कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

سیاست: شجرِ ممنوعہ یا وقت کی ضرورت؟

از قلم: ڈاکٹر سید تابش امام

وطنِ عزیز ہندوستان اس وقت ایک ایسے نازک دوراہے پر کھڑا ہے جہاں سیاست صرف اقتدار کی جنگ یا انتخابی معرکہ نہیں رہی بلکہ سماجی بقا، آئینی تحفظ اور قومی ہم آہنگی کا بنیادی مسئلہ بن چکی ہے۔ ایسے میں یہ بات وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ ملک کے موجودہ حالات میں اگر کوئی طبقہ سب سے زیادہ فکری اضطراب، بے یقینی اور سماجی دباؤ کا شکار ہے تو وہ ہندوستانی مسلمان ہیں۔ ایک طرف فرقہ وارانہ کشیدگی، مذہبی منافرت اور سیاسی پولرائزیشن کا ماحول شدت اختیار کرتا جا رہا ہے تو دوسری جانب مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے میں سیاست سے دوری، مایوسی اور بے اعتمادی بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ سیاست کوئی شجرِ ممنوعہ نہیں بلکہ اجتماعی زندگی کی ایک ناگزیر ضرورت ہے، اور اس سے کنارہ کشی دراصل اپنے مستقبل، اپنے حقوق اور اپنی شناخت سے دست بردار ہونے کے مترادف ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں طویل عرصے تک سیاست کو صرف مفاد پرستی، جوڑ توڑ، جھوٹ اور اقتدار کے حصول
کا دوسرا نام سمجھا جاتا رہا۔ اسی طرح مذہبی اور سماجی حلقوں میں بھی یہ تصور قائم ہوا کہ سیاست نا پسندیدہ عمل ہے، اس سے دور رہنا ہی بہتر ہے۔ چنانچہ ایک بڑی تعداد نے سیاست کو ترکِ تعلق کے قابل شے سمجھ لیا۔ لیکن اگر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو یہ سوچ نہ صرف غیر حقیقت پسندانہ ہے بلکہ اجتماعی نقصان کا سبب بھی بنی ہے۔ کیونکہ سیاست خواہ اچھی ہو یا بری، وہ ہر حال میں انسانی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ قانون سازی، تعلیمی پالیسیاں، معاشی فیصلے، اقلیتوں کے حقوق، اظہارِ رائے کی آزادی اور سماجی انصاف — یہ سب سیاست ہی کے دائرے میں آتے ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی طبقہ سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لے تو لازماً اس کے مسائل، اس کی ترجیحات اور اس کے حقوق بھی پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔
اسلامی تاریخ اس حقیقت کی واضح گواہ ہے کہ سیاست کو کبھی۔بھی شجرِ ممنوعہ نہیں سمجھا گیا۔ سرکارِ دو عالم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے صرف عبادات، اخلاقیات اور روحانیت کی تعلیم نہیں دی بلکہ ایک منظم، عادلانہ اور فلاحی معاشرہ بھی قائم کیا۔ مدینہ کی اسلامی ریاست دراصل سیاسی بصیرت، سماجی انصاف اور اجتماعی نظم و نسق کی بہترین مثال تھی۔ خلفائے راشدین کے دور میں سیاست کا مقصد اقتدار نہیں بلکہ عدل، مساوات اور عوامی خدمت تھا۔ حضرت عمرؓ کے عہد میں ایک عام شہری بھی خلیفۂ وقت سے سوال کر سکتا تھا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام میں سیاست کو اجتماعی ذمہ داری اور امانت سمجھا گیا، نہ کہ محض حصولِ اقتدار کا زینہ۔ لہٰذا سیاست سے مکمل بے تعلقی نہ اسلامی مزاج سے مطابقت رکھتی ہے اور نہ زمینی حقائق سے۔
آج ہندوستان میں جو سیاسی فضا تیار کی جا رہی ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ مذہبی منافرت، فرقہ وارانہ تقسیم، اشتعال انگیز بیانات، تاریخ کی من مانی تعبیر اور اقلیتوں کے تئیں شکوک و شبہات کا ماحول اب محض میڈیا کی سرخی نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کی حقیقت بنتا جا رہا ہے۔ بعض سیاسی جماعتیں اور نظریاتی تنظیمیں خوف اور نفرت کی بنیاد پر سماج کو تقسیم کرکے سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ ایسے میں اگر مظلوم، کمزور اور حاشیے پر موجود طبقات سیاست سے دور رہیں گے تو فیصلہ سازی کا پورا نظام یک طرفہ ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ آج سیاست سے بے زاری دراصل اپنے وجود سے بے زاری کے مترادف محسوس ہونے لگی ہے۔
یہ حقیقت ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ سیاست خلا کو برداشت نہیں کرتی۔ اگر آپ خود میدان میں موجود نہیں ہوں گے تو کوئی دوسرا آ کر آپ کے مقدر کا فیصلہ کرے گا۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جسے ہندوستانی مسلمانوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ صرف جذباتی تقاریر، وقتی احتجاج یا سوشل میڈیا کی گرما گرمی مسائل کا مستقل حل نہیں ہو سکتے۔ حقیقی تبدیلی اسی وقت ممکن ہے جب مسلمان سنجیدہ، منظم اور حکمت پر مبنی سیاسی شعور کے ساتھ آگے بڑھیں۔ انہیں محض ردِّعمل کی سیاست سے نکل کر مثبت اور تعمیری سیاست کی طرف آنا ہوگا۔
افسوس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہمارے یہاں سیاست کو صرف انتخابات اور ووٹ تک محدود سمجھ لیا جاتا ہے، حالاں کہ سیاست کا دائرہ اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ پنچایت سے پارلیمنٹ تک، اسکول سے یونیورسٹی تک، میڈیا سے سول سوسائٹی تک اور سماجی تحریکوں سے عوامی مسائل تک — ہر جگہ سیاست اپنا اثر رکھتی ہے۔ اگر کوئی قوم ان میدانوں میں غیر فعال ہو جائے تو اس کی آواز رفتہ رفتہ کمزور پڑ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج مسلمانوں کو صرف ووٹر بن کر رہ جانے کے بجائے پالیسی ساز، دانشور، منتظم، وکیل، صحافی، سماجی کارکن اور قائد کے طور پر بھی سامنے آنا ہوگا۔
نئی نسل کو سیاسی شعور سے آراستہ کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو صرف روزگار کی فکر میں محدود رکھنے کے بجائے انہیں آئین، جمہوریت، بنیادی حقوق، قانون اور ملکی نظام سے واقف کرانا ضروری ہے۔ کیونکہ جمہوریت میں صرف تعداد اہم نہیں ہوتی بلکہ شعور، تنظیم اور حکمتِ عملی بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ منظم اقلیتیں اکثر غیر منظم اکثریت پر اثر انداز ہو جاتی ہیں۔ اس لیے مسلمانوں کو جذباتی نعروں سے زیادہ علمی اور سیاسی تیاری کی ضرورت ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سیاست میں کامیابی صرف جذبات سے حاصل نہیں ہوتی۔ اس کے لیے صبر، تدبر، اتحاد اور دور اندیشی درکار ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے ہندوستانی مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری انتشار اور باہمی اختلافات ہیں۔ ذات، مسلک، جماعت اور علاقائی تعصبات نے اجتماعی طاقت کو کمزور کر دیا ہے۔ ہر گروہ اپنی الگ شناخت اور مفاد کے دائرے میں محدود ہو گیا ہے، جب کہ سیاسی طاقت ہمیشہ مشترکہ مفادات، اتحاد اور اجتماعی شعور سے پیدا ہوتی ہے۔ جب تک مسلمان داخلی اختلافات سے اوپر اٹھ کر مشترکہ مسائل پر متحد نہیں ہوں گے، تب تک ان کی سیاسی آواز مؤثر نہیں ہو سکے گی۔
یہاں ایک اہم سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا مسلمانوں کی سیاست صرف اپنے مسائل تک محدود ہونی چاہیے؟ یقیناً نہیں۔ ایک بالغ نظر سیاسی سوچ کبھی فرقہ وارانہ مفادات تک محدود نہیں رہتی۔ ہندوستانی مسلمانوں کو اپنی سیاست کو ملک کے وسیع تر سماجی اور جمہوری مسائل سے جوڑنا ہوگا۔ مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم، صحت، کسانوں کے مسائل، خواتین کے حقوق، آئینی اداروں کی خودمختاری اور اظہارِ رائے کی آزادی جیسے مسائل پورے ملک کے مسائل ہیں۔ اگر مسلمان صرف اپنی شناخت کے خول میں محدود رہیں گے تو وہ قومی دھارے سے کٹ جائیں گے۔ اس کے برعکس اگر وہ انصاف، مساوات اور جمہوریت کے وسیع تر ایجنڈے کے ساتھ کھڑے ہوں گے تو ان کی سیاسی ساکھ بھی مضبوط ہوگی اور سماجی اعتماد بھی بڑھے گا۔
ہندوستان کا آئین اس ملک کی سب سے بڑی طاقت اور جمہوری شناخت ہے۔ یہی آئین تمام شہریوں کو مساوی حقوق دیتا ہے۔ مذہبی آزادی، اظہارِ رائے، تعلیم، سیاسی شرکت اور انصاف تک رسائی کا حق اسی آئین نے فراہم کیا ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے آئینی اور جمہوری راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ نفرت، اشتعال یا تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں ہو سکتے۔ ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب ہمیشہ باہمی احترام، رواداری اور مشترکہ جدوجہد کی بنیاد پر قائم رہی ہے۔ اگر کوئی طاقت اس تہذیبی ورثے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے تو اس کا جواب بھی آئینی بصیرت، سیاسی حکمت اور جمہوری جدوجہد سے ہی دیا جا سکتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں سیاسی طور پر بے حس ہو جاتی ہیں، وہ رفتہ رفتہ معاشی، تعلیمی اور سماجی طور پر بھی کمزور پڑ جاتی ہیں۔ دنیا میں وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو اپنے حالات کا ادراک کرکے منظم سیاسی جدوجہد کرتی ہیں۔ جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے خلاف تحریک ہو یا امریکہ میں شہری حقوق کی جدوجہد، ہر جگہ سیاسی بیداری نے ہی محروم طبقات کو طاقت بخشی۔ ہندوستانی مسلمانوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ محض شکوہ، شکایت اور مایوسی سے حالات تبدیل نہیں ہوتے بلکہ تبدیلی کے لیے مسلسل جدوجہد، تنظیم اور حکمتِ عملی ضروری ہوتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان سیاست کو گالی دینے یا اس سے خوف کھانے کے بجائے اسے ایک سماجی ذمہ داری کے طور پر قبول کریں۔ سیاست اگر مفاد پرستوں کے ہاتھ میں چلی جائے تو وہ نفرت، تقسیم اور تعصب کا ذریعہ بن جاتی ہے، لیکن اگر دیانت دار، باشعور اور خدمت کے جذبے سے سرشار لوگ میدان میں آئیں تو یہی سیاست سماجی انصاف اور قومی تعمیر کا وسیلہ بھی بن سکتی ہے۔ اگر اچھے لوگ سیاست سے دور رہیں گے تو میدان ہمیشہ نفرت پھیلانے والوں کے لیے خالی رہے گا۔
آج جب کہ ملک کے مختلف حصوں میں مذہبی منافرت کو ہوا دینے کی کوششیں جاری ہیں، تب ہندوستانی مسلمانوں سمیت تمام انصاف پسند شہریوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ جمہوری اقدار، آئینی اصولوں اور سماجی ہم آہنگی کے تحفظ کے لیے متحد ہوں۔ ہمیں جذباتی ردِّعمل کے بجائے سیاسی بصیرت، تنظیم اور حکمت کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ کیونکہ نفرت کا مقابلہ صرف نعروں سے نہیں بلکہ مضبوط سیاسی شعور، اجتماعی اتحاد اور مسلسل جمہوری جدوجہد سے کیا جا سکتا ہے۔
سیاست واقعی شجرِ ممنوعہ نہیں؛ بلکہ موجودہ حالات میں یہ بقا، وقار، شناخت اور مستقبل کے تحفظ کی ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔ جو قومیں اس حقیقت کو بروقت سمجھ لیتی ہیں، تاریخ ان کے حق میں فیصلہ دیتی ہے، اور جو قومیں سیاست سے بے تعلق رہتی ہیں، وہ دوسروں کے فیصلوں کی محتاج بن کر رہ جاتی ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے