कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

قافلہ حجاز میں ایک حسین ؓ بھی نہیں

تحریر: سعدیہ فاطمہ عبدالخالق ، ناندیڑ مہاراشٹرا

تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور ساری نعمتیں اسی کی دی ہوئی ہیں ، تاریخ انسانی میں اعلٰی کردار کے حامل افراد نے ہر دور میں حق کی خاطر قربانیاں دی ہیں ان قربانیوں میں واقعہ کربلا تاریخ کا الم ناک ترین باب ہے ، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے محبوب نواسے کو ان کے پورے اہل و عیال کے ساتھ اس بے دردی سے تہ تیغ کر دینا اموی حکومت کے دامن پر سیاہ ترین داغ ہے ،
میری تحریروں میں لپٹے ہوئے تابوت نہ کھول
جی اٹھے لفظ تو تم خوف سے مر جاؤ گے ،
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں مقیم تھے حضرت حسین رض شعبان 4 ھجری بمطابق جنوری 626 ء میں وہیں پیدا ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی حسین رض کا نام رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت حسین رض کی عمر سات سال سات مہینے اور سات دن تھی اس لئے انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے اتنا فیض حاصل کرنے کا موقع نہیں ملا جتنا ان کے والد حضرت علی رض کو ملا تھا ،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کے دور خلافت راشدہ میں چاروں خلیفہ نے ایک ایک بات اورایک ایک طور طریقوں کو خوب سے خوب تر نبھایا ، چوتھے خلیفہ سید نا علی رض ایک خارجی کے ہاتھوں شہادت پائی ، آپ رض کی وفات کے بعد حجاز اور عراق کے مسلمان (جو اس وقت غالب تعداد میں تھے اور جس میں صحابہ رضہ بھی شامل تھے) نے حضرت حسین رض کے ہاتھ پر بیعت کی ، حضرت حسین رض چھ ماہ تک خلافت کے فرائض انجام دیتے رہے اور جب دیکھا کہ جنگ کے بادل چھا رہے ہیں جس میں نہ جانے کتنے مسلمانوں کا قتل و خون ہوگا ، اس لئے حضرت معاویہ رض سے صلح کرلی اور طئے پایا کہ اب حضرت معاویہ رض اس وقت پوری اسلامی مملکت کے امیر ہونگے، حضرت امیر معاویہ رض نے بعض مشیروں کے کہنے پر یزید کی خلافت کی بعیت لینے لگے، جو اکابرین صحابہ رضہ اس وقت موجود تھے اور جن پر عام مسلمانوں کو اعتماد تھا تو وہ اس بات سے خوش نہیں تھے لوگ یزید کو اس کا اہل نہیں سمجھتے تھے اور خواص صحابہ رضہ اور اکابرین تابعین کی موجودگی میں یہ بات اور بھی عجوبہ محسوس ہوتی تھی ، حضرت معاویہ رض کے وفات کے ساتھ ہی یزید نے 61 ہجری میں اقتدار سنبھالا ، حضرت معاویہ رض کے وفات کے ساتھ ہی یزید اور مختلف صوبوں کے گورنروں نے تشدد اور جبر کے ساتھ حکومت قائم کرنے کی کوشش کی اس میں نہ صرف نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سید نا حسین رض اور اہل بیت کی شہادت کا واقعہ پیش آیا جو اس امت پر احسان ناشناسی کا داغ بن گیا، خاندان نبوت ص کے چشم و چراغ حضرت حسین رض کو ہزاروں خطوط بھیج کر قیادت وسیاست سوپنے کے لئے کوفہ بلایا گیا، ہر طرح سے حفاظت و وفاداری کے جھوٹے وعدے کئے گئے ، جب اہل کوفہ کے جھوٹے وعدوں پر یقین کر کے کوفہ روانہ ہوئے تھے تو حسین رض کومعہ اہل و عیال کربلا کے میدان میں قیام کرنے پر مجبور کیا گیا ، جہاں وہ پانی کے ایک ایک قطرے کو ترس گئے، جان کنی کا عالم تھا، حضرت حسین رضہ کی اس قربانی نے ( جو اللہ کے طرف سے مقدر تھی) امت کو کئی سبق دے گئی،
الغرض ظالموں نے عیاری ، مکاری، بے دردی ،اور سفاکی سے نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کردیا ، اس حادثہ کے چودہ صدیوں کے بعد آج بھی اس پر بنظر غائر مطالعہ کیا جائے تو بے شمار افراد یزیدی کردا ر نظر آتے ہیں بلکہ ان کے ظلم و تشدد ، وحشت و بر بریت ، سرکشی و طغیانی ، بے رحمی و بے دردی ، سفاکی و چالبازی ، عیاری و کفاری کے سامنے یزیدی کردار ماند اور پھیکا نظر آتا ہے ، اس کے علاوہ بھی۔۔۔ ایک نظر ہم اپنے آپ پر ڈالیں ہم کیا کر رہے ہیں ،
( ہم ) ۔۔۔ ہم اپنے آپ کو نواسہ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی محبت کا پاسدار بتاتے ہیں ، چودہ سو سال پہلے کے ہر دکھ کو اپنے رگ و جاں میں پیوست کر کے غم سے نڈھال ہو تے ہیں ،
لیکن کبھی ہم نے دیکھا کہ ہمارے اندر یزید کیسے پل رہا ہے، یزید کے کردار کو ہم نے چنا ہے، وہ ایسے کہ۔۔۔ ہم ،توحید، نماز ، روزہ زکوٰۃ حج ، کے فرائض تو کر رہے ہیں پر کیسے ؟
ہمارے پاس بڑے بڑے ڈاکٹرس ، انجینئرز ، ججس ، وکیل پروفیسر ، ٹیچرز کے کردار ہیں ،
ڈاکٹرس میں ہمدردی و مروت کا جذبہ نہ ہو، اخلاق نہ ہو ، اور ذریعہ معاش اہم پہلو ہو ، یہ یزیدی کردار کے پہلو ہیں ،
انجینئر کے کام میں سچائی نہ ہو دھوکہ ہو ، ہر راستے سے پیسے کا راستہ نکالا جارہا ہے ، یہ یزیدی کردار کے پہلو ہیں ،
ججس اور وکیل کے کام میں انصاف نہ ہو پیسے کے بل بوتے پر کامیابی حاصل کر رہے ہو، یہ یزیدی کردار ہے،
پروفیسر ، ٹیچر ، استاد نے اپنی روزی کو حلال نہ کیا تو سب بیکار ہے ، بزنس میں دھوکہ دہی کی ، ناپ تول کی کمی کی ، کاروبار میں الٹ پھیر کیا ، مزدوری دینے میں کمی کی، تو یہ یزیدی کردار گھسا ہوا ہے،
وہی کمائی سے روزہ کھولا جا رہا ہے، وہی کمائی کے کپڑوں سے بغیر خشوع و خضوع نماز پڑھی جارہی ہے، وہی کمائی سے زکوٰۃ دی جارہی ہے وہی کمائی سے حج کیا جارہا ہے ، روزی حلال نہ ہو تو یہ ہم کونسے خیمے کے ہیں یزید کے یا نواسہ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ،
اب بھی وقت ہیں صفیں درست کر لیں، یزید کو ملیامیٹ کریں ، اسلام نہ صرف مذہب ہے بلکہ ضابطہ حیات ہے ،
گھر کے ماحول اور استاد کی تدریس اہم پہلو ہے ، پڑوسی کے ساتھ ہمارا رویہ ، خاندان کے ساتھ کا رویہ مثبت ہو گھر کے افراد کے رہن سہن میں یزیدی کردار نہ ہو اور استاد کا ایک لفظ ، ایک ایک حرکت مثبت ہو سچائی اور خوف خدا کا ڈر بٹھائیں، یزید کے چھوٹے چھوٹے پہلوؤں کو ہم جڑ سے اکھاڑ پھینکیں ، پھر دیکھیں ہمارے ڈاکٹر، انجنئیر ، وکیل، ججس ، کاروباری لوگ، اور استاد ، ماشاءاللہ
اللہ کی مدد آئے گی ،
پھر یہ مکار اور عیار یزید خدا کے انصاف کے سامنے ٹک نہیں پاوگے، انصاف تو ہونا ہی ہے مگر کب جب اپنی صفیں درست ہوں ،
معرکہ خیروشر یوم ازل سے ہے اور ابد تک جاری رہے گا واقعہ کربلا اس سلسلے کی روشن ترین کڑی ہے جس میں امام عالی مقام رض نے اپنی عظیم ترین قربانی سے اعلیٰ و ارفع نظریات کو حیاتِ جاودانی عطاء فرمائی اور آنے والی نسلوں کے لیے ایسی مثال قائم فرمادی جو قیامت تک کے انسانوں کے لئے مینارہ نور ہے جادہءحق کا نظارہ ہمیں معرکہ کربلا میں ملتا ہے تاریخ انسانی اس کی نظیر لانے سے قاصر ہے ،
امام حسین رض کی قربانی در حقیقت اس راہ کا تعین تھا جس پر آنے والے تمام ادوار کے حق پرستوں کو چلنا ہے ، حق وباطل پر ڈٹے رہنا ہے ، اللّٰہ تعالیٰ ہمارے علم و عمل کو قبول فرمائے اور اللّٰہ ہم سب سے راضی ہو جائے آمین ،

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے