कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ہندوستان کی جنگِ آزادی میں اردو شاعری کا کردار

از قلم:عرب شبانہ رضوان
انچارج پرنسپل (ریسرچ اسکالر )
بوپوڑی اردو ثانوی و اعلیٰ ثانوی مدرسہ بوپوڑی پونے ۴۱۱۰۲۰
رابطہ: 9130023005
ای میل: shabriz2011@gmail.com

ہندوستان کی آزادی کی طویل اور صبر آزما جدوجہد میں اگر تلوار اور توپ کا شور سنائی دیتا ہے تو اس کے ساتھ اردو شاعری کے آہنگ کی بازگشت بھی گونجتی سنائی دیتی ہے۔ یہ وہ آہنگ تھا جو کبھی مرثیے کے انداز میں قوم کے زخم سہلاتا، کبھی غزل کے پُرکیف پیرائے میں امید جگاتا، اور کبھی انقلابی نظموں میں عوام کو میدانِ عمل کی طرف بلاتا۔ ۱۸۵۷ کی پہلی جنگِ آزادی سے لے کر ۱۹۴۷ کی صبحِ آزادی تک اردو شاعری نے محض دل بہلانے کا سامان فراہم نہیں کیا، بلکہ یہ ایک فکری ہتھیار، ایک جذباتی رہنما اور ایک اجتماعی آواز بن کر اُبھری۔
اس سفر کی ابتدا ۱۸۵۷ کے المیہ سے ہوتی ہے، جب دہلی کے آخری تاجدار اور شاعرِ دل گرفتہ بہادر شاہ ظفر نے اپنے محلاتی کمرے سے نکل کر آزادی کی شکست کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ ظفر کی شاعری میں اس دور کے غم و اندوہ کی پوری فضا بکھری ہوئی ہے۔ ان کے اشعار میں وطن کی کھوئی ہوئی شان کا ماتم اور قید و جلاوطنی کا دکھ اس شدت سے موجود ہے کہ وہ خود بغاوت کی علامت بن گئے۔ ’’کیا بتاؤں کہ کہاں میں اور کہاں یہ چمن‘‘ جیسی صدائیں اس دور کے ہر حساس دل کو چھو لیتی تھیں۔ ظفر کا کلام محاذِ جنگ پر نعرۂ مستانہ تو نہ تھا، مگر شکست خوردہ قوم کے زخموں پر مرہم اور آئندہ نسلوں کے لیے یاد دہانی ضرور تھا کہ غلامی کتنی کربناک شے ہے۔
اسی عہد کے دوسرے بڑے شاعر مرزا اسد اللہ خان غالب تھے، جو بظاہر سیاست سے دُور، مگر معاشرتی شعور کے قریب تھے۔ غالب کی غزل میں براہِ راست انقلابی نعرہ نہیں ملتا، لیکن ۱۸۵۷ کے بعد اُن کے خطوط اور اشعار میں جو زوال، بے بسی اور تہذیبی بحران کی جھلک ملتی ہے، اس نے اہلِ ادب کو سوچنے پر مجبور کیا۔ غالب نے اپنے مخصوص فلسفیانہ لہجے میں قوم کو یہ احساس دلایا کہ محض اسلحہ نہیں، بلکہ ذہنی و تہذیبی بیداری بھی آزادی کی بنیاد ہے۔ یوں اُن کی شاعری ایک فکری بیج کی مانند تھی جو بعد میں انقلابی زمین میں اگنے لگا۔
۱۸۵۷ کے بعد کے دور میں اردو شاعری ایک نئے موڑ پر آئی۔ اب اصلاحِ قوم کا بیانیہ ابھرا، اور اس میں سب سے نمایاں نام مولانا الطاف حسین حالی کا ہے۔ حالی نے اپنی شاعری کو محض حسن و عشق کی کہانیوں سے آزاد کر کے قوم کے عروج و زوال کا آئینہ بنایا۔ اُن کی ’’مسدس حالی‘‘ نے نہ صرف مسلمانوں کو ماضی کی عظمت یاد دلائی بلکہ حال کی پستی سے نکالنے کی بھی دعوت دی۔ حالی کا یہ کلام آزادی کی براہِ راست پکار نہ سہی، مگر یہ ذہنی اور اخلاقی تیاری کا وہ پہلا زینہ تھا جس کے بغیر کوئی تحریک کامیاب نہیں ہو سکتی۔
پھر بیسویں صدی کے اوائل میں ایسے شعرا سامنے آئے جنہوں نے غزل اور نظم دونوں کو آزادی کی گھنٹی بنا دیا۔ حسرت موہانی ان میں سرفہرست ہیں۔ ’’انقلاب زندہ باد‘‘ کا نعرہ گلی کوچوں میں گونج اُٹھا تو اس کی بازگشت اُن کی شاعری سے آ رہی تھی۔ حسرت نے رومان اور سیاست کو ایک ہی سانس میں برتا۔ وہ محبوب کو یاد کرتے تو ساتھ ہی وطن کو بھی محبوب بنا لیتے۔ اُن کا کلام جلسوں میں پڑھا جاتا اور سامعین کے دلوں میں ایک ہی وقت میں محبت اور قربانی کا جذبہ اُبھرتا۔
اسی دور میں مولانا محمد علی جوہر نے اردو صحافت اور شاعری دونوں کے ذریعے عوام کو جھنجھوڑا۔ ’’ہمدرد‘‘ اور ’’کامریڈ‘‘ جیسے اخبارات میں ان کے مضامین اور نظمیں انگریزی سامراج کے خلاف کھلے حملے تھے۔ جوہر کی شاعری میں مذہبی حمیت اور قومی غیرت کا امتزاج تھا، جو مسلمانوں اور ہندوؤں دونوں کو ایک مشترکہ مقصد کے لیے یکجا کرتا تھا۔
مولانا ابوالکلام آزاد بھی اسی صف میں کھڑے تھے۔ اُن کی تحریریں اگرچہ زیادہ تر نثری تھیں، مگر اُن کی خطابت اور صحافت میں شاعرانہ تاثیر شامل تھی۔ ’’الہلال‘‘ کے اوراق میں چھپنے والا ہر مضمون کسی نہ کسی طور آزادی کا اعلان تھا۔ آزاد نے نوجوانوں کو تعلیم اور خودداری کا پیغام دیا، اور بتایا کہ جہالت کی زنجیروں کے ساتھ آزادی ممکن نہیں۔
پنجاب کے میدانوں سے مولانا ظفر علی خان کی گھن گرج اُٹھی۔ اُن کا اخبار ’’زمیندار‘‘ اور اُن کی انقلابی نظمیں کسانوں، مزدوروں اور متوسط طبقے کے دلوں میں آگ لگا دیتی تھیں۔ اُن کا کلام نہ صرف جلسوں میں گایا جاتا بلکہ دیہات میں دھرنوں اور جلوسوں کا حصہ بنتا۔ ظفر علی خان نے عوامی زبان میں شاعری کر کے آزادی کے پیغام کو گاؤں گاؤں پہنچایا۔
ادب کی ایک اور سمت میں پریم چند تھے، جنہوں نے افسانوں اور ناولوں کے ذریعے اس تحریک میں حصہ لیا۔ اگرچہ وہ بنیادی طور پر نثر نگار تھے، مگر ان کا اسلوب شاعرانہ تھا۔ ’’گودان‘‘ اور ’’کفن‘‘ جیسے افسانوں میں برطانوی نظام کے ظلم اور عوام کی محرومی کی ایسی تصویر کھینچی گئی کہ قاری کے دل میں بغاوت کا بیج پڑتا۔ پریم چند کا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے کسان اور مزدور کو تحریکِ آزادی کا ہیرو بنا دیا۔
برج نارائن چکبست جیسے ہندو شاعر بھی اردو کو قومی اتحاد کا ذریعہ بنا رہے تھے۔ اُن کے ملی نغمات نے یہ ثابت کیا کہ اردو کسی ایک مذہب یا قوم کی میراث نہیں۔ ’’اے وطن تُو ہی ہمارا دیس ہے‘‘ جیسے اشعار ہندو مسلم اتحاد کا جیتا جاگتا ثبوت تھے، اور انگریزوں کی ’’پھوٹ ڈالو اور راج کرو‘‘ کی پالیسی کے خلاف ایک ادبی تلوار تھے۔
علامہ اقبال نے تو اس تحریک میں فکری اور روحانی روح پھونک دی۔ اُن کی شاعری میں خودی کا تصور نوجوانوں کے لیے ایک منشور تھا۔ اقبال نے بتایا کہ غلامی کا علاج محض سیاسی آزادی نہیں بلکہ فکری آزادی ہے۔ ’’خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے‘‘ جیسی سطریں ایک عہد کی سمت متعین کر رہی تھیں۔ اقبال کے کلام نے آزادی کی تحریک کو فلسفیانہ بنیاد دی اور ایک نئے قومی شعور کو جنم دیا۔
۱۹۳۰ اور ۴۰ کی دہائی میں جوش ملیح آبادی کا آتشیں کلام عوامی جلسوں میں بجلی بن کر گرتا۔ اُن کی انقلابی نظمیں سن کر نوجوان سڑکوں پر نکل آتے۔ جوش کا لہجہ کبھی تلخ، کبھی طنزیہ، مگر ہمیشہ حوصلہ افزا ہوتا۔ اُن کی شاعری میں غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کی شدید تڑپ جھلکتی۔
آزادی کے آخری برسوں میں فیض احمد فیض اور مجاز لکھنوی جیسے ترقی پسند شعرا نے بھی تحریک کو اپنی زبان دی۔ فیض کا کلام محبت اور انقلاب کا حسین امتزاج تھا۔ ’’ہم دیکھیں گے‘‘ اور ’’لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘‘ جیسے مصرعے بعد کے برسوں میں بھی آزادی اور مزاحمت کی علامت بنے رہے۔ مجاز نے نوجوانوں کو خواب دیکھنے اور ان خوابوں کی تعبیر کے لیے لڑنے کا حوصلہ دیا۔ ان کی نظم ’’اٹھو، وہ وقت قریب آ گیا ہے‘‘ جیسے مصرعے آخری تحریک کے دوران جلسوں میں گونجتے تھے۔
یوں ۱۸۵۷ سے ۱۹۴۷ تک اردو شاعری نے کبھی مرثیہ بن کر شکست کا نوحہ لکھا، کبھی غزل کے پیرائے میں امید جگائی، اور کبھی نظم کے لہجے میں جنگ کا اعلان کیا۔ یہ شاعری صرف کتابوں کے اوراق میں قید نہ رہی، بلکہ عوام کے دلوں اور زبانوں پر چھا گئی۔ جلسوں، مشاعروں، اخباروں اور گلی کوچوں میں یہ اشعار ایک دوسرے کو قوت دیتے رہے۔ اردو شاعری اس جدوجہد میں محض ایک فن نہ تھا۔۔، بلکہ ایک زندہ، سانس لیتی، لڑتی ہوئی قوت تھی ۔جو کبھی دل کو تسلی دیتی، کبھی خون کو گرما دیتی، اور کبھی ذہن کو روشنی بخشتی۔ آزادی کی صبح جب ۱۵ اگست ۱۹۴۷ کو طلوع ہوئی، تو اس روشنی میں ان تمام شاعروں کے الفاظ کی چمک بھی شامل تھی، جو برسوں سے غلام ہندوستان کے آسمان پر ستاروں کی طرح جھلملاتے رہے تھے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے