بے نیاز ہونے کا درس دیتا ہے۔ اگر یہی عبادت شہرت، نمائش اور سماجی برتری کے اظہار کا ذریعہ بننے لگے تو یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ یہ طرزِ عمل اس خوف کو جنم دیتا ہے کہ کہیں ہم عبادت کی اصل روح، یعنی اخلاص، انکساری اور للّٰہیت سے دور نہ ہوتے جا رہے ہوں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم صحابۂ کرامؓ اور اسلافِ اُمّت کے طرزِ عمل سے سبق حاصل کریں۔ عبادت کو خالص اللّٰہ کے لیے کریں، اُس کی تشہیر کے بجائے اُس کے اثرات اپنے کردار، اخلاق اور زندگی میں ظاہر کریں۔ کیونکہ اللّٰہ کے نزدیک مقبول وہ عمل ہے جو خالص ہو، چاہے دنیا کی نگاہوں سے اوجھل ہی کیوں نہ رہے۔
اسلام نے کبھی فضول خرچی اور تکلفات کو پسند نہیں کیا۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے: "بے شک فضول خرچ لوگ شیطانوں کے بھائی ہیں”۔ حج و عمرہ کے موقع پر لاکھوں روپے محض ظاہری تقریبات پر خرچ کرنا، جب کہ معاشرے میں غریب، یتیم، بیمار اور ضرورت مند لوگ موجود ہوں، یقیناً غور طلب بات ہے۔ اگر یہی مال کسی محتاج کی مدد، کسی طالب علم کی تعلیم، کسی بیمار کے علاج یا کسی بیوہ کے سہارا بننے میں صرف ہو تو شاید اللّٰہ کے ہاں زیادہ محبوب ہو۔ اسلام ہمیں یہ نہیں سکھاتا کہ خوشی کا اظہار نہ کیا جائے، بلکہ یہ سکھاتا ہے کہ خوشی میں بھی اعتدال، شکر اور عاجزی باقی رہے۔
یہ بھی ایک اہم پہلو ہے کہ جب معاشرے کے غریب افراد مہنگی دعوتوں، شاہانہ تقریبات اور پرتعیش حج و عمرہ کے مظاہرے دیکھتے ہیں تو ان کے دل میں احساسِ محرومی پیدا ہوتا ہے۔ اسلام وہ دین ہے جو امیر و غریب کے درمیان محبت، مساوات اور ہمدردی پیدا کرتا ہے، نہ کہ ایسا معاشرہ بناتا ہے جہاں عبادت بھی معاشرتی نمائش کا ذریعہ بن جائے۔ حقیقی خوشی یہ ہے کہ حاجی واپسی پر غریبوں، یتیموں اور ضرورت مندوں کے لیے آسانی کا سبب بنے۔
موجودہ دور میں ایک نیا فتنہ "عبادت کی نمائش” بھی تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔ ہر لمحہ تصاویر، ویڈیوز، لائیو نشریات اور مسلسل اسٹیٹس اپڈیٹس — گویا عبادت ایک بندۂ مومن اور اُس کے ربّ کے درمیان خالص تعلق کے بجائے عوامی نمائش بنتی جا رہی ہو۔ روحانیت، خشوع اور اخلاص کے وہ لمحات، جو دل کی گہرائیوں میں محفوظ رہنے چاہییں، اب اکثر سوشل میڈیا کی زینت بن جاتے ہیں۔ یقیناً ہر تصویر یا ہر ذکر کو ریاکاری قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ نیتوں کا حال صرف اللّٰہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ بعض اوقات کسی نیک منظر کو شیئر کرنے کا مقصد ترغیب یا اظہارِ شکر بھی ہو سکتا ہے۔
لیکن ایک مومن کی ذمّہ داری یہ ہے کہ وہ ہر لمحہ اپنے دل کا محاسبہ کرتا رہے کہ کہیں لوگوں کی تعریف، واہ واہ اور پسندیدگی اُس کی نیت میں شامل تو نہیں ہو رہی۔ کیونکہ ریا ایک نہایت باریک بیماری ہے، جو خاموشی سے انسان کے اعمال کے اخلاص کو متاثر کر سکتی ہے۔ اسی لیے ہمارے اسلاف عبادت کو چھپانے کو زیادہ پسند کرتے تھے۔ اُن کے نزدیک وہ آنسو زیادہ قیمتی تھے جو تنہائی میں بہیں، وہ دعا زیادہ محبوب تھی جو خاموشی سے مانگی جائے، اور وہ عبادت زیادہ محفوظ تھی جسے صرف اللّٰہ جانتا ہو۔ عبادت جتنی پوشیدہ ہوتی ہے، اتنی ہی ریا، نمود اور نفس کی آمیزش سے محفوظ رہتی ہے۔
حج اور عمرہ جیسے مقدّس اسفار کا اصل مقصد دل کو بدلنا، نفس کو جھکانا اور ربّ سے تعلق کو مضبوط کرنا ہے، نہ کہ لوگوں کی نگاہوں میں اپنی دینداری کا تاثر قائم کرنا۔ اگر سوشل میڈیا کے استعمال میں احتیاط نہ کی جائے تو آہستہ آہستہ انسان غیر محسوس طریقے سے اپنی توجہ اللّٰہ کی رضا سے ہٹا کر لوگوں کی توجہ کی طرف منتقل کر بیٹھتا ہے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جدید ذرائع کو اعتدال اور شعور کے ساتھ استعمال کریں۔ عبادت کی اصل خوبصورتی اُس کے اخلاص، عاجزی اور خاموش تعلق میں ہے۔ جو عمل صرف اللّٰہ کے لیے ہو، وہی سب سے زیادہ نور، برکت اور قبولیت کا سبب بنتا ہے۔
حقیقی حاجی وہ نہیں جس کے استقبال میں ہجوم ہو، بلکہ وہ ہے جس کے اخلاق بدل جائیں۔ جس کی زبان نرم ہو جائے، دل میں عاجزی آ جائے، نگاہ پاکیزہ ہو جائے اور زندگی میں تقویٰ پیدا ہو جائے۔ کیونکہ حج کا اصل مقصد محض بیت اللّٰہ کی زیارت نہیں، بلکہ اپنے باطن کی اصلاح اور اپنے ربّ سے تعلق کو مضبوط کرنا ہے۔ حج اگر انسان کے اندر خوفِ خدا، سادگی، رحم دلی، صبر اور انکساری پیدا نہ کرے، تو پھر وہ صرف ایک ظاہری سفر رہ جاتا ہے، روحانی انقلاب نہیں۔ اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان "حاجی” کہلائے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اللّٰہ کے نزدیک مقبول بندہ بن جائے۔ یہی وجہ ہے کہ صالحینِ اُمّت ہمیشہ اس بات سے ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں اُن کا عمل قبول نہ ہوا ہو، حالاں کہ وہ ظاہری طور پر نہایت اعلیٰ عبادات انجام دیتے تھے۔
علماء نے "حجِ مبرور” یعنی مقبول حج کی کئی نشانیاں بیان کی ہیں۔ اُن میں سے اہم یہ ہیں: گناہوں سے نفرت پیدا ہو جانا! عبادات کی رغبت بڑھ جانا!! اخلاق میں نرمی اور عاجزی پیدا ہونا!!! دنیا کی نمائش اور تفاخر سے بے رغبتی ہونا!!!! حقوق العباد کی ادائیگی کی فکر بڑھ جانا!!!!!۔ یہ نشانیاں دراصل اس بات کا ثبوت ہوتی ہیں کہ حج نے انسان کے ظاہر ہی نہیں، اُس کے باطن کو بھی بدل دیا ہے۔ اگر ایک شخص حج سے واپس آ کر پہلے سے زیادہ نرم دل، متواضع، دیانت دار اور خدا ترس بن جائے تو یہی اُس کے حج کی اصل برکت ہے۔
اس کے برعکس اگر حج کے بعد انسان کے اندر تکبر، نمود و نمائش، اپنی عبادت پر فخر، یا دوسروں کو کمتر سمجھنے کا جذبہ پیدا ہونے لگے تو یہ ایک نہایت خطرناک علامت ہے۔ اس سے یہ اندیشہ پیدا ہوتا ہے کہ کہیں نیت میں اخلاص کے بجائے نفس کی آمیزش شامل نہ ہو گئی ہو۔ کیونکہ عبادت انسان کو جھکانا سکھاتی ہے، بلند ہونا نہیں؛ اور جو عبادت انسان کے اندر عاجزی پیدا نہ کرے، اُس کی روح متاثر ہو جاتی ہے۔ لہٰذا ہر حاجی کو واپسی کے بعد سب سے پہلے اپنے دل، اپنے اخلاق اور اپنے طرزِ زندگی کا جائزہ لینا چاہیے۔ اگر اُس کی زندگی میں اللّٰہ کی اطاعت، بندوں کے حقوق، اخلاق کی پاکیزگی اور دنیا سے بے رغبتی بڑھ رہی ہے، تو یہی اُس کے حج کے قبول ہونے کی امید کی سب سے بڑی علامت ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ علماء، خطباء، والدین اور معاشرے کے سنجیدہ افراد حج و عمرہ کی اصل روح کو اجاگر کریں۔ لوگوں کو یہ بتایا جائے کہ: حج عبادت ہے، سماجی تقریب نہیں! اخلاص اس کا جوہر ہے!! سادگی اس کا حسن ہے!!! عاجزی اس کی پہچان ہے!!!! اور تقویٰ اس کا اصل ثمر ہے!!!!! اگر ہم نے حج کو دوبارہ اخلاص اور سادگی کے قالب میں نہ ڈھالا تو اندیشہ ہے کہ کہیں ظاہری رونقیں اس عبادت کی روح کو ہم سے چھین نہ لیں۔
کتنے ہی لوگ ہیں جو خانۂ کعبہ تک پہنچ جاتے ہیں، مگر کعبے والے تک نہیں پہنچ پاتے۔ وہ حجرِ اسود کو تو چوم لیتے ہیں مگر اپنے دل کے پتھروں کو نہیں توڑ پاتے۔ وہ صفا و مروہ کی سعی تو کر لیتے ہیں مگر اپنے نفس کی خواہشات کے خلاف جدوجہد نہیں کر پاتے۔ حالاں کہ اصل حج قدموں کی مسافت نہیں، بلکہ دل کی کیفیت کا نام ہے۔ حج انسان کو دنیا سے کاٹ کر اللّٰہ سے جوڑنے آتا ہے۔ یہ بندے کو عاجزی، مساوات، قربانی اور اخلاص کا درس دیتا ہے۔ مگر جب اس مقدّس عبادت کے گرد نمود و نمائش، اسراف اور ریاکاری کی دبیز تہیں چڑھنے لگیں تو ضروری ہو جاتا ہے کہ اُمّت کو پھر سے اس کے اصل پیغام کی طرف بلایا جائے۔
آئیے! ہم حج و عمرہ کو دوبارہ سادگی، خشوع اور خالص نیت کے ساتھ جوڑیں۔ ایسی عبادت بنائیں جو لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اللّٰہ کو راضی کرنے کے لیے ہو۔ کیونکہ قیامت کے دن نہ فارم ہاؤس کام آئیں گے، نہ بینکیٹ ہال، نہ استقبالی ہجوم! وہاں صرف ایک چیز وزن رکھے گی: دل کا اخلاص۔ حج کی قبولیت کا اعلان زمین پر نہیں ہوتا۔ نہ بینرز اس کی گواہی دیتے ہیں، نہ استقبالی قافلے، نہ سوشل میڈیا کی تصاویر۔ اس کا فیصلہ عرش کے اُس دربار میں ہوتا ہے جہاں صرف دلوں کی نیتیں دیکھی جاتی ہیں۔ اور خوش نصیب وہ ہے جو "حاجی” کہلانے سے پہلے اللّٰہ کا "مقبول بندہ” بن جائے۔
🗓 (18.05.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے