कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

بچوں میں سماجی شعورکی کمی ، ایک فکری نفسیاتی و اصلاحی جائزہ

(عقلیت پسندی اور سماجی نفسیات کے تناظر میں)

از قلم: محمود علی لیکچرر
8055402819

معاشرہ افراد سے بنتا ہے اور افراد کی شخصیت بچپن ہی میں تشکیل پاتی ہے۔ اگر بچوں میں سماجی شعور عقلیت پسندی اور صحت مند نفسیاتی رویے پیدا نہ ہوں تو وہ عملی زندگی میں مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ آج یہ مسئلہ شدت سے سامنے آ رہا ہے کہ بعض تعلیم یافتہ نوجوان حتیٰ کہ انجینئرنگ جیسی اعلیٰ ڈگریاں رکھنے کے باوجود عملی میدان میں کمزور دکھائی دیتے ہیں۔
سماجی نفسیات کے مطابق انسان کا رویہ اس کے ماحول سے گہرے طور پر متاثر ہوتا ہے۔ Social Learning Theory کے مطابق بچے اپنے اردگرد کے رویوں کو دیکھ کر سیکھتے ہیں۔ اگر گھر کا ماحول خوف اور دباؤ پر مبنی ہو تو بچوں میں خود اعتمادی کمزور ہو جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب والدین بچوں کو زیادہ ڈرا دھمکا کر رکھتے ہیں تو ان میں Self-Efficacy کم ہو جاتی ہے اور وہ ہر نئے موقع سے گھبراتے ہیں۔ نتیجتاً کچھ نوجوان دوسرے شہر جانے اجنبی لوگوں سے ملنے یا اپنی بات پیش کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ اس کیفیت کو سماجی نفسیات میں Social Anxiety کہا جاتا ہے۔
اسی طرح بار بار تنقید اور سختی بچوں میں Learned Helplessness پیدا کر دیتی ہے، جس سے وہ جلد مایوس ہو جاتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں پر یقین کھو بیٹھتے ہیں۔
یہاں حضرت علی بن ابی طالب کی زندگی ہمارے لیے ایک روشن مثال ہے۔ آپ علم و حکمت کے پیکر تھے مگر ساتھ ہی جرأت خود اعتمادی اور بہترین گفتگو کے مالک بھی تھے۔ آپ کا یہ قول بہت مشہور ہے کہ ’’انسان وہی ہے جو وہ جانتا ہے یعنی علم کے ساتھ سمجھ اور شعور ضروری ہے۔‘‘
حضرت علیؓ بچوں اور نوجوانوں کی تربیت میں بھی توازن کی تعلیم دیتے ہیں۔ آپ کا ایک مشہور قول و اصول ہے کہ
’’اپنی اولاد کو اپنے زمانے کے مطابق تعلیم دو کیونکہ وہ تمہارے زمانےکے لیے پیدا نہیں ہوئے‘‘
یہ قول دراصل عقلیت پسندی اور جدید تقاضوں کو سمجھنے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ بچوں کو صرف روایتی طریقوں سے نہیں بلکہ بدلتے ہوئے معاشرتی حالات کے مطابق تیار کرنا ضروری ہے۔
آپؓ کی زندگی سے یہ بھی سبق ملتا ہے کہ علم کے ساتھ جرأتِ اظہار بھی ضروری ہے۔ وہ نہایت فصیح و بلیغ تھے اور اپنی بات کو دلیل کے ساتھ پیش کرتے تھے۔ یہ وہی صلاحیت ہے جس کی آج کے نوجوانوں میں کمی محسوس کی جاتی ہے۔
لہٰذا اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچوں میں سماجی شعور اور خود اعتمادی پیدا ہو تو ہمیں ان کی تربیت میں محبت، حکمت اور آزادیٔ اظہار کو شامل کرنا ہوگا۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو ڈر کے ماحول کے بجائے اعتماد کا ماحول دیں، اور انہیں سوال کرنے، سیکھنے اور آگے بڑھنے کی حوصلہ افزائی کریں۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ حضرت علی بن ابی طالب اور حضرت عمر بن خطاب جیسی شخصیات ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ ایک مضبوط معاشرہ صرف علم سے نہیں بلکہ شعور، جرات، اور متوازن تربیت سے بنتا ہے۔ اگر ہم ان اصولوں کو اپنی نئی نسل میں منتقل کر دیں تو ایک باوقار باشعور اور بااعتماد معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے