कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ناندیڑ کے اسلام پورہ علاقہ میں دل دہلا دینے والا سانحہ

جمع پانی میں ڈوب کر چار اسکولی بچوں کی موت!

ناندیڑ:16؍اپریل (نمائندہ اعتبار) شہر کے اسلام پورہ علاقہ میں جمعرات کی دوپہر پیش آنے والے ایک انتہائی افسوسناک واقعہ میں جمع پانی میں ڈوب کر چار اسکولی بچوں کی موت ہوگئی۔ اس حادثے سے علاقہ میں غم و اندوہ کی فضا چھا گئی ہے اور شہریوں میں شدید رنج و افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔موصولہ معلومات کے مطابق اسلام پورہ علاقے کے یہ بچے اسکول چھوٹنے کے بعد اپنے گھروں کو جا رہے تھے۔ اسی دوران ایم جی آر گارڈن فنکشن ہال سے متصل علاقے میں ایک بڑے گڑھے میں پانی جمع تھا۔ شدید گرمی کی وجہ سے بچے نہانے کے لیے پانی میں اتر گئے، لیکن انہیں پانی کی گہرائی کا اندازہ نہیں ہو سکا، جس کے نتیجے میں چاروں بچے ڈوب گئے۔ واقعہ کے بعد علاقے میں کھلبلی مچ گئی۔ جائے حادثہ پر بچوں کی چپلیں، جوتے اور اسکولی یونیفارم ملے ہیں۔متوفی بچوں کے نام محمد علی محمد ادریس (عمر 13 سال)، سید فرقان سید فیروز (عمر 13 سال)، محمد عدنان محمد فیروز (عمر 10 سال) اور محمد ریحان (عمر 11 سال) بتائے گئے ہیں۔ تمام بچے10سے 13سال کے درمیان عمر کے تھے۔ ان میں محمد فرقان اور محمد ریحان آپس میں سگے بھائی تھے۔دریں اثناء اس مقام پر میونسپل کارپوریشن کی جانب سے ایک نجی ٹھیکیدار کے ذریعے نالے کا کام جاری تھا، تاہم متعلقہ گڑھا کس نے اور کیسے کھودا، اس بارے میں ابھی تک وضاحت نہیں ہو سکی ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ایم آئی ایم پارٹی کے کارپوریٹرز، میونسپل کارپوریشن کے اعلیٰ حکام اور پولیس موقع پر پہنچ گئی، اور اس حادثے کے ذمہ داروں کے تعین کے لیے تفصیلی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔اس دلخراش واقعہ سے پورے علاقے میں سوگ کی فضا قائم ہے۔ناندیڑ کے اسلام پورہ میں پیش آنے والا یہ سانحہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ہماری اجتماعی غفلت، ناقص شہری منصوبہ بندی اور حفاظتی اقدامات کی کمی کا دردناک ثبوت ہے۔ معصوم بچوں کا اس طرح اچانک موت کا شکار ہونا ہر حساس دل کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ یہ واقعہ کئی اہم سوالات کھڑے کرتا ہے۔ سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ اگر اس مقام پر نالے کا کام جاری تھا تو اتنا بڑا اور خطرناک گڑھا بغیر کسی حفاظتی انتظام، وارننگ بورڈ یا باڑ کے کیسے چھوڑ دیا گیا؟ کیا متعلقہ ٹھیکیدار اور میونسپل کارپوریشن اپنی ذمہ داری سے بے خبر تھے یا پھر روایتی لاپرواہی کا مظاہرہ کیا گیا؟ ایسے مقامات پر معمولی سی احتیاط، جیسے حفاظتی باڑ یا انتباہی نشانات، قیمتی جانوں کو بچا سکتے تھے۔یہ حادثہ محض چار گھروں کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا نقصان ہے۔ دو سگے بھائیوں کا ایک ساتھ دنیا سے رخصت ہو جانا اس سانحے کی شدت کو اور بڑھا دیتا ہے۔ ایسے واقعات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ ترقیاتی کام اگر احتیاط کے بغیر کیے جائیں تو وہ سہولت کے بجائے خطرہ بن جاتے ہیں۔اب ضروری ہے کہ اس معاملے کی صرف رسمی تحقیقات نہ ہو بلکہ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور آئندہ کے لیے واضح حفاظتی اصول وضع کیے جائیں۔ بصورت دیگر ایسے سانحات دوبارہ پیش آنے کا خدشہ ہمیشہ برقرار رہے گا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے