कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

محفلِ آوارہ: دوستی کا اپ گریڈ ورژن

The Vagabond Gathering: The Upgraded Version of Friendship

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

ہم بچپن و جوانی کے پرانے دوست، جب زندگی کے پچاس برس گزارنے کے بعد دوبارہ اکٹھے ہوئے، تو پہچاننے کے لیے آنکھوں سے زیادہ حافظے کی ضرورت پڑی۔ چہروں پر وقت کی ایسی دھول جمی تھی کہ اگر کوئی ایک دوسرے کو "بھائی صاحب” کہہ دیتا تو برا نہیں لگتا، بلکہ عزّت افزائی محسوس ہوتی۔ مگر جیسے ہی کسی نے پرانے زمانے کا کوئی راز چھیڑا، سب کی آنکھوں میں وہی پرانی شرارتیں لوٹ آئیں؛ جیسے وقت نے صرف چہروں کو بدلا ہو، دلوں کو نہیں۔ محفل کا آغاز چائے سے ہوا اور چائے بھی وہی، جو کبھی ادھار پر پیا کرتے تھے، بس فرق یہ تھا کہ اب ادھار چائے والے کے بجائے ڈاکٹر کے مشوروں پر چل رہا تھا۔ مگر چائے تو محض بہانہ تھی؛ اصل مقصد ایک دوسرے کی بڑھاپے کی کمزوریوں کا نہایت سنجیدہ اور "سائنسی” تجزیہ کرنا تھا۔
ایک دوست، جو کبھی کالج کے "ہیرو” ہوا کرتے تھے، اب واکر کے سہارے چلتے ہیں؛ مگر خود اعتمادی بدستور جوان ہے۔ بڑے فخر سے بولے: "لڑکیاں آج بھی دیکھتی ہیں!”۔ کسی نے فوراً لقمہ دیا: "ہاں دیکھتی تو ہیں… مگر اس لیے کہ کہیں آپ گر نہ جائیں!”۔ محفل قہقہوں سے گونج اٹھی۔ ہم نے مزید اضافہ کیا: "بھئی، اب آپ کو دیکھنا انسانی ہمدردی کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ گرے ہوئے کو اٹھانا ثواب کا کام ہے!”۔ وہ دوست مسکرا کر بولے: "چلو، کسی نہ کسی بہانے ہی سہی… توجہ تو مل رہی ہے!”۔ یوں ہنسی کے یہ سلسلے آگے بڑھتے گئے، اور ہم سب آہستہ آہستہ اس حقیقت کو بھی ہنسی میں چھپاتے رہے کہ وقت نے ہمیں بدلا ضرور ہے؛ مگر ایک دوسرے کے لیے ہماری شرارتیں آج بھی ویسی ہی زندہ ہیں۔
دوسرا دوست جو کبھی فلسفیانہ باتوں سے محفل لوٹ لیتا تھا، اب ہر سوال کا ایک ہی جواب دیتا ہے: "ڈاکٹر نے منع کیا ہے”۔ ہم نے حیران ہو کر پوچھا: "بھئی آخر کس چیز سے منع کیا ہے؟”۔ وہ گہری سانس لے کر بولے: "ہر اُس چیز سے… جس سے انسان کو ذرا سی بھی خوشی ملتی ہو!”۔ ہم نے کہا: "یعنی مسکرانے سے بھی؟”۔ بولے: "جی ہاں!”۔ ہم نے پھر چھیڑا: "اور ہنسنے سے؟”۔ کہنے لگے: "سختی سے منع ہے!”۔ آخر ہم نے ہار مان کر کہا: "تو پھر جیتے کیسے ہو؟”۔ وہ بڑے اطمینان سے بولے: "بس… بیوی کے سائے میں زیادہ رہتا ہوں!”۔
تیسرا دوست، جنہیں ہم کبھی "ریڈیو” کہا کرتے تھے کیونکہ ایک بار آن ہوتے تو بند ہونے کا نام ہی نہیں لیتے تھے، اب زمانہ بدل گیا ہے۔ ہئیرنگ ایڈ کے بغیر کچھ سنتے ہی نہیں۔ ہم نے ذرا چھیڑتے ہوئے کہا: "کیوں میاں! اب تو بڑی خاموشی چھا گئی ہے تم پر؟ وہ پرانا ریڈیو کہاں گیا؟”۔ وہ مسکرا کر بولے: "خاموشی کہاں یار! پروگرام تو اب بھی جاری ہے…”۔ ہم نے حیرت سے پوچھا: "تو پھر فرق کیا پڑ گیا؟”۔ کہنے لگے: "پہلے میں سب کچھ سن کر بولتا تھا… اب صرف وہی سنتا ہوں جو سننے دیا جاتا ہے!”۔ ہم نے مزید کریدنے کے لیے پوچھا: "اور یہ سعادت کسے حاصل ہے؟”۔ وہ ہلکی سی کھانسی کے ساتھ بولے: "بھئی، اب ہئیرنگ ایڈ بھی وہی آن کرتی ہیں… اور آف بھی!”۔
چوتھا دوست، جو ہمیشہ دیر سے آنے میں اپنی ایک الگ پہچان رکھتے تھے یعنی محفل ختم ہونے کو ہو تو ان کی آمد ہوتی تھی۔ اس بار سب سے پہلے آ کر بیٹھے تھے۔ ہم سب ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے، جیسے کسی معجزے کا مشاہدہ کر رہے ہوں۔ آخر ہم نے پوچھ ہی لیا: "حضرت! خیر تو ہے؟ آج سورج مغرب سے کیسے نکل آیا؟”۔ وہ بڑے سکون سے بولے: "کچھ خاص نہیں… بس معمول بدل گیا ہے”۔ ہم نے حیرت سے کہا: "وہ کیسے؟”
کہنے لگے: "اب نیند جلدی کھل جاتی ہے…”۔ ہم نے مسکرا کر چھیڑا: "اور پھر؟”۔ بولے: "اور پھر کرنے کو کچھ ہوتا نہیں، تو سوچا کیوں نہ وقت پر ہی پہنچ جاؤں!”۔ ہم نے ہنستے ہوئے کہا: "یعنی اب تم نے وقت کی قدر کرنا سیکھ لی ہے؟”۔ وہ ذرا سنجیدہ ہو کر بولے: "نہیں یار… بس وقت نے میری قدر کرنا چھوڑ دی ہے!”۔
اور میں… میں ان سب کو دیکھ کر چپ چاپ مسکرا رہا تھا۔ ایک طرف وہ فلسفی دوست تھا، جس کی گفتگو کبھی پرواز کیا کرتی تھی، اور اب "ڈاکٹر نے منع کیا ہے” کی زمین پر اتر آئی تھی۔ دوسری طرف ہمارا "ریڈیو” تھا، جو کبھی سب کو سناتا تھا، اب خود سننے کے لیے اجازت کا محتاج ہو گیا تھا۔ اور تیسری طرف وہ دیر سے آنے والا دوست، جو ہمیشہ وقت کے پیچھے دوڑتا تھا، اب وقت اس کے آگے آگے چل رہا تھا۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا: "واہ رے وقت! تُو نے ہم سب کو کیسے کیسے ‘اپ گریڈ’ کیا ہے!”۔ ہم نے کبھی جوانی میں ترقی کے خواب دیکھے تھے، اور اب ترقی یوں ملی ہے کہ کوئی گھٹنوں کے درد کے ساتھ اپ گریڈ ہوا ہے، کوئی یادداشت کے بوجھ کے ساتھ، اور کوئی بیگم کے خوف کے جدید سسٹم کے ساتھ! میں نے ہلکے سے قہقہہ لگایا اور خود سے کہا: "اصل میں یہ اپ گریڈ نہیں… یہ زندگی کا نیا ورژن ہے!!! جہاں فیچرز کم اور احتیاطیں زیادہ ہو جاتی ہیں!”۔
محفل میں جب پرانی یادوں کا تذکرہ شروع ہوا تو سب کے چہرے یکدم کھل اٹھے۔ باتوں کا رخ خود بخود اُس زمانے کی طرف مڑ گیا! وہی کالج کی کینٹین، وہی ادھار کی چائے، وہی بے مقصد گھنٹوں گھومنا… اور وہی خواب، جو اُس وقت ہمیں آسمان سے بھی بڑے لگتے تھے۔ ہر ایک اپنی اپنی یاد کا کوئی نہ کوئی چراغ جلا رہا تھا، اور اُس روشنی میں ہم سب جیسے پھر سے جوان ہو گئے تھے۔ مگر اچانک جیسے کسی نے حقیقت کا دروازہ کھول دیا ہو! کسی نے بچّوں کی فیس کا ذکر چھیڑ دیا، کسی نے دوائیوں کے بڑھتے ہوئے بلوں کا، اور کوئی ریٹائرمنٹ کے منصوبوں میں الجھا ہوا تھا۔
میں نے اُن سب کو دیکھا! وہی چہرے، مگر اب ذمّہ داریوں کی ہلکی سی تھکن لیے ہوئے۔
میں نے مسکرا کر کہا: "لگتا ہے خواب اب بھی ہیں… بس اُن کا سائز بدل گیا ہے!”۔ ایک دوست نے فوراً لقمہ دیا: "نہیں یار، خواب نہیں بدلے… بس اب اُن کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے!”۔ محفل میں ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی… پھر سب ہنس پڑے؛ کیونکہ ہم سب جانتے تھے، یہ ہنسی بھی کسی ادھار کی چائے ہی کی طرح ہے… جو ابھی تو میٹھی لگتی ہے، مگر حساب بعد میں دینا پڑتا ہے!
ایک دوست نے اچانک کہا: "یار، ہم پہلے کتنے آزاد تھے!”۔ دوسرے نے فوراً لقمہ دیا: "ہاں، اور اب ہم سب اپنی اپنی بیویوں کے ماتحت محکموں میں مستقل ملازم ہیں!”۔ یہ سن کر محفل قہقہوں سے گونج اٹھی، مگر اُس ہنسی کے پیچھے ایک ہلکی سی اداسی بھی سانس لے رہی تھی۔ جیسے ہر قہقہے کے بعد دل آہستہ سے یہ بھی کہہ رہا ہو کہ وقت اب وہ نہیں رہا۔ ہم سب ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے؛ وہی پرانے دوست، مگر اب وقت کی دستک ہر چہرے پر صاف سنائی دیتی تھی۔ کسی نے دھیرے سے کہا: "یار، یہ ملاقاتیں اب پہلے جیسی نہیں رہیں…”۔ دوسرے نے بات مکمل کی: "ہاں… کیونکہ اب ہر ملاقات کے بعد اگلی ملاقات کی گارنٹی نہیں ہوتی”۔
ایک لمحے کو فضا سنجیدہ ہو گئی، جیسے سب نے ایک ہی سوچ کو خاموشی سے تسلیم کر لیا ہو۔ مگر پھر کسی نے ہمت کر کے کہا: "چلو، ایک وعدہ کرتے ہیں…”۔ ہم سب چونک کر اُس کی طرف دیکھنے لگے۔ وہ بولا: "ہر سال ملیں گے! چاہے کوئی واکر کے ساتھ آئے، یا وہیل چیئر پر… مگر آئیں گے ضرور!”۔ ایک دوست ہنستے ہوئے بولا: "اور اگر کوئی نہ آ سکا تو؟”۔ وہ مسکرا کر کہنے لگا: "تو اُس کی کمی پوری کرنے کے لیے اُس کی یادیں لے آئیں گے!”۔ یہ سن کر سب کے چہرے ایک بار پھر کھل اٹھے۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا: "دوستی شاید یہی ہے؛ وقت کے ہاتھوں بکھرتے لمحوں کو یادوں کے دھاگے سے جوڑتے رہنا…”۔
آخر میں جب بل آیا تو حسبِ روایت سب نے بیک وقت اپنی اپنی جیبوں میں ہاتھ ڈالے… اور پھر ایک دوسرے کی طرف ایسے دیکھا جیسے پہلی بار اس مرحلے سے گزر رہے ہوں۔
وہی پرانا سوال فضا میں معلق ہو گیا: "یار، آج کون دے گا؟”۔ کچھ لمحے ہنسی مذاق، کچھ دیر رسمی انکار، اور پھر ہلکی سی نوک جھونک… جیسے وقت نے بہت کچھ بدلا ہو، مگر یہ منظر اب بھی ویسا ہی محفوظ ہو۔
آخرکار کسی ذہین نے فیصلہ سنایا: "بھئی، آج بل وہ دے گا جس کی یادداشت سب سے کمزور ہے… کیونکہ اسے یاد بھی نہیں رہے گا!”
یہ سنتے ہی سب نے ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھنا شروع کر دیا؛ جیسے ہر ایک دل ہی دل میں چاہ رہا ہو کہ آج وہی "بھولا” ثابت ہو جائے!
قہقہے ایک بار پھر گونجے، اور اسی ہنسی کے ساتھ بل بھی ادا ہو گیا۔ یوں ہماری پچاس سال پرانی آوارہ محفل… ہنسی، طنز، یادوں کی مہک اور آنکھوں کی ہلکی سی نمی لیے…آہستہ آہستہ اپنے اختتام کو پہنچی۔ ہم اٹھے تو قدموں میں وہ بے فکری نہیں تھی، مگر دل میں وہی پرانی گرمجوشی تھی۔ میں نے پیچھے مڑ کر اُن سب کو دیکھا اور سوچا:
وقت نے واقعی بہت کچھ بدل دیا ہے… مگر ایک چیز اب بھی ویسی ہی ہے! ہماری دوستی کی خوشبو!” ہلکی سی پرانی، ذرا سی مدھم، مگر بے حد قیمتی… اور شاید ہمیشہ رہنے والی۔
اس محفل کی کہانی صرف ہنسی مذاق تک محدود نہیں تھی، بلکہ اس میں وقت کے بے رحم گزرنے کا ایک خاموش اعتراف بھی شامل تھا۔ ہم سب کے درمیان ایک ان کہی سمجھ بوجھ پیدا ہو چکی تھی؛ وہ سمجھ بوجھ جو صرف طویل رفاقت اور مشترکہ یادوں سے جنم لیتی ہے۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے ماضی کو کچھ بہتر، کچھ زیادہ روشن انداز میں بیان کر رہا تھا۔ جیسے وقت نے نہ صرف چہروں پر جھریاں ڈالی تھیں بلکہ یادوں پر بھی ہلکی سی ملمع کاری کر دی تھی۔ جو دوست کبھی امتحان میں نقل کرتے پکڑا گیا تھا، اب اُسے "تعلیمی جدوجہد” کا نام دے رہا تھا، اور جو کبھی سب سے زیادہ ڈانٹ کھاتا تھا، اب اپنے آپ کو "باغی ذہن” ثابت کرنے پر تُلا ہوا تھا۔
ہم سب یہ سب سن رہے تھے!! مسکرا بھی رہے تھے، اور دل ہی دل میں سچائی کو پہچان بھی رہے تھے۔ میں نے ہلکے سے کہا: "لگتا ہے وقت صرف گزرتا ہی نہیں… کہانیاں بھی ایڈٹ کرتا جاتا ہے!”۔ ایک دوست فوراً بولا: "اور کیا! ورنہ ہماری اصلی کہانی سن کر تو کوئی ہمیں سنجیدہ ہی نہ لے!”۔ دوسرے نے قہقہہ لگاتے ہوئے اضافہ کیا: "اصل بات یہ ہے کہ اب ہم خود بھی اپنے ماضی کے ‘ہیرو’ بن چکے ہیں!”۔ محفل ایک بار پھر ہنسی سے بھر گئی، مگر اس ہنسی میں ایک گہری سچائی بھی چھپی تھی کہ انسان صرف عمر کے ساتھ بوڑھا نہیں ہوتا، وہ اپنی یادوں کو بھی اپنے مطابق ڈھال لیتا ہے… تاکہ گزرا ہوا وقت تھوڑا اور خوبصورت لگے، اور آنے والا وقت کچھ کم خوفناک۔
محفل میں ایک اور دلچسپ موڑ تب آیا جب جیبوں سے موبائل فونز برآمد ہوئے۔ کسی نے کہا: "چلو، پرانی تصویریں دیکھتے ہیں!”۔ مگر جیسے ہی یہ مہم شروع ہوئی، آدھی محفل پاس ورڈ یاد کرنے میں الجھ گئی۔ کوئی انگلیاں گھما رہا تھا، کوئی چہرہ بنا رہا تھا، اور کوئی بے بسی سے کہہ رہا تھا: "یار، یہ فون بھی اب ہمیں پہچاننے سے انکار کر رہا ہے!”۔ اتنے میں ایک دوست نے بڑے فخر سے اعلان کیا: "میرے پاس سب کچھ محفوظ ہے!”۔ ہم سب امید بھری نظروں سے اُس کی طرف متوجہ ہوئے۔ اس نے فاتحانہ انداز میں فون کھولا… اور اگلے ہی لمحے راز فاش ہو گیا۔ پورا خزانہ صرف "واٹس ایپ یونیورسٹی” کے فارورڈز پر مشتمل تھا! کسی نے فوراً لقمہ دیا: "بھئی، یہ تاریخ نہیں… نصیحتی مواد ہے!”۔ محفل ایک بار پھر قہقہوں سے گونج اٹھی۔ مگر بات صرف ماضی تک محدود نہیں رہی، حال کا بھی ایک عجیب سا مذاق ہمارے سامنے تھا۔
ہم سب اپنے اپنے بچّوں کا ذکر ایسے کر رہے تھے جیسے وہ کسی اور سیارے کی مخلوق ہوں۔ ایک دوست بولا: "میرا بیٹا تو مجھے ٹیکنالوجی سکھاتا ہے!”۔ دوسرا فوراً بولا: "اور میری بیٹی تو مجھے ڈانٹتی ہے کہ آپ کو کچھ نہیں آتا!”۔ میں نے مسکرا کر کہا: "یعنی جنہیں ہم نے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا… آج وہی ہمیں زندگی کے نئے اصول پڑھا رہے ہیں!”
ایک دوست نے گہری سانس لے کر کہا: "ہاں یار، اب ہم والدین کم… اور اسٹوڈنٹ زیادہ لگتے ہیں!” ہم سب ہنس دیے؛ مگر اس ہنسی میں ایک عجیب سی نرمی تھی، جیسے وقت نے ہمیں ایک نیا سبق سکھایا ہو: کہ زندگی کا دائرہ گھومتا رہتا ہے… اور ایک دن شاگرد ہی استاد بن جاتے ہیں، اور استاد… خاموشی سے سیکھنے لگتے ہیں۔
پھر اچانک گفتگو نے ایک سنجیدہ موڑ لے لیا۔
کسی نے آہستگی سے ایک ایسے دوست کا ذکر چھیڑا، جو اب اس دنیا میں نہیں رہا تھا۔ چند لمحوں کے لیے محفل پر خاموشی چھا گئی! وہی دوست، جس کی شرارتیں کبھی اس محفل کی جان ہوا کرتی تھیں، آج صرف یادوں کی صورت میں ہمارے درمیان موجود تھا۔ ہم سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، مگر اس بار نظروں میں ہنسی نہیں، ایک مشترکہ اداسی تھی۔ اسی لمحے دل میں یہ احساس ابھرا کہ وقت صرف ہمیں بوڑھا نہیں کرتا… وہ آہستہ آہستہ ہماری محفل کو بھی مختصر کرتا جاتا ہے۔
کچھ کرسیاں خالی ہو جاتی ہیں، اور کچھ نام صرف گفتگو میں رہ جاتے ہیں۔ مگر شاید دوستی کی اصل خوبصورتی یہی ہے کہ وہ وقت کی قید سے آزاد ہوتی ہے۔ پچاس سال کا طویل وقفہ بھی اس رشتے کی چمک کو مدھم نہیں کر سکا تھا۔ ہم آج بھی ایک دوسرے کی ادھوری بات مکمل کر سکتے تھے،
ایک دوسرے کے جملوں میں ہنسی تلاش کر سکتے تھے، اور سب سے بڑھ کر ایک دوسرے کی خاموشیوں کو بھی سمجھ سکتے تھے۔
میں نے دل ہی دل میں سوچا: "شاید یہی وہ رشتہ ہے جو لفظوں سے نہیں، احساس سے جُڑا ہوتا ہے…” اور پھر کسی نے ہلکے سے مسکرا کر کہا: "یار، جو چلے گئے ہیں… وہ بھی کہیں نہ کہیں ہماری اسی محفل میں شامل ہوں گے!”۔ ہم سب نے بے اختیار سر ہلا دیا کیونکہ کچھ رشتے واقعی ختم نہیں ہوتے، وہ بس نظر آنا چھوڑ دیتے ہیں۔
رخصت ہوتے وقت کسی نے ہلکے سے کہا: "یار، اگلی بار پھر یہیں ملیں گے”۔ اس ایک جملے میں عجب سی آمیزش تھی!!! امید بھی، اور ایک انجانا سا خدشہ بھی۔ ہم سب نے اُس خدشے کو حسبِ عادت ہنسی میں اڑا دیا،
کیونکہ مشکل کو مذاق میں بدل دینا تو ہمیشہ سے ہماری پہچان رہی ہے۔ کسی نے ہاتھ ملایا، کسی نے کندھا تھپتھپایا، اور ہم آہستہ آہستہ رخصتی کی طرف بڑھنے لگے؛ جیسے ہر قدم کے ساتھ کوئی یاد پیچھے رہتی جا رہی ہو۔
میں نے مڑ کر آخری بار اُس محفل کو دیکھا!!! خالی کرسیاں، نیم بجھی ہنسی، اور فضا میں گھلی ہوئی یادوں کی خوشبو… تب دل میں یہ خیال ابھرا کہ یہ صرف ایک ملاقات نہیں تھی، بلکہ زندگی کے ایک طویل سفر کا مختصر سا خلاصہ تھی۔ یہاں جوانی کی بے فکری بھی تھی، ادھیڑ عمری کی ذمّہ داریاں بھی، اور بڑھاپے کی سادگی بھی! سب ایک ہی لمحے میں سمٹ آئے تھے۔ اور سچ پوچھیں تو… ہم اب بھی وہی آوارہ لوگ تھے! بس فرق اتنا تھا کہ پہلے ہم وقت کی پروا کیے بغیر گھوما کرتے تھے، اور اب گھٹنوں کی اجازت لے کر نکلتے ہیں! ایک دوست جاتے جاتے مسکرا کر بولا: "یار، پہلے دل کے پیچھے چلتے تھے… اب ڈاکٹر کے نسخے کے پیچھے چلتے ہیں!”۔ ہم سب ہنس پڑے اور اسی ہنسی کے ساتھ وہ محفل ختم نہیں ہوئی… بس اگلی ملاقات تک مؤخر ہو گئی۔
🗓 (19.04.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے